بھارتی بے بنیاد اور من گھڑت مہم کا مقابلہ حقائق سے کرینگے:عمران خان

وزیرِ اعظم عمران خان  نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ   پاکستان کے خلاف بے بنیاد اور من گھڑت بھارتی مہم کا مقابلہ حقائق سے کیا جائے  عوام اور عالمی برادری کے سامنے بھارت کا اصل چہرہ سامنے لایاجائے  اس امر کا اظہارپاکستان کے خلاف جاری بھارتی پراپیگنڈے خصوصا بھارتی میڈیا کی ہائبرڈ وارفئیر کے حوالے سے اجلاس میں کیا ہے  ہوا ۔اجلاس میں وزیرِ خارجہ شاہ محمود  قریشی، وزیرِ  اطلاعات سینیٹر شبلی فراز، وزیرِداخلہ شیخ رشید احمد ،  وزیرِ مواصلات مراد سعید، معاون خصوصی ڈاکٹر معید یوسف، فوکل پرسن برائے ڈیجیٹل میڈیا ڈاکٹر ارسلان خالد و دیگر شریک ہوئے ۔اجلاس میں پاکستان کے خلاف بھارتی میڈیا کی جانب سے غلط معلومات اور منفی پراپیگنڈے   کا جائزہ لیا گیا۔وزیرِ اعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں کیے گئے غیر قانونی اقدامات،  انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور ہندوفاشسٹ ایجنڈے  اور اس کے نتیجے میں علاقائی امن و امان کو درپیش خطرات سے توجہ ہٹانے کے لئے بھارتی میڈیا کی جانب سے  پاکستان کے خلاف بے بنیاد اور منفی پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے جس کا مقصد  نہ صرف عالمی توجہ ہٹانا ہے بلکہ ملک  میں انتشار  پھیلانا ہے۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ بھارتی میڈیا کے منفی پراپیگنڈے کو ناکام بنانے اور اس حوالے سے عوام میں بہتر شعور اجاگر کرنے کے سلسلے میں بھرپور اقدامات کیے جائیں۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ  بے بنیاد اور من گھڑت مہم کا مقابلہ حقائق سے کیا جائے  اور عوام اور عالمی برادری کے سامنے بھارت کا اصل چہرہ سامنے لایاجائے۔وزیرِ اعظم نے امید ظاہر کی کہ پاکستانی میڈیا بھی اس ضمن مین اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کرے گا۔

استعفے نہیں تحریک عدم اعتماد پیپلز پارٹی کا نیا لائحہ عمل حکومت کے اتحادیوں سے رابطے

 پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ استعفے ہمارا ایٹم بم ہیں جسے بہت احتیاط کے ساتھ استعمال کیا جائے گا۔وزیر اعظم کے استعفے تک کوئی بات نہیں ہوگی۔ وزیر اعظم عمران خان کو ہر صورت جانا ہوگا مگر وہ کیسے جائیں گے اسے ابھی شیئر میں نہیں کرسکتا،موجودہ حکومت کو گھر بھیجنے کے لئے ہر سیاسی ہتھیار استعمال کریں گے جس میں سینیٹ کے الیکشن میں حصہ لینا بھی شامل ہے ۔پی ڈی ایم ملکر الیکشن لڑے تو سینیٹ میں کامیاب ہو سکتے ہیں، تحریک عدم اعتماد بھی لائی جائے ۔ اسمبلیوں سے استعفوں کو نواز شریف کی وطن واپسی سے مشروط کرنے کے معاملے کی میں تصدیق یا تردید نہیں کرسکتا ،پارٹی اجلاس میں ارکان کو اپنی رائے دینے کا حق حاصل ہے ، مسلم لیگ(ن) کے پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کی شب پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے 7 گھنٹے طویل اجلاس کے بعدبلاول ہائو س میڈیا سیل میں پریس کانفرنس میں کیا۔ بلاول نے کہا کہ ہمارے سامنے بہت بڑا چیلنج ہے ، ہم سب کو مل کر اس کٹھ پتلی اور سلیکٹڈ حکومت کو نکالنا ہے ، ہمیں پاکستان کی سیاست اور حکومت سے اسٹیبلشمنٹ کا عمل دخل اب روکنا چاہیے ، ہم جمہوری لوگ ہیں ہمارا جب بھی کوئی پارٹی اجلاس ہوتا ہے اس میں ہر معاملے پر غور ہوتا ہے ۔ یہ حکومت صرف اسٹیبلشمنٹ کے کندھے پر قائم ہے ،اس کی حمایت کے بغیر یہ ایک دن بھی قائم نہیں رہ سکتی ہے ۔ ایک دن بھی اسٹیبلشمنٹ اپنی سپورٹ ختم کردے تو یہ حکومت فورا گرجائے ، جی ڈی اے اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سیاستدان کیسے اس حکومت کے ساتھ کھڑے ہوسکتے ہیں؟ بلوچستان کے سیاست دان اس وجہ سے حکومت کیساتھ ہیں کیوں کہ انکو مجبور کیا جاتا ہے ۔اسمبلیوں سے استعفوں کو نواز شریف کی واپسی سے مشروط کرنے سے متعلق سوال پر چیئرمین پی پی نے کہا کہ سی ای سی اجلاس میں ارکان نے اپنی اپنی رائے کا اظہار کیا ،میں اجلاس کے فیصلوں سے آگاہ کر رہا ہوں آپ کے سوال کی تردید یا تصدیق نہیں کرسکتا،اجلاس میں رائے دینا ہر ممبر کا حق ہے ۔ پیپلزپارٹی سمجھتی ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ وزیراعظم گھر جائیں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ ملک سیاسی اور معاشی گرداب سے اسی صورت میں باہر نکل سکتا ہے کہ پاکستان کواصل جمہوریت کی طرف بڑھنے دیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ 31 دسمبر تک تمام ارکان کے استعفے پارٹی قیادت کے پاس جمع ہونگے اسکی سی ای سی نے بھی حمایت کی ہے ۔پارٹی نے پی ڈی ایم کے 31جنوری تک وزیراعظم کو گھر بھیجنے کے فیصلے کی بھی تائید کی ہے ۔سی ای سی نے پی ڈی ایم کے فیصلوں کی توثیق کی ہے ۔پی ڈی ایم میں جو طے ہوا ہے ویسے ہی ہم آگے بڑھیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ہماری سی ای سی کی رائے ہے کہ حکومت کو ہر فورم پر چیلنج کیا جائے ۔سلیکٹڈ نااہل حکومت کو سڑکوں پر بھی چیلنج کیا جائے گا،ناکام کرپٹ حکومت کو عدالتوں میں بھی چیلنج کرنا چاہیے ۔ سلیکٹڈ حکومت کو پارلیمنٹ اور پنجاب اسمبلی میں چیلنج کرنا چاہئے ۔بلاول نے کہا کہ اس حکومت کو سینیٹ الیکشن میں بھی چیلنج کرنا چاہئے ۔ پی پی چیئرمین نے کہا کہ ہم اپنی رائے کو پی ڈی ایم کے فورم پر رکھیں گے ۔ سی ای سی نے شفاف انتخابات کا مطالبہ کیا ہے جس میں پچھلے الیکشن کی طرح دھاندلی نہ ہو۔ سلیکٹڈ حکومت کی وجہ سے عوام تکلیف میں ہے ، 2018کے الیکشن الیکشن نہیں سلیکشن تھی جس کی وجہ سے عمران خان کی حکومت بنی، انہی کی وجہ سے یہ حکومت بچی ہوئی ہے ، ہم نے وزیراعظم عمران خان کو 31جنوری کی ڈیڈ لائن دی ہے کہ عمران خان گھر چلے جائیں،عمران خان کو خود گھر چلے جانا چاہیے ورنہ ہمیں بھیجنا پڑے گا۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی ڈی ایم کے ایکشن پلان کی پیپلزپارٹی نے توثیق کی ہے ۔سی ای سی کی رائے ہے کہ حکومت کو ہر ہتھیار کے ساتھ چیلنج کرنا ضروری ہے ، پی ڈی ایم کو سینیٹ الیکشن میں حصہ لینا چاہیے ۔ اگرپی ڈی ایم ملکر الیکشن لڑے تو سینیٹ میں اکثریت حاصل کرسکتی ہے ۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سی ای سی خود مختلف تنظیموں سے رابطہ کرے گی جو اس حکومت سے تنگ ہیں۔انہوں نے کہا کہ سٹیل ملز کے ملازمین کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے اور پی آئی اے کے ملازمین کو زبردستی اسلام آباد بھیجا جارہا ہے ۔پیپلز پارٹی اس پر سخت احتجاج کرتی ہے ۔ہم ان تمام طبقوں سے رابطہ کریں گے جن کے ساتھ ظلم ہورہا ہے ۔انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے رہنماخواجہ آصف کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس کو سیاسی انتقام سمجھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ عمل جمہوریت کے منافی ہے ۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سی ای سی نے سینیٹ الیکشن فورم پر حکومت کو چیلنج کرنے کی رائے دی، اسے پی ڈی ایم کے سامنے لایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ مردان کے جلسے میں پیپلز پارٹی کے نمائندے موجود تھے جلوس بھی نکلے مگر ان کو سٹیج تک آنے کا موقع نہیں ملا۔انہوں نے کہا کہ میڈیا میں پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی کے خلاف پراپیگنڈا ہوتا ہے اور خالی جگہوں کو دکھانے کا سلسلہ چلتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم قیادت ایک ساتھ ہے ایک ساتھ رہے گی ۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم نے استعفے دینے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا ،ہوگا تو سامنے رکھیں گے ۔جہاں تک سینیٹ الیکشن اور عمران خان کے جانے کا معاملہ ہے اس میں کوئی تکرار نہیں ہے ۔پارٹی کی جانب سے سینیٹ الیکشن میں شامل ہونا ہماری تجویز ہے ۔اجلاس میں مردم شماری کے ایشو پر بات ہوئی ، ہم پہلے روز سے اس مردم شماری کے خلاف آواز اٹھاتے رہے ہیں کیونکہ یہ صوبوں کے خلاف ہے ۔مردم شماری پر بھی ہمیں شدید اختلافات ہیں، ہم حکومت کے اتحادیوں سے بھی رابطہ کریں گے جنہوں نے مردم شماری پر اعتراضات کیے اورآبادی کے تحت عوام کو ان کاحق دلائیں گے ۔ 2018کے الیکشن میں جو دھاندلی ہوئی اسکا آغاز مردم شماری سے ہوا، مردم شماری والا معاملہ بھی پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر اٹھائیں گے ۔سی ای سی اجلاس میں گلگت بلتستان کے الیکشن میں دھاندلی کی مذمت کی گئی اور انتخاب کو مسترد کیا گیا ۔اجلاس نے کشمیر میں عوام کے ساتھ ظلم کی بھی مذمت کی ۔اجلاس نے بلوچستان میں جو کچھ ہورہا ہے اس پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مذمت کی۔اس وقت عوام تاریخی مہنگائی کا شکار ہیں،بجلی ،گیس کے بل، ادویات اوراشیائے خوردونوش کی قیمتیں کنٹرول سے باہر ہیں ،پورے خطے میں پاکستان کی منفی گروتھ ریٹ ہے ۔قوم کو آج جس صورتحال کا سامنا ہے یہ سب کچھ حکومت کا کیا دھرا ہے ،حکومت کی نااہلی کا بوجھ ملک کے عوام برداشت کررہے ہیں ۔بلاول بھٹو نے کہا کہ آزاد کشمیر کے الیکشن شفاف ہونے چاہئیں، کشمیر کے عوام کے ساتھ جو ناانصافی ہورہی اسکی مذمت کی گئی،اجلاس میں سندھ اور بلوچستان کے ساحلوں پر قبضہ کیا جارہا ہے ، سندھ اور بلوچستان کو ایک ہوکر اس معاملے پر آواز بلند کرنی چاہیے ، ہم تاجروں، مزدوروں، پی آئی اے اور سٹیل مل کے ملازمین سے رابطے کریں گے ، ہم ان سب لوگوں سے رابطہ کریں گے جو اس حکومت کے باعث تکلیف کا شکار ہیں، جو کسانوں کا معاشی قتل ہورہا ہم اس پر بھی آواز بلند کریں گے ، ہمارا احتجاج تب تک کامیاب نہیں ہوگا جب تک عوام ہمارا ساتھ نہیں دیتے ، عوام تب ہمارا ساتھ د یں گے جب انکے مسائل پر بات ہو۔انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں مہنگائی خطے میں سب سے زیادہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو اس وقت جن مصائب کا سامنا ہے اس کی ذمہ دار صرف اور صرف سلیکٹڈ حکومت ہے ،سیاسی معاملات میں اسٹیبلشمنٹ کے عمل دخل کی وجہ سے صورتحال اور بھی خراب ہوئی ہے اس لئے اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی عمل دخل کو روکناہوگا۔ بلاول کا کہنا ہے کہ ہمارا عزم ہے ہمیشہ کی طرح تمام جمہوری قوتوں کوساتھ لے کرچلیں۔

مودی چل کر عوامی لیڈر کے پاس آتا ہے،یہی ووٹ کو عزت ہے:مریم نواز

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ جب کمزور وزیراعظم عوام کی آتا ہے تو بھارت جیسا کمزور دشمن وار کرتا ہے ،یہ وزیراعظم عوامی نہیں ہے یہ نالائق اعظم ہے ،میں کشمیر کی بیٹی ہوں میری رگوں میں نواز شریف کا خون ہے، عمران کی نالائقی کی وجہ سے کشمیر مودی کی جھولی میں جاگرتا ہے،جب کمزور وزیراعظم عوام کی آتا ہے تو بھارت جیساکمزور دشمن وار کرتا ہے ،یہ وزیراعظم عوامی نہیں ہے یہ نالائق اعظم ہے ،جب میں کشمیر جارہی تھی تو عمران خان ڈر گیا ،اس وقت کش جانے سے دو دن پہلے مجھے میرے باپ کے سامنے گرفتار کرلیا گیا،اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان نواز شریف کے ہاتھوں ایٹمی طاقت بنایا ،آج نواز شریف کی آواز دھونس سے بند ہے ،آج ہمارے مخالف بھی نواز شریف کی زبان بول رہے ہیں ،پاکستان کے چپے چپے پر نواز شریف کی خدمت کے نشان موجود ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں یوم تاسیس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔مریم نواز نے کہا کہ ارشد ملک جج نواز شریف سے گھر میں اگر معافی مانگ کرگیا ،اس نے کہا کہ میں نے آپ اور آپ کی بیٹی سے زیادتی ہے مجھے معاف کردیں ،جب نواز شریف نے کہا تھا کہ عمران خان آپ کاکام کرکٹ کھیلنا ہے جاؤ کرکٹ کھیلو ،آج نواز شریف کی ہربات سچ ثابت ہورہی ہے ،پونے تین سال بعد عوام کے سامنے ڈھٹائی سے کہتا ہے کہ مجھے سمجھ ہی نہیں آئی ،جب آپ کو کچھ پتہ نہیں پھر عوام کی زندگیوں سے کیوں کھیل رہے ہو،میرے کمرے پر حملہ ہوا عمران خان کو پتہ ہی نہیں تھا کہ کراچی میں کیا ہوا ہے ،یہ پانامہ کی رٹ لگاتے ہیں ایک منتخب وزیراعظم کو اقامہ پر گھر بھیج دیا جاتا ہے شرم کرو۔آج قدرت کا انتقام دیکھو نواز شریف نے اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑا ہوا ہے ۔نواز شریف پر ایک بھی الزام ثابت نہیں ہوا،آج نواز شریف کا اللہ سچا ثابت کررہا ہے ،آج سلیکٹیڈ خاموش ہے اور نالائقی کا سامنا کررہا ہے ،حکومت کرنا عوامی نمائندوں کا کام ہے،آپ کی یہ سوچ ہے مریم۔نواز کو ڈرا لو گے یہ آپ کی خام خیالی ہے ،اس ظالم عمران خان کو جانا ہی پڑے گا ،تم کہتے ہو کہ مسلم لیگ ن اور پی ڈی ایم فوج کے خلاف بات کرتی عمران خان تمیں حیا نہیں آتی ،مہنگائی بڑھ گئی ،ملک تباہی کے دہانے پر پہنچ چکاہیووٹ کو عزت دینا ضروری ہے، کشمیریوں پرظلم ہوتاہے،بیٹوں کی شہادت ہوتی ہیں،زخم ہماریدلوں پرلگتاہے،کمزورحکمرانوں کی وجہ سیہی بھارت جیسا دشمن پاکستان پر وار کرتاہے، پچھلے سال مجھے مقبوضہ کشمیرآنا تھا،میرے اعلان پرعمران خان کواتنا ڈرتھا کہ مجھے گرفتار کرلیا،کشمیریوں سیمیرا خون کا رشتہ ہے ہی، اب دل کا رشتہ بھی بن گیاہے، مسلم لیگ ن نے آزاد کشمیر کے کونےکونے کو ترقی سے سنوارا،مسلم لیگ ن نے نوازشریف کیہاتھوں پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا،نظریہ عوام کا پیٹ نہیں بھرسکتا،نظریے کے پیچھے نوازشریف کی خدمات ہیں،جو اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑتا ہے اللہ تعالیٰ اسے سرخرو کرتا ہے،نوازشریف کی زبان بند ہے لیکن آج ہمارے مخالف بھی ان کی زبان بول رہے ہیں،جب ووٹ کو عزت نہیں ملتی تو پاکستان کی شہہ رگ پر وار ہوتا ہے،یہ نواز شریف کو کہتا تھا کہ مودی کا یار مگر مودی کی جھولی میں کشمیر کا مقدمہ کون ہار کر آیا ،جب سلیکٹڈ اور کمزور وزیراعظم آتا ہے پاکستان کی شہ رگ پر بھارت حملہ کرتا ہے ،جب عوامی لیڈر وزیراعظم ہوتا ہے تو مودی جیسا چل کر پاکستان آتا ہے، یہی ہے ووٹ کی عزت ہے

خواجہ آصف 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

احتساب عدالت نے مسلم لیگ ن کے رہنما اور ممبر قومی اسمبلی خواجہ آصف کو 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا۔

احتساب عدالت میں لیگی رہنما خواجہ آصف کے خلاف کیس کی سماعت ایڈمن جج جوادالحسن نے کی۔

دوران سماعت نیب حکام کی جانب سے خواجہ آصف کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔

نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ خواجہ آصف کے خلاف 23 جون 2020 کو انکوائری کا آغاز کیا گیا تھا، ان سے مزید تفتیش کرنی ہے لہذا جسمانی ریمانڈ منظور کیا جائے۔

جج جواد الحسن نے خواجہ آصف نے استفسار کیا کہ آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں؟

خواجہ آصف نے بتایاکہ 2018 میں پہلی پیشی نیب پنڈی میں بھگتی ہے، میں عدالت میں پنجابی میں بات کروں گا جس پر عدالت نے خواجہ آصف کواجازت دیدی۔

رہنما مسلم لیگ ن کا کہنا تھا کہ نیب حکام اپنی تاریخ درست کریں، 2020 میں میرے خلاف کوئی کارروائی کا آغاز نہیں کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ میں7 بار ایم این اے منتخب ہوا مگر کیس صرف 21 کروڑ کا بنایا گیا جس پر احتساب عدلت کے جج نے کہا خواجہ صاحب ہو سکتا ہے کہ تفتیش ہو تو پتا چلے کہ 21 کروڑ اور نکل آئے۔

فاضل جج کے خواجہ آصف کے ساتھ مکالمے پر عدالت میں قہقہہ لگ گئے۔

خواجہ آصف نے بتایا کہ نیب حکام کو میرےخلاف کوئی ٹھوس شواہد نہیں ملے۔

احتساب عدالت نے خواجہ آصف کا 14 روزہ ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں 13 جنوری کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

عدالت نے خواجہ آصف کو نیب آفس میں اہلیہ اور وکلاء سے ملاقات کی اجازت دیدی۔

خیال رہے کہ نیب نے خواجہ آصف کو دو روز قبل اسلام آباد سے آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں گرفتار کیا تھا اور گزشتہ روز ان کا ایک روزہ جوڈیشل ریمانڈ منظور کیا گیا تھا۔

مفتی منیب الرحمان کو چیئرمین رویت ہلال کمیٹی کے عہدے سے ہٹادیا گیا

اسلام آباد: مفتی منیب الرحمان کو رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین کے عہدے سے ہٹادیا گیا۔

وزارت مذہبی امور کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق مولانا عبدالخبیر آزاد کو  رویت ہلال کمیٹی کا نیا چیئرمین مقرر  کیا گیا ہے علاوہ ازیں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی تشکیل نو کر دی گئی ہے جس کے بعد رویت ہلال کمیٹی میں 19 ارکان شامل کیے گئے ہیں۔

مرکزی رویت ہلال کمیٹی میں راغب نعیمی ، حسین اکبر، مولانا فضل الرحیم،ڈاکٹر یاسین ظفر، مفتی اقبال چشتی، ڈاکٹرمفتی علی اصغر،فیصل احمد،سید علی قرار، مفتی فضل جمیل ،حافظ عبدالغفور،یوسف کشمیری،قاری میر اللہ ،  حبیب اللہ چشتی  اور مفتی ضمیرشامل ہیں۔

علاوہ ازیں کمیٹی میں سپارکو،محکمہ موسمیات ،سائنس ٹیکنالوجی اوروزارت مذہبی امورکا ایک ایک نمائندہ شامل  کیا گیا ہے۔ وزارت مذہبی امور نے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی تشکیل نو نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے

وزیراعظم 31 جنوری کو قطعاً استعفیٰ نہیں دینگے، اپوزیشن اپنا فیصلہ کرے: وزیر خارجہ

اسلام آباد: (ویب ڈیسک ) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپوزیشن اتحاد کی جانب سے استعفوں اور لانگ مارچ کی دھمکیوں کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان 31 جنوری کو کسی صورت استعفیٰ نہیں دینگے، اپوزیشن اپنا فیصلہ کرلے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سیاسی انتقام کے قائل ہیں، نہ احتساب سے پیچھے ہٹ سکتے ہیں۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونے کا وقت آگیا۔ خواجہ آصف سیاست کرنے کے بجائے سوالوں کا جواب دیں۔

تفصیلات کے مطابق شاہ محمود قریشی نے یہ بات اسلام آباد میں پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔ مولانا فضل الرحمان جواب دینے کے بجائے کہتے ہیں، دیکھیں گے کہ کیسے نوٹس بھیجتے ہیں۔ ان کے پاس جواب نہیں، اس لیے اضطراب پیدا ہو جاتا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے واضح کیا کہ نیب ایک خود مختار اور آزاد ادارہ ہے۔ نیب جس قانون کے تحت کام کر رہا ہے، وہ پی ٹی آئی کا تیار کردہ نہیں ہے۔ نیب کے چیئرمین کی تعنیاتی میں تحریک انصاف کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ اب نیب کو تحریک انصاف کے ساتھ جوڑنا غیر مناسب ہے۔ خواجہ آصف کو کئی مرتبہ سوالات کا جواب دینے کے لیے موقع دیا گیا، لگتا ہے وہ نیب کو مطمئن نہیں کر سکے۔ خواجہ آصف منی ٹریل دے دیتے تو شاید گرفتاری کی نوبت نہ آتی۔

انہوں حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے آج سمجھ آئی کہ یہ لوگ فیٹف قانون سازی کو نیب سے کیوں جوڑ رہے تھے۔ یہ لوگ نیب قوانین میں ترامیم چاہتے تھے۔ فیٹف قانون سازی میٹنگ میں خواجہ آصف ترامیم کا اصرار کرتے رہے۔ یہ لوگ این آر او کی آڑ میں آگے بڑھنا چاہتے تھے لیکن نیب کی کارروائی کو انتقامی قرار دے دیتے ہیں۔

شاہ محمود نے بتایا کہ دو استعفے سپیکر کے پاس آئے ہیں لیکن جب دونوں ممبران کو دعوت دی تو انہوں آنے سے انکار کر دیا۔ یہ استعفے دیتے بھی ہیں اور پیش بھی نہیں ہوتے۔ مریم کہتی ہیں کہ ان کے استعفے منظور کر لیے جائیں لیکن جب دونوں ممبران پیش نہیں ہونگے تو استعفے کیسے منظور ہونگے؟ اگر (ن) لیگ کے دونوں ممبران سپیکر کے پاس پیش ہوئے تو سنجیدگی ظاہر ہو جائے گی۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے قانوی نقطہ بتایا کہ مستعفی شخص کو سپیکر اسمبلی کے پاس پیش ہونا ہوتا ہے۔ جاوید ہاشمی نے سپیکر کے سامنے کہا تھا کہ میں مستعفی ہو رہا ہوں، اب مسلم لیگ (ن) کے ممبران بھی ہمت کریں اور سپیکر کے پاس جائیں۔

ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ پہلی دفعہ پاکستان میں صادق اور امین شخص اوپر بیٹھا ہے، اس وجہ سے کیس منطقی انجام تک پہنچ رہے ہیں۔ اتفاق کرتا ہوں کہ احتساب کے کیسز میں ریکوری بھی ہونی چاہیے۔ مستقبل میں احتساب کے کیسز میں ریکوری بھی ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے پاسپورٹ کی تاریخ مدت ختم ہونے کے بعد کینسل ہو جائے گا۔ اگر مریم کے ابا بہادر ہیں تو پھر انہیں پیش ہونا ہوگا۔ نواز شریف تو بیماری کا بہانہ لگا کر لندن گئے اور وہاں سیروسیاحت کرتے ہیں۔ نواز شریف کوع دالت نے سزا دی، وہ پیش ہوں۔

وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز کا کہنا تھا کہ قانون کسی کا ماتحت نہیں، سب قانون کے ماتحت ہیں۔ جس طرح عام شہری، اسی طرح ون لوگوں کو بھی جواب دینا ہوگا۔ کل سینیٹ میں بھی ان سے سوال پوچھیں گے۔

شبلی فراز نے کہا کہ یہ لوگ اپنی سیاہ کاریاں چھپانے کے لیے پروپگینڈا کرتے ہیں۔ بابر اعوان نے ابھی پورے نیٹ ورک بارے بتایا۔ انہوں نے ناجائز دولت کمائی اور اسے بیرون ملک منتقل کیا۔ ماضی کے حکمرانوں کی توجہ صرف پیسہ بنانے میں لگی رہی۔

چیئرمین پی سی بی ہوتا تو مکی آرتھر کو کوچ برقرار رکھتا: نجم سیٹھی

مکی آرتھر نے پیشہ ورانہ بنیاد پر فیصلے کیے،مقامی کوچز ذاتی تعلقات،دوستی کے دباؤ میں انتخاب، دیگر معاملات میں فیصلے کرتے ہیں: سابق چیئرمین پی سی بی

لاہور (ویب ڈیسک ) پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے سابق چیئرمین نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ قومی سیٹ اپ میں مقامی افراد کی ہیڈ کوچ کے طور پر تقرری سے افراتفری اور تقسیم کا سبب بنتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے دور میں مکی آرتھر کو قومی ٹیم کا کوچ مقرر کیا تھا اور اگر وہ اب بھی کرکٹ بورڈ کے انچارج ہوتے تو جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے مکی آرتھر کو کوچ برقرار رکھے ۔صحافیوں کے ایک گروپ سے گفتگو میں 72 سالہ نجم سیٹھی نے کہا کہ اگر وہ پی سی بی میں ہوتے تو مکی آرتھر کے معاہدے کو بڑھا دیتے، مکی اور ان کی کوچنگ ٹیم نے اچھے نتائج دیئے اور وہ کھلاڑیوں کو تیار کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ ہمارے ٹاپ کرکٹرز قومی ٹیم کی پروفیشنل کوچنگ نہیں کرسکتے ہیں، پاکستانی ٹیموں کی کوچنگ کے لئے غیر ملکی کوچ بہترین ہیں۔ اگر وہ کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ہوتے تو اس کے معاہدے میں توسیع کردیتے، انہوں نے پیشہ ورانہ بنیاد پر فیصلے کیے جب کہ مقامی کوچز ذاتی تعلقات اور دوستی کے دباؤ میں انتخاب اور دیگر معاملات میں فیصلے کرتے ہیں۔

بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی میں 3 کشمیری نوجوان شہید

سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران جارحیت پسند قابض بھارتی فوج کی فائرنگ سے 3 کشمیری نوجوان شہید ہوگئے۔  

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سری نگر کے علاقے لاوے پورہ میں قابض بھارتی فوج نے گھر گھر تلاشی کے لیے محاصرہ کیا اور اس دوران داخلی و خارجی راستے بند کردیئے گئے جب کہ انٹرنیٹ اور موبائل سروس بھی معطل رہیں۔

سرچ آپریشن کے دوران بھارتی فوج نے ایک گھر پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 3 کشمیری نوجوان شہید ہوگئے جن کی شناخت زبیر، اعجاز اور اطہر مشتاق کے نام سے ہوئی ہے۔

تینوں نوجوانوں کا تعلق  شوپیاں اور پلوامہ سے تھا اور وہ سری نگر میں تعلیم کی غرض سے ٹھہرے ہوئے تھے تاہم بھارتی فوج نے روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نوجوانوں کو عسکریت پسند ظاہر کرنے کی کوشش کی۔

نوجوانوں کی شہادت کے بعد علاقہ مکینوں نے بھارتی فوج کی جارحیت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور جدوجہد آزادی کشمیر کے حق میں نعرے لگائے۔

یمن: حکومتی وفد کی آمد پر ائیرپورٹ پر حملہ، 12 افراد ہلاک

یمن کی حال ہی میں قائم ہونے والی حکومت کے ارکان کے سعودی عرب سے عدن ائیرپورٹ پہنچتے ہی ائیرپورٹ دھماکوں اور فائرنگ سے گونج اٹھا جس کے نتیجے میں اب تک 12 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

یمن کے حکومتی ذرائع نے برطانوی اخبار کو بتایا کہ 12 سے زیادہ ہلاکتیں اور متعدد زخمی ہیں جن میں نائب وزراء بھی شامل ہیں۔

حکومتی وفد کی آمد کے موقع پر میڈیا بھی بڑی تعداد میں وہاں موجود تھا اور واقعے کی متعدد ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کرررہی ہیں۔

وزیراعظم معین عبدالملک سعید سمیت کابینہ کے دیگر وزراء کو بحفاظت ائیرپورٹ سے محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔

حملے کے وقت سعودی عرب کے یمن میں سفیر محمد سعید الجبیر بھی ائیرپورٹ میں موجود تھے جنہیں محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔

یمن کے نائب وزیر برائےکھیل و نوجوانان حمزہ الکمالے کا کہنا ہے کہ نائب وزیر ٹرانسپورٹیشن بھی زخمی ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حملے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے تاہم ہمیں حوثی باغیوں پر شبہ ہے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب میں یمن کے صدر عبدالرب منصور ہادی کی حکومت اور علیحدگی پسند تنظیم سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) کے درمیان مل کر حکومت چلانے کا معاہدہ طے پایا ہے جس کے بعد کابینہ کے ارکان سعودی عرب سے واپس آرہے تھے۔

ایس ٹی سی جنوبی یمن کی آزادی کیلئے تحریک چلاتی رہی ہےتاہم حوثی باغیوں کیخلاف حکومت کے ساتھ ہے اور اس معاہدے سے یمن جاری متعدد تنازعات میں سے ایک کے ختم ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

پاکستان، افغانستان اور ازبکستان میں کارگو ٹرین سروس کا معاہدہ

پاکستان ،افغانستان اور ازبکستان کے درمیان کارگو ٹرین سروس کا معاہدہ طے پاگیا۔

تفصیلات کے مطابق  پاکستان ،افغانستان اور ازبکستان میں ٹرانز افغان ریل لنک پراجیکٹ  کا معاہدہ طے پاگیا۔

ٹرانز افغان ریل لنک پشاور سے براستہ ،کابل اور مزار شریف تک چلے گی۔

گذشتہ روز ہونے والے معاہدے کی تقریب میں ازبک وزیرٹرانسپورٹ اور وفاقی وزیر ریلویز اعظم سواتی  نے شرکت کی۔

معاہدے پر افغانستان، ازبکستان کے صدر کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے بھی دستخط کردیے۔

معاہدے پر دستخط کا خط اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو بھیجا جائے گا۔اقوام متحدہ 573 کلو میٹر ٹرین سروس کے لیے 4 ارب 80 کروڑ ڈالر فراہم کرے گا۔

سہہ ملکی کارگو ٹرین سروس سے خطے میں خوشحال اور کاروباری سرگرمیاں بڑھیں گی۔