تازہ تر ین

گلگت بلتستان کا احساس محرومی دور کرنے کیلئے عبوری صوبائی حیثیت پر کام کریں گے، وزیر اعظم

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے خطے میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے اور یہاں احساس محرومی کو دور کرنے کے لیے ہم عبوری صوبائی حیثیت پر کام کریں گے۔

گلگت بلتستان میں کابینہ کی تقریب حلف برداری کے بعد خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے گلگت بلتستان کی کابینہ اور وزیراعلیٰ کو مبارک باد دی اور کہا کہ مجھے امید ہے کہ یہاں وہ منتخب حکومت آئے گی جو ایک نئی روایت پیدا کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ میں وہ وزیراعظم ہوں جس نے اس علاقے کو اس طرح دیکھا ہے جیسا کسی اور نے نہیں دیکھا، 15 سال کی عمر میں یہاں آیا تھا جب قراقرم ہائی وے بھی نہیں بنی تھی، جس کے بعد میں کرکٹ کھیلنے کے بعد یہاں آیا۔

عمران خان نے کہا کہ میں اس علاقے کو جانتا ہوں اور اب ہم اسے جس رخ پر ڈالیں گے، اس سے یہاں کے عوام کی زندگی بدل جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہم سب سے پہلے عبوری صوبائی حیثیت پر کام کریں گے تاکہ جو اب تک احساس محرومی رہی ہے وہ ختم ہو جائے۔

عمران خان نے گفتگو کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میں جب یہاں آتا تھا تو نوجوان کہتے تھے کہ کیا ہم پاکستانی ہیں اور اسی احساس محرومی کو دور کرنے کے لیے ہم عبوری صوبائی حیثیت پر کام کریں گے اور ایک کمیٹی بنائیں گے جو ایک ٹائم لائن پر کام کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے کامیاب سسٹم میں لوگوں کے پاس اہنی زندگی کے فیصلے کرنے کا اختیار ہوتا ہے اور کوئی باہر سے آ کر انہیں بتا نہیں سکتا، آپ لوگوں کو بہتر پتہ ہے کہ آپ کو کس طرح کی ترقی چاہیے، ہم اسلام آباد سے آ کو نہیں بتا سکتے کہ پراجیکٹ اے بنایا جائے پراجیکٹ بی بنایا جائے، یہ آپ فیصلہ کر سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم جب مدینہ کی ریاست کی بات کرتے ہیں تو اس میں سب سے اہم چیز انہوں نے ترجیح یہ دی کہ کیسے کمزور طبقے کو اوپر اٹھانا ہے، جو لوگ زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہیں انہیں اوپر کیسے لایا جائے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا احساس پروگرام پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا پروگرام ہے جو غربت ختم کرنے کا پروگرام ہے، گلگت بلتستان میں اس کی زیادہ ضرورت ہے کیونکہ یہاں زیادہ لوگ زندگی کی ریس میں پیچھے رہ گئے ہیں، ہم یہاں بھی احساس پروگرام لا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم سارے گلگت بلتستان کے لوگوں کے لیے ہیلتھ کارڈ اور ہیلتھ انشورنس لے کر آ رہے ہیں، 10 لاکھ روپے ایک گھر کے لیے ہو گا جس کی بدولت وہ کسی بھی ہسپتال میں جا کر وہ ہیلتھ کارڈ کے ذریعے علاج کرا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں اس علاقے میں سیاحت کے شعبے میں موجود صلاحیت کو جانتا ہوں، یہ سب میرا دیکھا ہوا اور اس پر ہماری پوری توجہ ہو گی، گرمیوں میں تو یہاں انقلاب آ چکا ہے اور سیاحوں کے ٹھہرنے کی جگہ نہیں ہوتی، سارے ہوٹل اور گیسٹ ہاؤسز بھر جاتے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ بدقسمتی سے کورونا کی وجہ سے اس مرتبہ وہاں زیادہ سیاح نہ آ سکے لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہاں سیاحت بڑھتی جائے گی اور ہم اس کے لیے آپ کو سستے قرض دیں گے تاکہ لوگ اپنے گھروں کے ساتھ گیسٹ روم بنا سکیں اور ان کی آمدنی بڑھ سکے۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain