اسلام آباد اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے

اسلام آباد (ویب ڈیسک) اسلام آباد اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے، لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے، تاہم کہیں بھی کوئی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت 4.7 تھی، جب کہ اس کی گہرائی 209 کلومیٹر تھی اور مرکز افغانستان تاجکستان بارڈر تھا۔

چین سے 8 رکنی طبی ماہرین پر مشتمل خصوصی ٹیم امدادی سامان سمیت پاکستان پہنچ گئی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) چین سے 8 رکنی طبی ماہرین پر مشتمل خصوصی ٹیم امدادی سامان لے کر پاکستا ن پہنچ گئی۔ تفصیلات کے مطابق سامان میں کورونا کی تشخیص کی 1 لاکھ پانچ ہزار سے زائد کٹس 20 لاکھ سے زائد ماسک 77 ہزار میڈیکل کور اور وینٹیلیٹرز بھیجے گئے ہیں۔ چین حکومت کی جانب سے کورونا وائرس سے لڑنے کے لئے حکومت پاکستان کی پہلے بھی مدد کی گئی تھی جس کے بعد آج تیسرا طیارہ پاکستان پہنچ گیا ہے۔ چین نے پاکستان سے اپنی دوستی کا ثبوت دیتے ہوئے کورونا وائرس کے مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑے رہنے کا فیصلہ کیا تھا جس کو آج پورا کرتے ہوئے 8 رکنی طبی ماہرین پر مشتمل خصوصی ٹیم امدادی سامان لے کر پاکستا ن پہنچ گئی۔ یاد رہے کہ پوری دنیا میں تباہی مچانے کے بعد کورونا وائرس نے اب پاکستان میں اپنے قدم جما لئے ہیں جس کے بعد اس کی تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ کورونا وائر س کو روکنے کےلئے حکومت کی جانب سے اسے روکنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔اسی سلسلے میں ملک کےچاروں صوبوں میں مکمل لاک ڈاﺅن کر دیا گیا تھا جس پر عمل کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے ملک بھر میں فوج تعینات کر دی گئی تھی تا کہ لوگو ں کو ان کے گھروں سے نکلنے سے روکا جا سکے۔کورونا وائرس سے بچنے کا یہی ایک طریقہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے سے دور رہیں تا کہ یہ مزید نہ پھیلے۔ حکومت کی جانب سے یہ بھی عندیہ دیا گیا ہے کہ اگر حالات بہتری کی طرف نہیں جاتے تو ہمیں کرفیو کی طرف بھی جانا پڑ سکتا ہے، اسی لئے حکومت کی جانب سے عوام سے اپیل کی جا رہی ہے کہ لوگ گھروں میں رہیں اور ایک دوسرے سے ملنے سے اجتناب کریں کیونکہ اسی طرح ہم اس کے پھیلاو کو رروک سکتے ہیں۔حکومت پاکستان کی کوششوں کے بعد اب چین نے بھی اپنی دوستی کا ثبوت دیتے ہوئے 8 رکنی ماہرین پر مشتمل خصوصی ٹیم پاکستان بھیج دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق سامان میں کورونا کی تشخیص کی 1 لاکھ پانچ ہزار سے زائد کٹس 20 لاکھ سے زائد ماسک 77 ہزار میڈیکل کور اور وینٹیلیٹرز بھیجے گئے ہیں۔ چین حکومت کی جانب سے کورونا وائرس سے لڑنے کے لئے حکومت پاکستان کی پہلے بھی مدد کی گئی تھی جس کے بعد ا?ج تیسرا طیارہ پاکستان پہنچ گیا ہے۔

ملک بھرمیں12 ہزار 218 مشتبہ کیسز ہیں، ڈاکٹر ظفرمرزا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ ملک بھر میں 12ہزار218مشتبہ کیسز ہیں پاکستان میں1408کیسزکنفرم ہیں، گزشتہ 24 گھنٹے میں173کیسز کا اضافہ ہوا، 25 لوگ صحتیاب اور11اموات ہوچکی ہیں۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ اعدادوشمار کے مطابق 28 مارچ کوعالمی سطح پرکورونا وائرس سے متاثرہ نمبر 6 لاکھ سے تجاوز کرگیا ہے، کل اموات28 ہزار کے قریب ہیں،ایک لاکھ 33 ہزار سے زائد لوگ صحت یاب ہوچکے ہیں، پاکستان میں آج کے دن 12ہزار218 مشتبہ کیسز ہیں، ان کے ٹیسٹ ابھی ہونے والے ہیں، جبکہ پاکستان میں1408کیسز کنفرم ہیں،ان میں 24 گھنٹے میں173کیسز کا اضافہ ہوا۔ ابھی تک 25 لوگ صحتیاب ہوئے، 725لوگ ہسپتالوں میں داخل ہیں، ابھی تک 11اموات ہوچکی ہیں۔ ملک کے مختلف قرنطینہ میں7180افراد موجود ہیں۔ بلوچستان133، سندھ میں 457، پنجاب 490 اور خیبرپختونخوامیں 180کیسز ہیں۔ مشیر معید یوسف نے کہا کہ قومی رابطہ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ ہمارا مشرقی اور مغربی بارڈر مزید د دہفتے کیلئے بند رہے گا، ہماری بندرگاہیں ابھی آپریٹ کررہی ہیں، ایئرفلائٹس آپریشن کو 4اپریل تک بند کررکھا ہے۔ تھائی لینڈ کے ایئرپورٹ پرپھنسے ہمارے مسافرآج واپس آجائیں گے۔ دوسری جانب چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے کہا کہ کو رونا کے خلاف میں چین نے بروقت مدد بہم پہنچائی۔ ہفتہ کو ترجمان نے اپنے بیان میں کہاکہ ا?نے والے سامان میں کورونا کی تشخیص کی ایک لاکھ پانچ ہزار سے زائد کٹس شامل ہیں،اس کے علاوہ بیس لاکھ سے زائد ماسک اور 77 ہزار میڈیکل کور بھی بھیجے گئے ہیں، خصوصی پرواز میں217 ونٹیلیٹرز اور 50 ہزار میڈیکل دستانے بھی شامل ہیں۔ علی بابا فاﺅنڈیشن اور جیک ما فاو¿نڈیشن نے 50 ہزار ٹیسٹنگ کٹس اور 5 لاکھ حفاظتی ماسک پاکستان کو دیئے جا چکے ہیں۔ چین کی حکومت کی طرف سے کورونا سے نمٹنے کی مہارت رکھنے والی8 رکنی طبی ٹیم اور امدادی سامان لے کر خصوصی طیارہ اسلام ا?باد پہنچا۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی اور چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے چینی مہمانوں کا استقبال کیا۔ پاکستان میں چین کے سفیر بھی اس موقع پر موجود تھے۔چیئر مین کے مطابق چین نے درہ خنجراب کے ذریعے دو ٹن ماسک، ٹیسٹ کٹس، وینٹیلیٹرز، طبی حفاظتی لباس بھی پاکستان کے حوالے کئے ہیں،چینی طبی ماہرین کی یہ ٹیم دو ہفتے تک پاکستان میں قیام کرے گی۔

پاک فوج نے لاک ڈاﺅن کرنے کیلئے وزیراعظم کو سائیڈ لائن کیا ، امریکی اخبار

اسلام آباد (ویب ڈیسک) امریکی اخبارنیویارک ٹائمز نے کہا ہے کہ پاک فوج کو لاک ڈاو¿ن کرنے کیلئے وزیراعظم کوسائیڈلائن کرنا پڑا، عمران خان لاک ڈاو¿ن کے حق میں نہیں تھے، فوج نےحالات کو دیکھتے ہوئے صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر لاک ڈاو¿ن کردیا،تاہم لاک ڈاو¿ن کا اقدام کافی تاخیر سے اٹھایا گیا۔ امریکی اخبار نے دو روز قبل اپنی رپورٹ میں بتایا کہ پاکستان میں لاک ڈاو¿ن تاخیر سے کیا گیا، پاکستان کو کورونا وائرس سے محفوظ بنانے کیلئے لوگوں کی جانب سے حکومت پر دباو¿ بڑھ رہا تھا لیکن وزیراعظم عمران خان لاک ڈاو¿ن کے سخت خلاف تھے، وہ سمجھتے تھے کہ لاک ڈاو¿ن سے ملکی معیشت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ لیکن عوام کے پرزور مطالبے کو پیش نظر رکھتے ہوئے اور ملک میں کورونا وباءکا پھیلاو¿ روکنے کیلئے پاک فوج نے ہنگامی اقدامات اٹھائے، فوج نے وزیراعظم عمران خان کو سائیڈ لائن کرکے صوبوں کے ساتھ مل کر لاک ڈاو¿ن کردیا۔ تاہم حکومت کی جانب سے اگر لاک ڈاو¿ن پہلے کردیا جاتا تو کورونا کو کنٹرول کرنا مزید آسان ہوتا۔ حکومت نے کورونا سے نمٹنے کیلئے شروع میں جو رویہ اپنایا اس سے بد دل ہوکر ڈاکٹرز اور نرسیں ڈیوٹی پر آنے سے انکاری ہوگئے تھے۔ وائرس پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہا تھا لیکن عمران خان گویا یوں ظاہر کرتے رہے کہ پاکستان کو کورونا سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ کابینہ ارکان بھی کہتے رہے کہ پاکستان کورونا وائرس سے پاک ملک ہے۔ اسی طرح حکومت کی عدم توجہی کے باعث لوگوں کے ٹیسٹ کرنے کیلئے بھی کوئی کام نہیں کیا گیا۔ جس کے باعث معاشرتی طبقات کی جانب سے بھی ایسا ہی رویہ دیکھنے میں آیا۔ اسی طرح ہسپتالوں میں فیس ماسک، اور دیگر حفاظتی سامان کی قلت رہی، یہاں تک ڈاکٹرز نے کہا کہ اگر سامان نہ دیا گیا تو کام نہیں کریں گے۔ ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ ہمارے پاس سامان نہیں ہے لیکن اس کے باوجود ہم کام کررہے ہیں کیونکہ مریضوں کا علاج نہ کرنا بھی مناسب نہیں ہے۔

کرونا ریلیف ٹائیگر فورس: رجسٹریشن 31مارچ سے شروع

اسلام آباد( ویب ڈیسک) کرونا ریلیف ٹائیگر فورس کی تشکیل کےلیے ملک بھر سے رضاکاروں کی رجسٹریشن کا عمل 31 مارچ سے 10 اپریل تک سیٹیزن پورٹل پر ہوگا۔ وزیراعظم کی ہدایت پر معاون خصوصی برائے یوتھ افئیرز عثمان ڈار نے کرونا ریلیف ٹائیگر فورس پر کام شروع کر دیا ہے۔ عثمان ڈار کا کہنا تھا کہ ٹائیگر فورس مکمل لاک ڈاو¿ن یا کرفیو کی صورت میں کام کرے گی جبکہ نوجوان ہنگامی حالات میں گھروں تک راشن سپلائی اور فوڈ چین بحال رکھیں گے۔ نوجوان رضاکار ذخیرہ اندوزی کی نشاندہی بھی کر سکیں گے۔ معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ رضا کار فورس قرنطینیہ میں رکھے گئے افراد کی پہرا داری کا کام بھی کرے گی جبکہ تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کے ساتھ ڈیٹا شیرنگ کی جائے گی۔ انکا یہ بھی کہنا تھا کہ نوجوانوں کو سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر ٹیم میں شامل کیا جائے گا۔ عثمان ڈار کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی نوجوانوں نے سیلاب اور زلزلے کے دوران بہترین جذبے کا مظاہرہ کیا اس لیے امید ہے ضرورت پڑنے پر کرونا کےخلاف جنگ میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ معاملے پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین میں لاک ڈاو¿ن کے دوران نوجوانوں نے ذمہ داری سے فوڈ سپلائی بحال رکھی لہٰذا امید ہے نوجوان قومی فریضہ سمجھتا ہوئے اپنا بہترین کردار ادا کریں گے۔

کر و نا ا للہ کی طر ف سے آز ما ئش ،مشکل و قت میں غر یبو ں کی مد د کر یں ،کر و نا ٹر انسمیشن میں گفتگو

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)دنیا بھر میں کورونا کے باعث تباہ کاریاں جاری ہیں جنہیں کنٹرول کرنا کسی چیلنج سے کم دکھائی نہیں دیتا۔ اس حوالے سے پاکستان بھی سرگرم کوششیں کر رہا ہے۔ لاک ڈاﺅن کے باوجودملک میں مریضوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ اب تک کورونا کے باعث پاکستان میں 9ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ چینل فائیو کی کرونا کے حوالے سے”کورونا سپیشل ٹرانسمیشن “ میں گفتگو کرتے ہوئے عالم دین ہما تقوی نے کہا ہے کہ ملک میں اس وقت مشکل مرحلہ ہے ، اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی جگہوں پرانسانوں کو امتحان کی وعید سنائی ہے ۔ کورونا امتحان ہو سکتا ہے مگر اسمیں ہماری ذمہ داری بطور مسلمان اور انسان بہت بڑھ چکی ہے کہ ہم دیکھیں ہمارا رابطہ پروردگار کیساتھ کیسا ہے، شکرگزار ہیں، ناشکرے یا حالات سے گھبرانے والے ہیں۔ اللہ انسان کے درجات کو بلند کرنے کے لیے امتحان لیتا ہے۔ پاکستان کے حکمرانوں کا مساجد کو جزوی طورپر بند کرنے کے فیصلے پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں، اس وقت بڑی ذمہ داری انسانیت کی بقا ہے۔ عوام سے درخواست ہے کہ لوگ گھروں میں رہیں ، وباﺅں میں بہترین طریقہ احتیاط ہے کہ خود کو گھروں میں محدود کر لیا جائے۔ کوئی مسلمان نہیں چاہتا کہ خدا کا گھر ویران ہو جائے ، اس وقت خدا نے موقع دیا ہے کہ عوام اپنے گھروں کو مساجد میں تبدیل کر لیں، گھروں کی صفائی کریں، پیراہن صاف رکھیں۔ اسکے بدلے میں اللہ انسان کے دلوں کو صاف کرے گا۔ ہمارے آئمہ معصومین و صحابہ کرام علیہ السلام نے اپنی زندگیوں میں مشکل حالات استقامت کیساتھ گزارے ہیں۔ امام زین العابدین نے کہا ہے کہ مصیبت آنے پر انسان کا اپنا عمل بتائے گا کہ وہ اللہ کا عذاب ہے یا امتحان ہے۔ اگر مشکل وقت میں زبان پر شکایت آجائے تو یہ خدا کا عذاب ہے۔ ماہر علم نجوم عالیہ نذیر نے کہا ہے کہ کورونا سنجیدہ چیلنج ہے ، گزشتہ سال دسمبر کو علم نجوم سے وابستہ تمام لوگوں نے کہاکہ آنیوالے حالات کو پریشان کن کہا تھا کہ تیسری جنگ عظیم کی جانب دنیا جاسکتی ہے مگر ایسا نہیں ہوا اور کورونا جیسی پریشانی کا شکار ساری دنیا ہو گئی۔ کورونا سے 30مارچ تک زیادہ مسائل ہوں گے ، 15اپریل کے بعد نظام زندگی بحال ہونا شروع ہو جائے گا۔ اسی طرح کے واقعات 1915ءسے 1920ءتک ہوئے تھے ۔ ان واقعات کیوجہ قدرت آپکو کچھ سکھانا چاہتی ہے جسے ہم نہیں سمجھتے۔ ہمیں قدرت سے قریب ہونا ہے ، اپنا زندگی گزارنے کا ڈھنگ بدلنا ہے اور مذہب اور روحانیت کو زندگی میں شامل کرنا ہے۔ پاکستان میں کورونا سے زیادہ نقصان اس لیے نہیں ہوا کہ ابھی یہاں مذہبی روایات و اقتدار باقی ہیں، مستقبل میں بھی زیادہ نقصان نہیں ہوگا۔ برج جدی میں پلوٹو اور دیگر سیارے ایک ہزار سال بعد ملے ہیں جسکے باعث ہمیں اس پریشان صورتحال کا سامنا ہے جسکی وجہ دنیا کا قدرت سے دور ہونا ہے۔ اللہ نے دنیا کو احساس دلایا ہے کہ لوگ ایکدوسرے کی قدر کریں آج جن سے وہ ہاتھ ملانے کو ترس رہے ہیں۔ پاکستانیوں کو کورونا سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہئے ۔ کورونا ایک دھکا ہے جو پاکستانی کی معیثت کی بہتری کی جانب ہے ۔ پاکستان کی معیثت کا عروج آئے گا، مگر احتیاط لازم ہے۔ اگست 2020ءپاکستان کی ترقی کا مہینہ ہے جو ستاروں میں لکھ دی گئی ہے ۔ پاکستان ان حالات سے آگے نکل جائے گا اور بہت ترقی کرے گا۔ وزیراعظم عمران خان کے ستارے اگست سے ستمبر تک چمکتے نظر آرہے ہیں، یہ وقت پاکستان کے ستاروں کا ہے اور عمران خان کے ہاتھوں ہی پاکستان بہت آگے جائے گا اور وزیراعظم پاکستان کے لیے بے لوث جدوجہد میں کامیاب رہیں گے۔ معروف گلوکار وارث بیگ کا کہنا تھا کہ پوری دنیا کورونا سے جنگ لڑ رہی ہے۔ پاکستانی عوام سے درخواست ہے کہ زیادہ سے زیادہ گھروں میں رہیں ورنہ کورونا بڑھتا جائے گا۔ لوگ بازار میں راشن اور اشیائے ضروریہ لینے بھی جائیں تو صرف ایک شخص جائے۔ حکومت پاکستان کورونا سے نمٹنے کے لیے بہترین اقدامات کر رہی ہے، عوام کے لیے گھروں میں بیٹھے ڈاکٹرز سے رجوع کے لیے ایپ بنائی گئی ہے۔ چین کے بعد پاکستان ہی دوسرا ملک ہو سکتا ہے جو کورونا کے خلاف جنگ میں کامیاب ہو سکتا ہے مگر اسکے لیے عوام کو حکومت کا ساتھ دینا ہوگا۔ متاثرہ افراد کی تعداد بڑھتی گئی تو لاک ڈاﺅن بھی مزید بڑھے گا، اگر کسی کو اپنی حالت خراب محسوس ہو تو حکومت کی جانب سے قائم کردہ ہیلپ لائن پر کال کریں ۔ میں گذشتہ 7دن سے گھرمیں ہوں ، میری فیملی بھی گھر سے باہر نہیں گئی ، اگر کوئی ملازم باہر جاتا ہے تو واپسی پر اپنی صفائی کا خاص خیال رکھتا ہے ۔ سابق ٹیسٹ کرکٹر عبدالرزاق نے کہا ہے کہ کورونا سے بچاﺅ عوام پر منحصر ہے کہ وہ حکومتی احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔ یہ بہت خطرناک بیماری ہے ، اسے بہت سنجیدگی سے لیں ۔ کورونا کا واحد حل صفائی اور گھر پر رہ کر احتیاطی تدابیر اپنانا ہے۔ اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ ہمیں احتیاطی تدابیر بارے پتا چل گیا ہے۔ ایک دو ہفتے زیادہ مشکل ہیں، امید ہے جلد ہم اس وائرس سے نجات حاصل کر لیں گے۔ پاکستانی مسلمان اللہ اور اسکے رسول ﷺ کی جانب رجوع کریں اور اپنے گناہوں سے توبہ کریں۔ عوام حکومت کی جانب سے ملنے والی تمام ہدایات پر دل سے عمل کرے میرا قوم کو یہی پیغام ہے۔ اللہ رمضان سے قبل ہمیں اس وباءسے نجات دیں گے۔ گلوکار حامد ولی نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بطور قوم ہمیں ایکدوسرے کا ساتھ دیتے ہوئے حکومت کی تمام تر ہدایات پر عمل کرنا ہے ۔ تب ہی کورونا سے نجات حاصل ہو سکتی ہے۔ عوام گھروں میں رہیں ، بچوں کے لیے بہت احتیاط کریں ، انہیں لیکر بالکل باہر مت جائیں۔ پوری دنیا اس مسئلے کا سامنا کر رہی ہے اور لوگ چھٹیوں کو سیر و تفریح کا سامان کر رہے ہیں، بچے گلیوں میں کرکٹ کھیل رہے ہیں۔ ایسے لوگوں سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتا ہوں اپنے پیاروں کا خیال کریں ۔جن لوگوں کو اللہ نے قابل کیا ہے کہ وہ گھروں میں کھانے کا سامان ذخیرہ کیے ہوئے ہیں وہ ان لوگوں کا بھی خیال رکھیں جو اس قابل نہیں ہیں۔ اس وقت زکوة کے علاوہ بھی اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ دوکاندار حضرات مفافع خوری چھوڑیں اور عوام کی خدمت کریں ۔آغا خان ہسپتال کراچی سے ڈاکٹر سیمی جمالی نے کورونا سپیشل ٹرانسمیشن میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے کورونا کے حوالے سے لاک ڈاﺅن سمیت تمام اقدامات بے حد مفید ہیں۔ عوام 15سے 20روز کی تکلیف اٹھا لیں تاکہ اس تکلیف سے بچ سکیں کہ اپنے پیاروں کو کھو دیں۔ لوگ ایکدوسرے سے فاصلہ اختیار کریںاور گھروں میں رہیں۔ حکومت کی جانب سے راشن کے سٹورز اور کھانے پینے کی دوکانیں کھلی ہیں ، عوام پریشان نہ ہوں۔ رسول کریم ﷺ نے ہمیں ہدایت کی ہے کہ خیال رکھو تمہارا پڑوسی بھوکا نہ سو جائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں پھر سے انسانیت کی جانب لارہے ہیں۔ لوگوں سے گھروں پر جاکر نہ ملیں ، سوشل میڈیا اور فون کال کے ذریعے رابطہ کریں۔ اس وقت ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف عوام کی خدمت کے لیے گھروں سے باہر نکلے ہوئے ہیں۔ آئسولیشن میں کام کرنے والے ڈاکٹرز کے لیے حفاظتی کٹس کی قلت ہوتی نظر آرہی ہے۔ تھیلیسیمیا کے مریضوں کو مشکل میں ہیلپ لائن پر رابطہ کرنا چاہئے ، انہیں خون کا عطیہ ضرور مل جائے گا۔ دل کے عارضے میں مبتلا لوگوں کو کورونا میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ لوگ کلونجی کا استعمال جاری رکھیں۔ معروف اداکار مصطفیٰ قریشی نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستانی قوم نے ہمیشہ چیلنجز کا مقابلہ کیا ہے اور کامیابی نے ہمارے قدم چومے ہیں۔ کورونا کے خلاف احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا بہت ضروری ہے۔ عوام خود بھی بچیں اور دوسروں کو بچانے کا بھی ذریعہ بنیں۔ لوگ گھروں میں بیٹھ کر کتابیں پڑھیں، تاریخ پڑھیں، قرآن کریم کی تلاوت اور نوافل پڑھیں ، اس طرح وقت اچھا گزرے گا۔ ہمیں اللہ کو راضی کرنا ہے اور اپنے گناہوں سے توبہ کرنا ہے ۔ لوگ شیطان کے پیروکار ہوگئے تھے، ظلم و بربریت کے دور ہورہے تھے، ہوا کا طوفان آیا، سیلاب اور زلزلے آئے، پتھروں کا عذاب آیاجو اللہ کی جانب سے ہمیں تنبیح ہے۔ پاکستان میں لاکھوں لوگ ایسے ہیں جو صاحب ثروت ہیں ، وافر دولت رکھتے ہیں ، ایسا ہر شخص دیہاڑی پر کام کرنے والے 5 ، 5 گھروں کے راشن کی ذمہ داری لے ۔ سابق ٹیسٹ کرکٹر مشتاق احمد نے کہا ہے کہ ہمارے مالک کی طرف سے یہ آزمائش ہے اور وہی اسے دور کر سکتا ہے ، ہمیں اللہ کی طرف ہی رجوع کرنا ہے۔ ہم اللہ کی طرف جب بھی رجوع کرتے ہیں ہم امن میں رہتے ہیں ۔ دنیا میں سب سے بڑا ڈر موت کا ہے اور مسلمانوں کو بتایا گیا ہے کہ موت تمہارے تعاقب میں ہے ، تمہیں ایک رو ز اللہ سے ملنا ہے۔ اللہ کی نعمت ہے کہ وہ حالات بنا کر ہماری توجہ اپنی جانب مبذول کرواتا ہے ۔ ہم مشینیں بن گئے تھے اور مشینیں کوئی احساس نہیں رکھتیں۔ پاکستانیوں میں اللہ نے ایک خوبی رکھی ہے کہ وہ مشکل حالات و آفات میں دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔ اس وقت پوری قوم کے لیے توبہ و استغفار کی ضرورت ہے۔ مساجد کی بجائے گھروں میں عبادات ادا کریں۔ ٹی وی اداکار احسن خان نے کہا ہے کہ کورونا وباءہے یا آفت یہ ہماری آزمائش ہے۔ ہم دین کے حکم کے مطابق اس آزمائش میںکیسے صبر کرتے ہیں، ایکدوسرے کی مدد کرتے ہیں ، ہمیں غور کرنا چاہئے۔ ہماری حکومتی و دیگر سیاسی جماعتوں اور عوام کو اس صورتحال میں ایک ہو جانا چاہئے ۔ لاک ڈاﺅن اور صفائی ہی واحد حل ہے کہ کورونا سے بچا جاسکے۔ اٹلی کا فیملی سسٹم بھی پاکستان سے ملتا ہے مگر وہاں وباءکا بہت زیادہ پھیلنا اس لیے تھا کہ وہ لوگ ایکدوسرے سے رابطے میں تھے، ہمیں سمجھنا چاہئے کہ ہمیں ایکدوسرے سے فاصلہ رکھنا ہے۔ ہماری معیثت پر اثر ضرور پڑے گا مگر ہسپتالوں پر زور نہیں پڑے گا، لوگوں کو جان کا خطرہ نہیں ہوگا۔ مذہبی علماءکے ذریعے عوام کو احتیاط کیساتھ گھروں میں بیٹھ کر عبادت کرنے کا پیغام دیا جائے تاکہ گناہوں کا کفارہ بھی ادا ہو اورلوگوں میں اچھی بات پہنچائیں جس سے کسی کا نقصان نہ ہو۔

ا ما میہ کا لو نی مکمل طو ر پر سیل ،کر و نا سکر نینگ جا ری،200ا فراد میں وا ئرس کا ا نکشا ف

لاہور (جنرل رپورٹر )کرونا وائرس کے پیش نظر لاہور کے علاقہ امامیہ کالونی کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے علاقے کے رہائشیوں کی سکریننگ شروع کر دی گئی ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ علاقے میں ایران سے آئے 2سو ایسے افراد انکشاف ہوا جن میں مبینہ طور پر کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ اس حوالے سے مقامی افراد میں تشویش پائی جاتی ہے اور شہری خوف کے باعث محفوظ ٹھکانے ڈھونڈنے لگ پڑے۔ ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو جس میں قانون نافذ کرنے والے ادارے مقامی افراد سے اپیل کر رہے ہیں کہ اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں اور نہ ہی کوئی نقل و حرکت کریں ۔ جبکہ ویڈیو میں مزید بتایا گیا ہے کہ مذکورہ علاقے میں کرونا وائرس 80فیصد پھیل چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس وقت امامیہ کالونی میں ہزاروں گھر موجود ہیں جس کے باعث انتظامیہ کی جانب سے ان گھروں کے رہائشیوں کی سکریننگ کا عمل شروع کر دیا گیا ہے اور باقاعدہ ٹیمیں تشکیل دے دی گئیں ہیں جو کہ گھروں کا سروے کرنے کے ساتھ ساتھ تمام کا کرونا ٹیسٹ کیا جائے گا اگر رزلٹ مثبت آئے گا تو متاثرہ شخص کو قرنطینہ سینٹر منتقل کر دیا جائے گا ۔ اس حوالے سے مزید معلوم ہوا ہے کہ مقامی علاقہ متوسط طبقے اور کچی آبادیوں کی تعداد زیادہ ہے اس حوالے انتظامیہ کی جانب سے لاﺅڈ سپیکر میں اعلانات کیے جا رہے ہیں کہ گھروں سے مت نکلیں ان کے لئے گھر ہی محفوظ ہیں۔

برطانوی ویب چینل نے عمران خان کی صحت بارے غلط خبر چلا کر فوری تردید کر دی

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانوی ویب چینل نے وزیراعظم عمران خان حکومت سے متعلق غلط خبر چلا دی۔ تفصیلات کے مطابق برطانیہ کے ایک ویب چینل نے یہ خبر چلائی کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کا کرونا ٹیسٹ پازٹیو آگیا۔ بعدازاں اسی چینل نے اس خبر کی خود ہی تردید کر دی۔ دریں اثنا حکومتی ذرائع نے اس بات کی تردید کی اور کہا ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان میں کورونا وائرس کی تشخیص نہیں ہوئی بلکہ برطانوی اخبار نے غلطی سے ان کا نام دیا۔یہ بات تحریک انصاف کے رہنما اور پنجاب حکومت کے سابق ترجمان ڈاکٹر شہباز گل نے ایک ٹوئٹ میں بتائی۔اس سے قبل برطانوی چینیل ایرس نیوز کا ایک اسکرین شاٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا جس میں لکھا تھا کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت رہا ہے۔مگر ڈاکٹر شہباز گل نے ٹوئٹ میں بتایا کہ برطانوی میڈیا نے وزیراعظم عمران خان کا نام لکھ کر غلط خبر چلادی، جبکہ وہ برطانوی وزیراعظم کا نام لکھنا چاہتے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم باکل ٹھیک ہیں اور کچھ دیر پہلے ہی دفتر سے گھر گئے ہیں۔

ڈیفنس کے مختلف مقا ما ت ر یڈ زون قرا رمتعدد گھروں پرکرونا تصد یق کے نو ٹس لگ گئے

لاہور (خصوصی رپورٹر) صو با ئی دارالحکومت میں کرو نا وائر س کے پیش نظر ڈیفنس کے مختلف مقاما ت کو ریڈ زون قراردے دیا گیا ، جس کی بڑی وجہ ایئر پورٹ سے جہازوں کا فضلہ ہے جس کے نمونے ہوا میں ر ہ جاتے ہیں اور اس کی وجہ سے مقامی افرا د
میں کرو نا کی علامات زیادہ پا ئی جا تی ہے۔ ذرا ئع کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز ڈیفنس کے مختلف مقامات پر بھی انتظا میہ نے گھروں کو کے با ہر نو ٹس بھی لگا ئے ہیں جس میں واضح لکھا ہے کہ مذکورہ گھروں کے رہائشیو ں میں کرونا وائرس کی تشخیص ہو ئی ہے اور انتظا میہ کی جا نب سے ان گھرو ں کو مکمل سیل کردیا گیا ہے جبکہ اس حوالے سے مزید بتا یا گیا ہے کہ ان گھرو ں کے ر ہا ئشی افراد کو قر نطینہ سنیٹر میں منتقل کردیا گیا ، جبکہ مذکورہ مر یضوں کے ساتھ جن افرا د کو ملنا تھا وہ بھی اپنا ٹیسٹ کروائیں اور اپنی تسلی کرلیں۔ دوسری جانب مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ڈیفنس فیز 4،5 اور 3میں ان مریضوں کی تعدا د زیا دہ بتائی ہے جبکہ مزید معلوم ہوا ہے کچھ مقاما ت پر بیرون ممالک سے آنے والے افراد کی تعداد زیادہ تھی جبکہ مذکورہ علاقوں کے قریب انٹرنیشنل ایئرپورٹ بھی موجود ہے جس کے با عث جو بیرون ممالک والی پروازیں ان علاقوں سے جاتے اپنا فضلہ چھوڑتے ہیں جس وجہ سے ہوا میں زہریلے نمونہ وائرس کی شکل میں بکھر جا تے ہیں اور بڑی وجہ کرونا وائرس کی تشخیص بن چکی ہے اس حوالے سے ڈیفنس سوسائٹی کے مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ متعد د افرا د نے گھرو ں سے دوسرے مقاما ت پر شفٹ ہو گئے ہیں جبکہ تشویش لا حق ہو نے پر نجی لیبارٹری سے اپنے ٹیسٹ بھی کروار ہے ہیں جس میں زیا دہ کی تعدا د مثبت پا ئی جا تی ہے۔ دوسری جانب کرونا وائرس کے پھیلاو¿ کے خدشات کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ لاہور نے محکمہ ہیلتھ اور بہبود آبادی کی مدد سے شہریوں کی گھر گھر سکریننگ کیلئے 9 موبائل یونٹس چلا دیئے ہیں۔ موبائل یونٹس کی 9 گاڑیاں شہر کی شاہراہوں پر موجود ہوں گی جن پر تعینات محکمہ صحت کے اہلکار گلی محلوں اور گھر گھر جا کر شہریوں کی سکریننگ کرینگے۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر صفدر حسین ورک کا کہنا ہے مجموعی طور پر 16 موبائل یونٹ کام کریں گے۔ چیف آفیسر ہیلتھ ڈاکٹر شعیب گورمانی نے کہا ہیلتھ کی ٹیمیں گھر گھر جا کر سکریننگ کریں گی۔ ایڈیشنل سیکرٹری بہبود آبادی احمد شعیب کا کہنا ہے موبائل سروس یونٹس مکمل طور پر فعال ہیں۔ انچارج موبائل یونٹس ڈاکٹر فرزانہ نے کہا شہریوں کی سکریننگ تھرمل گنز سے کی جائے گی۔ اگر کوئی شہری کورونا وائرس میں مشتبہ پایا گیا تو فوری ضلعی انتظامیہ کو اطلاع دی جائے گی۔ ابتدائی طور پر 9 بعد میں گاڑیوں کی تعداد 16 کر دی جائے گی۔ سٹرکوں پر موجود شہریوں کی بھی سکریننگ کی جائے گی۔ سکریننگ سے کورونا کی بروقت تشخیص ممکن ہو گی۔ 16 موبائل یونٹس محکمہ بہبود آبادی کی گاڑیوں میں بنائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا شہری گھروں میں ہی محفوظ رہ سکتے ہیں۔

