کرونا سے اٹلی فرانس سپین میں تباہی سندھ لاک ڈاﺅن ،پنجاب بلوچستان میں فوج طلب

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر ملک کو لاک ڈاﺅن نہ کر نے کااعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ اگر ہمارے حالات یورپ ،امریکہ اور چین کی طرح ہوتے تو پورا پاکستان لاک ڈاو¿ن کردیتا،عوام خود کو قرنطینہ کرلیں ،25 فیصد پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں ،کرونا کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ غریبوں کا ہے، اناج کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہمارے پاس بہت ذخیرہ ہے ، کرونا وائرس سے زیادہ خطرہ ہمیں افراتفری سے ہے،سب اگر گھروں میں سامان جمع کرنا شروع کردیں گے تو ہمارے معاشرے کو نقصان ہوگا،میں اور میری پوری ٹیم کی توجہ کرونا وائرس پر ہے، میڈیا ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے افرا تفری پھیلانے سے گریز کرے، عوام اپنی حکومت پر اعتماد کرے ہم مشکل وقت سے نکل جائیں گے۔ اتوار کو پاکستان ٹیلی ویژن اور ریڈیو پاکستان پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہاکہ آپ سے اس لئے مخاطب ہوں کہ ملک میں ایک بحث چلی ہوئی ہے کہ ملک کو لاک ڈاﺅن کر دینا چاہیے ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ پورا لاک ڈاﺅن کا مطلب ہے کہ ملک میں کرفیو لگانا ہے ،کرفیو کا مطلب ہے کہ شہریوں کو گھروں میں بند کر کے پولیس اورفوج کے ذریعے پہرہ دینا ہے تاکہ لوگ گھروں سے باہر نہ نکلیں لیکن ہمارا مسئلہ ہے کہ پچیس فیصد پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے ہیں جس کا مطلب ہے کہ وہ دو وقت کی روٹی نہیں کھاسکتے ہیں ۔وزیراعظم نے کہاکہ وزیراعظم نے کہاکہ اگر پورے ملک کو لاک ڈاﺅن کرتاہوں تو اس کا مطلب ہے کہ رکشتہ ¾چھابری ، ریڑھی والے ، دیہاڑی والے اور چھوٹے دوکاندار وں کے گھر بند ہو جائیں گے، کیا ان کے وسائل ہونگے کہ دو ہفتے تک بیوی بچوں کا پیٹ پال سکیں ؟کیا ہمارے پاس کیپسٹی ہے کہ گھروں میں کھانا پہنچا سکیں ؟ہمارے پاس اتنی کیپسٹی نہیں ہے ۔ وزیر اعظم نے بتایاکہ چین امیر ملک ہے ،ان کے پاس پیسے اور خوراک تھی ،وہ کر سکتے تھے ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ اگر میں پورے ملک کو لاک ڈاﺅن کرتاہوں تو پچیس فیصد غریب لوگوں کا کیا بنے گا ؟،ہم دیکھ رہے ہیں ہم اپنے کاروبار کےلئے کیا کیا کرسکتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ خود اپنے آپ کو لاک ڈاﺅن کی طرف لے جائیں ۔انہوںنے کہاکہ آپ کو سیلف قرنطینہ کر نا چاہیے ، اگر کسی کو کھانسی ، زکام نزلہ ہے تو وہ گھروں میں رہے ۔ انہوںنے کہاکہ کرونا وائرس فلو کی طرح ہوتاہے اور چند دنوں میں لوگ ٹھیک ہو جائینگے ۔وزیر اعظم نے کہاکہ ان بوڑھوں اور بزرگوں کو ہسپتال جانا پڑے گا جن کو سانس کی مشکلات ہوں ان کےلئے ہسپتالویں میں جگہ رکھی ہوئی ہے ۔وزیراعظم نے عوام سے اپیل کی کہ اپنے اوپر ڈسپلن کریں ،حکمت اور عقل کا استعمال کریں ۔ وزیراعظم نے بتایاکہ ملک میں شاپنگ مال ، یونیورسٹیاں اور سکول بند کر دیئے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ اب آپ کی ذمہ داری ہے کہ خود اپنے اوپر احتیا ط کریں۔ وزیراعظم نے کہاکہ انسان کو اللہ نے کہا ہے کہ مشکل وقت میں آزمایا جاتا ہے ،مشکل وقت میں وہ کھڑا رہتا ہے یا نہیں ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ قوم کا مشکل وقت میں پتہ چلتا ہے میں نے اپنی قوم کو 2005کے زلزلے اور 2010کے سیلاب میں دیکھا ہوا ہے ،ہمیں بڑی بڑی تکالیف آئی ہیں ،پاکستانی نے ان کا مقابلہ کیا ،ہم ان مشکلات میں نکل آئے ہیں ،ہمیں آپ کی ضرورت ہے ، اگر آپ نے احتیاط نہ کریں تو پوری قوم کو نقصان ہوگا اور اگر لاک ڈاﺅن کرونگا تو اور اثرات ہونگے ۔وزیراعظم نے کہاکہ اگر کھانسی ،نزلہ زکان ہوتا ہے تو لوگ گھر میں رہیں ،جتنا ڈسپلن اپنے اوپر کریں گے انشاءاللہ چین کی طرح ہم بھی نکل جائیں گے ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ پوری قوم سے امید لگا ئے بیٹھا ہوں ،مجھے مایوس نہیں کر نا ہے ،میں اور میری ٹیم سوچ رہی ہے کہ کرونا کامقابلہ کیسے کر نا ہے؟۔ وزیر اعظم نے کہاکہ ہم سوچ رہے ہیں کہ انڈسٹری اور بزنس کو کیسے بچانا ہے اس پرسوں بات کرونگا ۔ انہوںنے کہاکہ آپ کو خوف ہے کہ اناج کی کمی نہ ہوجائے ،ہمارے پاس کھانے پینے کی چیزیں وافر مقدار میں موجود ہیں ۔ وزیراعظم نے کہاکہ کونا وائرس سے زیادہ خطرہ ہمیں افراتفری سے ہے ،اگر لوگ گھبرا گئے ، ساروں نے چیزیں خریدنا شروع کر دیں ، پیسوں والے نے سامان جمع کر نا شروع کر دیا تو اس سے ہمارے معاشرے کو نقصان ہوگا ، اس لئے آپ کو مجھ پر پورا اعتماد کر نا چاہیے ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ سارا وقت میں اور میری ٹیم اس پر سوچ رہی ہے کہ کیسے وائرس سے نکلنا ہے ؟کیسے آپ کی زندگی کوآسان بنانا ہے ؟کیسے مشکلات کم کر نی ہیں۔ وزیر اعظم نے کہاکہ اس صورتحال میں میڈیا کر دار اہم ہے ،آپ نے افراتفری نہیں پھیلنے دینی ہے ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ قوم اور حکومت ملکر احتیاط اورڈسپلن کی پابندی کریں تو اشناءاللہ کرونا وائرس سے قابو پالینگے ۔انہوں نے واضح کیا کہ کرونا کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ غریبوں کا ہے، ہمیں کرونا سے بحیثیت قوم نمٹنا ہے اور امید ہے ہم اس سے نکل آئیں گے۔انہوںنے کہاکہ اگر عوام نے احتیاط نہ کی تو نقصان سب کا ہوگا، امید ہے عوام مایوس نہیں کرے گی۔

لاہور، کراچی، پشاور، کاسلام آباد، تفتان، کامونکی، جہلم (نمائندگان خبریں) پنجاب حکومت نے کرونا وائرس کے پیش نظر پاک فوج سے مدد طلب کرلی۔ سندھ حکومت نے کرونا وائرس کی صورتحال کے پیش نظر فوج طلب کرنے کا فیصلہ کرلیا، سندھ حکومت نے آئین کی شق 245کے تحت فوج بلانے کیلئے وفاق کو خط لکھ دیا۔ کورونا وائرس کے پیش نظر بلوچستان حکومت نے وفاق سے فوج کی مدد طلب کرلی ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق بلوچستان حکومت نے آرٹیکل 245 کے تحت پاک فوج کو سول اختیارات دینے کے لئے خط لکھ دیا۔صوبے بھر میں ایمرجنسی کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوج کو سول اختیارات حاصل ہوں گے۔ پنجاب میں کرونا وائرس کے 11نئے کیسز سامنے آگئے جس کے صوبے بھر میں متاثرہ افراد کی تعداد 163ہوگئی ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پاکستان بھر میں کورونا وائرس کے 196 نئے کیسز تشخیص ہوئے ہیں جن کے بعد مجموعی تعداد 657 ہوگئی ہے جبکہ جان لیوا مرض سے چار افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات اجمل وزیر کے مطابق صوبے میں آج کورونا وائرس کے باعث ایک شخص ہلاک ہوگیا جس کے بعد صوبے میں ہلاکتوں کی تعداد تین ہوگئی ہے۔محکمہ صحت سندھ نے کچھ روز قبل کراچی میں ایک 77 سالہ شخص کی کورونا وائرس سے ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔دوسری جانب قومی ادارہ صحت کی جانب سے تازہ رپورٹ جاری کر دی گئی ہے جس کے مطابق ملک میں 185 نئے کیسز کی تشخیص ہوئی اور مجموعی مریضوں کی تعداد 646 ہوگئی۔رپورٹ کے مطابق 638 مریض ملک کے مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج جبکہ 5 افراد کورونا وائرس سے زندگی کی جنگ جیت کہ گھروں کو لوٹ گئے۔ دنیا بھر کو متاثر کرنے والا کورونا وائرس اب پاکستان میں بھی کافی تیزی سے پھیل رہا ہے اور یہاں اس سے متاثرہ افراد کی تعداد 700 سے تجاوز کر گئی ہے۔ملک میں بروز ہفتہ تصدیق ہونے والے کیسز میں صوبہ سندھ سے 128، پنجاب سے 41، بلوچستان سے 12، خیبرپختونخوا سے 8 جبکہ گلگت بلستان سے 34 نئے کیسز شامل ہیں۔اس طرح اگر ملک بھر میں متاثرین کی تعداد پر نظر ڈالیں تو اب تک یہ 730 ہوگئی ہے، جس میں سندھ کے 396، پنجاب کے 137، بلوچستان کے 104، خیبرپختونخوا کے 31، اسلام آباد کے 10، گلگت بلتستان میں 55 اور ایک آزاد کشمیر کا ایک کیس شامل ہے۔صوبہ سندھ جو اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہے وہاں ہفتہ کے روز ابتدائی طور پر مزید 105 نئے کیسز سامنے آئے۔اس حوالے سے محکمہ صحت سندھ کی ترجمان میران یوسف نے بتایا کہ صوبے میں مزید 15 کیسز سامنے آئے۔بعد ازاں محکمہ صحت سندھ کی ترجمان نے صوبے میں مزید نئے 90 کیسز کی تصدیق کی جس کے بعد یہاں تعداد 357 تک جاپہنچی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران سے واپسی آنے والے زائرین میں نئے کیسز کی تصدیق ہوئی اور ان تمام افراد کو سکھر میں قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔چند گھنٹے بعد انہوں نے مزید 2 کیسز سامنے آنے کی تصدیق کی جس کے بعد صوبے میں تعداد 359 تک پہنچ گئی ہے۔بعد ازاں سکھر میں تفتان سے آنے والے مزید 36 زائرین میں کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد سندھ میں اس سے متاثرہ افراد کی تعداد 396 ہوگئی۔محکمہ صحت سندھ کی ترجمان میران یوسف کے مطابق ہفتہ کے روز کراچی میں 3 اور سکھر میں 125 کیسز سامنے آئے۔ادھر پنجاب میں بھی مزید 41 کیسز سامنے آنے سے صوبے میں متاثرین کی تعداد 137 تک جا پہنچی ہے۔محکمہ صحت پنجاب کے ترجمان قیصر آصف کا کہنا تھا کہ صوبے میں 41 افراد میں کورونا وائرس کے ٹیسٹ مثبت آئے۔ کامونکے حبیب پورہ کے معمر شخص میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوگئی بتایا گیا ہے کہ حبیب پورہ ڈیرہ بابا جانی کا ساٹھ سالہ عبدالمجید ایک ہفتہ قبل عمرہ کرکے سعودی عرب سے واپس آیا ہے دو روز قبل عبدالمجید کو کھانسی اور بخار ہوا اور اس میں کرونا وائرس کی علامت ظاہر ہوئی تو اسے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال گوجرانوالہ کی آئسولیشن وارڈ میں منتقل کردیا گیا۔ پنجاب میں کرونا وائرس کے کنفرم مریضوں کی تعداد 152 ہو گئی‘ ترجمان پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر کے مطابق لاہور میں کرونا کے 21 کنفرم مریض زیر علاج ہیں۔ترجمان پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر کا کہنا ہے کہ 106 زائرین میں سے 21 لاہور، 1 ملتان، 1 راولپنڈی، 3 گجرات، 1 جہلم گوجرانوالا میں 4، میو ہسپتال میں 12، سروسز ہسپتال میں 2، پی کے ایل آئی میں 2، بے نظیر بھٹو ہسپتال راولپنڈی میں ایک مریض، عزیز بھٹی گجرات میں 3، رجب اردگان مظفر گڑھ میں 9 مریض، ڈی ایچ کیو جہلم میں 2 مریض زیر علاج ہیں۔ آئسولیشن سنٹر میں داخل میں لندن پلیٹ جہلم کے رہائشی میں بھی کرونا وائرس کی تصدیق ہوگئی۔ سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی روک تھام کیلئے اب مشکل فیصلے کرنے کا وقت آگیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر تجارتی سرگرمیوں کیلئے کھلنے والی پاک افغان سرحد کو 24گھنٹے بعد ایک بار پھر بند کردیا گیا۔ اسلام آباد میں ایک دن میں کرونا وائرس کے کیسز میں ریکارڈ اضافہ پاکستان میں کرونا وائرس کیسز کی تعداد 729ہوگئی۔ کرونا وائرس کے پیش نظر دارالحکومت میں اہم اقدامات وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں دفعہ 144نافذ کردی مارکیٹیں شاپنگ مالز ریسٹورنٹ اور 15روز کیلئے بند کردیئے گئے۔ خیبرپختونخوا حکومت نے ایک ہفتے کیلئے بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ پر پابندی عائد کردی۔ مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا اجمل وزیر نے کہا کہ 24مارچ تک شاپنگ مالز بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے میڈیکل اسٹورز کلینک سٹور، بیکرز تندور اور دودھ کی دکانیں کھلی رہیں گی۔ کسووال میں تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال میں کرونا وائرس کا پہلا مریض رپورٹ ہوا ہے۔ وزیراعلیٰ بلو چستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے احتیاطی تدابیروں پر سختی سے عملدرآمد کرنا ہوگا کرونا وائرس بہت بڑی آفت ہے معمولی غلطی سے آفت پھیل گئی تو اس کو کنٹرول کرنا بس سے باہر ہوگا ہمارے صحت کے شعبے اتنے مستحکم نہیں ہیں تاہم دستیاب وسائل میں رہتے ہوئے وبا کے روک تھام کے لیے بھرپور کوششیں جاری ہیں۔گلگت میں کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں ہراول دستے کا کردار ادا کرنے والے ڈاکٹر اسامہ ریاض جام شہادت نوش کر گئے ہیں۔ محکمہ اطلاعات گلگت بلتستان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ نہایت ہی افسوس کے ساتھ اس بات کی تصدیق کی جاتی ہے کہ کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں ہراول دستے کا کردار ادا کرنے والے ڈاکٹر اسامہ ریاض جام شہادت نوش کر گئے ہیں۔ شہید کو قومی ہیرو کا درجہ دیا جائے گا۔

