ا مر یکہ نے چین کو بھی پیچھے چھو ڑ دیا ،مر یضوں کی تعد اد ایک لا کھ سے بڑ ھ گئی

بیجنگ ‘نیویارک (شِنہوا) چین کے شہر ووہان سے جنم لینے والی عالمگیر وباء کرونا وائرس نے دنیا کے 200 ممالک اور خطوںکو اپنی لپیٹ میں لےاجبکہ دنیا بھر میں ہلاکتیں 25ہزار سے زائد ہوگئیں ،امریکہ نے چین کو بھی پیچھے چھوڑ دیا اور وہ کرونا وائرس کے سب سے زیادہ مریضوں والا ملک بن گیا جہاں مجموعی مریضوں کی تعداد8ہزار کے قریب پہنچ گئی ، برطانوی وزیراعظم اورفلپائن کی مسلح افواج کے سربراہ بھی کرونا وائرس کا شکار ہوگئے۔ چین میں کرونا وائرس کے 55 نئے مصدقہ کیسز سامنے آئے ہیں جن میں سے صرف ایک مقامی اور دیگر درآمد شدہ ہیں ،چین نے غیرملکیوں کا چین میں داخلہ عارضی طور پر معطل اورآسٹریلیا نے بیرون ممالک سے آنے والے تمام مسافروں کو قرنطینہ کر نے کا اعلان کیا ہے ،فِجی نے کرونا وائرس کا پھیلا ﺅ روکنے کیلئے ملک بھر میں کرفیو لگا دیا ،افغانستان میں 2غیر ملکی سفارت کاروں اور نیٹو مشن دفتر کے 4سرکاری اہلکاروں میں کرونا وائرس کی تصدیق جبکہ ملک میں 11نئے مریضوں کی تصدیق کے بعد کرونا وائرس کے کل مریضوں کی تعداد91ہوگئی۔جانز ہوپکنز یونیورسٹی کے مرکز برائے سسٹمز سائنس اور انجینئرنگ(سی ایس ایس ای) کے مطابق امریکہ میں امریکی مشرقی وقت کے مطابق شام 6بجے تک نوول کرونا وائرس کے 82ہزار404مصدقہ مریضوں کی اطلاعات موصول ہوچکی ہیں۔سی ایس ایس ای کے مطابق امریکہ نے چین کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور سب سے زیادہ مریضوں والا ملک بن گیا ہے۔مرکز کے مطابق5 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں مریضوں کی تعداد میں 10ہزار کا اضافہ ہواہے۔ ریاست نیویارک ملک میں وبا کا مرکز بن گیا ہے جہاں پر 37ہزار802 مصدقہ مریضوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ نیوجرسی میں 6ہزار876اور کیلیفورنیا میں 3ہزار802 مصدقہ مریض ہیں۔امریکہ میں نوول کرونا وائرس کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 1ہزار178 تک پہنچ گئی ہے جن میں سے 281ہلاکتیں نیویارک اور 100ہلاکتیں واشنگٹن کی کنگز کانٹی میں ہوئی ہیں۔جانز ہوپکنز یونیورسٹی کے اعدادوشمار کے مطابق چین میں (مین لینڈ، ہانگ کانگ،مکاو¿ اور تائیوان کے علاقوں سمیت)جمعرات کو امریکی مشرقی وقت کے مطابق شام6بجے تک 82ہزار34مصدقہ مریضوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ادھر فلپائن کی مسلح افواج(اے ایف پی)کے چیف آف اسٹاف فیلیمن سانتوس جونیئر میں نوول کرونا وائرس مثبت آیا ہے جبکہ سانتوس سے رابطے کے بعد فلپائن کے سیکرٹری دفاع ڈیلفن لورینزانا نے خود کو قرنطینہ کرلیا ہے۔اے ایف پی نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا کہ سانتوس کا پیر کو ٹیسٹ کیا گیا تھا جمعہ کے روز ان کے ٹیسٹ کا نتیجہ سامنے آیا ہے اور یہ کہ وہ بہتر ہیں اور ان کی صحت کی صورتحال اچھی ہے لیکن وہ ملٹری اسپتال کے فوجی معالجین کی زیر نگرانی رہیں گے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ہو سکتا ہے سانتوس کو بحریہ کے ایک افسر سے وائرس منتقل ہوا ہو جس نے اردن کا سفر کیا ہے اور اسے 27 مارچ سے 10 اپریل تک گھر پر ہی14 دن کے سخت قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔ عالمی وبا نے پانچ لاکھ بتیس ہزار 224 افراد کو لپیٹ میں لے لیا جبکہ صحت یاب افراد کی تعداد ایک لاکھ 24 ہزار 326 ہے، امریکا میں کرونا سے متاثرین افراد کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہو گئی۔میڈیارپورٹس کے مطابق عالمی وبا سے امریکا میں 1300 افراد ہلاک اور 85 ہزار 594 افراد متاثر ہو چکے ہیں۔ چین میں کرونا سے ہلاک افراد کی تعداد 3 ہزار 292 ہو گئی جبکہ متاثرین کی تعداد 81 ہزار 340 ہے۔ اٹلی میں کرونا سے آٹھ ہزار دو سو پندرہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 80 ہزار 589 افرادعالمی وبا کی لپیٹ میں ہیں۔اسپین میں کرونا سے ہلاک افراد کی تعداد 4 ہزار 365 ہے۔ ایران میں کرونا سے مرنے والوں کی تعداد 2 ہزار 234 ہو چکی ہے۔برطانیہ میں کرونا سے 578، جنوبی کوریا میں 139، فرانس میں ایک ہزار 696، جاپان میں 47 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ سعودی عرب میں کرونا سے تین افراد موت کے منہ میں چلے گئے جبکہ متاثرین کی تعداد ایک ہزار 12 ہے۔بھارت میں کرونا سے مرنے والوں کی تعداد بیس جبکہ متاثرین کی تعداد سات سو ستائیس ہے۔ ملائیشیا کے بادشاہ اور ملکہ بھی قرنطینہ میں چلے گئے،برطانوی میڈیا کے مطابق ملائیشیا کے بادشاہ اور ان کی اہلیہ کے ملازمین میں کرونا وائرس کی تشخیص کے بعد قرنطینہ میں چلے گئے،بادشاہ سلطان اور ان کی اہلیہ نے ملازمین میں وائرس کی تشخیص کے بعد اپنا بھی کرونا ٹیسٹ کروایا تھا جو منفی آیا۔رپورٹ کے مطابق ملائیشیا کے بادشاہ اور ان کی اہلیہ احتیاطی تدابیر پر 14 دن قرنطینہ میں گزاریں گے۔کرونا وائرس کے باعث ملائیشیا میں اب تک 23 افراد ہلاک جبکہ 235 نئے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد متاثرین کی تعداد 2 ہزار 31 ہوگئی ہے۔