ملک بھر میں مر یضو ں کی تعد ا د 1369 ،پنجا ب میں سب سے زیا دہ 490 مر یض ،ایک ر کن اسمبلی ،2ڈا کٹر متا ثر

لاہور‘ کراچی‘ اسلام آباد (نمائندگان خبریں) ملک بھر میں کرونا وائرس کے تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد 1369 تک جا پہنچی ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں کرونا کے تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد 1296 ہوگئی ہے۔ سندھ میں رونا کے 440 ، پنجاب میں 448 ، بلوچستان میں 131 ، خیبر پختونخوا میں 180 ، گلگت بلتستان میں 91، اسلام آباد میں 27 اور آزاد کشمیر سے 2 مریض ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کا کوئی مریض جاں بحق نہیں ہوا، ملک بھر میں اس مرض کے باعث زندگی کی بازی ہارنے والوں کی تعداد 10 ہے۔ سندھ، بلوچستان اور گلگت بلتستان میں ایک ایک جب کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا 3،3 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 23 مریض صحتیاب ہوگئے۔ دنیا بھر میں جان لیواکرونا وائرس کے وار جاری ہیں، وائرس کا شکار افراد کی تعداد میں آئے روز اضافہ ہورہا ہے، واپڈا ٹاو¿ن کے رہائشی ایک ہی خاندان کے 5 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوگئی۔ تفصیلات کے مطابق کرونا سے دنیا میں ہلاکتیں 24 ہزار سے تجاوز کر گئیں، مریضوں کی تعداد 5 لاکھ سے بڑھ گئی، پاکستان میں بھی کرونا وائرس کے باعث اموات کی تعداد 9 اور متاثرہ افراد کی تعداد 1200 سے اوپر چلی گئی ہے،ملک میں سب سے زیادہ کرونا وائرس کے کیسز سندھ میں سامنے آئے،دوسرے نمبر پر پنجاب اور تیسرے نمبر پر خیبر پختونخوا ہے۔شہر کامشہور علاقہ واپڈا ٹاو¿ن جہاں مقیم ایک ہی خاندان کے 5 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوگئی،نوجوان میں 22 مارچ کو کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی جس پر میو ہسپتال منتقل کیا گیا،دوبارہ ٹیسٹ کرنے پر ایک بھائی، دو بہنیں اور والدہ بھی کرونا وائرس میں مبتلاپائی گئی۔کرونا وائرس میں مبتلا ایک ہی خاندان کے پانچوں افراد ہسپتال منتقل کردیا گیا،لاہور میں کرونا کے تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد 103 تک پہنچ چکی ہے۔واضح رہے کہ لاہور میں ایک اور شہری کرونا وائرس کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہار گیا،جس کے بعد لاہور میں ہلاکتوں کی تعداد تین ہوگئی،جان لیوا وائرس سے بچنے کےلئے طبی ماہرین کی جانب سے لوگوں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ لوگوں سے ہاتھ ملانے ، میل جول اور خاص طور پر انجان لوگوں سے دور رہیں۔ باچا خان انٹرنیشنل ائررپورٹ پر تعینات وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کا اہلکاربھی کرونا وائرس میں مبتلا ہو گیا۔ ایف آئی اے حکام نے اہلکار میں کرونا وائرس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اہلکار نے مردان میں جاں بحق ہونے والے عمرہ زائر کو اٹینڈ کیا تھا۔وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کے حکام کا کہنا ہے کہ مزید 14 اہلکاروں کی کرونا اسکریننگ کی جا رہی ہے۔ لاہور میں کرونا میں مبتلا ایک اور مریض دم توڑ گیا ہے، جس کے بعد صوبے میں وائرس سے جان کی بازی ہارنے والے افراد کی تعداد تین ہوگئی ہے۔ترجمان پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئرپنجاب کے مطابق تہتر سالہ شخص میو اسپتال کے آئسو لیشن وارڈ میں زیر علاج تھا،جسے دو روز قبل اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ترجمان پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئر کے مطابق پنجاب میں مزید گیارہ مریضوں میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے،جس کے بعد پنجاب میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد چار سو انیس تک جاپہنچی ہے۔ترجمان پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر کے مطابق ڈی جی خان سے207، ملتان 19 اور لاہور میں 104 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے۔اس کے علاوہ گجرات 22، گوجرانوالہ 8،جہلم 19، راولپنڈی میں 14، ملتان 3، فیصل آباد5، منڈی بہاوَالدین 3، نارووال،رحیم یارخان اور سرگودھامیں ایک ایک مریض میں کرونا کی تشخیص ہوچکی ہے، اسی طرح میانوالی میں 2 ،اٹک اور بہاولنگر میں بھی ایک ایک مریض میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔جبکہ ننکانہ صاحب میں بھی کرونا وائرس کا ایک مریض سامنے آ یا ہے۔