واشنگٹن، بیجنگ، روم، ماسکو، پیرس، ریاض، دبئی، سی¿ول، قاہرہ، لندن (نیٹ نیوز) کرونا وائرس کے جان لیوا حملوں کا سلسلہ تاحال جاری ہے جس پر قابو پانے کے لیے دنیا بھر کے ممالک سڑ توڑ کوششیں کر رہے ہیں۔چین سے پھیلنے والے کوورنا وائرس سے اب تک 188 ممالک متاثر ہو چکے ہیں جس میں امریکا، کینیڈا، سعودی عرب، ایران، پاکستان، اٹلی، اسپین، جرمنی اور فرانس سمیت کئی یورپی ممالک بھی شامل ہیں۔دنیا بھر میں متاثرین کی تعداد 3 لاکھ 8 ہزار 227 ہو چکی ہے جس میں سے95826 افراد صحتیاب ہو چکے ہیں جب کہ ہلاکتوں کی تعداد 13 ہزار 64 تک پہنچ گئی ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق چین میں وائرس کے کیسز میں جہاں کمی آ رہی ہیں وہیں وبا سے یورپی ممالک خصوصاً اٹلی میں بدترین صورتحال دیکھنے کو مل رہی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق چین میں24 گھنٹے کے دوران چین میں صرف 6 ہلاکتیں سامنے آئی ہیں جس کے دنیا کی سب سے بڑی آبادی والے ملک میں اموات کی مجموعی تعداد 3 ہزار 261 ہو گئی ہے جب کہ متاثرین کی کل تعداد 81 ہزار 54 ہے جس میں سے 72 ہزار 440 افراد صحتیاب بھی ہو چکے ہیں۔یورپی ملک اٹلی میں گزشتہ روز 800ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں جس کے بعد وہاں اموات کی تعداد 4 ہزار 825 ہو گئی ہے۔رپورٹس کے مطابق اٹلی میں سب سے زیادہ اموات شمالی ریجن لامبارڈے میں ہوئی ہیں جہاں اب تک 3 ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں اور اب وہاں مکمل لاک ڈاو¿ن ہے۔اس صورتحال کے پیش نظر اٹلی کے وزیراعظم نے پورے ملک میں تمام غیر ضروری سرگرمیوں کو بند کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ صرف سپر مارکیٹس، فارمیسی، پوسٹ آفس اور بینکس کھلیں رہیں گے۔اسپین میں بھی کرونا وائرس سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 285 افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں جس کے بعد وہاں ہلاکتوں کی تعداد 1378 اور متاثرین کی تعداد 25 ہزار 496 ہو گئی ہے۔امریکا میں بھی کووڈ-19 کے کیسز میں تیزی سے اضافہ جاری ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 46 ہلاکتیں رپورٹ کی گئی ہیں جس کے مجموعی اموات کی تعداد 348 جب کہ متاثرین کی تعداد 26 ہزار 859 ہو گئی ہے۔یہ وائرس امریکا کی تمام ریاستوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے، حفاظتی اقدامات کے تحت امریکا کی تمام ریاستوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔امریکی میڈیا رپورٹس میں کرونا وائرس کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ حکومت کرونا وائرس سے ہونے والی اموات اور کیسز کو چھپا رہی ہے۔پاکستان کے پڑوسی ملک بھارت میں بھی کرونا وائرس سے اب تک 5 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت کی 21 ریاستوں اور وفاق کے زیر انتظام علاقوں میں 332 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جن میں کئی غیر ملکی بھی شامل ہیں جب کہ اب تک 23 افراد صحتیاب بھی ہو چکے ہیں۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کرونا وائرس سے بچاو¿ کے لیے آج سے ’جنتا کرفیو‘ کا اعلان کر رکھا ہے۔ دنیا بھر کی طرح برطانیہ بھی کورونا وائرس کی لپیٹ میں ہے، جزوی لاک ڈاﺅن سے ریستوران، سینما گھر، سیاحتی مقامات بند کئے جا چکے ہیں، لندن ٹرانسپورٹ اور ایئرپورٹس سنسان ہو گئے ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں کورونا وائرس سے دو افراد کی ہلاکت کے بعد حکومت نے مزید سخت اقدامات اٹھائے ہیں، متحدہ عرب امارات نے قرنطینہ کی خلاف ورزی کرنے پر 5 سال قید اور 40 لاکھ روپے جرمانہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بھارت میں وزیر اعظم کی اپیل پر 22 مارچ کو ملک بھر میں کرونا وائرس سے احتیاط کے پیش نظر جنتا کرفیو کے باعث عوام گھروں تک ہی محدود رہا جب کہ تمام کاروبار اور ٹرانسپورٹ بھی بند رکھی گئی۔ رائٹرز کے مطابق بھارت بھر میں جنتا کرفیو نافذ رہا اور نئی دہلی، ممبئی، بنگلورو، پونا، حیدرآباد سمیت تمام شہروں میں کاروبار بند رہا جب کہ روڈوں پر عوامی ٹرانسپورٹ بھی دکھائی نہیں دی۔ملک کے معاشی حب ممبئی میں نہ صرف عام کاروبار بند رہا بلکہ فیکٹریوں کی بھی بندش رہی جب کہ دفاتر بھی بند رکھے گئے۔اگرچہ عام طور پر بھارت میں اتوار کے دن عام تعطیل ہوتی ہے تاہم پھر بھی کئی کاروبار مراکز، دفاتر اور عوامی مقامات کھلے رہتے ہیں لیکن 22 مارچ کو تمام معمولات زندگی معطل رہی، تاہم اس باوجود 22 مارچ کو بھارت سے نئے کیسز سامنے آئے جس کے بعد بھارت میں مریضوں کی تعداد بڑھ کر 370 تک جا پہنچی۔ سعودی محکمہ صحت کے حکام نے ریاض کے 13ہوٹلوں کو قرنطینہ میں تبدیل کردیا۔ جنوبی کوریا میں 2 ،چین اور فلپائن میں 6، 6 اور امریکا میں مزید 46 افراد ہلاک ہو گئے، افریقہ میں بھی لاک ڈاﺅن کا آغاز کر دیا گیا۔چین کے بعد کرونا نے یورپ میں پنجے گاڑ لیے، اٹلی میں کرونا وائرس سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے، 24 گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ 793 ہلاکتیں ہوئیں۔ مجموعی تعداد 4 ہزار 8 سو 25 ہو گئی۔امریکا میں مزید 46 افراد ہلاک ہونے سے تعداد 348 ہو گئی، 2 ہزار 652 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، ایران میں 1556، اسپین میں 1381 اور فرانس میں 562 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ کویت کے نائب وزیر اعظم اور وزیر داخلہ انس الصالح نے اعلان کیا ہے کہ کابینہ نے اپنے غیر معمولی اجلاس کے دوران شام پانچ بجے سے ہر روز صبح چار بجے تک ملک کے تمام حصوں میں جزوی کرفیو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فرانسیسی خبررساں ادارے نے حکومتی اعدادوشمارجاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کرونا سے 90 فی صد ہلاکتیں چین، اٹلی اور ایران میں ہوئیں،غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سرکاری اعداد و شمار پر مبنی رپورٹس میں بتایا گیا کہ اب تک کرونا کے باعث 12 ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ہلاکتوں میں 90 فی صد تعداد چین، اٹلی اور ایران سے تعلق رکھتی ہے۔