ا متنا ن شا ہد کی تجو یز پر وزیر ا عظم کا ا یکشن ،ٹا ئیگر فو ر س بنا نے کا ا علا ن ،2ہفتے بعد کیا صورتحا ل ہو گی ا بھی نہیں بتا سکتا ،عمران خا ن

اسلام آباد(نامہ نگار خصوصی) وزیراعظم عمران خان نے پاکستان میں موذی وبا کے سدباب اور گھر گھر کھانا پہنچانے کیلئے کورونا ریلیف ٹائیگرز فورس بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔ کل سے ملک بھر میں گڈز ٹرانسپورٹ بھی کھل جائے گی۔وزیراعظم عمران خان
کا پاکستان میں کورونا وائرس کی صورتحال کے حوالے سے سینئر صحافیوں سے گفتگو میں کہنا تھا کہ چین نے جب لاک ڈان کیا تو گھروں میں کھانا پہنچایا۔عمران خان نے کہا کہ ہمارے ملک میں چین سے کوئی کیس نہیں آیا لیکن تافتان میں ہمارے پاس مناسب بندوبست نہیں تھا۔ ہمارے ملک میں اب تک صرف 9 لوگ کورونا وائرس سے جاں بحق ہوئے لیکن ہم نہیں کہہ سکتے کہ دو ہفتے بعد پاکستان میں کیا صورتحال ہو۔ ایسی چیز پاکستان میں پہلے کبھی نہیں ہوئی۔ لوگوں کے جمع ہونے سے وائرس پھیلتا ہے۔ ہمیں سوچ سمجھ کر چلنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبوں کے مابین گڈز ٹرانسپورٹ پر پابندی نہیں ہے۔ کھانے پینے کی اشیا بنانے والی فیکٹریاں بھی کام کرتی رہیں گی۔ ہم نے فیصلہ کیا گڈز ٹراسپورٹ پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔صحافیوں سے مکالمے میں انہوں نے کہا کہ شروع میں ایسا تاثر دیا گیا کہ جیسے حکومت کو سمجھ نہیں کیا کرنا ہے، یہ امریکا جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی نہیں ہے حالانکہ اس موذی مرض کا مقابلہ کرنے کیلئے امریکا نے 2 ہزار ارب ڈالر ریلیف پیکیج دیا ہے۔ دوسری جانب ہماری ٹیکس کولیکشن 45 ارب ڈالر ہے۔ یہ جنگ حکومت نہیں، قوم جیت سکتی ہے۔وزیراعظم نے اعلان کیا کہ جلد ایک کرونا فنڈ کا اعلان کرینگے۔ اس فنڈ کے ذریعے بے روزگاروں اور ڈیلی ویجز کی مدد کی جائے گی۔ اس کے علاوہ کورونا کی جنگ میں ہمیں نوجوانوں کی ضرورت ہے۔ ہم وبا کے تدارک کیلئے کورونا ریلیف ٹائیگرز فورس بنا رہے ہیں۔ ان نوجوانوں کے ذریعے لوگوں کے گھروں میں کھانا پہنچائیں گے۔ 31 مارچ سے رجسٹریشن شروع ہوگی۔انہوں نے درخواست کی کہ اس وقت پاکستان کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ضرورت ہے۔ پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ خیرات دینے والا ملک ہے۔ ڈر ہے کہ ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر نیچے جائیں گے۔ ساری دنیا کی طرح ہماری برآمدات بھی متاثر ہوئی ہیں۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی ڈالر پاکستانی بینکوں میں جمع کروائیں۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کون کتنی کوشش کر رہا ہے؟ اچھی طرح جانتا ہوں۔ عوام کو تقسیم کرنے والے اپنا ہی نقصان کریں گے۔ چھوٹا سا طبقہ ملک لوٹنے میں مصروف ہے۔ پیسے والے کو کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ تیس سال اقتدار میں رہنے والے باہر سے علاج کرواتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم تو ڈیڑھ سال سے اقتدار میں ہیں۔ یہاں لوگ 30 سال تک اقتدار میں رہے۔ سرکاری ہسپتال اس لیے تباہ ہوئے کیونکہ سابقہ حکمران ٹیکس کے پیسوں سے باہر علاج کرواتے تھے۔ ہمیں اپنے ہسپتال ٹھیک کرنا پڑیں گے۔انہوں نے کہا کہ ‘پاکستان کی ٹیکس سے حاصل ہونے والی مجموعی آمدنی 45 ارب ڈالر ہے اور امریکا نے صرف ریلیف پیکج 2 ہزار ارب ڈالر کا دیا ہے، اس کے باوجود وہاں وفاق کچھ کر رہا ہے اور ریاستیں کچھ کر رہی ہیں کیونکہ موجودہ صوتحال اتنی آسان نہیں ہے، کورونا وائرس کی وبا سب کے لیے نئی ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمارے ملک میں بھی کورونا وائرس آیا جو مختلف ردعمل آنا شروع ہوئے، صوبوں پر دبا بڑھا اور انہوں نے اس کے مطابق اقدامات اٹھائے لیکن بظاہر ایسا تاثر ملا کہ حکومت کو سمجھ نہیں آرہی کہ کیا ہورہا ہے، درحقیقت ایسا نہیں تھا، پاکستان کو ایسی صورتحال کا تجربہ نہیں تھا’۔عمران خان نے کہا کہ ‘میں لوگوں کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ دو ہفتے قبل قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد ہم نے لاک ڈان شروع کردیا، پی ایس ایل سمیت کھیلوں کے تمام مقابلے ختم کر دیے لیکن اس کے بعد جس بات کا مجھے خدشہ تھا کہ جب ہم لاک ڈان کی بات کرتے ہیں تو ہمیں بہت سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا چاہیے کیونکہ ہم جو بھی قدم اٹھاتے ہیں اس کا ردعمل اور اثرات آتے ہیں’۔انہوں نے کہا کہ ‘مجھے خدشہ تھا کہ اگر ہم لاک ڈان کے سیدھے پانچویں گیئر میں چلے گئے تو غریب طبقے اور دیہاڑی دار مزدور کے لیے بہت مشکلات پیدا ہوں گی اس لیے میرا خیال تھا کہ جب تک اس طبقے کے لیے کوئی اسٹرکچر نہیں بنتا ہمیں آہستہ آہستہ اقدامات اٹھانے چاہیے’۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ‘اللہ کا خاص کرم ہے کہ ہمارے ملک میں کورونا وائرس اب تک ویسے نہیں پھیلا جیسے دوسرے ممالک میں پھیلا ہے لیکن کوئی گارنٹی نہیں اور ہوسکتا ہے کہ دو ہفتے بعد کیسز ایک دم زیادہ ہوجائیں لہذا قوم کو تیار رہنا چاہیے اور ہمیں انتہائی برے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیاری کرنی چاہیے’۔عمران خان نے کہا کہ ‘اگلے ہفتے کورونا فنڈ کا اعلان کیا جائے گا اور جو بھی عطیات دینا چاہے وہ اس فنڈ میں دے گا، غریب طبقے کی ایک طرف احساس پروگرام کے ذریعے مالی مدد کی جائے گی دوسری طرف کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال کی وجہ سے بیروزگار ہونے والوں اور چھابڑی والوں کی اس فنڈ سے مدد کی جائے گی، جبکہ مالی مدد کرنے والوں کی رجسٹریشن کی جائے گی اور ان کے لیے منظم نظام بنایا جائے گا۔’انہوں نے کہا کہ ‘کیونکہ کورونا کی وجہ سے ہماری تجارت متاثر ہورہی ہے اور برآمدات گر رہی ہیں، ہمیں ڈر ہے کہ اس صورتحال کی وجہ سے ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہوں گے اور روپے پر دبا بڑھے گا، اس لیے میں اس کی بھی تیاری کر رہا ہوں اور اسٹیٹ بینک میں اکانٹ کھولوں گا۔’ان کا کہنا تھا کہ ‘میں ہمارے اوورسیز پاکستانیوں سے درخواست کروں گا وہ اس اکانٹ میں پیسے جمع کروائیں تاکہ روپے پر دبا ختم ہو۔’اس موقع پر وزیر فوڈ سیکیورٹی خسرو بختیار نے گندم اور آٹے کی قلت کو وقتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ‘اس وقت صرف پبلک سیکٹر میں 16 لاکھ ٹن گندم موجود ہے جو نئے سیزن کی کاشت تک کافی ہے۔’انہوں نے کہا کہ ‘کورونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد لوگوں نے گھبرا کر آٹے کی زیادہ خریداری کی، تاہم صوبے فلور ملز کی نگرانی کر رہے ہیں اور امید ہے کہ ایک دو روز میں نا صرف آٹے کی قیمتیں کم ہوں گی بلکہ سپلائی چین بھی بہتر ہوجائے گی۔وزیراعظم کی زیر صدارت جمعہ توانائی کمیٹی کا اجلاس ہوا گیس کی قیمتیں نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔گیس کمپنیاں صارفین کو سہولتوں کی فراہمی کیلئے مراکز قائم کرینگی۔گیس کمپنیوں کے سربراہان کو اخراجات میں کمی کی ہدایت کردی گئی۔معاون خصوصی اطلاعات کے مطابق عام آدمی کے مسائل کے حل کیلئے مختلف پہلوں پر غور کیا گیا۔وزیراعظم نے توانائی وزیر کو ہدایت کی کہ گیس قیمتوں کا بوجھ صارفین پر نہ ڈالا جائے۔اجلاس میں گیس کی قیمتیں نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔گیس کے شعبے میں اصلاحات لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔گیس کے شعبے میں ضروری ادارہ جاتی اصلاحات لائی جائیں گی۔گیس صارفین کے مسائل کو کم سے کم کیا جائے گا۔ عوام کو گیس کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی گئی ہے ۔صنعتی شعبے کو ایل این جی سمیت دیگر ذرائع سے گیس فراہم کی جائیگی:معاون خصوصی نے کہا کہ وزیراعظم کا موقف واضح ہے کہ عوام پر کوئی بوجھ نہیں ڈالا جائیگا۔گیس کمپنیاں صارفین کو سہولتوں کی فراہمی کیلئے مراکز قائم کرینگی۔گیس کمپنیوں کے سربراہان کو اخراجات میں کمی کی ہدایت کی گئی ہے۔گیس چوری کے خاتمے اور لائن لاسز میں کمی کیلئے اقدامات کی ہدایت کی گئی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومتوں کے تعاون سے عوام کواشیا کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔ حکومت نے ملک بھرمیں گڈزٹرانسپورٹ آج (ہفتہ) سے کھولنے کافیصلہ کرلیا ہے ۔جمعہ کووزیراعظم کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ لاک ڈاو¿ن کے باعث ملک میں مواصلاتی نظام کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔وزرائے اعلی اور وفاقی وزرا ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے، عسکری اور سول اداروں کے اعلی حکام بھی موجود تھے۔رپورٹ کے مطابق حکومت نے ملک بھرمیں گڈزٹرانسپورٹ آج (ہفتہ) سے کھولنے کافیصلہ کرلیا ہے ۔وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ ملک میں کھانے پینے کی اشیاکی قلت نہیں ہونی چاہیے- صوبائی حکومتوں کے تعاون سے عوام کواشیا کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔

کرونا 2011 میں دریافت 2018 مےں پھر نشاندہی سائنسدان سوئے رہے

2011میں امریکی فلم Contagian میں کرونا‘ علامات‘ تباہی کا اشارہ دیا گیا تھا وائرس امریکی خاتون کے ذریعے ہانگ کانگ منتقل ہوا جہاں سے پورے چین میں پھیل گیاخاتون میں یہ وائرس ایسے خنزیر کا گوشت کھانے سے منتقل ہوا جس نے چمگادڑ کا چھوڑا کیلا کھایا تھا
2018ءمیں شمالی کوریا کی ڈرامہ سیریل My Secret Terriusمیں بھی کرونا وائرس کی نشاندہی‘ علامات کا ذکر تھا آج ڈاکٹر فلو‘ بخار‘ پھیپھڑوں کو ناکارہ کرنے کی جو بات کر رہے ہیں وہ فلم اور ڈرامے میں بھی تھے فلم اورڈرامے میں جو علامات‘ نتائج‘ ہلاکتیںدکھائی گئیں آج پوری دنیا کو اس کا سامنا ہے

ملک میں بارشیں اور ژالہ باری کرونا کے بعد عذاب کی نئی شکل

لاہور (ویب ڈیسک) ہمارے اعمال کی وجہ سے اللہ تعالیٰ سخت ناراض ہیں۔ پورے ملک میں کرونا کی بڑھتی ہوئی وبا کے ساتھ ساتھ شدید بارشیں اور کئی علاقوں میں ژالہ باری بھی ایک عذاب کی شکل ہے۔ ہمیں اللہ تعالیٰ سے مسلسل رحم کی دعا کرنے کے ساتھ مغفرت طلب کرتے رہنا چاہئے۔ بلوچستان میں سیلاب نے تباہی مچا دی ہے۔ بارش اور ژالہ باری سے گندم کی تیار فصل برباد ہو گئی ہے۔ خاص طور پر رائس بیلٹ جہاں زمین پانی جلد جذب نہیں کرتی وہاں گندم کی فصل کو بہت زیادہ نقصان ہوا ہے جس کے باعث گندم کی پیداوار کم ہونے سے آئندہ ملک میں ایک نیا بحران جنم لے گیا۔
نیا بحران

حرا مانی، امیر ہو یا غریب سب ہی کو کورونا سے خطر ہ ہے

لاہور(ویب ڈیسک)پاکستان شوبز انڈسٹری کی نامور اداکارہ حرا مانی نے کہا کہ اب امیر ہو یا غریب سب ہی کو کورونا سے خطر ہ ہے۔تفصیلات کے مطابق اداکارہ حرا مانی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر ایک پوسٹ شئیر کی جس میں انہوں نے لکھا کہ کہ اچانک سب کچھ ٹھیک ہورہا ہے، فضا میں آلودگی ختم ہو رہی ہے، لوگوں کے پاس اتنا وقت ہے کہ ان کو سمجھ نہیں آرہا ہے کہ آخر اِس وقت کے ساتھ کیا کریں۔حرا نے لکھا کہ والدین اپنے بچوں کو اور اپنی فیملی کو وقت دے رہے ہیں۔اداکارہ نے مزید کہا کہ اب و ہ سب کچھ ہورہا ہے جو ہمیں بہت پہلے کرلینا چاہیے تھا۔حرا نے لکھا کہ ہم ’لفظ یکجہتی‘ کو سمجھتے ہیں، اب ہم سمجھ گئے ہیں کہ ہم سب ایک ہی کشتی کے مسافر ہیں۔اداکارہ نے لکھا کہ اب جانور بھی ان جگہوں پر واپس لوٹ رہے ہیں جہاں سے وہ فضائی آلودگی اور انسان کی موجودگی کی وجہ سے چلے گئے تھے۔حرا نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں کوئی پریشانی ہے بلکہ ہم جس طرح سے سوچتے ہیں اور جس طرح سے عمل کرتے ہیں پریشانی کی وجہ وہ ہے۔حرا مانی نے لکھا کہ ہم یہ جانتے ہیں کہ ہم خود ہی اپنے سیارے کو تباہ کر رہے ہیں لیکن پھر بھی ہم اِس کی بہتری کے لیے کوئی کام نہیں کرتے ہیں۔‘واضح رہے اداکارہ حرا مانی نے پوسٹ کی اختتام مین لکھا کہ مجھے امید ہے کہ جب یہ سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا تو یہ ہم سب کے لیے ایک بہترین سبق ہوگا۔

یوں ہی بے سبب نہ پھرا کرو، کوئی شام گھر پر بھی رہا کرو، نعمان اعجاز کا عوام کو پیغام

کراچی(ویب ڈیسک) اداکار نعمان اعجاز نے کورونا وائرس کی وبا سے بچنے کے بجائے گھروں سے بلا ضرورت باہر گھومنے والوں کو شاعرانہ انداز میں جواب دیا ہے۔اداکار نعمان اعجاز نے انسٹام گرام پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں انہوں نے کورونا وائرس سے بچاو کے پیش نظر حکومت کی جانب سے گھروں پر رہنے کی ہدایت پر عمل نہ کرنے والوں کو اپنی شاعری میں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یوں ہی بے سبب نہ پھرا کرو، کوئی شام گھر پر بھی رہا کرو وہ غزل کی سچی کتاب ہے اسے چپکے چپکے پڑھا کرو کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جب گلے ملو گے تپاک سے یہ نئے مزاج کا شہر ہے ، ذرا فاصلے سے ملا کرو نعمان اعجاز نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے اگرآج ہم اپنا دماغ استعمال کرتے ہوئے یہ سمجھتے کہ موقع کی نزاکت کیا ہے تو آج سڑکوں پر ہماری پولیس اور فوج کھڑی نہ ہوتی، لیکن افسوس کی بات ہے کہ فوج اور پولیس کے موجود ہونے کے باوجود بھی ہم سمجھنے کی کوشش نہیں کر رہے۔

کرونا چیرٹی فنڈ قائم ، خبریں میں امتنان شاہد کی تجویز پر ٹائیگر فورس بنانے کا اعلان ، 2 ہفتے بعد کیا صورتحال ہوگی ابھی نہیں بتا سکتا : عمران خان

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے پاکستان میں موذی وبا کے سدباب اور گھر گھر کھانا پہنچانے کیلئے کورونا ریلیف ٹائیگرز فورس بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔ کل سے ملک بھر میں گڈز ٹرانسپورٹ بھی کھل جائے گی۔وزیراعظم عمران خان کا پاکستان میں کورونا وائرس کی صورتحال کے حوالے سے سینئر صحافیوں سے گفتگو میں کہنا تھا کہ چین نے جب لاک ڈان کیا تو گھروں میں کھانا پہنچایا۔عمران خان نے کہا کہ ہمارے ملک میں چین سے کوئی کیس نہیں آیا لیکن تافتان میں ہمارے پاس مناسب بندوبست نہیں تھا۔ ہمارے ملک میں اب تک صرف 9 لوگ کورونا وائرس سے جاں بحق ہوئے لیکن ہم نہیں کہہ سکتے کہ دو ہفتے بعد پاکستان میں کیا صورتحال ہو۔ ایسی چیز پاکستان میں پہلے کبھی نہیں ہوئی۔ لوگوں کے جمع ہونے سے وائرس پھیلتا ہے۔ ہمیں سوچ سمجھ کر چلنا ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ صوبوں کے مابین گڈز ٹرانسپورٹ پر پابندی نہیں ہے۔ کھانے پینے کی اشیا بنانے والی فیکٹریاں بھی کام کرتی رہیں گی۔ ہم نے فیصلہ کیا گڈز ٹراسپورٹ پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔صحافیوں سے مکالمے میں انہوں نے کہا کہ شروع میں ایسا تاثر دیا گیا کہ جیسے حکومت کو سمجھ نہیں کیا کرنا ہے، یہ امریکا جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی نہیں ہے حالانکہ اس موذی مرض کا مقابلہ کرنے کیلئے امریکا نے 2 ہزار ارب ڈالر ریلیف پیکیج دیا ہے۔ دوسری جانب ہماری ٹیکس کولیکشن 45 ارب ڈالر ہے۔ یہ جنگ حکومت نہیں، قوم جیت سکتی ہے۔وزیراعظم نے اعلان کیا کہ جلد ایک کرونا فنڈ کا اعلان کرینگے۔ اس فنڈ کے ذریعے بے روزگاروں اور ڈیلی ویجز کی مدد کی جائے گی۔ اس کے علاوہ کورونا کی جنگ میں ہمیں نوجوانوں کی ضرورت ہے۔ ہم وبا کے تدارک کیلئے کورونا ریلیف ٹائیگرز فورس بنا رہے ہیں۔ ان نوجوانوں کے ذریعے لوگوں کے گھروں میں کھانا پہنچائیں گے۔ 31 مارچ سے رجسٹریشن شروع ہوگی۔انہوں نے درخواست کی کہ اس وقت پاکستان کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ضرورت ہے۔ پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ خیرات دینے والا ملک ہے۔ ڈر ہے کہ ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر نیچے جائیں گے۔ ساری دنیا کی طرح ہماری برآمدات بھی متاثر ہوئی ہیں۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی ڈالر پاکستانی بینکوں میں جمع کروائیں۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کون کتنی کوشش کر رہا ہے؟ اچھی طرح جانتا ہوں۔ عوام کو تقسیم کرنے والے اپنا ہی نقصان کریں گے۔ چھوٹا سا طبقہ ملک لوٹنے میں مصروف ہے۔ پیسے والے کو کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ تیس سال اقتدار میں رہنے والے باہر سے علاج کرواتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم تو ڈیڑھ سال سے اقتدار میں ہیں۔ یہاں لوگ 30 سال تک اقتدار میں رہے۔ سرکاری ہسپتال اس لیے تباہ ہوئے کیونکہ سابقہ حکمران ٹیکس کے پیسوں سے باہر علاج کرواتے تھے۔ ہمیں اپنے ہسپتال ٹھیک کرنا پڑیں گے۔انہوں نے کہا کہ ‘پاکستان کی ٹیکس سے حاصل ہونے والی مجموعی آمدنی 45 ارب ڈالر ہے اور امریکا نے صرف ریلیف پیکج 2 ہزار ارب ڈالر کا دیا ہے، اس کے باوجود وہاں وفاق کچھ کر رہا ہے اور ریاستیں کچھ کر رہی ہیں کیونکہ موجودہ صوتحال اتنی آسان نہیں ہے، کورونا وائرس کی وبا سب کے لیے نئی ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمارے ملک میں بھی کورونا وائرس آیا جو مختلف ردعمل آنا شروع ہوئے، صوبوں پر دبا بڑھا اور انہوں نے اس کے مطابق اقدامات اٹھائے لیکن بظاہر ایسا تاثر ملا کہ حکومت کو سمجھ نہیں آرہی کہ کیا ہورہا ہے، درحقیقت ایسا نہیں تھا، پاکستان کو ایسی صورتحال کا تجربہ نہیں تھا’۔عمران خان نے کہا کہ ‘میں لوگوں کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ دو ہفتے قبل قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد ہم نے لاک ڈان شروع کردیا، پی ایس ایل سمیت کھیلوں کے تمام مقابلے ختم کر دیے لیکن اس کے بعد جس بات کا مجھے خدشہ تھا کہ جب ہم لاک ڈان کی بات کرتے ہیں تو ہمیں بہت سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا چاہیے کیونکہ ہم جو بھی قدم اٹھاتے ہیں اس کا ردعمل اور اثرات آتے ہیں’۔انہوں نے کہا کہ ‘مجھے خدشہ تھا کہ اگر ہم لاک ڈان کے سیدھے پانچویں گیئر میں چلے گئے تو غریب طبقے اور دیہاڑی دار مزدور کے لیے بہت مشکلات پیدا ہوں گی اس لیے میرا خیال تھا کہ جب تک اس طبقے کے لیے کوئی اسٹرکچر نہیں بنتا ہمیں آہستہ آہستہ اقدامات اٹھانے چاہیے’۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ‘اللہ کا خاص کرم ہے کہ ہمارے ملک میں کورونا وائرس اب تک ویسے نہیں پھیلا جیسے دوسرے ممالک میں پھیلا ہے لیکن کوئی گارنٹی نہیں اور ہوسکتا ہے کہ دو ہفتے بعد کیسز ایک دم زیادہ ہوجائیں لہذا قوم کو تیار رہنا چاہیے اور ہمیں انتہائی برے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیاری کرنی چاہیے’۔عمران خان نے کہا کہ ‘اگلے ہفتے کورونا فنڈ کا اعلان کیا جائے گا اور جو بھی عطیات دینا چاہے وہ اس فنڈ میں دے گا، غریب طبقے کی ایک طرف احساس پروگرام کے ذریعے مالی مدد کی جائے گی دوسری طرف کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال کی وجہ سے بیروزگار ہونے والوں اور چھابڑی والوں کی اس فنڈ سے مدد کی جائے گی، جبکہ مالی مدد کرنے والوں کی رجسٹریشن کی جائے گی اور ان کے لیے منظم نظام بنایا جائے گا۔’انہوں نے کہا کہ ‘کیونکہ کورونا کی وجہ سے ہماری تجارت متاثر ہورہی ہے اور برآمدات گر رہی ہیں، ہمیں ڈر ہے کہ اس صورتحال کی وجہ سے ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہوں گے اور روپے پر دبا بڑھے گا، اس لیے میں اس کی بھی تیاری کر رہا ہوں اور اسٹیٹ بینک میں اکانٹ کھولوں گا۔’ان کا کہنا تھا کہ ‘میں ہمارے اوورسیز پاکستانیوں سے درخواست کروں گا وہ اس اکانٹ میں پیسے جمع کروائیں تاکہ روپے پر دبا ختم ہو۔’اس موقع پر وزیر فوڈ سیکیورٹی خسرو بختیار نے گندم اور آٹے کی قلت کو وقتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ‘اس وقت صرف پبلک سیکٹر میں 16 لاکھ ٹن گندم موجود ہے جو نئے سیزن کی کاشت تک کافی ہے۔’