(یکم جون 2026): ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے پریشان گاڑی مالکان کے لیے اچھی خبر ہے کہ ایک لیٹر میں 900 کلومیٹر سفر کرنے والی کار ایجاد ہو گئی ہے۔
دنیا بھر میں ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور کمیابی نے لوگوں کو الیکٹرک گاڑیوں کی جانب راغب کیا، تاہم اب بھی اکثریت ایندھن پر چلنے والی گاڑیاں ہی چلا رہی ہے تاہم ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کا کم خرچ میں زیادہ سفر ہو جائے۔
مہنگے ایندھن سے گھبرائے لوگوں کے لیے بڑی خوشخبری ہے کہ ایک ہونہار طالب علم نے ایک ایسی حیرت انگیز اور بڑی بچت والی گاڑی تیار کر لی ہے، جو صرف ایک لیٹر میں 900 کلومیٹر سے زائد کا سفر طے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ ذہین طالب علم امریکی ریاست یوٹاہ سے تعلق رکھتا ہے، جس نے یہ منفرد گاڑی ایجاد کی ہے، جو انتہائی ہلکے، چھوٹے اور ہوا کے دباؤ کو کم کرنے والے (ایروڈائنامک) ڈیزائن کی بدولت غیرمعمولی طور ہر ایندھن بچت کرتی ہے۔
صرف 49 کلو گرام وزنی اس کار کو سُپر مائلیج کا نام دیا گیا ہے، جبکہ اس کا فیول ٹینک محض 30 ملی لیٹر کا ہے، جو ایک ٹیسٹ ٹیوب سے معمولی سا بڑا ہے۔
یہ گاڑی مشہور مقابلے میں حصہ لینے کے لیے تیار کی گئی، جہاں ٹیموں کا مقصد کم سے کم ایندھن میں زیادہ سے زیادہ فاصلہ طے کرنا ہوتا ہے۔
30 ملی لیٹر ایندھن میں یہ گاڑی 32 کلومیٹر کا سفر طے کر لیتی ہے، جس کے بعد فیول ٹینک کو دوبارہ بھرنا پڑتا ہے۔ اس حساب سے یہ گاڑی ایک لیٹر ایندھن میں 914 کلومیٹر تک چلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اس گاڑی کا ڈیزائن منفرد ہے، اس لیے اس کے ڈرائیور کے لیے بھی قد اور وزن کی شرط ہے۔ اس گاڑی کی واحد نشست میں بیٹھنے کے لیے ڈرائیور کا قد زیادہ سے زیادہ 5 فٹ 4 انچ اور وزن 54 کلوگرام تک ہونے کی حد ہے۔
