لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی ضیا شاہد نے کہا ہے کہ ایم پی اے حضات کو اپنے اپنے علاقے کے لوگوں کے کام کروانے ہوتے ہیں اور اپنے حلقے کے عوام کا خیال رکھنا ہوتا ہے زیادہ دیر تک ایسی اپوزیشن کے ساتکا کوئی مستقبل نظر نہ آ رہا ہو ان کا ساتھ رہنا مشکل ہوتا ہے۔ یہ صرف 8 لوگوں کی بات نہیں ہے آہستہ آہستہ کچھ اور لوگ بھی چلے جائیں گے بہت زیادہ وفادار لوگ جو ذاتی طور پر بہت تعلق دار لوگ ہیں وہ ن لیگ میں رہ جائیں گے۔ اس سے پیشتر جو فضا تھی کہ پنجاب ن لیگ کے پاس ہے وہ اب آہستہ آہستہ بدل رہی ہے اور یہ تصور بھی کہ بزدار صاحب کوئی کامیاب نہیں ہوئے اس لئے تبدیل ہو رہا ہے اس تاثر کو حتم کرنے میں تو عمران خان نے بہت بڑا رول ادا کیا اور انہوں نے ہر بار یہی کہا کہ بزدار صاحب ہی رہیں گے۔ مسلم لیگ ن کی لیڈر شپ جو ہے لندن میں ہے اور ان کی واپسی کا کچا پکا مسئلہ نواز شریف کی تو واپسی کا امکان نہیں ہے لیکن شہباز شریف صاحب بھی اگر واپس آتے ہیں تو گرفتاری ان کا مقدر ہو سکتی ہے۔ بظاہر تو مسلم لیگ ن کا باب ان پانچ سالوں کے لئے گول ہے۔ مہنگائی بھی ہے بیروزگاری بھی ہے اور سیاسی حالات بھی ہیں اس کے باوجود میں یہ سمجھتا ہوں میں نے شیخ رشید کا اسی پروگرام میں انٹرویو کیا تھا اس میں ان کا ایک حملہ بہت اچھا تھا انہوں نے کہا کہ لوگ مہنگائی کے ہاتھوں تنگ ہیں عمران خان سے ناراض ضرور ہیں لیکن وہ عمران خان سے نفرت نہیں کرتے اس کے برعکس پاکستان میں بہت سارے ایسے لوگ ہیں جو نوازشریف کے حامی ہیں بہت پرجوش سپورٹ کرتے ہیں لیکن بہت سے ایسے لوگ بھی جو عمران خان کے بیانیے کے مطابق انہں کرپشن کا محور سمجھتتے ہیں۔ جو مسلم لیگ ن کی جو پوزیشن الیکشن سے پہلے تھی کہ پنجاب ان کا ہے میرا خیال ہے اس میں کافی دراڑیں پڑ گئی ہیں۔ عثمان بزدار کی یہ سکل کہ مہارت اور ہنر مندی اور ذہانت کا امتحان ہے کہ اگر انہوں نے جو مسلم لیگ ن کے ایم پی اے حضرات کو اکاموڈیٹ کیا اور ان کے جائز معاملات کو حل کرنے کی کوشش کی ان کو فنڈز بھی دیئے اور ان کے راستے میں کوئی رکاوٹیں نہ ڈالیں تو اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ یہ چھ اپنے ساتھ اور بہت سارے چھ لے کر آئیں گے۔ شہباز شریف نوازشریف کی بیماری کی وجہ سے لندن گئے تھے ان کا بھی فی الحال واپسی کا امکان نہیں ویسے بھی سیاست میں کون سا کامیابیاں ان کی راہ تک رہی ہیں۔ یہ باتیں ہیں کہ ان ہاﺅس تبدیلی پہلے پنجاب میں آئے گی ہمیں تو دور دراز تک پنجاب میں تبدیلی نظر نہیں آ رہی۔ پاکستان کی اصل دشمن مہنگائی ہے اگر حکومت نے اس پر کنٹرول کر لیا ہے جو وہ کوشش کر رہی ہے لیکن اب ڈالر ریٹاور زیادہ ہو گیا ہے اس سے مشکلات بڑھ جائیں گی لیکن اس کے باوجود کوئی متبادل عوام کے پاس ہی نہیں ہے کہ وہ یہ دیکھیں کہ شہباز شریف آ کر پاکستان کا مستقبل بدل دیں گے اور ایک دم مہنگائی ختم ہو جائے گی یہ اہم خبر ہے کہ جس میں یہ کہا گیا کہ عمران خان کو ایک خصوصی رپورٹ پیش کی گئی ہے کہ آٹا بحران کے پیچھے کن لوگوں کا ہاتھ تھا۔ ان کے نام بھی دیئے گئے۔ عمران خان کی حکومت جو کوشش کر رہی ہے اور عمران خان کا یہ حملہ کہ میں اگر کھلاڑی نہ ہوتا تو کب سے حکومت چھوڑ کر بھاگ چکا ہوتا۔ جو قوت برداشت ہے وہ عمران خان میں بہت زیادہ ہے یہ عمران خان کا پلس پوائنٹ ہے۔ جن لوگوں کے آٹا بحران کے ذمہ داروں میں نام ہیں عمران خان کو کارروائی کرنا پڑے گی ورنہ ان کی حکومت کی ساکھ متاثر ہو گی۔ اگر نام بھی موجود ہیں کہ اس مہنگائی کے ذمہ دار تھے اگر اس کے باوجود کوئی ایکشن نہیں لیتے تو سمجھا جائے گا کہ حکومت کوئی ایکشن ہی نہیں لیتی۔کرونا وائرس کے 18 کیسز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا ہے آلودگی سے ہمارا پاک معاشرہ نہیں ہے اس لئے جس جس جگہ یہ گندگی زیادہ ہو گی جہاں گندگی زیادہ ہو گی متعدی امراض پھیلنے کا خطرہ اتنا ہی زیادہ ہو گا اس لئے کراچی زیادہ متاثر نظر آتا ہے وہاں آبادی زیادہ ہے پینے کے پانی کا مسئلہ ہے کچرے کا بندوبست نہیں ہے۔ صحت مند معاشرہ میسر نہیں ہے۔ کرونا ایک آفت ہے کسی نے بھی اس نقطہ نظر سے بات نہیں کی۔ دراصل یہ حلال اور حرام کی تمیز جو اسلام نے بتائی تھی یہ اس کو برقرار نہ رکھنے کی وجہ سے ہے۔ چین میں ایسی حرام چیزوں کا کھانا اور اس کے بعد جانوروں کی بیماریوں کا انسانوں میں منتقل ہونا اور وہ جس چیزی سے پھیل رہی ہے حیران کن بات ہے۔ چین کے بعد یہ وبا اٹلی میں پھیل رہی ہے اب تو امریکہ بھی اس سے محفوظ نہیں رہا۔ میرے خیال میں بنیادی بات ہماری یہ ہے کرونا وائرس میں احتیاطی تدابیر میں یہ بتایا جاتا ہے کہ دن میں کئی مرتبہ صابن سے اچھی طرح سے ہاتھ دھوئیں اسلام میں 5 وقت وضو کیا جاتا ہے وضو میں ہاتھ بازو دھوئے جاتے ہیں مسح کیا جاتا ہے پاﺅں دھوئے جاتے ہیں اس طرح سے ایک ریفریشرکورس ہو جاتا ہے۔ کرونا پر ٹاسک فورسز بننی چاہئے جنگی بنیادوں پر کام ہونا چاہئے بنیادی طور پر کرونا کے عذاب سے خوف کی وجہ سے سرمایہ کاری کی فضا متاثر ہوئی ہے جب انسان کی زندگی مشکوک نظر آنے لگے ایسے میں انسان کو سٹاک ایکس چینجوں کی فکر ہوتی ہے۔ مایوسی بڑھنے سے ہمیشہ یہی ہوتا ہے۔ سٹاک ایکسچینج کریش ہونا دوسرا اشارہ ہے کہ انسان جو ہے آسمانی عذاب کی طرف بڑھ رہا ہے۔ہم جتنی جلدی ہم اپنے اللہ سے معافی مانگ لیں اپنے طرز عمل کو بہتر بنا لیں اور آپس کی نفرتیں چھوڑ دیں۔ اتنا ہی بہتر ہو گا۔افغانستان میں اقتدار کی دوڑ میں اشرف غنی، عبداللہ عبداللہ کے بعد تیسرا فریق طالبان بھی سامنے آ گئے ہیں جنہوں نے مفی ہیبت اللہ کو اپنا امیر مقرر کیا ہے۔ اس صورتحال میں ضروری ہے کہ وہاں مذاکرات دوبارہ شروع ہوں تا کہ طے پایا جا سکے کہ مستقبل کا نقشہ کیا ہو گا ایک طریقہ ہے الیکشن میں تاہم کون ضمانت دے گا کہ شفاف ہوئے دوسرا یہ ہے کہ ایک سمجھوتے کے تحت وہاں سب مل کر حکومت بنائیں۔ نئی حکومت کا فارمولا بننے تک مسئلہ موجود رہے گا۔ دنیا کو بھی دباﺅ ڈالنا ہو گا کہ افغان عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں جو صرف الیکشن میں ہی مضمر ہے۔
7ن لیگی ارکان کی ملاقات ،عثمان بزدار حکومت مضبوط ہو گئی ،ضیا شاہد