ہفتے کی شام تک کرونا کے باعث پوری دنیا میں 12 ہزار 592 افراد ہلاک ہوئے۔ فرانسیسی محکمہ صحت نے کہاہے کہ ملک بھر میں کرونا وائرس کے مزید درجنوں کیسز سامنے آئے ہیں ، کرونا وائرس کے گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 112 افراد ہلاک ہوگئے جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 562 ہوگئی ہے، ترک وزیر صحت فخرالدین قوجہ نے بتایا ہے کہ کرونا وائر س سے مزید 12افراد کی اموات ہوئی ہیں جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 21 پہنچ گئی ہے۔ براعظم افریقا کے 54 میں سے 40 ممالک اس وقت کرونا وائرس کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔اب تک افریقی ملکوں میں کرونا کے کم سے کم ایک ہزار مصدقہ مریض سامنے آئے ہیں۔ جمہوریہ کوریا میں گزشتہ 24گھنٹوں کی نسبت کرونا وائرس کے 98مزید کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس سے کل مریضوں کی تعداد بڑھ کر 8ہزرف 897ہوگئی ہے۔ افغانستان میں کرونا وائرس کے نئے دس کیس سامنے آئے ہیں۔ کرونا وائرس برطانیہ کے اسپتالوں میں نرسوں کے تحفظ کیلئے انہیں پلاسٹک کے حفاظتی لباس پہننے کی ضروری قرار دے دیا ہے۔ سعودی عرب نے گزشتہ 24گھنٹے میں کرونا وائرس کے 48نئے کیسوں کی تصدیق کی ہے۔ متحدہ عرب امارات نے کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے توار سے ملک بھر میں تمام سرکاری اور نجی بیچز ، سوئمنگ پول ، سینما گھر ، پبلک پارک اور ورزش گاہیں( جِم ) دو ہفتے تک عارضی طور پر بند کردیئے ، مصر میں حکومت نے کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے اقدام کے تحت تمام مساجد اور گرجا گھروں کو عبادت گزاروں کے لیے بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ ترکی میں کرونا وائرس کی وجہ سے اموات کی تعداد21تک پہنچ گئی ہے۔ سعودی عرب میں کرونا وائرس کے پھیلاﺅ کو روکنے کیلئے پورے ملک میں لاک ڈاﺅن کردیا گیا۔

کرونا سے لڑنے کےلئے چین کے امیر ترین شحض کا پاکستان کو تحفہ

بیجنگ(این این آئی)ایشیا اور چین کے امیر ترین شخص جیک ما نے پاکستان سمیت متعدد ایشیائی ممالک کو لاکھوں فیس ماسکس اور کورونا وائرس ٹیسٹ کٹس دینے کا اعلان کیا ہے۔یہ جیک ما کی فلاحی خدمات کے لیے قائم ادارے کی جانب سے اس عالمی وبا کی روک تھام کے حوالے سے کوششوں کا حصہ ہے، جو اس سے قبل یورپ اور امریکا میں بھی فیس ماسکس اور کٹس فراہم کرچکا ہے۔ای کامرس کمپنی علی بابا کے بانی جیک ما نے رواں ہفتے ٹوئٹر اکاﺅنٹ بناتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ جیک ما فاﺅنڈیشن اور علی بابا فاﺅنڈیشن کی جانب سے امریکا، ایران اور اٹلی سمیت یورپ کے کچھ ممالک کو فیس ماسکس اور ٹیسٹنگ کٹس فراہم کی جائیں گی۔