پیپلز پارٹی کا 31 جنوری تک استعفی جمع کرانے اور سینیٹ الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان

 کراچی: پیپلز پارٹی نے 31 جنوری تک اپنے تمام ارکان اسمبلی کے استعفی پارٹی قائدین کے پاس جمع کرانے اور سینیٹ الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کردیا ساتھ ہی قومی و پنجاب اسمبلی میں حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کی تجویز بھی پیش کردی۔

اس بات کا اعلان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس کے بعد بلاول ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر دیگر رہنما فرحت اللہ بابر، نیئر بخاری اور قمرالزمان کائرہ بھی موجود تھے۔

بلاول نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ 31 جنوری تک تمام ارکان اسمبلی کے استعفی پارٹی قائدین کے پاس جمع ہوجائیں گے، ہم حکومت گرانے کے لیے 31 جنوری تک کی ڈیڈ لائن دے رہے ہیں تاہم استعفی کب دینے ہیں یہ پی ڈی ایم طے کرے گی۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے حکومت سے کسی بھی قسم کے مذاکرات کا امکان ایک بار پھر رد کردیا اور کہا کہ حکومت کے جانے اور وزیراعظم کے کرسی چھوڑنے تک کسی قسم کی بات نہیں ہوگی، اس سے پہلے ہم حکومت گرائیں حکومت خود ہی چلی جائے تو بہتر ہے لیکن اگر وہ 31 جنوری تک نہیں جاتی تو ہمارا پلان تیار ہے۔

انہوں ںے کہا کہ ہماری سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے طے کیا ہے کہ پی ڈی ایم کی آل پارٹیز کانفرنس کے لائحہ عمل پر چلتے ہوئے اے، بی اور سی ایکشن پلانز پر عمل کرنا چاہیے، پیپلز پارٹی کو حکومت کو ہر فورم پر چیلنج کرنا چاہیے، پورے پی ڈی ایم اور اپوزیشن جماعتوں کو ہر فورم پر ہر ہتھیار کے ساتھ لڑنا چاہیے، کمیٹی سمجھتی ہے کہ ناجائز حکومت کو عدالتوں اور پارلیمان میں بھی چیلنج کرنا چاہیے جس کے لیے پنجاب اور نیشنل اسمبلی میں چیلنج کرنا چاہیے اور ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے۔

خواجہ آصف اپنی گرفتاری پر خود ہی وضاحت دے سکتے ہیں، وزیر خارجہ

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف کی گرفتاری پر وہ خود ہی وضاحت دے سکتے ہیں۔

اسلام آباد میں وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز اور وزیراعظم عمران خان سے مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ نیب قوانین اور اس کے چیئرمین کے انتخاب میں پاکستان تحریک انصاف کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ لگتا یہ ہے کہ خواجہ آصف نیب کو مطمین نہیں کرسکے اور اگر وہ منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثوں کے الزامات کا تسلی بخش جواب دیتے تو گرفتاری کی نوبت نہیں آتی۔

ان کا کہنا تھا جب ہم اپوزیشن سے فیٹف پر قانون سازی کی بات کررہے تھے تب وہ نیب کے قانون میں ترامیم کی بات کررہے تھے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمیں اس امر پر تعجب ہوتا تھا کہ یہ دونوں ادارے الگ الگ ہیں لیکن اپوزیشن فیٹف کو ڈھال بنا کر نیب قوانین میں ترمیم چاہتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے اصرار پر اپوزیشن نے موقف اختیار کیا کہ نیب کے قوانین میں رعایت ملے گی تو فیٹف پر ووٹ دیں گے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ نیب قوانین میں ترمیم کا تقاضہ اس لیے زور پکڑ گیا تھا کہ انہیں آنے والے وقتوں میں کچھ مشکلات نظر آرہی تھیں۔

انہوں نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے حوالے سے کہا کہ وہ کہتے تھے کہ کس کی جرات ہوتی ہے کہ ہم سے سوال کرے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ’جبکہ مولانا فضل الرحمٰن اور ان کے رہنماؤں کو ثبوت پیش کرتے ہوئے کہانا چاہیے تھا کہ نیب کے الزامات میں وزن نہیں ہے‘۔

