کرونا زمین سے خلا میں منتقل ہوکر مزید تباہی کا سبب بن سکتا ہے: ماہرین نے خبردار کر دیا

نیویارک( آن لائن )دنیا میں تیزی سے پھیلنے والے کرونا وائرس سے متعلق ماہرین کو خدشہ لاحق ہوگیا ہے کہ کہیں مذکورہ وائرس خلا میں بھی نہ چلا جائے جس وجہ سے آئندہ ماہ خلا میں جانے والے تین خلانوردوں کو قرنطینہ میں رہنے کی ہدایات کی گئی ہیں۔آئندہ ماہ اپریل میں عالمی خلائی اسٹیشن پر جانے والے روس و امریکا کے تین خلانوردوں نے احتیاطی تدابیر کے پیش نظر خود کو قازقستان میں قرنطینہ کر رکھا ہے اور رواں ہفتے کے اختتام تک ان کا قرنطینہ کا دورانیہ مکمل ہوجائے گا۔ماہرین کے مطابق مذکورہ خلانوردوں کو اس لیے قرنطینہ ہونے کو کہا گیا تاکہ کرونا وائرس زمین سے خلا میں منتقل نہ ہوسکے۔ 2 روسی اور ایک امریکی خلانورد کا قرنطینہ کا دورانیہ رواں ہفتے کے اختتام کو مکمل ہوجائے گا اور تاحال تینوں خلانوردوں میں کسی بھی طرح کی بھی کرونا وائرس کی کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ تینوں خلانورد آئندہ ماہ اپریل کے آغاز میں ہی قازقستان کے ایک سینٹر سے عالمی خلائی اسٹیشن کے لیے اڑان بھریں گے جب کہ تینوں خلانورد آئندہ 6 ماہ تک عالمی خلائی اسٹیشن میں رہیں گے۔تینوں خلانوردوں کو ایک ایسے وقت میں قرنطینہ میں جانے کی ہدایات کی گئیں جب کہ دنیا بھر میں کرونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے اور 24 مارچ تک دنیا کے نصف سے زائد ممالک نے لوگوں کو گھروں تک محدود رہنے کی ہدایات کرنے سمیت جزوی طور پر ممالک کو بند کرنے سمیت لاک ڈان کا نفاذ کیا تھا۔دنیا کے بڑے بڑے ممالک جن میں امریکا، بھارت، برطانیہ، اٹلی، جرمنی، فرانس، پاکستان اور اسپین جیسے ممالک شامل ہیں، وہاں پر گزشتہ ہفتے سے معمولات زندگی معطل ہیں اور لوگوں کو گھروں تک محدود رہنے کی ہدایات کی گئی ہیں۔24 مارچ کی صبح تک مزید کئی ممالک نے لاک ڈان کے نفاذ کا اعلان کیا اور اندازے کے مطابق تقریبا ڈھائی ارب سے زائد انسان گھروں تک محصور ہیں جب کہ پوری دنیا میں کاروباری ادارے بھی بند ہیں جس وجہ سے دنیا کو یومیہ اربوں ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔24 مارچ کی دوپہر تک کرونا وائرس دنیا کے 180 سے زائد ممالک تک پھیل چکا تھا اور اس سے متاثر افراد کی تعداد 3 لاکھ 82 ہزار سے زائد ہو چکی تھی جب کہ ہلاکتوں کی تعداد بھی بڑھ کر ساڑھے 16 ہزار تک جا پہنچی تھی۔چین میں اگرچہ اس وقت کرونا وائرس کے نئے مریضوں کے سامنے آنے کی رفتار انتہائی کم ہے تاہم اٹلی اور امریکا میں تیزی سے نئے کیسز سامنے آ رہے ہیں اور 24 مارچ کی دوپہر تک اٹلی میں مریضوں کی تعداد بڑھ کر 64 ہزار کے قریب جب کہ امریکا میں 46 ہزار سے زائد ہو چکی تھی۔

غریبوں کیلئے وزیر اعظم کا ریلیف پیکیج بہت اچھا، یوٹیلیٹی بل بھی معاف کیے جائیں ارکان اسمبلی

لاہور(ملک مبارک سے) پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن ارکان نے وزیراعظم پاکستان عمران خان کے معاشی پیکج اعلان کا خیر مقدم کیا ہے ۔پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی حسن مرتضی نے روزنامہ خبریں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس وقت سیاسی پوانیٹ سکورنگ کا وقت نہیں ہے ہم سب کو اس وقت پاکستان کی عوام کا سوچنا ہے ملک کرونا وائرس میں مبتلا ہوچکا ہے بلاول بھٹو نے شروع سے ہی کہہ دیا تھا کہ پورے ملک میں لاک ڈاون ہوناچایئے کیونکہ پاکستان اس مہلک وائرس کا متحمل نہیں ہوسکتا پھر بھی اچھا ہوا کہ لاک ڈاون کردیا گیا ہے اس کے بہتر نتائج آئیں گے معاشی پیکج کے حوالے سے حسن مرتضی کا کہنا تھا کہ پٹرول کو مزید سستا کرنا چایئے اس وقت ملک میں ٹرانسپورٹ بند ہے دوسو ارب سے غریب طبقے کو کچھ تو ریلف ملے گا بجلی بلوں معاف کیا جائے تو وہ زیادہ بہتر ہے انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کو اے پی سی اجلاس بلانا چاہے تاکہ پاکستان کی سیاسی قیادت مل بیٹھ کر اس ہنگامی حالت کےلئے بہتر فیصلے کرے ۔پیپلز پارٹی کے صوبائی رکن سید علی حیدر گیلانی نے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عمران خان کو اپنا وویژن مضبوط کرنا چاہیے اس ہنگامی صورت ھال کےلئے اپوزشن لیڈارن کے ساتھ مل بیٹھ کر اس کا حل نکالنا ہوگا معاشی پیکج بے نظیر انکم سپورٹ کے زریعے ڈیلور کرنا چاہیے اگر ایسا نہ ہوا تو کرپشن میں اضافہ ہوگا ۔ن لیگ کے ارکان اسمبلی محمد وارث شاد نے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس وقت ہنگامی صور ت حال ہے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پیج پر ہونا لازمی ہے ن لیگ اس ایشو پر حکمران جماعت کے ساتھ ہے اس لیئے شہباز شریف لندن اپنے بھائی کو بیمار چھوڑ کر پاکستان آئے ہیں تاکہ اپنے تجربہ کی بنیاد پر ھکمرانوں کو اپنی تجاویز دے سکیں اج شہباز شریف نے اپنی جماعت کے تمام ایم پی ایز،ایم این ایز ،ٹکٹ ہولڈرز کے ساتھ وڈیو لنک خطاب کریں گے تاکہ ن لیگ جماعت اپنی مدد کے تحت عوام کی خدمت کریں گے ن لیگی سیاسی راہنما اپنے اپنے حلقوں میں نکلیں گے عوام کو اگاہی کے ساتھ ساتھ امدا بھی کریں گے،ن لیگی راہنما عظمی ٰ بخاری کا کہنا تھا کہ عمران خان کو اپنی انا سے باہر نکلنا ہوگا آج سیاست کا وقت نہیں ہم سب کو ایک ہوکر اس وباءسے لڑنا ہوگا معاشی پیکج دے کر اچھا کیا ہے کیونکہ لاک ڈاون سے غریب طبقہ کو پریشانی ہوگی اس کومزید بہتر کیا جائے تین ہزار میں اضافہ کرنا ہوگا تین ہزار سے غریب آدمی کا کیا بنے گا ۔سابق وزیر زارعت ،ملک احمد علی اولک نے کہاکہ وزیراعظم نے معاشی پیکج دے کر غریب عوام کو بھوک سے بچا لیا ہے کیونکہ لاک ڈاون میں جہاں ہر چیز بند ہو غریب کےلئے تین ہزار بھی بہت اہم ہیں زرعی پیکج سے کسانوں کو ریلف ملے گا ۔ن لیگی رکن صوبائی اسمبلی چوہدری عادل بخش نے کہا کہ وزیر اعظم کا معاشی پیکج اس ہنگامی صورت حال کےلئے بہت اہم ہے اس میں مزید اضافہ کرنا چاہیے شہباز شریف کے حکومتی تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہیے یہ وقت سیاست کا نہیں ہے ہم سب کو مل جل کر پاکستان کی عوام کا سوچنا چایئے ۔ن لیگیرکن اسمبلی خالد محمود ڈوگر کا کہنا تھا کہ زرعی معاشی پیکج کسانوں کی بہتری کےلئے بہت اہم ہے ۔

لاہور میں کرونا کا پہلا مریض جاں بحق، ہلاکتوں کی تعداد 7 متاثرین 990

اسلام آباد، لاہور، کراچی، کوئٹہ، پشاور (نمائندگان خبریں) ملک بھر میں کرونا وائرس کے نئے کیسز سامنے آنے کے بعد مریضوں کی تعداد 918 ہو گئی ہے جب کہ 7 مریض جاں بحق ہو چکے ہیں۔ کرونا وائرس سے متعلق حکومتی ویب سائٹ کے اعداد و شمار کے مطابق مزید17 مریضوں میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں کرونا وائرس کے مریضوںکی تعداد 918 ہو گئی ہے۔ سندھ میں کرونا کے تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد 407، پنجاب میں 267، بلوچستان میں 110، گلگت بلتستان میں 80، خیبرپختونخوا میں 38 جب کہ اسلام آباد میں 15 اور آزاد کشمیر میں ایک ہے۔ ترجمان پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق پنجاب میں کورونا وائرس کے 265 کنفرم مریض ہیں۔ 176 زائرین، 59 لاہور، 2 ملتان، 2 راولپنڈی اور 12 گجرات، 3 جہلم، 7 گوجرانوالہ، فیصل آباد 1، منڈی بہاوالدین 1، رحیم یار خان 1، سرگودھا میں 1 مریضں میں وائرس کی تصدیق۔ تمام کنفرم مریض آئسولیشن وارڈز میں داخل ہیں۔کنفرم مریضوں کو دیگر افراد سے الگ آئسولیشن وارڈز میں رکھا گیا ہے۔مریضوں کو مکمل طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہے۔عوام سے گزارش ہے کہ حفاظتی تدابیر اختیار کرکے خود کو محفوظ بنائیں۔گزشتہ 14 روز میں متاثرہ ممالک سے آئے افراد گھر میں آئسولیشن اختیار کریں۔متاثرہ ممالک سے آئے افراد میں آئسولیشن کے دوران علامات ظاہر ہوں تو 1033 پر رابطہ کریں۔محکمہ صحت کی ریپڈ رسپانس ٹیمیں مشتبہ مریض کو ہسپتال منتقل کر کے ٹیسٹ کروائیں گی۔ملک بھر میں کورونا کے واری جاری ہیں،لاہور میں کورونا وائرس کا پہلا مریض جان کی بازی ہار گیا، کورونا وائرس سے متاثرہ57 سالہ شخص میو ہسپتال میں زیر علاج تھا۔تفصیلات کے مطابق پاکستان میں کورونا وائرس سے اب تک مجموعی طور پر 7 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں,لاہور میں جان لیوا وائرس سے جاں بحق ہونے والا 57 سالہ مریض میو ہسپتال میں زیر علاج تھا،57سالہ مریض کو2روز قبل میوہسپتال لایا گیا تھا،گزشتہ شب ساڑھے 12بجے57سالہ شخص کی موت ہوئی۔ذرائع کا کہناتھا کہ مریض کا ٹیسٹ تاخیر سے کیاگیا رپورٹ گزشتہ روز صبح سامنے آئی،ٹیسٹ رپورٹ میں مریض کے کورونا میں مبتلا ہونے کی تصدیق ہوئی،حکومت نےکابینہ اجلاس تک4گھنٹےہلاکت کوچھپائے رکھا،کابینہ اجلاس میں کوروناسےپنجاب میں پہلی ہلاکت بارے آگاہ کیاگیا،وزیرصحت کے ٹوئٹ کے بعدمیو ہسپتال انتظامیہ ،ہیلتھ کے فیلڈ افسران کوہلاکت کاعلم ہوا۔وزیر صحت یاسمین راشد نے ہلاکت سے متعلق ٹویٹ کیا,ان کا کہنا تھا 57 سالہ افراسیاب میو ہسپتال میں زیر علاج تھا جو کہ آج دم توڑ گیا،اس وقت ملک مشکل وقت سے گزار رہا ہے، اس مہلک وائرس سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ہم گھروں میں رہے اور ہدایات پر عمل کریں۔فےصل آباد27 سالہ عمراکرم ولدمحمد اکرم سکنہ مسلم ٹاﺅن 122ج ب نورپور تھانہ سر گودہا روڈفیصل ۱ٓباد کو جنرل ہسپتال غلام محمد ۱ٓباد کے خصوصی کورونا ۱ٓئسولیشن یونٹ داخل کرلیا گیا ہے جہاں سینئر ڈاکٹرزکی ٹیم نے رپورٹس اور مریض کے چیک اپ کے بعد اسے 14 روز کیلئے قرنطینہ کرنے سمیت علاج معالجہ کے بعد اس کے دوبارہ ٹیسٹوں کا بھی فیصلہ کیا ہے،تمام متعلقہ حکام کو بھی اس ضمن میں الرٹ کردیا گیاہے۔ اسلام آبادکے پمز ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر انصر محمود نے کہا ہے کہ 20 مریضوں میں کرونا ٹیسٹ مثبت آیا، آئیسولیشن میں اس وقت 9 مریض زیرِ علاج ہیں، 2 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے۔پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر انصر محمود نے پریس بریفنگ میں کہا کہ ہسپتال میں کرونا مریضوں کی آئیسولیشن کے لیے 10 بیڈز مختص کیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پمز میں اب تک 1200 سے زائد مشتبہ کیسز آئے، 270 کے قریب کیسز کے نمونے لیے ہیں، 20 مریضوں میں کرونا ٹیسٹ مثبت آیا ۔انہوں نے کہا کہ 29 بیڈز پر مشتمل نیا وارڈ بنا رہے ہیں، اگلے 15 دن میں مزید وارڈز میں اضافہ کریں گے۔ملک بھر میں کرونا وائرس کے نئے کیسز سامنے آنے کے بعد مریضوں کی تعداد 892 ہوگئی ہے جب کہ 7 مریض جاں بحق ہوچکے ہیں۔کرونا وائرس سے متعلق حکومتی ویب سائیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق مزید 17 مریضوں میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 892 ہوگئی ہے۔سندھ میں کرونا کے تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد 399، پنجاب میں 249، بلوچستان میں 110، گلگت بلتستان میں 80، خیبر پختونخوا میں 38 جب کہ اسلام آباد میں 15 اور آزاد کشمیر میں ایک ہے۔پنجاب میں کرونا وائرس سے پہلی ہلاکت رپورٹ ہوئی ہے جس کے بعد سرکاری اعداد و شمار کے تحت کرونا وائرس سے ملک میں ہلاکتوں کی تعداد 7 ہوگئی ہے جب کہ 6 افراد صحت یاب ہوکر اپنے گھروں کو جاچکے ہیں۔وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے ٹوئٹ میں کرونا وائرس سے لاہور میں ایک مریض کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کرونا وائرس کا لاہور میں ایک مریض چل بسا، 57 سالہ افراسیاب میواسپتال میں زیر علاج تھا تاہم آج افراسیاب مرض کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔وزارت داخلہ کی جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر میں فوج تعینات کردی گئی ہے اور وزارت داخلہ نے وفاق، پنجاب، سندھ، خیبر پختو نخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں فوج تعیناتی کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا ہے۔

ایک ہی دن میں اٹلی 600 سپین میں500 ہلاک مدینہ منورہ میں پہلا شحض جاں بحق

میڈرڈ‘تہران‘ پیرس‘ بیجنگ‘ واشنگٹن‘ لندن (ایجنسیاں‘مانیٹرنگ ڈیسک‘ نیٹ نیوز) سپین میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران وبائی کرونا وائرس سے ہونے والی بیماری سے 514 افراد اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔اس کی تصدیق سپین کی وزارت صحت، امور صارف اور سماجی خدمات نے منگل کے روز کی۔منگل کے روز سپین میں اموات کی مجموعی تعداد 2ہزار696 ہو گئی۔ پیر کو یہ تعداد 2ہزار 182 تھی۔ تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد بڑھ کر 39 ہزار 373 ہو گئی ہے۔ پیر کو یہ تعداد 33ہزار 89 تھی۔ ایران میں کرونا وائرس نے مزید 122 افراد کی جان لے لی، منگل کو ناول کرونا وائرس سے 122 نئی اموات کے اعلان کے بعد ایران میں اس وائرس سے مرنے والوں کی کل تعداد 1،934 ہوگئی ہے۔ ایرانی وزارت صحت کے ترجمان کیانوش جہاں پور نے کہا کہ ایران میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا کے مزید 1,762نئے کیس رجسٹر ہوئے ہیں جس کے بعد کرونا سے متاثر ہونے والے شہریوں کی کل تعداد 24,811 ہو گئی ہے۔ایران میں نائب وزیر صحت قاسم جان بابائی نے اعتراف کیا ہے کہ ملک میں کرونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 52 ہزار سے زیادہ ہے۔ 26 ہزار کرونا مریضوں کا مختلف اسپتالوں میں علاج جاری ہے۔ بہت سے مریض صحت یاب ہوگئے ہیں جب کہ بعض کی حالت خطرے میں بتائی جاتی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایرانی نائب وزیر صحت کے اعترافی بیان میں کرونا کے متاثرہ مریضوں کی تعداد سرکاری اعدادو شمار سے کہیں زیادہ ہے۔ ایران میں سرکاری سطح پر کرونا کے متاثرہ مریضوں کی تعداد 13 ہزار 49 بتائی جا رہی ہے جب کہ 1812 افراد کرونا کے باعث ہلاک ہوچکے ہیں۔ جان بابائی نے مزید کہا کہ کرونا وائرس کے متاثرہ بیشترمریضوں کی عمریں 40 سے 60 سال کے درمیان ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران میں کرونا وائرس پھیلنے کے بعد اب تک 56 ہزار افراد اس کا شکار ہوچکے ہیں۔فرانس میں کرونا وائرس سے مزید 186 افراد ہلاک ہوگئے۔ فرانس میں ایک دن میں کرونا سے ہونے والی ہلاکتوں کی اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے جس کے بعد مجموعی اموات 860 ہوگئیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق فرانسیسی وزیر صحت اولیویہ فیران نے بتا کہ ملک میں کرونا کے باعث 19،856 متاثرہ مریضوں کی تصدیق کی جا چکی ہے۔ ان میں سے 8675 افراد کو اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ اسپتالوں میں لائے گئے 2082 افراد کی حالت خطرے میں بتائی جاتی ہے۔ جنوبی افریقہ کے صدرسیرل ریمپوسا نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سا ﺅتھ افریقہ کو 26 مارچ بروز جمعرات سے 21 دن کے لیے کرونا وائرس کی وجہ سے مکمل لاک ڈاﺅن کیا جا رہا ہے۔اس دوران پولیس اور فوج و دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مکمل اختیار دیا گیا ہے کہ حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔صرف گروسری ، میڈیسن ، پٹرول و دیگر انتہائی اہم ضروریات زندگی کی دوکانوں و کاروبار کو اوپن رکھنے کی اجازت ہو گی۔چین، تھائی لینڈ، بھارت اور بنگلہ دیش جیسے کرونا وائرس سے متاثر ممالک کے ساتھ زمینی سرحدیں رکھنے والے ملک میانمار نے پہلے کرونا وائرس کے کیس کی تصدیق کردی۔میڈیارپورٹس کے مطابق میانمار اور چین کے درمیان 2100کلو میٹر طویل زمینی سرحد ہے اور کرونا وائرس کا مرض میانمار کے پڑوسی ملک چین سے ہی شروع ہوا تھا مگر میانمار کا دعوی تھا کہ ان کے ہاں کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔میانمار میں گزشتہ 4ماہ میں کرونا وائرس کا ایک کیس بھی رپورٹ نہ ہونے پر عالمی برادری کو تشویش لاحق تھی کہ حکومت حقائق کو چھپا رہی ہے، کیوں کہ میانمار کے دیگر پڑوسی تھائی لینڈ، بھارت اور بنگلہ دیش میں بھی کرونا وائرس کے کیسز فروری میں ہی آنا شروع ہوگئے تھے۔امریکی سینٹ کے ر±کن میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوگئی سینیٹر رینڈ پال اس مرض میں مبتلا ہونے والے پہلے امریکی سینیٹر ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سینیٹر پال رینڈ کے آفیشل ٹوئٹر اکاونٹ پر کی گئی ٹوئٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی ریاست کینٹیکی کے ریپبلکن سینیٹر میں علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں تاہم تواتر سے سفر کرنے اور تقریبات میں شرکت کے باعث احتیاطاً ان کا ٹیسٹ کیا گیا جس کے نتائج میں وائرس کی تشخیص ہوئی۔جمہوریہ چیک میں وزیر صحت ایڈم ووجٹک نے اعلان کیا ہے کہ ان کے ملک میں کرونا وائرس سے پہلی موت ریکارڈ کی گئی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ووجٹک نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ جمہوریہ چیک میں کرونا وائرس سے متاثرہ پہلے مریض وفات کی تصدیق کی گئی ہے۔ اس کی عمر 95 سال ہے۔ اسے 18 مارچ کو اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے عوامی مقامات پر جمع نہ ہونے اور سماجی فاصلے رکھنے پر عملدرآمد کرنے کے لیے ملک میں لاک ڈاﺅن کا اعلان کرتے ہوئے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ مخصوص وجوہات کی بناءپر گھروں سے نکل سکتے ہیں۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے گزشتہ روز قوم سے اپنے خصوصی خطاب میں کہا کہ پولیس کو سماجی فاصلہ نہ رکھنے اور عوامی مقامات پر جمع ہونے والے لوگوں کو روکنے کا مکمل اختیار حاصل ہو گا۔ برطانیہ میں کرونا وائرس سے متاثرہ کیسز کی تعداد 6,650 جبکہ اموات 335 ہو گئی ہیں۔جنوبی کوریا میں کرونا کے نئے کیسز میں کافی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ جنوبی کوریا نے اعلان کیا ہے کہ 29 فروری کے بعد اب تک کرونا کے سب سے کم کیس سامنے آئے ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کوریائی مراکز برائے انسداد امراض نے بتایا کہ جنوبی کوریا میں کرونا وائرس کے 64 نئے کیسز درج ہوئے جس کے بعد مجموعی تعداد 8961 ہوگئی۔ اموات کی تعداد میں ایک سے 110 تک اضافہ ہوا۔چین نے اعلان کیا ہے کہ کرونا وائرس کا ملک میں مقامی سطح پر کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا تاہم بیرون ملک سے آنے والے 39 افراد میں کرونا کے مریض پائے گئے۔ ان میں سے 10 شنگھائی اور 10 بیجنگ میں سامنے آئے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سرکاری اعداد و شمارمیںبتایاگیاکہ کرونا وائرس سے 9 اموات بھی ریکارڈ کی گئیں ۔برطانیہ نے کہا ہے کہ وہ کرونا وائرس کے پھیلاو¿ کی روک تھام کرنے والے عملے کی مدد کے لیے فوج کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔اسپتالوں اور طبی مراکز تک ادویات کی ترسیل یقینی بنانے کے لیے فوج کی مدد لی جا رہی ہے۔

کرونا سے نجات ملک بھرمیں شہریوں کی مساجد اور گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر اذانیں

لاہور (چینل ۵ رپورٹ)مہلک وبائی مرض کورونا سے نجات حاصل کرنے کے لیے پاکستانی رات گئے آذانیں دینے کے لیے چھتوں پر چڑھ گئے۔ لاہور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں اللہ اکبر، اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہوگئیں۔ ملک بھر میں شہریوں نے اپنے گھروں مساجد کی چھتوں پر چڑھ کر آذانیں دیں۔ اس موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے۔ لاہور کراچی ، ٹھٹہ ، پشاور، ملتان، ڈی جی خان، اسلام آباد سمیت دیگر شہروں میں کورونا سے نجات کے لیے آذانیں دی گئیں اور دعا کی گئی کہ اللہ تعالی ہمیں اس وبا سے نجات دیں۔ واضح رہے کہ روزنامہ خبریں نے گزشتہ روز یہ خبر شائع کی تھی ، خبریں میں خبر کی اشاعت پر شہریوں نے ملک بھر میں گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر اذانیں دیں۔ آذانوں کا یہ سلسلہ تمام رات جاری رہا۔چینل فائیو کے مطابق مراکش میں بھی کورونا سے نجات کے لیے لوگوں نے گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر اذانیں دیں۔ اس حوالے سے مذہبی اسکالر علامہ کوکب نورانی نے چینل فائیو سے ٹیلی فونک گفتگو میں کہا کہ وبا اور پریشانی میں جہاں آذان کہی جائے اللہ تعالی وہاں امن عطا فرماتے ہین۔ بلاوں کو دور کرنےکے لیے آذان کہی جاتی ہے جس سے ہمارے ایمان کا اظہار ہوتا ہے اور شیطان بھاگتا ہے۔ مسلمان روحانی اور حفاظتی دونوں تدابیر اختیار کرتا ہے۔ صفائی کیساتھ ایمانی ہتھیار بروئے کار لائے جارہے ہیں تاکہ دنیا پر واضح ہو کہ دنیامیں اسلام ہی پرامن دین ہے۔ رسول کریم کی تعلیمات کی جانب ساری دنیا کو آنا پڑ رہا ہے۔ پہلے حجاب پر پابندی تھی اور آج پوری دنیا کو منہ ڈھانپنا پڑ رہا ہے۔ آذان دینا مستحب اور پسندیدہ کام ہے اسکو جتنا پھیلایا جائے اتنا مبارک ہے۔ میں لفظ قرنطین کو قرآن طین بنانا چاہتا ہے۔ لوگ گھروں میں رہ کر اللہ سے توبہ کریں اور گھروں میں تمام وقت نیکی میں گزاریں ۔ صبح اور شام دو وقت آذان کا سلسلہ جاری رہنا چاہئے اس سے امن رہتا ہے۔ لوگ کوشش کریں کہ اللہ کی طرف آئیں ، دعائیں کریں اور صفائی اختیار کریں، سچے دل سے توبہ کریں کیونکہ یہ وبا ہم پر ہمارے اعمال کیوجہ سے آئی ہے۔ مذہبی اسکالر مولانا راغب نعیمی نے کہاکہ آذان کا سلسلہ مراکش سے شروع ہوا اور پاکستان تک پہنچ چکا ہے۔ وبا کے زمانے میں آذان کہی جانی وبا کے خلاف اکثیر کی حیثیت رکھتی ہے۔ آذان اپنے وقت کے علاوہ مشکلات کے دور میں دی جاسکتی ہے۔ آذان کا مطلب اللہ تعالی کی کبریائی اور بڑائی کو بیان کرنا ہے جو اللہ کو پسند ہے۔ اللہ اس عمل سے یقینی طورپر اپنی مخلوق کی طرف نظر فرمائے گا۔ عالم دین ابتسام الہی نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خبریں کی خبر کو سراہا اور آذان دینے کو کورونا کے خلاف خوش آئند قرار دیا۔ ضافی خبر ۔۔۔لاہور(خصوصی رپورٹر)گزشتہ رات شہر کے مختلف علاقوں جن میں شالیمار،گڑھی شاہو،گجر پورہ،خواجہ کوٹ سعید،دروغہ والا،شریف پورہ،رشید پورہ،کوٹلی پیر عبدالرحمن،ہربنس پورہ ،فتح گڑھ و دیگر میں کرونا کی نجات کےلیے گھر کی چھتوں پر اذانیں دی گیئں شہریوں نے اذان کے بعد دعامغفرت اور کرونا سے نجات کی دعایئں کرایئں شہریوں کا کہنا تھا کہ ہم سب کو اللہ سے دعا کرنی چاہئے کہ اے اللہ ہمیں اس موذی مرض سے نجات عطا فرما عالم دنیا پر رحم فرماے۔کراچی سمیت سندھ کے مختلف شہروں، دیہاتوں ،قصبوں اور گوٹھوں میںمنگل کی شب 10بجے کے قریب مختلف مساجد سے اذانیں دی گئیں اور دعاکی گئی کہ اللہ تعالی رحم کرے اور اس وابائی کوختم فرمائے۔دوسری جانب حروں کے روحانی پیشوا پیر صاحب پگارا نے ملک بھر میں موجود اپنے مریدوں اور عقیدت مندوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کرونا وائرس سے بچاو کے لئے فوری طور پر اپنے اپنے علاقوں میں اذانیں دینے کا سلسلہ شروع کردیں اور باری تعالی سے اس کا رحم و کرم طلب کریں۔ منگل کی شب حر جماعت کے نام اپنے ایک خصوصی پیغام پیر صبغت اللہ شاہ راشدی پیر صاحب پگارا نے کہا کہ یہ ہمارے بزرگوں کا طریقہ رہا ہے اور رب کریم اپنے محبوب سرکار دو عالم ؓ کے طفیل ہم پر ضرور رحم فرمائے گا۔ انہوں نے حر جماعت اور تمام پاکستانیوں سے کہا ہے کہ وہ کرونا کی وبا کے پیش نظر تمام ممکنہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور اپنے گھروں میں رہ کر اللہ تعالی سے اس کی پناہ اور ملک و قوم کی سلامتی کی دعا کریں۔

وزیر اعظم کا 880ارب ریلیف پیکیج کا اعلان

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) وزیراعظم عمران خان نے ملک میں کرونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث معاشی سرگرمیوں میں آنے والے تعطل ،اس کے اثرات سے نمٹنے کےلئے تقریباً 880 ارب روپے کے ریلیف پیکج کا اعلان کر دیا ۔ منگل کو حکومت اقدامات کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بدقسمتی ہے ملک میں فیصلے چھوٹے سے الیٹ طبقے کو دیکھ کر کیے جاتے ہیں غلط فیصلہ کرکے معاشرے میں تباہی نہیں لانا چاہتے۔وزیراعظم نے بتایا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں15 روپے کی فوری کمی کی گئی ہے، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں 15 روپے فی لیٹر کمی ہوگی ۔انہوںنے کہاکہ بجلی اور گیس کے بل قسطوں میں ادا کیے جاسکتے ہیں، طبی سامان کےلئے 50 ارب روپے وقف کیا گیا جبکہ کھانے پینے کی اشیا پر بھی ٹیکس کم کر دیے گئے ہیں۔وزیراعظم نے بتایا کہ مزدوروں کے لیے 200 ارب روپے وقف کیے گئے ہیں اور ایکسپورٹ انڈسٹری کو فوری بنیاد پر 100 ارب روپے کے ٹیکس ری فنڈ فراہم کیے جائیں گے، چھوٹی صنعت اور زرعی شعبے کے لیے بھی 100 ارب روپے وقف کیے گئے ہیں اور ان کے لیے کم سود پر قرضے بھی دیے جائیں گے۔انہوںنے کہاکہ میں اپنے غریبوں کے بارے میں سوچتا ہوں کہ وہ ان حالات میں کہاں سے اپنے گھر کا چولہا جلائیں گے، اٹلی، چین جیسے معاشی حالات ہوں تو کرفیو لگانا آسان اقدام ہے۔عمران خان نے کہا کہ پاکستان کے فیصلے ایک چھوٹی سے ایلیٹ کلاس کو دیکھ کر کیے جاتے ہیں،کرونا وائرس کے پیش نظر بھی لاک ڈاو¿ن کو لیکر عمومی سوچ یہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ معاشرے کے انتہائی غریب طبقے کے لیے 150ارب روپے مختص کیے جارہے ہیں جس کے تحت ہر غریب خاندان کو 4 ہزار روپے ماہانہ فراہم کیے جائیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ غریبوں کا خیال کیسے رکھنا ہے یہ سوچنے والی باتیں ہیں کیا ہمارے اتنے وسائل ہیں کہ کچی آبادیوں میں کھانا پہنچا سکیں۔ وزیر اعظم نے کہاکہ یوٹیلٹی اسٹور کے لیے 50 ارب روپے مزید مختص کیے جائیں گے، گندم کی خریداری کے لیے 280 ارب روپے رکھے گئے ہیں تاکہ کسانوں کے ہاتھ میں پیسہ آئے اور کم سے کم دیہی علاقوں میں حالات قابو میں رہیں۔ وفاقی وزیر فوڈ سیکورٹی خسروبختیار نے قوم کو خوشخبری سنائی ہے کہ اپریل میں دالوں کی قیمت 35 سے 40 روپے مزید کم ہو جائے گی۔ قومی خوراک کی تفصیلات کا اعلان کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان میں غذائی ضروریات کے تحت اجناس موجود ہیں۔ 90فیصد عوام کی غذائی ضروریات کی اجناس ملک سے ہی پوری ہوتی ہیں۔ پچھلے سال 40لاکھ ٹن گندم جبکہ اس سال 82 لاکھ ٹن ذخیرہ کررہے ہیں۔ 80,82 لاکھ ٹن گندم اگلے چھ ہفتوں میں وفاق اور صوبائی حکومتوں کے پاس آجائے گی۔ پاکستان 70 لاکھ ٹن چاول پیداکرتا ہے 25 لاکھ ٹن ملکی ضروریات ہے اور باقی 35 لاکھ ٹن برآمد کرتے ہیں۔ ہم نے ایک ماہ پہلے پیاز کی برآمد پر پابندی لگا دی ہے پیاز ہماری ملکی ضروریات کیلئے کافی ہے وہ برآمد نہیں ہوسکتا ۔43 لاکھ ٹن آلو ملک میں پیدا ہوگا ۔ 40 لاکھ ٹن آلو کی ہمیں ضرورت ہے ۔ ہوسکتا ہے ہم آلو کی برآمد پر بھی پابندی لگادیں ۔ ٹماٹر سندھ سے ختم ہورہا ہے۔ پنجاب میں اسکی فصل آرہی ہے اور انشاءاللہ نظام چلے گا ۔پولٹری ہمارے ملک کیلئے کافی ہے پولٹری فیڈ کی سپلائی لائن کو یقینی بنائیں گے۔ بدقسمتی سے پاکستان 80 فیصد دالیں درآمد کرتا ہے ۔ ہمارے پاس ملکی ضروریات کے لئے 2ماہ کی دالیں ہیں ۔عالمی منڈی میں دالوں کی قیمتیں کم ہورہی ہیں۔ اپریل میں دالوں کی قیمت 35 سے 40 روپے مزید کم ہو جائے گی۔ ہمارے پاس گھی کا 80ہزار ٹن سٹاک ہے جبکہ 40ہزار ٹن گھی ہر ماہ استعمال ہوتا ہے۔ یوں گھی بھی دو ماہ کا اسٹاک ہے۔ گھی کی قیمتیں جنوری سے اب تک 200ڈالر فی ٹن کم ہوئی ہیں اور آئندہ بھی یہی توقع ہے ۔ مستقبل میں امپورٹڈ اجناس کی قیمتیں کم ہوتی نظر آرہی ہیں۔

کورونا وائرس کے سبب قومی کرکٹرز کے فٹنس ٹیسٹ ملتوی

لاہور(ویب ڈیسک)کورونا وائرس کے باعث قومی کرکٹرز کے فٹنس ٹیسٹ ملتوی کردیے گئے۔ ذرائع کے مطابق موجودہ صورت حال میں کرکٹرز کو فٹنس ٹیسٹ کی تیاری کے لیے مکمل سہولتیں میسر نہیں اس لیے کھلاڑیوں کے فٹنس ٹیسٹ ملتوی کردیے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سینٹرل کنٹریکٹ یافتہ کرکٹرزکے فٹنس ٹیسٹ اپریل کے دوسرے ہفتے میں ہونا تھے جس کے لیے اب نیا شیڈول بنایا جائے گا۔ صوبائی ایسوسی ایشنز کی ٹیموں اور سیکنڈ الیون کے کھلاڑیوں کے فٹنس ٹیسٹ بھی ملتوی کردیے گئے ہیں جب کہ کھلاڑی فٹنس اور ٹریننگ کے حوالے سے کوچز اور ٹرینرز کو آگاہ کرنے کے پابند ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے کورونا وائرس کے خدشے کی وجہ سے پاکستان سپر لیگ کے بقیہ میچز ملتودی کردیے ہیں جس کو ری شیڈول کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جب کہ پی سی بی نے پی ایس ایل سے منسلک تمام اسٹاف اور فرنچائز مالکان کے ٹیسٹ بھی کرائے جو منفی آئے ہیں۔

