ملتان(میاں غفار سے)جنوبی پنجاب صوبے کا صدرمقام بہاولپور میں قائم کرنے کافیصلہ منواکر پاکستان مسلم لیگ (ق) اور طا رق بشیرچیمہ نے جنوبی پنجاب کے تمام سیاستدانوں کو”ناک آو¿ٹ“کردیا۔ طارق بشیرچیمہ جیت گئے اور مخدوم
شاہ محمود قریشی، جہانگیرترین، سیدفخرامام، عامرڈوگر، نصراللہ دریشک، لغاری،مزاری، نوابزدگان، گیلانی، اسحاق خاکوانی کی سیاسی تجربہ کاری اکیلے طارق بشیرچیمہ کے سامنے صفرہوگئی اورطارق بشیرچیمہ بہاولپور کے مسیحابن کر ابھرے جنہیں شاید اگلی کئی دہائیوں تک کوئی بھی سیاسی، سماجی اور اختیاراتی حوالے سے مات نہ دے سکے۔ طارق بشیرچیمہ کے پاس صرف 2ووٹ تھے جن میں سے ایک خسروبختیار اور دوسراچودھری سمیع اللہ جبکہ دوسری طرف ووٹوں کی ٹوکریاں ردی کی ٹوکریاں ثابت ہوئیں یہ فیصلہ ایک انتہائی غیرسیاسی فیصلہ ہے جوکہ جنوبی پنجاب میں سرائیکی اورپنجابی سوچ رکھنے والوں کے درمیان وہ نفرت کھڑی کرے گاجسکاآج کی غیرسیاسی قیادت کواندازہ ہی نہیں۔یہاں جو حالات ہیں انکا اگرکسی کو ادراک ہوتا تو یہ فیصلہ کبھی نہ آتا مو¿خرضرور ہوجاتا ۔بصور ت دیگر 2صوبوں کا فیصلہ آتا جسکی قرارداد پنجاب اسمبلی منظور کرچکی ہے سب سے بڑادھچکا ملتان اورڈیرہ ڈویژن کے لوگوں کو اس وقت لگا جب کمال دانشمندی سے اس فیصلے کا اعلان بھی منصوبہ بندی اورڈیزائن کے تحت مخدوم شاہ محمود قریشی سے کروایاگیا۔ ملتان اور بہاولپورکبھی اکٹھے نہیں رہے بلکہ لودھراں کے مقام پرستلج کاپل بھی 25سے 30سال پہلے بنا۔ اب صورتحال یوں ہے کہ راجن پور کے رہنے والوں کو اس فیصلے کاکوئی بھی فائدہ نہیں ہوسکے گا ان کی دوریاں برقراررہیں گی۔ لیہ،کوٹ ادو، تونسہ، دائرہ دین پناہ، چوک اعظم، کروڑ لعل عیسن والوں کےلئے لاہور جانا آسان اوربہاولپور جانامشکل ہوگیا۔ ملتان اورڈیرہ غازیخان ڈویژن میں سرائیکی بولنے والے اکثریت میں ہیں۔ اسی طرح رحیم یارخان میں بھی سرائیکی لوگوں کی اکثریت ہے ۔البتہ بہاولپور اور بہاولنگر میں چونکہ نواب بہاولپور نے قیام پاکستان سے کئی سال پہلے پنجابی آبادکاروں کوفیصل آباد، گجرات، گوجرانوالہ، شیخوپورہ، اوکاڑہ، ساہیوال اورسرگودھا کے علاقوںسے لاکرادھرآباد کیا تھا۔اس طرح بہاولپور شہرتحصیل یزمان اور حاصل پور میں پنجابی اکثریت ہے جبکہ لودھراں کی تحصیل دنیاپوراوررحیم یارخان کی تحصیل صادق آباد بھی پنجابی اکثریتی علاقے ہیںاس ضلع کے بعد جنوبی پنجاب کے وہ ”انصار“ جنہوں نے بھارت سے لٹ پٹ کر آنے والے پنجابیوں کودل سے قبول کیا ان کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی نہ کیں آج وہ احساس کمتری کا شکار ہوگئے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے کہاتھا کہ ملک بنانے آسان اور صوبے بنانے مشکل ہوتے ہیں کیونکہ صوبے بنانے میں پراپرٹی مافیا کے مفادات حقائق پرحاوی ہوجاتے ہیں۔
بہا ولپور جنوبی پنجاب صوبہ کا صدر مقام ،طارق بشیر چیمہ کی حکمت عملی کامیاب