اس موقع پر وزیراعظم عمران خان سے مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کے حوالے سے کہا کہ انہوں نے اپنے والد نواز شریف کو اقامہ میں دی گئی سزا کو نا جائز قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ’لیکن وہ بھول گئیں کہ اقامہ ایک رہائشی اجازت نامے کو کہتے ہیں جس کی بنیاد پر بیرون ملک بینک اکاؤنٹ کھولنے کی اجازت مل جاتی ہے‘۔

بابر اعوان نے کہا کہ مزدور اقامہ لیتے ہیں اور وہ روزگار کے حاصل آمدنی ملک بھیجتے

نواز شریف کا پاسپورٹ 16 فروری کو منسوخ کردیں گے، شیخ رشید احمد

اسلام آباد: وزیر داخلہ شیخ رشید نے اعلان کیا کہ 16 فروری کو سابق وزیراعظم نوازشریف کا پاسپورٹ منسوخ کردیں گے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شیخ رشید نے تمام ملکوں کے ویزے آن لائن کرنے کا بھی اعلان کیا۔

انہوں نے کہا کہ چین اور افغانستان سمیت دیگر ملکوں کے آن لائن ویزوں کے اجرا کا آغاز کیا جارہا ہے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی سینیٹ کے الیکشن میں حصہ لے رہی ہے تو ضمنی انتخابات میں بھی حصہ لے گی، منی لانڈرر ایکسپوز ہوگئے ہیں۔

سابق وزیراعلیٰ بلوچستان اسلم رئیسانی کے وارنٹ گرفتاری جاری

کوئٹہ: احتساب عدالت نے سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔

کوئٹہ کی احتساب عدالت نے مہرگڑھ ورثہ بحالی فنڈز میں مبینہ کرپشن کیس میں نواب اسلم رئیسانی کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جو ان کی عدم پیشی پر جاری کیے گئے۔

اس کے علاوہ کیس میں نواب اسلم رئیسانی کے عزیز عبدالنبی رئیسانی کے بھی وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں۔

عدالت نے نوابزادہ لشکری رئیسانی اور دوستین جمالدینی کی حاضری سےاستثناکی درخواستیں منظور کرلیں جب کہ مہرگڑھ کی تزئین اور بحالی کی مد میں فنڈزمیں مبینہ کرپشن کیس کی سماعت ملتوی کردی۔

کراچی تجاوزات کیس شکر کریں سندھ حکومت نے ایئر پورٹ کسی کو الاٹ نہیں کر دیا:چیف جسٹس

 کراچی: چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے ریمارکس دیے ہیں کہ کراچی کو قبرستان بنادیا، گلیوں میں اونچی اونچی عمارتیں بناکر پورا شہر تباہ کردیا گیا۔

سپریم کورٹ رجسٹری میں کراچی میں تجاوزات کے خاتمے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی تو ڈی جی سندھ بلـڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے)، ایڈووکیٹ جنرل سندھ سلمان طالب الدین، کمشنر کراچی اور دیگر حکام پیش ہوئے۔ چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے پوچھا کہ ہمارے حکم پر کتنا عمل درآمد ہوا؟، وزیر اعلی کو بلائیں اور کہیں رپورٹ لے کر آئیں، ڈیڑھ سال پہلے حکم جاری کیا تھا اب تک عمل نہیں ہوا، کیا توہین عدالت کی کارروائی شروع کردیں؟۔

پلے گراؤنڈ اور پارک ختم ہوگئے

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ موہٹہ پیلس کے سامنے زمینوں پر کسی نے جعلی کاغذ بنا کر قبضہ کرلیا ہے ، کمشنر کراچی صاحب کسی دور میں وہاں بچے کھیلتے تھے جائیں وہ زمین وا گزار کرائیں، شہر کی بلڈنگز ابھی تک اپنی جگہوں پر ہیں، آپ نے کونسی عمارت گرائی بتائیں، کھوڑی باغیچہ کا کیا حال ہے، لیاری کا حال آپ نے دیکھا ہے، لیاری اور گارڈن سے پلے گراؤنڈ اور پارک ختم ہوچکے ہیں، باغ ابن قاسم کی کیا پوزیشن ہے؟ وہاں ایک بڑی بلڈنگ بنی ہوئی ہے اس کا کیا ہوا؟ وہ پلاٹ کس کا ہے 4000 گز کے پلاٹ پر بلڈنگ کس کی ہے؟،

