لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) دفاعی تجزیہ کار عبداللہ گل نے کہا کہ سعودی عرب میں بنائی گئی اتحادی فوج کے کوئی خدوخال سامنے نہیں آئے کوئی ہیڈ کوارٹر بنا نہ وردی طے ہوئے۔ جنرل راحیل شریف نے پاکستان میں دہشتگردی کیخلاف کامیاب جنگ کی ان کی پاکستان سمیت دنیا بھر میں عزت ہے۔ اگر سعودی عرب میں معاملات آگے نہیں بڑھ رہے تو انہیں وہاں رہنے کے بجائے کنارہ کشی اختیار کرلینی چاہئے۔ اتحادی فوج کا مسئلہ کشمیر، روہنگیا یا یمنکے حوالے سے بھی کوئی کردار سامنے نہیں آیا راحیل شریف کو صرف نوکری کی خاطر وہاں رہ کر وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے بلکہ سعودی حکام سے اس حوالے سے دو ٹوک بات کرنی چاہئے کہ معاملات کس طرح چلانے ہیں۔ جنرل راحیل اگر سعودی عرب میں رہتے ہیں تو ان کی ملازمت میں توسیع کرنا سعودی حکام کا کام ہے تاہم پاکستان میں اس حوالے سے اسمبلی اور پاک فوج کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ یہ معاملہ بڑا حساس ہے تاہم اسے اتنی سنجیدگی سے نہیں لیا گیا جتنی ضرورت تھی۔ سعودی ولی عہد خود بھی عدنان خشوگی سمیت کئی مسائل سے نبردآزما ہیں۔
جنرل (ر ) راحیل شریف سعودی حکام سے دو ٹوک بات کریں یا واپس آ جائیں ، راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع ہوئی تو پارلیمنٹ اور فوج کو اعتماد میں لیا جائے گا، دفاعی تجزیہ کارعبداللہ گل کی چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو
