اٹھائیس مارچ کوایک دن کیلئے چین کی سرحد کھولنے کا فیصلہ

اسلام آباد (ویب ڈیسک) چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے کہا ہے کہ 28 مارچ کوایک دن کیلئے چین کی سرحد کھولیں گے، چین کے علاوہ ہمیں کہیں سے بھی سامان نہیں ملا، 27 مارچ کو چین کو آرڈر لکھوا دیں گے، ڈاکٹرز پروٹیکشن کٹس، وینیٹی لیٹرز اور دیگر50 ہزارکٹس چین ہمیں دےگا۔ انہوں نے آج یہاں وزیراعظم عمران خان کی میڈیا بریفنگ کے دوران سینئر صحافیوں کو بتایا کہ چین سے کل 50 ہزار ماسک پاکستان پہنچ جائیں گے۔ 26 مارچ کو50 ہزار ٹیسٹ کٹس بھی آ رہی ہیں۔ سامان کی فراہمی کیلئے چینی سفارتخانے سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ چین سے سامان کی فراہمی کیلئے 28 مارچ کو ایک دن کیلئے سرحد کھولیں گے۔ کل سے چین سے متعلقہ سامان کی فراہمی شروع ہوجائے گی۔ ڈاکٹرز پروٹیکشن کٹس اور دیگر50 ہزار کٹس چین ہمیں دےگا۔ جمعہ کو چین سے مزید طیارے میڈیکل سامان لے کر پاکستان پہنچیں گے۔ وینٹی لیٹر کے علاوہ دیگرسامان کی فراہمی کا بھی چین نے یقین دلایا ہے۔27 مارچ کو ہم چین میں آرڈرز لکھوا دیں گے۔ 28 مارچ کو سامان آئےگا۔ مزید برآں وزیراعظم عمران خان نے کورونا کے حالات میں معاشی پیکج کا اعلان کردیا ہے۔انہوں نے سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ لاک ڈاو¿ن کے کیا اثرات آرہے ہیں؟ ہم مسلسل بیٹھ کر جائزہ لے رہے ہیں جو بھی قدم اٹھائیں اس کا کیا اثر ہوگا؟ ہم نے اپنے بزنس کمیونٹی کی مدد کرنے کیلئے بڑا سوچ سمجھ کر معاشی پیکج بنایا، ہم نے مزدوروں کیلئے 200 ارب روپیہ رکھا ہے، اس میں صوبوں سے بھی بات کریں گے، کہ وہ اس پیکج پر ہماری کیا مدد کررہے ہیں؟ دوسرا ایکسپورٹ اور انڈسٹری جو سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں، ان کو فوری طور پر 100ارب کے فنڈز دیں گے۔ سمال اینڈ میڈیم انڈسٹری اور زراعت کیلئے 100ارب رکھا ہے، ان کو کم شرح سود پر قرضے بھی دیں گے۔ چوتھا سب سے مشکل حالات میں خاندانوں کیلئے 150 ارب رکھ رہے ہیں، ہرخاندان کو4 ماہ تک ماہانہ 3 ہزار روپے دیے جائیں گے، صوبے بھی مدد کریں۔ یہ فیصلہ بھی کیا کہ پناہ گاہوں کا مزید دائرہ کار بڑھا دیں گے، تاکہ بیروزگار لوگ وہاں آسکیں۔ یوٹیلٹی اسٹورز کو مزید 50 ارب دیا ہے۔ گندم خریداری کیلئے280 ارب روپیہ رکھا ہے، اب گندم کی کٹائی بھی شروع ہوگئی ہے۔ اسی طرح پٹرول اور ڈیزل مصنوعات پر15روپے فی لیٹر کم کررہے ہیں۔ 300 یونٹ تک گیس اوربجلی کے بل 3 ماہ تک قسطوں میں لیے جائیں گے۔ 100ارب روپیہ ایمرجنسی حالات کیلئے رکھا ہے۔ این ڈی ایم اے کیلئے 50 ارب روہے رکھا ہے۔

ناشتے میں بچوں کی دلچسپی بڑھانے کیلئے انڈوں سے خوبصورت کارٹون بنانے والی خاتون

ٹوکیو(ویب ڈیسک) بڑھتی عمر کے بچوں کو صحت بخش غذا، خاص طور پر انڈے کھلانا بہت مشکل ہوتا ہے لیکن ٹوکیو، جاپان کی ایک خاتون نے اس مسئلے کا خوبصورت حل پیش کیا ہے۔یہ خاتون جن کا انسٹاگرام اکاو¿نٹ ”ایتونی ماما“ کے نام سے ہے، اپنی تین بیٹیوں کےلیے انڈے پکاتے وقت انہیں بڑی مہارت سے مختلف کارٹونوں کی شکل میں لاتی ہیں۔دلچسپی کی بات تو یہ ہے کہ انہوں نے کھانا پکانے کی کوئی پیشہ ورانہ تربیت نہیں لی بلکہ یہ مہارت انہوں نے اپنے شوق سے، گھر پر ہی مشق کرکے حاصل کی ہے۔

پٹرولیم قیمتوں میں کمی کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا ، وزارت خزانہ

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزارت خزانہ کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے فیصلے کا اطلاق آج رات سے کرنے کا فیصلہ، منگل کی رات 12 بجے سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 15روپے فی لیٹر کمی کر دی جائے گی، پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 100 سے کم ہو جانے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق وزارت خزانہ نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے اطلاق کیلئے یکم اپریل تک کا انتظار نہیں کیا جائے گا۔ وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ تمام پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اطلاق آج رات 12 بجے سے کر دیا جائے گا۔ بتایا گیا ہے کہ تمام پیٹرولیم مصنوعات کی فی لیٹر قیمت میں 15 روپے کی کمی کی جائے گی۔ 15روپے کی ممکنہ کمی سے پٹرول کی نئی قیمت 96روپے60پیسے ہوجائےگی۔ ڈیزل کی قیمت 15روپے ممکنہ کمی کے بعد107روپے25پیسے پرآ جائے گی۔ مٹی کاتیل15 روپے ممکنہ سستاہونے کے بعد77روپے 45پیسے کاہوجائے گا۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی سمری وزارت خزانہ کوارسال کر دی گئی ہے۔ وزارت خزانہ سے پٹرول،ڈیزل،مٹی کےتیل کی قیمت15روپے کم کرنےکی منظوری دینےکی سفارش کی گئی ہے۔ وزارت خزانہ،وزیراعظم سے منظوری کے بعدنئی قیمتیں فوری نافذ کر دی جائیں گی۔ اس سے قبل وزیراعظم نے منگل کے روز نے اعلان کیا کہ ہم نے مزدوروں کیلئے 200 ارب روپیہ رکھا ہے۔ دوسرا ایکسپورٹ اور انڈسٹری جو سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں، ان کو فوری طور پر 100ارب کے فنڈز دیں گے۔ سمال اینڈ میڈیم انڈسٹری اور زراعت کیلئے 100ارب رکھا ہے، ان کو کم شرح سود پر قرضے بھی دیں گے۔ چوتھا سب سے مشکل حالات میں خاندانوں کیلئے 150 ارب رکھ رہے ہیں، ہرخاندان کو4 ماہ تک ماہانہ 3 ہزار روپے دیے جائیں گے، صوبے بھی مدد کریں۔ یہ فیصلہ بھی کیا کہ پناہ گاہوں کا مزید دائرہ کار بڑھا دیں گے، تاکہ بیروزگار لوگ وہاں آسکیں۔ یوٹیلٹی اسٹورز کو مزید 50 ارب دیا ہے۔ گندم خریداری کیلئے280 ارب روپیہ رکھا ہے، اب گندم کی کٹائی بھی شروع ہوگئی ہے۔ اسی طرح پٹرول اور ڈیزل مصنوعات پر15روپے فی لیٹر کم کررہے ہیں۔ 300 یونٹ تک گیس اوربجلی کے بل 3 ماہ تک قسطوں میں لیے جائیں گے۔ 100ارب روپیہ ایمرجنسی حالات کیلئے رکھا ہے۔ این ڈی ایم اے کیلئے 50 ارب روہے رکھا ہے۔

مودی کا ملک بھر میں 21 روز کے لیے مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان

نئی دہلی(ویب ڈیسک) کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ملک بھر میں 21 روز کے لیے مکمل لاک ڈاون کا اعلان کر دیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی نے کورونا وائرس کے باعث ملک بھر میں آج رات سے مکمل لاک ڈاون کا اعلان کر دیا۔ اس دوران شہریوں کے بلا ضرورت گھر سے نکلنے پر پابندی، تمام کاروباری مراکز بند، ذرائع آمد و رفت معطل اور دفاتر و صنعتیں بند رہیں گی جب کہ تعلیمی اداروں میں پہلی ہی تعطیلات دیدی گئی ہیں۔وزیراعظم مودی کا کہنا تھا کہ مجھے علم ہے یہ ایک طویل دورانیہ ہے لیکن کورونا کی وبا سے لڑنے کا یہ واحد طریقہ بھی ہے اس لیے خود کو 21 روز تک دن میں 24 گھنٹے کے لیے گھروں میں قید کرلیں۔ قبل ازیں مودی سرکار نے شہریوں کو صبح 7 بجے سے رات 9 بجے تک ’جنتا کرفیو‘ اپنانے کا مشورہ دیا تھا۔بھارت میں اب تک 500 سے زائد مریضوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے جب کہ 5 مریض ہلاک ہوئے ہیں تاہم ناقص انتظامات اور حکومت کی نااہلی کی وجہ سے مہلک وائرس تیزی سے ملک بھر میں پھیل رہا ہے۔ وزیراعظم مودی نے صحت کے شعبے کے لیے فوری بجٹ کا اعلان بھی کیا۔ دنیا بھر میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 3 لاکھ 34 ہزار 381 ہوگئی ہے جب کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد 14 ہزار 652 ہے اور اب تک یہ وائرس 189 ممالک میں پھیل چکا ہے۔

کرونا کا خوف : پنجاب میں سکول 30 مئی تک بند رہیں گے

لاہور(ویب ڈیسک) پنجاب حکومت نے کابینہ کے اجلاس میں بڑے فیصلے کرتے ہوئے صوبے کے سرکاری سکولز کی چھٹیاں یکم جون تک بڑھانے کی منظوری دیدی ہے۔ صوبائی کابینہ کے اجلاس میں پنجاب کے ہسپتالوں میں حاضر ڈاکٹرز، پیرا میڈیکس سٹاف کی انشورنس کروانے اور بلوچستان کے لئے ایک ارب روپے کی گرانٹ دینے کی منظوری بھی دی گئی۔ کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار نے بتایا کہ صورتحال کے پیش نظر صوبے میں بلدیاتی انتخابات موخر کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ صوبے بھر کے سکولوں کی چھٹیاں 30 مئی تک بڑھانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ نجی سکولوں کو تجویز دی کہ وہ بچوں سے نصف فیس وصول کی جائے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے یہ بھی بتایا کہ ہنگامی صورتحال کے پیش نظر 10 ہزار نئے ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکل سٹاف کی بھرتیاں کی جائیں گی۔ کرونا وائرس کے پیش نظر ہم ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف کے تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سماجی بہبود کے فنڈز کو کرونا وائرس سے بچاو¿ کے لیے استعمالکیا جائے گا۔ عثمان بزدار نے اعلان کیا کہ میرے سمیت صوبائی کابینہ کے تمام اراکین اپنی ایک ماہ کی تنخواہ کرونا وائرس سے بچاو¿ کے لیے دے رہے ہیں۔ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کو 11 ارب روپے اور پی ڈی ایم اے کو 2 ارب روپے کے فنڈز جبکہ ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کو 7 کروڑ اور بلوچستان کے لیے 1 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ لیبارٹریز کو فنکشنل کرنے کے لیے بھی فنڈز جاری کیے گئے ہیں۔

تمام پاکستانی کورونا وائرس سے مل کر لڑیں گے، آرمی چیف

راولپنڈی (ویب ڈیسک) چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ تمام پاکستانی کورونا وائرس سے مل کر لڑیں گے، جنگی بنیادوں پر اضافی وسائل متحرک کیے گئے ہیں، گلگت بلتستان کے لوگوں کی ہرممکن مدد کررہے ہیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے کہا کہ جنگی بنیادوں پر اضافی وسائل متحرک کیے گئے ہیں۔ حکومت کے ساتھ مل کر تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام پاکستانی کورونا وائرس یکجا ہوکر لڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے ساتھ مل کرگلگت بلتستان کے لوگوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ گلگت بلتستان کے لوگوں کی مشکلات سے آگاہ ہیں۔ گلگت بلتستان کی حکو مت اورسول انتظامیہ سے مل کر کام کررہے ہیں۔

اسٹیٹ بینک کا شرح سود میں ڈیڑھ فیصد کمی کا اعلان

کراچی(ویب ڈیسک) اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں ڈیڑھ فیصد کمی کا اعلان کردیا ہے جس کے بعد پالیسی ریٹ 11 فیصد کی شرح پر آگئی۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری بیان میں شرح فیصد میں ڈیڑھ فیصد کی کمی کا اعلان کیا گیا ہے۔ پالیسی ریٹ میں 150 بیسس پوائنٹس کی کمی کے بعد شرح سود 11 فیصد پر آگئی ہے۔ قبل ازیں اسٹیٹ بینک نے 17 مارچ کو شرح سود کم کرکے 12.50 فیصد کردیا تھا۔ اس بات کا فیصلہ اسٹیٹ بینک کی مانیٹرنگ کمیٹی کی جانب سے بلائے گئے ہنگامی اجلاس میں کیا گیا جس میں کورونا وائرس کی وبا کی سے دنیا بھر بالعموم اور پاکستان پر بالخصوص مرتب ہونے والے اثرات کے بعد شرح فیصد کو مزید کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک کی مانیٹرنگ کمیٹی نے ایک ہفتے قبل ہی شرح سود میں کمی کا اعلان کیا تھا تاہم اس کے باوجود مزید کمی کے مطالبے سامنے آرہے تھے جنہیں پہلے تو نظر انداز کردیا گیا تھا تاہم وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات کے بعد اسٹیٹ بینک نے بھی شرح سود میں کمی کا اعلان کردیا۔

وزیراعظم کا معاشی پیکج کا اعلان ، غریب خاندانوں کو 4 ہزار ماہانہ دینے کا اعلان

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے ملک میں کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث معاشی سرگرمیوں میں آنے والے تعطل اس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مختلف شعبہ جات کے لیے ریلیف پیکیج کا اعلان کردیا ہے۔ حکومت اقدامات کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بدقسمتی ہے ملک میں فیصلے چھوٹے سے الیٹ طبقے کو دیکھ کر کیے جاتے ہیں غلط فیصلہ کرکے معاشرے میں تباہی نہیں لانا چاہتے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ایکسپورٹ انڈسٹری کو فوری 100 ارب روپے کا ٹیکس ریفنڈ دیں گے، کسانوں کے ان پٹ بڑھانے کے لیے ہم نے اس میں پیسا رکھا ہے، پناہ گاہوں کو مزید پھیلائیں گے کیونکہ موجودہ پناہ گاہوں میں بہت رش دیکھا جارہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مکمل لاک ڈاون کرنے سے غریبوں کو کھانا کون فراہم کرے گا، میں اور میری پوری ٹیم حالات کا جائزہ لے رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ مزدور طبقے کے لیے 200 ارب روپے مختص کر رہے ہیں، برآمد کنندگان کے قرضوں پر سود ملتوی کر رہے ہیں اور معاشرے کے انتہائی غریب طبقے کے لیے 150ارب روپے مختص کیے جارہے ہیں وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ ہر غریب خاندان کو4 ہزار روپے ماہانہ فراہم کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ عدالتی نظام میں طاقتور کے لیے الگ اور مظلوم کے لیے الگ فیصلے آتے ہیں، زیادہ طاقتور لوگ تو چیک اپ بھی باہر سے کرواتے ہیں وزیراعظم نے کہا کہ غریبوں کا خیال کیسے رکھنا ہے یہ سوچنے والی باتیں ہیں کیا ہمارے اتنے وسائل ہیں کہ کچی آبادیوں میں کھانا پہنچا سکیں۔وزیر اعظم عمران خان نے پیٹرولیم مصنوعات پر 15 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان بھی کیا۔انہوں نے کہا کہ نچلے طبقے کو ریلیف دینے کے لیے 150 ارب روپے چار مہینے کے لیے رکھے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ پناہ گاہوں میں اضافہ کریں گے یوٹیلٹی اسٹور کے لیے 50 ارب روپے مزید مختص کیے جائیں گے گندم کی خریداری کے لیے 280 ارب روپے رکھے گئے ہیں تاکہ کسانوں کے ہاتھ میں پیسہ آئے اور کم سے کم دیہی علاقوں میں حالات قابو میں رہیں۔انہوں نے کہا کہ میں اپنے غریبوں کے بارے میں سوچتا ہوں کہ وہ ان حالات میں کہاں سے اپنے گھر کا چولہا جلائیں گے، اٹلی، چین جیسے معاشی حالات ہوں تو کرفیو لگانا آسان اقدام ہے۔ عمران خان نے کہا کہ پاکستان کے فیصلے ایک چھوٹی سے ایلیٹ کلاس کو دیکھ کر کیے جاتے ہیں،کورونا وائرس کے پیش نظر بھی لاک ڈاون کو لیکر عمومی سوچ یہی ہے‘انہوں نے کہا کہ چونکہ مکمل کرفیو لگانے سے نقصان امیر کو نہیں بلکہ کچی بستیوں میں رہنے والے غریبوں کو ہوگا اس لیے کرفیو لاک ڈاون کی آخری سٹیج ہے۔وزیراعظم نے بتایا کہ نیشنل سیکیورٹی کے اجلاس کے وقت ملک میں کورونا وائرس کے صرف اکیس کیس تھے لاک ڈاون تو اسی دن سے شروع ہے، اسکولز، کالجز بند کر دیے گئے اور لوگوں کے غیر ضروری اجتماع پر پابندی لگا دی گئی.وزیراعظم نے کہا کہ سب سے زیادہ خطرہ کورونا سے خوف میں آکر فیصلہ کرنے کا ہے۔ لاک ڈاون کا آخری اسٹیج کرفیو ہے، مکمل لاک ڈاون کرنے سے غریبوں کو کھانا کون فراہم کرے گا، میں اور میری پوری ٹیم حالات کا جائزہ لے رہی ہے.حکومت اقدامات کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بدقسمتی ہے ملک میں فیصلے چھوٹے سے الیٹ طبقے کو دیکھ کر کیے جاتے ہیں غلط فیصلہ کرکے معاشرے میں تباہی نہیں لانا چاہتے ہیں۔وزیراعظم نے بتایا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں15 روپے کی فوری کمی کی گئی ہے، بجلی اور گیس کے بل قسطوں میں ادا کیے جاسکتے ہیں، طبی سامان کے لیے 50 ارب روپے وقف کیا گیا ہے جبکہ کھانے پینے کی اشیا پر بھی ٹیکس کم کر دیے گیے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ پاکستان کے فیصلے ایک چھوٹی سی ایلیٹ طبقے کو دیکھ کر لیے جاتے ہیں، ہمارے تعلیمی اور عدالتی نظام کا بھی یہی حال ہے، کورونا وائرس کے پیش نظر بھی لاک ڈاون کو لیکر عمومی سوچ یہی ہے لیکن مکمل کرفیو لگانے سے نقصان امیر کو نہیں بلکہ کچی بستیوں میں رہنے والے غریبوں کو ہو گا۔انہوں نے کہا کہ میں اپنے غریبوں کے بارے میں سوچنا ہے کہ وہ ان حالات میں کہاں سے اپنے گھر کا چولہا جلائیں گے، اگر ہمارے معاشی حالات اٹلی اور چین جیسے ہوتے تو کرفیو لگانا آسان ہوتا وزیراعظم عمران خان نے کورونا وائرس سے نمٹنے کےلیے معاشی پیکیج کا اعلان کردیا، پٹرول اور ڈیزل پر 15روپے فی لٹر کم کردیے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مزدوروں کے لیے200 ارب روپے رکھے ہیں، مشکل حالات میں پھنسے خاندانوں کے لیے 150ارب روپے رکھے ہیں،ا ن خاندانوں کو 3ہزار ماہانہ دیں گے۔انہوں نے کہا کہ کورونا سے ایکسپورٹ اور انڈسٹری سب سے زیادہ متاثر ہے، ایکسپورٹ انڈسٹری کو 100ارب روپے کے فوری ٹیکس ری فنڈ دے رہے ہیں، چھوٹی صنعتوں اور زراعت کے لیے 100ارب روپے رکھے ہیں وزیراعظم نے مزید کہا کہ بجلی کے 300یونٹ خرچ کرنے والے بل 3ماہ کی قسطوں میں ادا کریں گے، یوٹیلٹی اسٹورز کے لیے مزید 50ارب روپے مختص کیے ہیں، دالوں سمیت ضروری اشیا پر شرح کم کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں پناہ گاہیں پھیلارہے ہیں، کورونا وائرس کے ٹیسٹ کے بعد لوگوں کو پناہ گاہ آنے اور کھانے کی اجازت ہوگی عمران خان نے یہ بھی کہا کہ آج سب سے زیادہ خطرہ کورونا کے خلاف میں غلط خبروں سے ہے، جب 21 کیسز تھے ہم نے اسی وقت لاک ڈاون کردیا تھا۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ضروری یہ ہے کہ افراتفری نہیں پھیلائی جائے مجھ سے اس وقت میڈیا کی بات نہ کریں، کورونا کی بات کریں، جس طرح کی میڈیا آزادی پاکستان میں ہے چیلنج کرتا ہوں کہ مغرب میں بھی حاصل نہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ لاک ڈاون کی قسمیں ہیں اور آخری قسم کرفیو ہے، ہم ملک بھر میں کرفیو کے متحمل نہیں ہوسکتے، کیا ہم کچی آبادیوں میں کھانا پہنچاسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چین سے ایک مریض نہیں آیا، ایران کے پاس وسائل نہیں تھے، ڈاکٹر ظفر مرزا یہاں سے تفتان گئے اور وہاں جائزہ لیا، وہاں کچھ تھا ہی نہیں، اس ویرانے میں ہم تیاری کرلیتے یہ بہت مشکل تھا، ہم باقی دنیا سے بہت بہتر ہیں۔عمران خان نے کہا کہ جتنی تیزی سے ہم نے کام کیا چیلنج کرتا ہوں کہ کسی ملک میں اگر ایسا ہوا ہو تو بتائیں، 18ویں ترمیم کے بعد صوبے فیصلوں میں خود مختار ہیں، وفاق صرف مشورہ دے سکتا ہے۔عمران خان نے کہا کہ میں اگر اٹلی یا فرانس میں ہوتا تو کرفیو لگا دیتا، ٹرانسپورٹ بند کرنے سے سپلائرز کا مسئلہ آتا ہے، ہمیں کل پتہ چلا کہ کراچی میں پورٹ بند ہونے سے جو جہاں ہیں وہیں رک گئیں۔انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ ہم سب کو ایک ہفتے بعد اس کا جائزہ لینا ہے، اگر ہمیں کرفیو بھی لگانا پڑے تو اس کی بھی تیاری کرنا پڑے گی، یہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کا میچ نہیں ہوسکتا ہے کہ یہ صورتحال 6ماہ چلے .