بڑوں سے لڑیں، پتھارے والوں کو چھوڑیں

اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ وہ ایمنٹی پلاٹ ہے۔ چیف جسٹس نے حکم دیا کہ جائیں اپنی زمین خالی کراکر کل رپورٹ دیں، جاکر قبضہ ختم کرائیں ، آپ کو ان ہی سے لڑنا ہے چھوٹے موٹے پتھارے والوں کو چھوڑیں۔

کڈنی ہل پارک فوری واگزار کرائیں ورنہ جیل جائیں

چیف جسٹس نے کڈنی ہل کی زمین واگزار کرانے کے معاملے پر کمشنر کراچی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کل تک کڈنی ہل زمین کلیئر نہ ہوئی تو جیل بھیج دیں گے ، تجاوزات کا مکمل خاتمہ کرکے رپورٹ دیں۔ سپریم کورٹ نے کڈنی ہل پارک کو فوری کلیئر کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ پارک کو اصل شکل میں بحال کیا جائے اور 31 جون 2021 تک مکمل کرکے شہریوں کیلئے کھولا جائے۔

شہر پر فاتحہ پڑھ لیں

چیف جسٹس نے ڈی جی ایس بی سی اے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سب کو نظر آتا ہے آپ لوگوں نے کراچی کے ساتھ کیا کیا ہے، افسران کی تو موج ہی موج ہے، کیا آپ لوگوں کو کراچی میں معمولی زلزلے کا انتظار ہے، خدانخواستہ ایک زلزلہ آیا تو آدھا شہر ختم ہوجائے گا۔ ایک کروڑ 40 لاکھ لوگ مر جائیں گے، اس شہر کو قبرستان بنادیا ہے، گلیوں میں اونچی اونچی عمارتیں بنا دیں پورا شہر تباہ کردیا ، فاتحہ پڑھنا شروع کردیں اس شہر پر ، کوئی امریکا کوئی لندن اور کینیڈا میں بیٹھا ہے ، آپ بھی کل چلے جائیں گے امریکا تباہ کردیں اس شہر کو، جو کچھ مردم شماری میں اس شہر کے ساتھ کیا ہے سب نے دیکھا ، حکومت کی منظوری سے شہر میں غیرقانونی تعمیرات ہوئی ہیں، لوگوں سے پیسے لے کر ساری بلڈنگز بنوا دیں، سب کو ماردیں گے آپ لوگ ابھی سے فاتحہ پڑھ دیں کروڑوں لوگوں پر ، یہ شہر تو اب پرائیوٹ لوگوں کا ہوگیا سب نے اپنی مرضی کے علاقے بنالیے ، آپ لوگوں نے غیر قانونی طور پر زمینیں بیچ دیں، غریبوں نے ساری زندگی کی جمع پونجی لگا دی۔

ڈی جی ایس بی سی اے نے کہا کہ ہم تجاوزات کے خاتمے کی کوشش کررہے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کیا کریں گے بلڈوزر لے کر نکل جائیں جتنے غریب لوگ ہیں سب رُل جائیں گے ، سندھ بلڈنگ کے ایک ایک آدمی کے ساتھ پورا مافیا چلتا ہے۔

ڈی جی نے کہا کہ مجھے حکومت کی سپورٹ ہے کام کروں گا۔

حکومت ہوتی تو کراچی کا یہ حال ہوتا

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے اتنی کمزور سپورٹ کا ذکر کیا ہے جس کا وجود ہی نہیں ، حکومت ہوتی تو یہ حال ہوتا ؟ کراچی میں گینگ اور مافیاز کام کررہے ہیں ، پورا شہر تجاوزات سے بھرا ہے غیرقانونی عمارتوں کی بھرمار ہے ، سرکاری زمینیں ہاتھ سے نکل گئی ہیں ساری ، فارمز بنے ہوئے ہیں۔

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ، وزیر تعلیم سعید غنی، مرتضی وہاب وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ، امتیاز شیخ، صوبائی وزیر ایکسائز مکیش کمار چاولہ، مشیر جیل خانہ جات اعجاز جاکھرانی، صوبائی وزیر شہلا رضا سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔

شہر میں تباہی مچی ہے

چیف جسٹس نے کہا کہ ایک دفعہ نارتھ ناظم آباد گئے تباہی مچی ہوئی تھی، اتنی مشکل سے گئے سب تباہ ہوگیا ہے، آپ نے پورا بندر روڈ بھی خراب کردیا ، شہر کے بیچ میں بنانے کا کوئی جواز نہیں تھا انڈر گراؤنڈ بناتے ، اربوں روپے لگا دیئے ، مین سڑکیں تباہ کردیں ، دو دو تین تین لینز خراب کردیں ، سچ بات یہ ہے آپ نے شہر کو تباہ کردیا ہے اگر کچھ کرنا تھا تو رنگ روڈز بناتے، اس شہر کو ماس ٹرانزٹ کی ضرورت تھی، شاہراہ فیصل پر راشد منہاس والا فلائی اور پورا ٹریفک روک لیتا ہے یہ انجنیئرنگ ہے آپ کی، آپ کو پانی دینا ہے گٹر ٹھیک کرنا ہے تو پیسہ باہر سے آئے گا ، تھر میں آر او پلانٹس کا کیا ہوا ؟ سب خراب ہیں پندرہ ارب روپے جھونک دیے۔

شکر کریں سندھ حکومت نے ایئر پورٹ الاٹ نہیں کردیا

چیف جسٹس نے پوچھا کہ آپ نے ریڈ لائن بس کیلئے رفاعی پلاٹ کیسے لے لیا ؟ کوئی پرائیویٹ زمین لیتے کھیل کا میدان کیوں لیا ؟ سب سے خطرناک بات یہ ہے کابینہ کورفاعی پلاٹس کنورٹ کرنے کا اختیارہے اور وہ کنورژن (حیثیت تبدیل) کررہی ہے۔

وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت نے ایئر پورٹ کے پاس رفاعی پلاٹ کی غیر قانونی الاٹمنٹ کردی۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ شکر کریں سندھ حکومت نے ایئر پورٹ کسی کو الاٹ نہیں کردیا ، یہ لوگ کچھ بھی کرسکتے ہیں۔

معذرت نہیں حکم پر عمل در آمد کی رپورٹ دیں

چیف جسٹس نے وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ سے کہا کہ مسٹر سی ایم ہم نے مئی 2019 میں حکم دیا تھا کیا ہوا اس کا؟ ۔ مراد علی شاہ نے جواب دیا کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد کررہے ہیں معذرت چاہتا ہوں اگر درست رپورٹ پیش نہیں کرسکے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں آپ کی معذرت کی ضرورت نہیں ہے ہمیں حکم پر عمل در آمد کی رپورٹ دیں ، سارا حکم نامہ ابھی پڑھ کر سنایا گیا بتائیں کچھ بھی عمل نہیں ہوا۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ میں معذرت کے ساتھ اتفاق نہیں کرتا کہ کچھ نہیں ہوا۔

ایک ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم 

چیف جسٹس نے کہا کہ زمینی حقائق یہی ہیں کہ کچھ نہیں ہوا ہے ، ہمیں کوئی ایک چیز بتادیں کراچی کی بہتری اور اصل شکل میں بحالی کیلئے کیا قدم اٹھایا ؟۔ مراد علی شاہ نے جواب دیا کہ شہید ملت سے طارق روڈ تک نئی سیوریج لائنیں ، یونیورسٹی روڈ تعمیر کی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کراچی کے شہری تو گاؤں میں رہتے ہیں سارا شہر گاؤں میں تبدیل ہوگیا ، نہ سڑکیں ہیں نہ پانی نہ پارک نہ میدان کچھ بھی نہیں ہے۔ وزیراعلیٰ نے درخواست کی کہ کچھ مہلت مل جائے تو عمل درآمد رپورٹ پیش کردیں گے۔ عدالت نے حکم پر عمل درآمد کرکے ایک ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔

چیف جسٹس نے ناصر شاہ سے کہا کہ آپ کے حوالے سے خبر لگی ہے بلڈنگز بنانے کی اجازت دے دیں، شہر میں کہاں جگہ ہے کو نئی عمارتیں بنیں گی ؟؟۔ ناصر حسین شاہ نے کہا کہ کسی کو غیرقانونی تعمیرات کی اجازت نہیں دیں گے آپ کے حکم کی تعمیل ہوگی۔

کے سی آر بحالی، ریلوے زمینوں پر قبضے ختم کرانے کا حکم

عدالت نے کراچی سرکلر ریلوے مکمل بحال کرنے کا حکم دیتے ہوئے سیکرٹری ریلوے سے کہا کہ سندھ حکومت سے بات کریں اور کراچی سرکلر ریلوے 100 فیصد چلائیں۔  عدالت نے ریلوے کی زمینوں پر قائم قبضے ختم کرانے اور تمام زمینیں واگزار کرانے کا بڑا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ریلوے خود آپریشن کرے اور تمام اراضی واگزار کرائے، ڈی جی رینجرز اور آئی جی سندھ آپریشن میں مدد کریں اور سیکورٹی دیں۔

چیف جسٹس نے ریلوے کی لیز پر دی گئی اراضی بھی خالی کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ پیٹرول پمپ کیسے بن رہے ہیں ریلوے زمینوں پر کون بنا رہا ہے، یہ قبضے ویسے ہی تو نہیں ہو گئے، آپ کے افسران ہی تو سب کچھ کرتے رہے یہ، اب تو ریلوے زمین پر مزار تک بنا لیے گئے، حیات ریجنسی اتنی قیمتی زمین تھی ریلوے نے اونے پونے بیچ دی۔

عدالت نے حیات ریجنسی کی زمین کو ریلوے مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ایک ماہ میں حیات ریجنسی کی زمین سے متعلق رپورٹ طلب کرلی۔

عدالت نے گیلانی اسٹیشن کے قریب ریلوے زمین پر تجوری ہائٹس کی تعمیر روکنے کا حکم بھی دے دیا۔

جون تک گرین لائن بس چلانے اور ایک ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم

سپریم کورٹ نے جون 2021ء تک گرین لائن بس چلانے اور پروجیکٹ سے متعلق وفاقی ادارے کے آئی ڈی سی ایل حکام کو ایک ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے روبرو گرین لائن پروجیکٹ سے متعلق سماعت ہوئی۔ وفاقی ادارے کے آئی ڈی سی ایل کے چیف آپریٹنگ آفیسر عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے وفاقی ادارے نے کوئی ذمہ داری نہیں لی۔

چیف آپریٹنگ آفیسر نے بتایا کہ ہم نے اپنی دو رپورٹس جمع کرارکھی ہیں، وفاقی حکومت کے فنڈ سے گرین لائن پروجیکٹ بن رہا ہے، سی ایم سندھ اور مئیر کراچی سے منظوری بن رہا ہے۔ چیف آپریٹنگ آفیسر نے دعویٰ کیا کہ گرین لائن پروجیکٹ سب سے سستا پروجیکٹ ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ نے گرین لائن پروجیکٹ بنانے سے پہلے شہر والوں سے پوچھا تھا؟ آفیسر نے بتایا کہ ہم نے ٹی کونسل سے وقتاً فوقتاً منظوری لیتے رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے گرین لائن کی وجہ سے کتنی ڈسٹ ہے کتنا کچرا ہے۔ آفیسر نے بتایا کہ پہلے فیز کا کام مکمل ہوچکا ہے، دوسرے فیز کا کام نمائش سے ٹاور تک جاری ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ قائد اعظم مزار کے سامنے کوئی برج تو نہیں بنادیا؟ آفیسر نے بتایا ہم قائد اعظم میجمنٹ بورڈ کی منظوری کے بعد نمائش پر انڈر پاس پر کام کررہے ہیں، گرین لائن سروس کی بسیں مئی تک کراچی آجائیں گی، ان میں روزانہ 3 لاکھ افراد سفر کریں گے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے آپ نے شہر کو تباہ کرکے رکھا دیا، آپ نے گرین لائن سروس شروع کرنے سے پہلے کوئی سروے کرایا تھا؟ آپ نے برج بنا دئیے، نیچے کے تین تین روڈ تباہ ہوگئے ہیں۔

چیف آپریٹنگ آفیسر نے کہا کہ ہم نے بیشتر سڑکیں بحال کردی ہیں، ہم نے واٹر بورڈ کی 4 ارب روپے کے لائنیں  بچھائی ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ آپ نے کونسا خود بنایا ہوگا؟ پروجیکٹ پر قرضہ لیا ہوگا۔ آفیسر نے کہا نہیں کوئی قرضہ نہیں لیا وفاقی حکومت کے فنڈ سے پر پروجیکٹ بن رہا ہے۔

آخر میں عدالت نے جون 2021ء تک گرین لائن بس چلانے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے کے آئی ڈی سی ایل حکام کو ایک ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

گورننس کا مسئلہ 18 ویں ترمیم سے جڑا ہے، ملک کی آمدن 7 ہزارارب، 4 ہزار ارب صوبے لے جاتے ہیں، فواد چوہدری کی چینل۵ کے پروگرام ”ضیاءشاہد کے ساتھ“ میں خصوصی گفتگو

لاہور (خبریں، چینل۵ ویب ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمبل پروگرام ”ضیاءشاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر سائنس فواد چوہدری نے کہا کہ گورننس میں آسانیوں کا تعلق سینٹ الیکشن سے نہیں بلکہ 18 ویں ترمیم سے ہے این ایف سی ایوارڈ سے ہے جس کے لیے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہو گی۔ عام قانون سازی سے کافی فائدہ ہوتا ہے کہ سینٹ میں غیر ضروری بلیک میلنگ سے محفوظ رہا جاسکتا ہے، کئی ایسے قوانین جو ہم لانا چاہتے ہیں جن میں کونسل جسٹس سسٹم ریفارمز و دیگر شامل ہیں۔ گورننس کا بنیادی مسئلہ 18 ویں ترمیم سے جڑا ہوا ہے۔ ملک کی آمدنی 7 ہزار ارب ہے ان میں چار ہزار ارب صوبوں جو چلا جاتا ہے۔ صوبوں کا فنڈز کو استعمال کرنا متنازع ہوتا ہے جس میں نااہلی بھی شامل ہوتی ہے۔ صوبائی معاملات کو بہتر بنائے بغیر، ان میں اصلاحات لائے بغیر معاملات کو ٹھیک نہیں کیا جاسکتا۔ پی ڈی ایم کا مقصد صرف اتنا ہے کہ سیاست کو آگے اپنے بچوں میں ٹرانسفر کرسکیں۔ غیر جمہوری سیاسی جماعتوں سے کیسے توقع رکھی جاسکتی ہے کہ وہ جمہوریت کے لیے جدوجہد کریں۔ آمریت کے اصولوں پر چلنے والی جماعتیں جمہوریت کیلئے کیسے کوشش کرسکتی ہیں۔ پی ڈی ایم کے معاملات بکھر رہے ہیں۔ اس میں شامل بڑی پارٹیاں ایک دوسرے سے نالاں نظر آتی ہیں۔ اب ان پارٹیوں میں بھی توڑ پھوڑ شروع ہوچکی ہے۔ الیکٹرک وہیکل ٹیکنالوجی میں جدت آرہی ہے۔ بیٹریاں طاقتور اور چھوٹے سائز کی آرہی ہیں۔ امید ہے کہ 2021 کے آخر تک تین کمپنیاں 800 سے ہزار کلو میٹر تک چلنے والی بیٹری بنالیں گی۔ ایسی گاڑیاں آنے سے سفر میں آسانی ہوگی اور سستی بھی ہوں گی کیونکہ ان میں انجن میں استعمال ہونے والے 28 پرزوں کی ضرورت ہی نہیں ہوگی۔ الیکٹرک گاڑایں ماحول دوست ہونگی۔ آنے والے دنوں میں گاڑیوں میں یہی ٹیکنالوجی استعمال ہوگی۔ نواز شریف کو واپس لانے میں وزارت داخلہ کو سنجیدہ کردار ادا کرنا چاہیے۔ اور انہیں ہر صورت واپس لانا چاہیے۔ عالمی اسٹیبلشمنٹ ورنہ انہیں بھی اسی طرح اپنے ہاتھوں میں کھلائے گی جس طرح الطاف حسین کو کھلاتی رہی ہے۔ نواز شریف کو پاکستان لانا ملک کے مفاد میں ہے۔

