Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • عالمی عدالت کا بھارت کو حکم، سندھ طاس معاہدے پر عمل کریں
    • ناقص کارکردگی، ہیڈ کوچ،بولنگ کوچ سمیت7 کھلاڑی ریلیز
    • خان ہو اور خان کو سپورٹ نہیں کرے یہ ہو نہیں سکتا، یونس خان
    • سلمان علی آغا پاکستان ٹیسٹ ٹیم سے فارغ
    • لیونل میسی ، ریٹائرمنٹ کا اعلان
    • ٹیسٹ کوچ سر فراز، عمر گل فارغ
    • لارڈز: تاریخی میدان میں محمد عباس کا نام امر
    • روایت معافی زندہ،سہیل سمیر شرمندہ
    • سندھ طاس معاہدہ، بھارتی جواز نامنظور
    • خلا کی سیر بھی کر آیا، آئی فون نے نام کما لیا!
    • پارلیمنٹ کے سامنے دھماکے دار انٹری
    • راولپنڈی:ڈینگی مچھر بے لگام، 6 کیسز
    • شاہد آفریدی کا حکمرانوں سے سوال؟
    • سونا پھر سستا، 10 گرام 4 لاکھ سے نیچے آگیا
    • کگیسو رباداون ڈے سیریز سے باہر
    • اسرائیل کا یونان کے ساتھ3ارب یورو کا بڑا دفاعی معاہدہ
    • پاکستانی اسکواڈ میں ہلچل؛امام اور رضوان کو فوری پاکستان واپس بھیجنے کا فیصلہ، اگلی دستیاب پرواز سے وطن روانہ ہوں گے ، رپورٹس میں دعوی
    • چترال، دیر، سوات، کوہستان اور مانسہرہ میں بارش GLOF الرٹ جاری
    • کیا ماہرہ خان کا نیا ڈرامہ مٹی دے باوےماضی کے تمام ریکارڈز توڑ پائے گا؟ طویل عرصے بعد ٹی وی اسکرین پر واپسی
    • نیپال سانحہ: ہلاکتوں کی تعداد 903 تک جا پہنچی 4,247افراد کی تلاش جاری
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    موبائل کے مضر اثرات پاکستانی بچوں میں بھی نمایاں ہونے لگے