عمران خان نے پیٹرول، ڈیزل، لائٹ ڈیزل، کیروسین کی قیمتوں میں بھی 15روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس سے حکومت پر 75ارب روپے کا اثر پڑے گا وزیر اعظم نے بجلی اور گیس کے بلوں کے صارفین کے لیے بھی ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے 75فیصد صارفین کا 300یونٹ کا بل آتا ہے اور ان کے لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ تین مہینے کی قسطوں میں بل دے سکیں گے.انہوں نے کہا کہ اسی طرح اسی طرح 81فیصد گیس کے صارفین جن کا بل 2ہزار روپے مہینہ سے کم آتا ہے، ان کو بھی تین مہینے کی قسطوں میں بل ادا کرنے کی سہولت میسر ہو گی عمران خان نے 50ارب روپے میڈیکل ورکرز کے لیے مختص کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ان کے لیے آلات لینے کے لیے ان کو طبی سہولیات کی فراہمی میں بھی مدد کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے کھانے پینے چیزیں مثلاً دال چاول، گھی وغیرہ پر ٹیکسز وہ ختم کر دیے ہیں یا انتہائی کم دیے ہیں تاکہ ان کی قیمت نیچے آئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے الگ سے 100ارب روہے مختص کیے ہیں تاکہ اس لاک ڈاون کے دوران ایمرجنسی کی صورت میں اس کو استعمال کیا جا سکے۔انہوں نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے لیے بھی 25ارب روپے کے پیکج کا اعلان کیا جس کس مقصد کٹس لینے سمیت دیگر طبی سازوسامان خریدنا ہے وزیر اعظم نے تعمیرات کی صنعت کے لیے خسوصی پیکج کے اعلان کی نوید سناتے ہوئے کہا کہ ہم تعمیرات کی صنعت کے لیے آئندہ 3-4 دن میں ایک پیکج کا اعلان کر رہے ہیں اور یہ ایسا پیکج ہو گا جس کا پاکستان کی تاریخ میں آج تک اعلان نہیں کیا گیا کیونکہ اس صنعت سے ہمارے ہاں بیروزگاری کے کاتمے میں بھی مدد ملے گی اور دییگر صنعتوں کو بھی فائدہ ہو گا۔قبل ازیں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت معاشی ٹیم کا اجلاس ہوا جس میں معاشی پیکج کی منظوری دی گئی‘ذرائع کے مطابق اجلاس میں معاون خصوصی ثانیہ نشتر کو اہم ذمہ داری سونپ دی گئی ہے اِس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت مشکل وقت میں مزدور اور دیہاڑی دار طبقے کے ساتھ کھڑی ہے۔وفاقی وزیر برائے قومی تحفظ خوراک خسرو بختیار نے کہا کہ حکومت نے معیشت کے مختلف شعبہ جات کو کورونا وائرس کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے تیار کردہ ریسکیو پیکج کا تخمینہ 11 کھرب 60 ارب روپے یعنی ملک کی مجموعی ملکی پیداوار کا 2.7 فیصد لگایا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں تمام اشیائے خورو نوش کا اطمینان بخش ذخیرہ موجود ہے ‘ ایک حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو خوراک اور شعبہ طب سے متعلق 61 اشیا پر ٹیکس میں کمی کی ہدایات کی گئی ہے وفاقی حکومت کی جانب سے اسٹیٹ بینک پاکستان کے ساتھ مشاورت کر کے برآمداتی صنعتوں کی سپورٹ کرنے کے لیے بھی ریلیف کا منصوبہ بنایا گیا ہے کیوں کہ برآمداتی آرڈرز ان کے ہاتھوں سے نکل رہے ہیں اور انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ اس بات کو یقینی بنائے کہ ان کے ملازمین متاثر نہ ہوں۔عہدیدار نے کہا کہ بین الاقوامی منڈیوں میں تیل کی قیمت کم ہونے سے حکومت کے پاس بچت کی رقم موجود ہے جس کا ایک بڑا حصہ قیمتوں میں کمی کر کے عوام تک پہنچایا جائے گا تاہم تیل کی قیمتوں سے ہونے والی بچت کے مکمل اثرات صارفین تک لیکویڈیٹی چیلنجز کے باعث نہیں پہنچائے جاسکتے اور ایک حصہ حکومت کے پاس ہی رہے گا۔