ترجمان پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر کے مطابق چودہ روز کے دوران بیرون ملک سے آئے افراد آئسولیشن اختیار کریں،بیرون ملک سے آئے افراد میں آئسولیشن کے دوران علامات ظاہر ہوں تو 1033 پر رابطہ کریں۔ مردان سے تعلق رکھنے والے رکن خیبرپختونخوا اسمبلی عبدالسلام آفریدی میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوگئی ۔ عبدالسلام آفریدی نے خود ویڈیو بیان جاری کر کے بتایا ۔عبدالسلام آفریدی کے حلقہ نیابت منگا میں کرونا وائرس سے پہلی ہلاکت ہوئی تھی جبکہ وہ مسلسل متاثرہ علاقے میں موجود رہے۔رکن خیبرپختونخوا اسمبلی کو گھر میں قرنطینہ کردیا گیا ہے۔ ڈیرہ غازی خان کے قرنطینہ سینٹر میں دو ڈاکٹروں میں کرونا کی تصدیق ہوگئی ہے۔ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کے مطابق ڈیرہ غازی خان قرنطینہ میں کام کرنے والے ڈاکٹر کو کرونا وائرس کا شکار ہوگئے۔ انہوں نے بتایا کہ آئیسولیشن وارڈ میں کام کرنے والی ڈاکٹر صباءمیں بھی کرونا وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے۔پرائمری اینڈسیکنڈری ہیلتھ کے مطابق دونوں ڈاکٹرز خطرے سے باہر ہیں اور طبیعت زیادہ خراب نہیں۔دونوں ڈاکٹروں کو اسپتال کے آئیسولیشن وارڈز میں رکھا گیا۔ پنجاب میں کرونا وائرس کے خلاف برسرپیکار 2 ڈاکٹرز وائرس میں مبتلا ہوگئے۔پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئرڈیپارٹمنٹ نے 2 ڈاکٹروں میں کرونا کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ڈی جی خان قرنطینہ میں کام کرنے والے ایک ڈاکٹر میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی جب کہ ڈی جی خان آئسولیشن وارڈ میں کام کرنے والی ایک لیڈی ڈاکٹرمیں بھی وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ دونوں ڈاکٹروں کو اسپتال کے آئسولیشن وارڈز میں رکھا ہے اور ان کی طبیعت زیادہ خراب نہیں جب کہ حالت بھی خطرے سے باہر ہے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ دونوں ڈاکٹر مشکل وقت میں فرنٹ لائن پر قوم کی خدمت کر رہے تھے۔واضح رہےکہ گلگت بلتستان میں کرونا وائرس سے لڑنے والے ڈاکٹر اسامہ بھی وائرس میں مبتلا ہوکر انتقال کرچکے ہےں۔ لاڑکانہ میں7 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوگئی۔ڈپٹی کمشنر کے مطابق علیحدہ رکھے گئے 83 میں سے سات افراد کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے، واپس آنے والے 83 افراد کو قرنطینہ میں رکھا گیا تھا،ڈپٹی کمشنر نعمان صدیق کے مطابق تمام افراد ایران سے آئے تھے۔ مظفرگڑھ سے کورونا وائرس میں مبتلا پہلی خاتون صحتیاب ہوگئیں۔ ڈپٹی کمشنر امجد شعیب ترین نے خوشخبری دی کہ خاتون میں 9 روز قبل کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی جس کے بعد انہیں ڈیرہ غازی خان کے قرنطینہ سینٹر سے مظفرگڑھ کے رجب طیب اردوان ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں اب وہ شفایاب ہوچکی ہیں۔ڈپٹی کمشنر کے مطابق ہسپتال میں 9 روز زیرعلاج رہنے کے بعد خاتون کو رجب طیب اردوان ہسپتال سے ڈسچارج کرکے گھر بھیج دیا گیا ،صحتیاب ہونے والی خاتون ایران سے آئی تھی اور تفتان بارڈر سے انہیں ڈیرہ غازی خان کے قرنطینہ سینٹر منتقل کیا گیا تھا۔راولپنڈی کے علاقے شکریال میں نوجوان لڑکی میں کروناوائرس کی تصدیق ہوگئی ،21سالہ بشری کو ہسپتال منتقل کرنے کے دوران شدید مذاحمت کا سامنا رہا۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق نوجوان لڑکی کو پولیس کی مدد سے ریسکیو ٹیمیوں نے آر آئی یو میں منتقل کیا۔ ملک بھر میں کورونا وائرس کے تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد 1235 تک پہنچ گئی ہے۔حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں کورونا کے تصدیق شدہ مریضوں کی تعدادجمعہ کو صبح دس بجے تک 1235 ہوگئی ہے،سندھ میں کورونا کے 429 ، پنجاب میں 408 ، بلوچستان میں 131 ، خیبر پختونخوا میں 147 ، گلگت بلتستان میں 91، اسلام آباد میں 27 اور آزاد کشمیر سے 2 مریض ہے۔ملک بھر میں اس مرض سے زندگی کی بازی ہارنے والوں کی تعداد 9 ہے۔ سندھ، بلوچستان اور گلگت بلتستان میں ایک ایک جب کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا 3،3 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔سندھ اور بلوچستان میں مساجد میں نماز باجماعت اور جمعہ کے اجتماعات پر پابندی عائد کردی گئی ہے جب کہ پنجاب میں محکمہ اوقاف نے جمعہ مبارک کے لئے ہدایت نامہ جاری کر دیا ہے جس کے تحت نماز جمعہ میں بچوں، عمر رسیدہ اور بیمار لوگوں کو آنے پر پابندی لگادی گئی ہے۔