لاک ڈاؤن کے باوجود شوبز اسٹارز نے یومِ پاکستان کس طرح منایا

لاہور(ویب ڈیسک)کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کی وجہ سے لاک ڈاون کی صورتحال کے باوجود بھی پاکستان شوبز انڈسٹری کے اسٹارز نے یومِ پاکستان کے دن حب الوطنی کا ثبوت دیا۔عالمی وبا کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاون ہونے کی وجہ سے 23 مارچ، یومِ پاکستان کو ملک بھر میں تمام تر لوگوں نے اپنے اپنے گھروں میں ہی رہ کر منایا۔کورونا وائرس کے پیشِ نظر جہاں پریڈ اور ائیر شو منسوخ کردیا گیا تھا تو وہیں پاکستانیوں نے محب وطن ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے گھروں پر قومی ترانہ بجایا اور ساتھ ہی اپنی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیں۔چلیں دیکھتے ہیں کہ شوبز انڈسٹری نے لاک ڈاون کے باوجود یومِ پاکستان کس طرح منایا۔
عائشہ عمر
یومِ پاکستان کے دن لاک ڈاون کی وجہ سے اداکارہ عائشہ نے گھر ہی میں قومی ترانہ پڑھا اور قوم کو اس صورتحال میں متحدہونے کا پیغام دیا۔
عاصم اظہر
نوجوان گلوکار عاصم اظہر نے یومِ پاکستان کے دن ‘دل سےمیں نے دیکھا پاکستان’ گایا، اور قوم کو یہ پیغام دیا کہ یقیناً یہ مشکل وقت ہے لیکن ہم جلد اس سے باہر آئیں گے۔
کومل رضوی
گلوکارہ کومل عزیز نے سبز رنگ کا لباس پہن کر قومی ترانا پڑھا اور اس دوران انہیں آبدیدہ بھی دیکھا گیا۔
جنید خان
اداکار جنید خان نے یومِ پاکستان کا دن لاک ڈاون کی وجہ سےاپنے ہی گھر پر صاحبزادےکے ساتھ قومی ترانا پڑھ کر منایا۔
ثروت گیلانی
اداکارہ ثروت گیلانی نے اپنے شوہر فہدمرزا اور بچوں کے ساتھ یومِ پاکستان کے دن گھر پر قومی ترانا پڑھ کر منایا۔

کورونا سے متاثر ملازم کو چھپانے پر ماریہ بی کے شوہر گرفتار

لاہور(ویب ڈیسک) معروف ڈریس ڈیزائنر ماریہ بی کے شوہر طاہر سعید کو ضمانت پر رہا کردیا گیا۔پولیس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق طاہر سعید نے اپنے ملازم کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے پر حکومت سےچھپایا، اور ملازم کو وہاڑی بھیج دیاتھا جس پر پولیس نے طاہر سعید کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں گھر سےگرفتار کیا۔پولیس طاہر سعید کے ملازم کو بھی وہاڑی سے ریسکیو کرکے میواسپتال لاہور لائی اسلام آباد سے لاپتہ ہونے والا کورونا وائرس کا مشتبہ مریض نواب شاہ سے پکڑا گیااس حوالے سے ڈریس ڈیزائنرماریہ بھی کا کہنا ہے کہ ‘میرے شوہر کو بغیر کسی ایف آئی آر اور درخواست کے گرفتار کیا گیا۔ترجمان لاہور پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے بعد قانون کے مطابق طاہر سعید کوضمانت پر چھوڑ دیا گیا۔کورونا سے متاثرہ ملازم راستے اور اپنے گاوں کرم پور میں درجنوں لوگوں سےملا، طاہر سعید کے مجرمانہ فعل کے بعد اب پورے گاوں کو قرنطینہ میں رکھنا پڑے گا۔

میکسیکن ساحل پر ملنے والے بحری خارپشت کو گینیز ورلڈ ریکار ڈ میں درج کر لیا گیا

لاہور(ویب ڈیسک)برٹش کولمبیا کی ایک طالبہ کو گینیز ورلڈ ریکارڈ نے میکسیکن ساحل سے دنیا کا سب سے بڑا بحری خارپشت (sand dollar) ڈھونڈنے پر گینیز ورلڈ ریکارڈ سرٹیفیکیٹ سے نوازا ہے۔اسے دنیا کا سب سے بڑا بحری خار پشت قرار دیا گیا ہے۔کولڈ واٹر کی رہائشی نیکو وونگ ، جو چوتھے گریڈ میں پڑھتی ہیں، نے بتایا کہ یہ بحری خارپشت انہیں ال سرجنٹا کے ساحل سے ملا ہے، یہ ان کے سر سے بھی بڑا ہے۔وونگ کے خاندان نے اس حوالے سے تمام ضروری کاغذات گینیز ورلڈ ریکارڈ کو بھیجے، جنہوں نے وونگ کے لیے ایک سرٹیفیکیٹ بھیج دیا ہے۔وونگ کے بحری خار پشت کی اصل پیمائش تو واضح نہیں لیکن اس سے پہلے یہ ریکارڈ 6 انچ قطر کے خار پشت کا ہے۔