    By Daily Khabrainجولائی 24, 2019
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    پشاور:(ویب ڈیسک) کم عمر بچوں میں موبائل کے استعمال کے برے اثرات مرتب ہونے لگے ہیں۔ موبائل کے زیادہ دیر استعمال سے بچوں میں آنکھوں کی مختلف بیماریاں بھی تیزی سے پھیلنے لگی ہیں۔ خیبر پختونخوا، بالخصوص پشاور میں بھی 5 سال سے کم عمر بچوں میں موبائل استعمال کرنے کی شرح میں روز بہ روز اضافہ دیکھنے میں آہا ہے۔دیہی علاقوں کی نسبت شہری علاقوں میں رہائش پذیر بچوں میں موبائل کا کثرت سے استعمال مشاہدے میں آیا ہے۔ تین سال سے 5 سال کی عمر تک کے بچوں میں موبائل کا استعمال بھی تیزی سے بڑھتا جارہا ہے جس سے ان بچوں میں آنکھوں کی بیماریاں، آنکھوں میں خشکی پیدا ہونا، آنکھوں کا جلنا اور نظر کمزوری کے ساتھ ساتھ چھوٹی عمر میں چشمے لگانے کا معاملہ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔اس بارے میں پشاور کے تینوں بڑے سرکاری اسپتالوں سے اعداد و شمار اکٹھے کیے گئے۔ ماہرین امراض چشم نے ”ایکسپریس“ کے توسط سے والدین سے گزارش کی کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ زیادتی نہ کریں اور بچوں کو موبائل فون سے دور رکھیں۔ چھوٹی عمر میں زیادہ دیر تک موبائل، ٹیبلٹ، لیپ ٹاپ اسکرین یا ویڈیو گیمز پر نظریں جمائے رکھنے سے بچوں کی ذہنی و جسمانی نشوونما پر نہایت برے اثرات مرتب ہونے لگے ہیں۔حیات ا?باد میڈیکل کمپلیکس اسپتال میں شعبہ امراض چشم کے چیئرمین ڈاکٹر افضل قادر کہتے ہیں کہ بچوں میں موبائل کا استعمال نقصان دہ ہے۔ موبائل سے جو شعاعیں نکلتی ہیں ان کے باعث آنکھوں سے پانی بہنا، دماغ کی کمزوری، اور ہڈیوں کی کمزوری، جیسی موذی بیماریاں بھی لاحق ہوسکتی ہیں۔ اگر پانچ سال سے کم عمر بچے روزانہ کئی گھنٹے موبائل استعمال کریں تو وہ اگلے چند ہفتوں میں آنکھوں کی بیماریوں میں مبتلا ہوجائیں گے اور ایک مرحلہ ایسا ایسی آئے گا کہ انہیں چشمے کے بغیر مشکل ہی سے دیکھنا نصیب ہوگا۔ ڈاکٹر افضل کے مطابق، جو بچے موبائل، ٹیبلٹ اور ویڈیو گیمز زیادہ استعمال کرتے ہیں ان کی جسمانی نشوونما بھی ا±س تیزی سے نہیں ہوتی جس طرح کھیل کود کرنے، دھوپ لینے اور موبائل استعمال نہ کرنے والے بچوں کی جسمانی و ذہنی نشوونما ہوتی ہے۔کھیلنے کودنے اور روزانہ دھوپ لینے والے بچے تندرست بھی رہتے ہیں جبکہ موبائل استعمال کرنے والے اکثر بچے چڑچڑے ہوجاتے ہیں۔ علاوہ ازیں، مشاہدے میں یہ بات بھی آئی ہے کہ جو بچے زیادہ دیر تک کمرے میں بند رہتے ہیں اور موبائل سے چمٹے رہتے ہیں، ان میں دھوپ نہ لینے کی وجہ سے وٹامن ڈی کی کمی بھی ہوجاتی ہے۔حیات آباد میڈیکل کمپلیکس اسپتال سے حاصل شدہ اعداد و شمار کے مطابق، جنوری 2018 سے دسمبر 2018 تک آنکھوں کی مختلف بیماریوں میں مبتلا 69988 مریضوں کو علاج کےلیے لایا گیا۔ ان میں سے 4455 مریضوں کو امراضِ چشم کے باعث کئی دنوں تک اسپتال میں رکھنا پڑا۔ ترجمان حیات ا?باد میڈیکل کمپلیکس، توحید ذوالفقار کا کہنا تھا کہ شعبہ امراض چشم میں سالانہ 350 سے 400 مریض لائے جا رہے ہیں جن میں سے 20 فیصد چھوٹی عمر کے بچے ہوتے ہیں جو ا?نکھوں کی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔لیڈی ریڈنگ اسپتال میں شعبہ امراض چشم کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر محفوظ کہتے ہیں کہ کم عمر بچوں میں زیادہ دیر موبائل کے استعمال سے ”مایوپیا“ (myopia) بھی ہوسکتا ہے جس میں بچوں کی دور کی نظر کمزور ہوجاتی ہے۔ اگر ا?پ جاپان یا کوریا میں دیکھیں تو وہاں بھی 90 فیصد سے زائد بچے مایوپیا کا شکار ہیں جنہیں چھوٹی عمر سے ہی چشمہ لگ چکا ہوتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہاں بچوں کو اسکول میں چھوٹے ٹیبلٹس پر تعلیم دی جاتی ہے جبکہ ٹیچنگ بھی کمپیوٹر اور دیگر الیکٹرونک اور ڈیجیٹل آلات پر کی جاتی ہے۔ بچے نوٹس بھی ٹیبلٹس وغیرہ پر تیار کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہاں کم عمری میں ہی بچے مایوپیا کا شکار ہیں۔”پاکستان میں بھی دیکھ لیجیے، والدین کے سامنے بچے خاصی دیر تک موبائل استعمال کرنے میں لگے ہوتے ہیں اور ویڈیو گیمز میں مگن رہتے ہیں، جس سے بچوں میں آنکھوں کی بیماریاں بڑھ رہی ہیں،“ پروفیسر محفوظ کا کہنا تھا کہ اگر موبائل کواحتیاط سے استعمال کیا جائے تو اس کے مثبت اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔ اسی موبائل کے ذریعے بچوں میں سیکھنے کی صلاحیت بڑھتی ہے اور بچے نئی سے نئی چیزوں سے متعلق معلومات بھی حاصل کرتے ہیں۔اعداد و شمارے سے پتا چلتا ہے کہ گزشتہ سال لیڈی ریڈنگ اسپتال میں مختلف امراضِ چشم میں مبتلا 12000 مریضوں کا علاج کیا گیا۔ یہاں بھی بچوں کی تعداد 20 فیصد تھیلیاقت کالج ا?ف میڈیسن اینڈ ڈینٹسٹری، کراچی میں شعبہ امراضِ چشم کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر نثار احمد کا کہنا ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں موبائل کے بچوں پر اثرات اور ریڈی ایشن کے حوالے سے بھی تحقیق ہو رہی ہے جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بچوں کے زیادہ دیر تک موبائل استعمال کرنے سے ان کی دور کی نظر خراب ہوجاتی ہے جبکہ بڑوں کی نسبت ریڈی ایشن سے بچے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ یورپ اور امریکا میں کی گئی حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ موبائل ریڈی ایشن سے بچوں کو آنکھوں اور دماغ کا کینسر بھی ہوسکتا ہے جو انتہائی خطرناک بات ہے۔پروفیسر نثار احمد نے ”ایکسپریس“ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی بھی اس حوالے سے رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں کم عمر بچوں کے گھنٹوں تک موبائل استعمال کرنے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور تجویز کیا گیا ہے کہ بچوں کو روزانہ ایک گھنٹہ یا اس سے کم وقت کےلیے ہی موبائل فون استعمال کرنے دیا جائے کیونکہ اس سے زیادہ دیر تک موبائل فون کا استعمال، بچوں کےلیے شدید نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ ”اس حوالے سے پاکستان میں بھی والدین کو آگاہی دینے کی اشد ضرورت ہے تاکہ بچے موبائل کے استعمال سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے بچ سکیں،“ ڈاکٹر نثار نے کہا۔پشاور کے خیبر ٹیچنگ اسپتال کے شعبہ امراض چشم کے چیئرمین ڈاکٹر ابرار کہتے ہیں کہ بچوں کےلیے پانچ سے دس سال کی عمر میں موبائل کا زیادہ دیر تک استعمال نقصان دہ ہے۔ اس سے بچوں کو آنکھوں کی خشکی، آنکھوں کی سوجن اور آنکھوں میں جلن پیدا کرنے والی بیماریاں لاحق ہوسکتی ہیں۔ اگر والدین اس معاملے پر توجہ دیں اور لوگوں کو آگاہی دی جائے تو ان خطرات سے بچا جاسکتا ہے۔

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      ایچ آئی وی پھیلنے کا معاملہ، کراچی کے ہسپتال کے خلاف کارروائی کا حکم

      ڈی آر کانگو میں ایبولا کے تصدیق شدہ کیسز 2,181، ہلاکتیں 864 تک پہنچ گئیں

      پنجاب فوڈ اتھارٹی کا لاہور میں کریک ڈاؤن، شاہدرہ، پارک ویو اور ریلوے روڈ پر 3 فوڈ یونٹس سیل

      تازہ ترین

      پمز میں آگ لگنے سے 14 نومولود جاں بحق ای ڈی کی تصدیق

      بانی پی ٹی آئی کو آج ہی ہسپتال منتقل کیا جائے، سپریم کورٹ

      بن گویر کا غزہ میں ہر رات ’30 یا 40‘ افراد کو قتل کرنے کا مطالبہ

      ہاکی ورلڈ کپ 2026: نیدرلینڈز، بیلجیم اور پاکستان نے اپنے اپنے قومی اسکواڈز کا اعلان کر دیا

      جماعتِ اسلامی کے امیر العظیم انتقال کر گئے

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.