انہوں نے کہا کہ ‘کورونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد لوگوں نے گھبرا کر آٹے کی زیادہ خریداری کی، تاہم صوبے فلور ملز کی نگرانی کر رہے ہیں اور امید ہے کہ ایک دو روز میں نا صرف آٹے کی قیمتیں کم ہوں گی بلکہ سپلائی چین بھی بہتر ہوجائے گی۔وزیراعظم کی زیر صدارت جمعہ توانائی کمیٹی کا اجلاس ہوا گیس کی قیمتیں نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔گیس کمپنیاں صارفین کو سہولتوں کی فراہمی کیلئے مراکز قائم کرینگی۔گیس کمپنیوں کے سربراہان کو اخراجات میں کمی کی ہدایت کردی گئی۔معاون خصوصی اطلاعات کے مطابق عام آدمی کے مسائل کے حل کیلئے مختلف پہلوں پر غور کیا گیا۔وزیراعظم نے توانائی وزیر کو ہدایت کی کہ گیس قیمتوں کا بوجھ صارفین پر نہ ڈالا جائے۔اجلاس میں گیس کی قیمتیں نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔گیس کے شعبے میں اصلاحات لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔گیس کے شعبے میں ضروری ادارہ جاتی اصلاحات لائی جائیں گی۔گیس صارفین کے مسائل کو کم سے کم کیا جائے گا۔ عوام کو گیس کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی گئی ہے ۔صنعتی شعبے کو ایل این جی سمیت دیگر ذرائع سے گیس فراہم کی جائیگی:معاون خصوصی نے کہا کہ وزیراعظم کا موقف واضح ہے کہ عوام پر کوئی بوجھ نہیں ڈالا جائیگا۔گیس کمپنیاں صارفین کو سہولتوں کی فراہمی کیلئے مراکز قائم کرینگی۔گیس کمپنیوں کے سربراہان کو اخراجات میں کمی کی ہدایت کی گئی ہے۔گیس چوری کے خاتمے اور لائن لاسز میں کمی کیلئے اقدامات کی ہدایت کی گئی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومتوں کے تعاون سے عوام کواشیا کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔ حکومت نے ملک بھرمیں گڈزٹرانسپورٹ آج (ہفتہ) سے کھولنے کافیصلہ کرلیا ہے ۔جمعہ کووزیراعظم کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ لاک ڈاو¿ن کے باعث ملک میں مواصلاتی نظام کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔وزرائے اعلی اور وفاقی وزرا ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے، عسکری اور سول اداروں کے اعلی حکام بھی موجود تھے۔رپورٹ کے مطابق حکومت نے ملک بھرمیں گڈزٹرانسپورٹ آج (ہفتہ) سے کھولنے کافیصلہ کرلیا ہے ۔وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ ملک میں کھانے پینے کی اشیاکی قلت نہیں ہونی چاہیے- صوبائی حکومتوں کے تعاون سے عوام کواشیا کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔

ہمایوں سعید اورعدنان صدیقی کا قوم کے مسیحاو¿ں سے والہانہ اظہارتشکر

کراچی(ویب ڈیسک) اداکارہمایوں سعید اورعدنان صدیقی نے کورونا وائرس سے لڑنے والے قوم کے مسیحاوں سے اظہاریکجہتی کرتے ہوئے ان کے لیے محبت کا اظہارکیا ہے۔ٹوئٹر پرجاری کی گئی ایک وڈیو میں اداکارہمایوں سعید نے کہا کہ کورونا وائرس کے باعث اس مشکل گھڑی میں پاکستان کے تمام ڈاکٹرز، نرسس، پیرا میڈکس اسٹاف اورہیلتھ کیئرکے تمام ورکرزکومیری اورپورے پاکستان کی جانب سے سیلیوٹ۔عدنان صدیقی نے کہا کہ آج شام 27 مارچ کو 6 بجے سب اپنے گھروں کے ٹیرس اور چھتوں پرجائیں اور ان لوگوں کے لیے سفید جھنڈے کو خوب لہرائیں کیونکہ ڈاکٹراس قوم کے مسیحا ہیں اورہمیں ان سے پیارہے۔ پاکستان زندہ باد!