Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • بانی پی ٹی آئی کو آج ہی ہسپتال منتقل کیا جائے، سپریم کورٹ
    • عائزہ خان کا دانش تیمور کے ساتھ تصاویر ڈیلیٹ کرنا، مداحوں میں تشویش، ’’کچھ تو گڑبڑ ہے!‘‘
    • شدید موسمی حالات کے باعث پاکستان بھر میں 55 ملکی و بین الاقوامی پروازیں متاثر
    • سکھ علیحدگی پسند گروپ نے خالصتان کے دارالحکومت کا اعلان کر دیا
    • انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ سے بابر اعظم کے باہر ہونے کا خدشہ
    • باسط علی کو دل کا دورہ، سابق پاکستانی کرکٹر اسپتال منتقل
    • برآمدات میں کمی، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان تجارت میں تنزلی
    • پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ نے سندھ میں گیس کے نئے ذخائر دریافت کرلیے
    • پاکستان میں سونا مہنگا ہوکر 4 لاکھ 60 ہزار روپے سے اوپر، چاندی 7 ہزار روپے سے تجاوز کرگئی
    • روس کے بیلگورود پر یوکرینی میزائل حملہ، 6 افراد ہلاک
    • مانچسٹر سپر جائنٹس نے دی ہنڈرڈ کا ٹائٹل جیت لیا
    • راولپنڈی، اسلام آباد میں موسلا دھار بارش، نشیبی علاقے ڈوب گئے گھروں میں پانی داخل
    • سیال ڈیم سے بھارت نے پانی چھوڑ دیا، سیلاب کا الرٹ جاری
    • کردستان ریجنل گورنمنٹ کے وزیراعظم کے دفتر پر ڈرون حملہ
    • بن گویر کا غزہ میں ہر رات ’30 یا 40‘ افراد کو قتل کرنے کا مطالبہ
    • رونالڈو کا فٹبال سے ریٹائرمنٹ کا عندیہ، سیزن کے اختتام پر الوداع کا امکان
    • خواہش ہے پاکستان کو چلانے والا حضرت عمرؓ جیسا ہو:نعمان اعجاز
    • ہالی ووڈ کی معروف اداکارہ ہیڈن پنیٹیئر 36 سال کی عمر میں چل بسیں
    • پنجاب کی ایک خاتون وزیر نے لاہور کے ایک ڈیزائنر کو مبینہ طور پر اسی لاکھ روپے کے دو جوڑوں کا آرڈر دیا ہے، واٹس ایپ پر وائرل آڈیو میں دعویٰ: صحافی طارق متین
    • یوم آزادی کے موقع پر اسلام آباد میں سٹی پریڈ کی تقریب
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    مزارِ قائد بے حرمتی ،آرمی چیف کا ایکشن، بلاول کی ہاں، نوازشریف کی ناں/یہ ہے PDM میں دراڑ

    By Daily Khabrainنومبر 11, 2020
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    سب سے پہلی بات یہ ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور فوج کے ادارے کی طرف سے ایک کیس کی انکوائری کی گئی ہے جس کی ڈیمانڈ بنیادی طور پر پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی طرف سے اور اس کے پلیٹ فارم سے کی گئی تھی۔ یہ بنیادی طور پر عسکری اور سول ادارے کے مابین ایک جھگڑا تھا جس میں آرمی پر دبا? ڈالا گیا تھا کہ وہ کسی نہ کسی طرح اس انکوائری کومنظرعام پر لائیں کہ کن وجوہات کی بنا پر یہ پورا واقعہ کس طریقے سے عمل میں آیا جو کیپٹن صفدر کی مزارقائد پر نعرے بازی سے پیش آیا۔ بہرحال آرمی چیف کی طرف سے مثبت اقدام کیا گیا ہے اور عسکری قیادت اور فوج کے ادارے نے ایک کرنل اور ایک بریگیڈیئر کو ان کے عہدے سے برطرف کیا ہے اور ان کو انکوائری جی ایچ کیو میں ہو گی۔ لیکن یہ پورے کا پورا واقعہ کیوں پیش آیا۔ یہ بنیادی بات ہے جس کی انکوائری ابھی ہونا باقی ہے جو کہ حکومت سندھ نے کرنی ہے۔ کیپٹن صفدر اور ن لیگ کے دیگر عہدیداروں نے مزاار قائد پر جو نعرے بازی کی ہے وہ نہیں ہونی چاہئے تھی۔ جس قسم کی نعرے بازی ہوئی وہ نہیں ہونی چاہئے تھی یہ بابائے قوم کے مزار کی بے حرمتی ہے۔کسی بھی ملک میں جو Father of the Nation ہوتے ہیں ان کے مزارات کی حرمت اور تقدس ہوتا ہے۔اس کے پیچھے کیا محرکات تھے جس کی بنیاد پر عسکری اداروں کے دو تین افسران کو جانا پڑا اور باقاعدہ آئی جی سندھ سے بات کرنا پڑی جو میری معلومات ہیں وہ بہت خوفناک ہیں وہ یہ ہیں کہ جب شکایت کی گئی کہ کیپٹن صفدر اور مسلم لیگ ن کے چند افراد جس میں ان کے لوکل کراچی کے لیڈران موجود تھے ان کے خلاف انکوائری کی جائے یا ایف آئی آر کاٹی جائے۔ پولیس کے ایک بہت سینئر افسر کو یہ کہا گیا تو وہ نشے میں تھے اور انہوں نے کہا جب تک مجھے سندھ حکومت کی طرف سے گرین سگنل نہیں ملتا ایسا نہیں کر سکتا۔آپ کو یادہو گا یہ اسی روز کا واقعہ ہے جب ایک جلسہ پی ڈی ایم کا ہو رہا تھا۔ ابھی انکوائری باقی ہے لیکن ابتدائی بیان جو سامنے آیا ہے اس کی بنیاد یہ بتائی جا رہی ہے کہ انہوں نے جب سندھ پولیس کے افسرکو کہاتو اس کی حالت غیر تھی وہ نشے میں تھے جس کی وجہ سے آئی جی سندھ کے پاس جانا پڑا اور ان کو بلایا گیا اور ان سے کہا گیا کہ آپ اس کا پرچہ کاٹیں۔ تویہ ہے اس پورے واقعہ کی بنیاد۔ پاک فوج اور عسکری قیادت نے یہ بالکل درست فیصلہ کیا ہے۔ پاک فوج نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ ہمارا سسٹم سول اداروں سے بہتر ہے۔کیونکہ اسی قسم کی انکوائری سندھ حکومت بھی کر رہی ہے آئی جی اور پولیس افسران کے پاس جنہوں نے پہلے واقعہ کی ایف آئی آرکاٹنے سے انکار کیا اور بعد میں یہ واقعہ ہو گیا تو انہوں نے چھٹی کی درخواستیں دے دیں۔ ابھی تک سندھ حکومت کی انکوائری نہیں سامنے آ سکی اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ اب بال سندھ حکومت کی کورٹ میں ہے اب سول ادارے کو ثابت کرنا ہے کہ ہم بھی ویسے ہی ڈسپلنری ایکشن لیتے ہیں جس طرح پاک فوج نے لیا ہے۔ پاک فوج نے سول اداروں کے لئے مثال قائم کر دی کہ بہرحال ڈسپلن ڈسپلن ہوتا ہے اور پاک فوج سول اداروں پر اس میں سبقت لے گئی ہے اب بال سندھ حکومت اور پیپلزپارٹی کی کورٹ میں ہے۔ اس واقعہ پر اگر سیاست نہ کی جائے تو بہتر ہے وزیراعظم نے چند روز پہلے ایک ٹویٹ کیا تھا کہ یہ ایک Joke ہے۔ یعنی یہ سندھ حکومت کی سازش ہے۔ آرمی چیف کے ایکشن سے تو لگتا ہے کہ یہ ایک سیریس مسئلہ تھا جس میں فادر آف دی نیشن کے مزار کی بیحرمتی ہوئی وہاں ایک واقعہ ہوا جو نہیں ہونا چاہئے تھا۔ جب سول حکومت نے ایکشن نہیں لیا تو تب عسکری قیادت اور عسکری ادارے اس میں سامنے آئے اور ان کے دبا? پر یہ ایکشن ہوا۔ بال اب سندھ حکومت کی کورٹ میں ہے وفاق کے اپنے بڑے مسائل ہیں۔ سیاست ایسی چیز ہے جس میں ہر کوئی پوائنٹ سکورنگ کرتا ہے۔ وزیراعظم نے جب اسے Joke قرار دیا تو ان کے نیچے جو قیادت تھی اس نے شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بنتے ہوئے ان سے تین قدم آگے جا کر سندھ حکومت پر چڑھائی کر دی۔ جس طرح پاک فوج نے اس واقعہ پر ڈسپلنری ایکشن لیا ہے حکومت سندھ اور پیپلزپارٹی کو ڈسپلنری ایکشن لینا چاہئے۔ یہ رپورٹ آنے کے بعد بلاول بھٹو کی جانب سے خیرمقدمی بیان آیا جنہوں نے گلگت بلتستان میں جلسے سے کہا کہ یہ بہت اچھی بات ہے۔ اسی طرح نوازشریف کی طرف سے لندن سے آیا جنہوں نے اس رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے کہ ہم اسے منظور نہیں کرتے لہٰذا ایک بنیادی نشان ہے جس پر کافی دنوں سے بحث چل رہی ہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ میں دراڑ پڑ چکی ہے کہ یہ اس کی نشاندہی ہے کہ ایک طرف اس جلسے کے جو واقعہ ہوا پیپلزپارٹی نے جو کہا زبردست کہا لندن سے بیان آیا بہت ب±را ہوا ہے ہم اسے نہیں مانتے۔ سو اس سے اندازہ لگا لیں کہ پی ڈی ایم میں یہ ایک بہت بڑی دراڑ پڑی ہے۔جب فضل الرحمن سے بھی حالیہ پریس کانفرنس میں پوچھا گیا کہ آپ آرمی چیف صاحب آئی ایس آئی کے چیف کے نام لے کر جو کچھ کہا گیا انہوں نے کہا کہ میں اس بارے کوئی جواب نہیں دوں گا۔ وہ تقریباً پریس کانفرنس چھوڑ کر جانے لگے تھے تو شاہد خاقان عباسی نے ان کا ہاتھ پکڑا اور انہوں نے کہا یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے اس بارے میں ہم کوئی لائحہ عمل اگلے ہفتے میں طے کریں گے۔ یہ ہے وہ نقطہ ہے جس پر مبصرین بار بار یہ تبصرہ کر رہے ہیں کہ یہ دراڑ پی ڈی ایم میں پڑ چکی ہے اور انہوں نے زیادہ دیر تک ساتھ نہیں چلنا۔ جہاں تک پی ٹی آئی کی بات ہے کہ حکومت میں جو بھی ہوتا ہے سمجھتا ہے ہم جو کر رہے ہیں درست کر رہے ہیں۔ جیسے وزیراعظم صاحب نے کی دو چار ذاتی لوگوں کی محفل میں یہ کہا ہم بالکل پی ڈی ایم کی تحریک کے اثر میں نہیں آئیں گے۔ میری معلومات کے مطابق اتحادیوں میں ایک دراڑ پڑ رہی تھی۔ چودھری شجاعت اور پرویز الٰہی کے اندر مرکز اور پنجاب میں پی ٹی آئی کے اتحادی ہیں اس حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ میں چودھری شجاعت کی بڑی عزت کرتا ہوں میں نے ان کے بیٹے سے ان کی خیریت بھی دریافت کی اور اگلے دورہ لاہور میں ان کی عیادت بھی کروں گا۔ اور اگر وہ ٹھیک ہوئے تو ان سے سیاسی معاملات پر گفت و شنید بھی کروں گا کیونکہ وہ نہ صرف ہمارے حلیف ہیں بلکہ وہ پاکستان کے سینئر ترین سیاستدان ہیں جن کے تجربے سے استفادہ کرنا چاہئے۔ کافی عرصے سے مسلم لیگ ن کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ عسکری اداروں اور موجودہ حکومت کے درمیان کوئی خلیج ہے جس کی بنیاد پر پی ٹی آئی حکومت جانے والی ہے میرا خیال ہے آج کے فیصلے کے بعد یہ خلیج کی بات ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ دوسری طرف پی ڈی ایم میں دراڑ ضرور ہے۔ کہ دو مختلف جماعتوں کے دو لیڈر ایک ایشو پر دو مختلف باتیں کر رہے ہیں۔ لگتا ہے کہ عمران خان تگڑے طریقے سے کھڑے ہیں کہ میں کسی کرپشن کے کیس پر بات نہیں کروں گا۔ انتخابی اصلاحات، حکومت کی معاشی پالیسی پر کروں گا، اپوزیشن کے ساتھ نئے پاکستان کے حوالے سے بات کروں گا۔ کرپشن پر بات کرنے کو تیار نہیں۔ جو تاثر دیا جا رہا تھا کہ دسمبر یا جنوری میں یہ حکومت گئی کہ گئی۔ ایسا تاثر بظاہر بالکل نہیں لگ رہا۔ جہاں تک پی ڈی ایم کے مستقبل کا سوال ہے تو گلگت بلتستان کے انتخابات کے بعد پتہ چل جائے گا کہ کون سی جماعت کدھر کھڑی ہے۔ گلگت بلتستان میں اگر مخلوط حکومت بنتی ہے تو ممکن ہے وہاں پی ٹی آئی پیپلزپارٹی کی مخلوط حکومت بن جائے۔ اس صورت میں کیا پی ڈی ایم قائم رہ سکے گی۔ پی ڈی ایم کا لانگ مارچ یا دھرنا ابھی بہت دور کی بات ہے جس پریس کانفرنس کا میں ذکر کر رہا ہوں اس میں فضل الرحمان جا رہے تھے شاہد خاقان عباسی نے ان کا ہاتھ پکڑا اور راجہ پرویز اشرف تقریباً پیپلزپارٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے سٹیج سے اتر گئے۔ پی ڈی ایم کے اندر لوگ بھی عسکری قیادت اور سول قیادت کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ میں تودسمبر سے پہلے اسے ٹوٹتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      بانی پی ٹی آئی کو آج ہی ہسپتال منتقل کیا جائے، سپریم کورٹ

      شدید موسمی حالات کے باعث پاکستان بھر میں 55 ملکی و بین الاقوامی پروازیں متاثر

      سکھ علیحدگی پسند گروپ نے خالصتان کے دارالحکومت کا اعلان کر دیا

      تازہ ترین

      بانی پی ٹی آئی کو آج ہی ہسپتال منتقل کیا جائے، سپریم کورٹ

      بن گویر کا غزہ میں ہر رات ’30 یا 40‘ افراد کو قتل کرنے کا مطالبہ

      ہاکی ورلڈ کپ 2026: نیدرلینڈز، بیلجیم اور پاکستان نے اپنے اپنے قومی اسکواڈز کا اعلان کر دیا

      جماعتِ اسلامی کے امیر العظیم انتقال کر گئے

      عمران خان سے مذاکرات جاری، نبیل گبول کا بڑا دعویٰ

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.