اسلام آباد سمیت مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے

سلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے،ریکٹر سکیل پر شدت 402ریکارڈ کی گئی ۔ زلزلہ پیما مرکز کے مطابق اسلام آباد،پشاور ، ایبٹ آباد،سوات ،مینگورہ ،بونیر،مالاکنڈ، شانگلہ، بٹگرام اورگردونواح میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ۔ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 4.2 ریکارڈ کی گئی۔زلزلے کا مرکز دیر کے مشرق میں 25 کلومیٹر تھا۔ زلزے کی زیرزمین گہرائی 30 کلومیٹر تھی۔ زلزلے سے کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

فواد عالم کی سنچری کے باوجود پاکستان کو پہلے ٹیسٹ میچ میں شکست

نیوزی لینڈ نے فواد عالم کی سنچری کے باوجود پاکستان کو پہلے ٹیسٹ میچ میں شکست دے کر سیریز میں 0-1 کی برتری حاصل کر لی۔

ماؤنٹ منگنوئی میں کھیلے گئے سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ میں پاکستان نے نیوزی لینڈ کی جانب سے دیے گئے 373 رنز کے ہدف کے تعاقب میں 71رنز 3 کھلاڑی آؤٹ سے اننگز کا آغاز کیا تو فواد عالم اور اظہر علی وکٹ پر موجود تھے۔

دن کے آغاز میں ہی نیوزی لینڈ کو اس وقت اہم کامیابی ملی جب سابق کپتان اظہر علی 75 کے مجموعی اسکور پر پویلین لوٹ گئے۔

اس موقع پر فواد عالم کا ساتھ دینے کپتان محمد رضوان آئے اور دونوں کھلاڑیوں نے سنبھل کر ذمے دارانہ انداز میں بیٹنگ شروع کی۔

دونوں کھلاڑیوں نے عندہ کھیل پیش کرتے ہوئے نہ صرف کھانے کے وقفے تک کوئی وکٹ نہ گرنے دی بلکہ نیوزی لینڈ کے باؤلرز کا چائے کے وقفے تک بھی بھرپور امتحان لیتے ہوئے انہیں وکٹ سے محروم رکھا۔

اس دوران گزشتہ اننگز میں ففٹی اسکور کرنے والے محمد رضوان نے اس انگز میں بھی اپنی نصف سنچری مکمل کر لی۔

دوسرے اینڈ سے فواد عالم ڈٹے رہے اور ایک عرصے تک قومی سے باہر رکھے جانے والے بلے باز نے کارکردگی سے جواب دیتے ہوئے عمدہ سنچری اسکور کی۔

فواد اور رضوان نے پانچویں وکٹ کے لیے 165 رنز کی شراکت قائم کر کے میچ کو دلچسپ بنانے کے ساتھ ساتھ ڈرا کی امید بھی پیدا کردی۔

اس شراکت کا خاتمہ اس وقت ہوا جب 60 رنز بنانے والے رضوان کو وکٹوں کے سامنے پی لانے کی پاداش میں آؤٹ قررا دیا گیا، رضوان کو فیلڈ امپائر نے ناٹ قررا دیا جس پر نیوزی لینڈ نے ریویو لینے کا فیصلہ کیا جو بالکل درست ثابت ہوا۔

تاہم پاکستان کو اصل دھچکا اس وقت لگا جب فریکچر پیر کے ساتھ باؤلنگ کرنے والے کیوی فاسٹ باؤلر نیل ویگنر نے فواد عالم کی اننگز کا خاتمہ کردیا، بائیں ہاتھ کے بلے باز نے 269 گیندوں پر 102 رنز بنانے کے بعد پویلین لوٹے۔

یاسر شاہ کا وکٹ پر قیام بھی مختصر رہا جس کے بعد پاکستان کی تمام تر امیدیں پہلی اننگز کے ہیرو فہیم اشرف سے وابستہ تھیں لیکن وہ بھی 19 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔

محمد عباس اور شاہین شاہ آفریدی نے مزید 4 اوورز تک بیٹنگ کر کے شکست کو ٹالنے کی کوشش کی جس کے بعد پاکستان کی آخری بیٹنگ جوڑی کو ڈرا کے لیے مزید 10اوورز بیٹنگ کرنی تھی۔