سمندری تہہ کے اندر میٹھے پانی کا نایاب ذخیرہ دریافت

آکلینڈ(ویب ڈیسک) سائنسدانوں نے سمندری تہہ سے بھی بہت اندر، گہرائی میں پوشیدہ، تازہ پانی کا ایک بڑا ذخیرہ دریافت کیا ہے جس کا حجم 2000 مربع کلومیٹر، یعنی اونٹاریو جھیل سے بھی زیادہ ہے۔پانی کا یہ ذخیرہ نیوزی لینڈ کے جنوبی جزیرے کے قریب سمندری تہہ کے اندر دریافت کیا ہے، جس کےلیے زلزلیات (سیسمولوجی) اور برقی مقناطیسی شعاعوں کے ذریعے سمندری تہہ کی چھان بین کی جدید تکنیکوں سے مدد لی گئی ہے۔یہ دونوں تکنیکیں ایک ساتھ استعمال کرتے ہوئے سمندری تہہ کی گہرائی کا تھری ڈی نقشہ بنایا گیا جس میں تازہ پانی کا یہ ذخیرہ واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔یہ دریافت آٹھ سال سے جاری تحقیق کے نتیجے میں ہوئی ہے جس کے مطابق، تازہ پانی کا یہ ذخیرہ سمندری تہہ میں تقریباً 65 فٹ گہرائی میں واقع ہے جبکہ یہ نیوزی لینڈ کے ساحلی شہر تیمارو سے 60 کلومیٹر دور ہے۔تازہ پانی کے اس ذخیرے میں اتنا پانی ہے جو اولمپک سائز کے 80 کروڑ سوئمنگ پولز جتنا ہے۔ ایسے ذخیروں کی دریافت مستقبل میں تازہ پانی کی دستیابی کے حوالے سے خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ اب تک میٹھے پانی کے صرف چند ایک ہی ”زیرِ سمندر“ ذخیرے دریافت ہوئے ہیں اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ سمندروں میں ایسے ذخیرے کتنی تعداد میں ہیں، نایاب ہیں یا بکثرت موجود ہیں۔اس دریافت کی تفصیلات ریسرچ جرنل ”نیچر کمیونی کیشنز“ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئی ہیں۔

پٹرول 70 روپے فی لٹر کم کیا جائے ، شہباز شریف

لاہور(ویب ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے حکومت سے پٹرول کی قیمت میں 70 روپے لیٹر کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک و قوم کا معاملہ ہے، حکومت شرح سود کو فوری طور پہ 3 سے 4 فیصد کم کرے، اس سے حکومت کو 80ارب کی بچت ہوگی جو عوام پر خرچ کریں، وزیراعظم فوری طور پر مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس طلب کریں اور چاروں وزرائے اعلیٰ کے ساتھ شراکت داری کریں، وینٹی لیٹرز سمیت جن آلات کی کمی ہے انہیں فوری طور پہ منگوایا جائے۔ شہبازشریف نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے فوری طور پہ لاک ڈاو¿ن کا مطالبہ کیا جس پر حکومت نے فی الفور عملدرآمد نہ کیا اور یہ معاملہ تعطل کا شکار ہوا، تفتان کے حوالے سے حکومت کی غفلت اور بڑی غلطی سامنے آئی ہے، اگر فوری طور پر سنجیدگی سے انتظامات کیے ہوتے تو یہ صورتحال نہ ہوتی، اب ہمیں اس پر قابو پانے کیلیے آگے بڑھنا ہوگا، مسلم لیگ ن 10 ہزار حفاظتی کٹس ڈاکٹرز کو مہیا کرے گی۔ شہبازشریف کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کیخلاف حکومت کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، ذاتی پسند سے بالا تر ہوکر مسئلے پرمتحد ہونے کی ضرورت ہے، سیاسی آمیزش کے بغیر ہمیں بات کرنی ہوگی اور حکومت کے اچھے اقدامات کو سراہنا ہوگا۔ شہبازشریف نے مزید کہا کہ حکومت شہروں میں مزدوری کیلئے آئے لوگوں کوتین ہزار روپے ماہانہ وظیفہ دے، تیل کی قیمت فی الفور 70 روپے فی لیٹر کم کی جائے، پیرا میڈیکس،ڈاکٹروں اور نرسز کی تنخواہ میں دو فیصد اضافہ کیاجائے جبکہ دوہزار سے پانچ ہزار تک بلوں کی اقساط کردی جائیں۔