اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) رہنما تحریک انصاف شوکت بسرا نے کہا ہے کہ پوری دنیا میں کرونا کیوجہ سے معیثت تباہ ہو چکی ہے مگر اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان میں حالات کنٹرول میں ہیں۔کرونا کے حوالے سے صوبوں کے فیصلوں کو میڈیا پر تنقید کا نشانہ نہیں بنانا چاہئے۔ اٹھارہویں ترمیم کے تحت انہیں فیصلے کا حق حاصل ہے۔ وزیراعظم کا واضح موقف ہے کہ ہماری جنگ ایک طرف کرونا سے ہے اور دوسری طرف ہمیں بھوک ، افلاس، غربت اور مہنگائی کے خلاف لڑنا ہے۔ تاجر طبقہ دھمکیاں دے رہا ہے کہ زبردستی دکانیں کھولی جائیں گی اور علماءکرام مساجد کھولنے پر بضد ہیں۔ ہمیں آپس میں لڑنے کی بجائے متحد ہونا ہے۔ موجودہ صورتحال پر سیاست اور مایوسی پھیلانے والے کرونا سے زیادہ خطرناک ہیں۔ وزیراعظم نے علماءکرام کی میٹنگ 18اپریل کو بلائی ہے ، امید ہے معاملہ افہام و تفہیم سے حل ہو جائے گا۔ بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو وطن واپس لایا جائے گا مگر ہمیں پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہے۔ کرونا کی اب تک کوئی ویکسین نہیں بنی۔ کنسٹریکشن کمپنیز اور دیگر شعبوں کو ریلیف حفاظتی پالیسی کے تحت عوام کی بہتری کے لیے دیا گیا ہے تاکہ مہنگائی اور بیروزگاری کم ہو، لوگوں کو روزگار ملے اور پاکستان کی معیثت بہتر ہو۔ دوہفتے گزر جائیں تو امید ہے حالات بہتری کی جانب بڑھیں گے۔ تجزیہ کار محمل سرفرا ز نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے انڈسٹری کھولنے کا فیصلہ ہوا ہے مارکیٹیں بھی کھلنے لگی ہیں، علماءنے بھی مساجد کھولنے کا اعلان کردیا ۔ ان عوامل سے ڈر ہے کہیں لاک ڈاﺅن کے اثرات زائل نہ ہوجائیں۔ سڑکوں پر اب ٹریفک کو نہیں روکا جا رہا ، پرائیویٹ ٹرانسپورٹ کے لیے کوئی روک تھام نہیں ہے جو خطرناک ہے۔ فیکٹری ورکرز اور کنسٹریکشن انڈسٹری کے ملازمین ایس او پیز پر عمل درآمد نہیں کر رہے۔ ہم نے ایسا وقت کبھی پہلے نہیں دیکھا ، ایسی صورتحال میں ہمیں متحد ہونا چاہئے۔ وفاقی حکومت اور دیگر صوبائی حکومتوں کی جانب سے سندھ حکومت پر حملے کیے جارہے ہیں، سندھ حکومت کی کرونا اقدامات پر تعریف وفاقی حکومت کو ہضم نہیں ہوئی، سندھ حکومت کے اچھے اقدام کو خراج تحسین پیش کرنا چاہئے نہ کہ سیاست کی جائے۔ کرونا کے مریضوں کے لیے دنیا بھر میں وینٹی لیٹرز اور دیگر آلات کی کمی ہے، پاکستان میں کرونا کیسز بڑھے تو مریضوں کو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔ اتنی جلدی لاک ڈاﺅن میں نرمی نہیں ہونی چاہئے تھی۔ مذہبی سکالر مفتی نعیم نے کہا ہے کہ حکومت کو جمعہ سے قبل علماءکرام کو اعتماد میں لیکر مساجد کھولنے یا نہ کھولنے کا معاملہ حل کرنا چاہئے۔ ابھی تک یہ پتا نہیں چل رہا کہ عوام علماءکی بات مانیں یا پولیس کے ڈنڈے کھائیں۔ تبلیغی جماعت پر بارہا الزامات لگائے جارہے ہیں انہوں نے کرونا پھیلایا جو بالکل غلط ہے۔ سبزی منڈی اور دیگر جگہوں پر اس سے زیادہ رش ہے حکومت نے وہاں تو کوئی اقدامات نہیں کیے، کیا وہاں کرونا کا اطلاق نہیں ہوتا یا صرف مساجد پر ہوتا ہے۔ حکومت ایسے اقدامات کرے جو سب کو قبول ہوں۔






