نسیم شاہ اور شاہین شاہ آفریدی نے چھ اوورز تک سنبھل کر بیٹنگ کی جس کے بعد پریشانی سے دوچار کین ولیمسن باؤلنگ کے لیے عباس کو آؤٹ کرنے والے مچل سینٹنر کو لے کر آئے اور ان کا یہ فیصلہ بالکل درست ثابت ہوا۔

نسیم شاہ اس گیند کو کھیلنے کے حوالے سے شش و پنج میں نظر آئے اور اسی کشمکش میں سینٹرنر کی گیند پر انہی کو کیچ دے بیٹھے۔

پاکستان کی پوری ٹیم میچ کے اختتام سے چار اوورز قبل 271 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی اور نیوزی لینڈ نے میچ میں 101 رنز سے فتح حاصل کر کے سیریز میں بھی 0-1 کی برتری حاصل کر لی۔

نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن کو پہلی اننگز میں عمدہ سنچری اور بہترین انداز اقیادت پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز کا دوسرا ٹیسٹ میچ 3 جنوری سے کرائسٹ چرچ میں کھیلا جائے گا۔

اپوزیشن کا اداروں کیخلاف بیانیہ اپنی موت آپ مر گیا‘ ڈاکہ ڈال کر محل بنائے، عثمان بزدار

وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا ہے کہ اپوزیشن کا اداروں کے خلاف بیانیہ اپنی موت آپ مر چکا،اداروں کے خلاف مہم سوچی سمجھی سازش ہے،عوام کے ٹیکسوں پر عیش کرنے والے رہنما نہیں راہزن ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ قوم سابق ادوار میں ہونے والی اربوں روپے کی لوٹ مار نہیں بھولی۔ عوام کے ٹیکسوں پر عیش کرنے والے رہنما نہیں راہزن ہیں۔

وزیر اعلی نے کہا کہ ملک و قوم کو مشکلات سے نکالنے کیلئے پر عزم ہو کر کام کر رہے ہیں۔تحریک انصاف کی حکومت عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔کرپشن کرنے والوں کوعوام کی ترقی کے سفر میں رکاوٹ نہیں ڈالنے دیں گے۔ ملکی خزانہ لوٹنے والوں کو اپنے کئے کا حساب دینا ہوگا۔

وزیراعلیٰ نے کورونا کی دوسری لہر کا پھیلاؤ روکنے کے لئے عوام کو ماسک کے استعمال کی اپیل کی ہے۔

اپوزیشن کے جو بھی ارکان استعفے دیں فوری منظور کر لیے جائیں :عمران خان

اسلام آباد: ملکی میں جمہوری عمل آگے بڑھانے کیلئے وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن کی کسی بھی بلیک میلنگ یا دباؤ برداشت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اپوزیشن کے استعفوں سے متعلق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور وزیراعظم کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، ملاقات میں اہم فیصلے کئے گئے۔

اسپیکر اسمبلی سے ملاقات میں وزیراعظم نے کہا کہ این آر او کیلئےاپوزیشن نےسارے کارڈ کھیل لیے، اپوزیشن والے اب معاملہ الجھا رہے ہیں، پی ڈی ایم نے تو استعفوں کی بات کی تھی، کہاں ہیں استعفے؟ بلیک میل کرنے کیلئے اداروں پر دباؤ نہیں ڈالنےدینگے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو واضح ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ استعفے دینے والوں کو تصدیق کیلئےبلایاجائے، تصدیق ہونے پر استعفیٰ تیس منٹ کے اندر اندر قبول کیا جائیگا، جن دو ارکان کے استعفے موصول ہوئے ابتدا ان سے کی جائیگی۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو واضح ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ استعفے دینے والوں کو تصدیق کیلئےبلایاجائے، تصدیق ہونے پر استعفیٰ تیس منٹ کے اندر اندر قبول کیا جائیگا، جن دو ارکان کے استعفے موصول ہوئے ابتدا ان سے کی جائیگی۔

جواب میں اسپیکر قومی اسمبلی نے وزیراعظم کو پالیسی سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ استعفے فوری منظور ہونگے، اس معاملے پر وزیراعظم نے کسی طور پر اپوزیشن کی بلیک میلنگ یا دباؤبرداشت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ساتھ ہی وزیراعظم نے پارٹی ترجمانوں کو بھی واضح گائیڈ لائنز جاری کر دیں۔