اپنے نئے ٹوئٹ میں جیک ما نے کہا کہ پاکستان، بنگلہ دیشن، افغانستان، کمبوڈیا، لاﺅس، مالدیپ، منگولیا، میانمار، نیپال اور سری لنکا کو وائرس کی روک تھام کےلئے حفاظتی ملبوسات، وینٹی لیٹرز اور تھرما میٹرز سمیت فیس ماسکس اور ٹیسٹنگ کٹس فراہم کی جائیں گی۔خیال رہے کہ دنیا بھر میں طبی اور حفاظتی آلات کی قلت کا سامنا ترقی پذیر کے ساتھ ترقی یافتہ ممالک کو بھی ہوا ہے،مجموعی طور پر جیک ما کی جانب سے ایشیائی ممالک کو 18 لاکھ فیس ماسکس، 2 لاکھ سے زائد ٹیسٹنگ کٹس، 36 ہزار حفاظتی ملبوسات فراہم کیے جائیں گے۔جیک ما نے لکھا کہ کہ تیزرفتاری سے ان اشیا کی فراہمی آسان نہیں مگر ہم ایسا کریں گے۔16 مارچ کو جیک ما کی جانب س 54 افریقی ممالک کو فی ملک 20 ہزار ٹیسٹنگ کٹس، ایک لاکھ ماسکس اور ایک ہزار حفاظتی ملبوسات اور فیس شیلڈز فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا تھا۔13 مارچ کو ٹوئٹر جوائن کرنے کے بعد اپنے بیان میں جیک ما نے کہا تھاکہ اپنے ملک کے تجربے کے پیش نظر میں کہا سکتا ہوں کہ برق رفتار اور درست ٹیسٹنگ، طبی عملے کے تحفظ کےلئے آلات اس وائرس کی روک تھام کے لیے سب سے موثر ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ توقع ہے کہ ان سپلائیز سے امریکا میں کچھ لوگوں کو مدد مل سکے گی،یہ بڑی وبا انسانیت کے لیے ایک چیلنج ہے، یہ ایسا چیلنج نہیں جو سے کوئی ملک اکیلا نمٹ سکے بلکہ ہر ایک کو ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے، اس وقت ہمیں اپنے وسائل بغیر کسی قیاس کے شیئر کرنے چاہیے اور وبا کی روک تھام کے تجربے اور اسباق کا تبادلہ کرنا چاہیے تاکہ اس سانحے کو شکست دینے کا موقع مل سکے۔انہوں نے بیان ان الفاظ پر ختم کیا ،متحد ہوکر ہم کھڑے رہ سکتے ہیں، تقسیم ہوئے تو گرجائیں گے۔

کر ونا وا ئر س پو ری دنیا میں پھیل گیا ،44دنو ں میں 3لا کھ کیس ہو جا ئینگے

کراچی (وقائع نگارخصوصی)آج کل کرونا وائرس وبا پھیل چکی ہے جس میں پوری دنیا مبتلا ہے۔ پہلا کیس کرونا وائرس کا دنیا میں23 جنوری 2020 کو چین میں 265 کیسز کی مثبت رپورٹ سے سامنا ا?یا۔ اور انھوں نے پہلے دن ہی اپنی ٹیسٹنگ فیسلٹی بنالی اور ٹیسٹنگ کرنا شروع کردی۔ 7 مارچ 2020 کو 44 دنوں میں دنیا کے اندر ان کیسز کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچ گئی اور اسکے بعد 18 مارچ 2020 تک 11 دنوں کے درمیان یہ تعداد دو لاکھ سے زائد تک پہنچ چکی تھی۔ گزشتہ روز تک 2 لاکھ 73 ہزار تک کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ اس وقت میں آپ مخاطب ہوں تو 2 لاکھ 80 ہزار تک پہنچ گئے ہیں جس طرح کا ٹینڈ چل رہا ہے تو یہ تعداد ا?ج رات تک تین لاکھ سے تجاوز کرجائے گا اور دو لاکھ سے تین لاکھ تک ہونے میں چار دن لگے۔ اسی رفتار سے پاکستان کے اندر پہلا کیس 26 تاریخ کو ہوا جو مسلسل بڑھتے جارہیں۔ کرونا وائرس تیزی سے ایک شخص سے دوسرے شخص کو منتقل ہوتا ہے وہ اسطرح کہ جس شخص کو وائرس ہوتا ہے وہ کسی دوسرے شخص سے ہاتھ ملاتا ہے اور وہ اپنے چہرے تک یا کسی بھی جگہ لگانے سے جسم میں پھیل جاتا ہے۔ متاثرہ شخص اگر تین فٹ سے زیادہ قریب ہو اور چھینک اور کھانسے سے جوقطرے منہ سے نکلتے ہیں اس سے بھی وائرس تیزی سے پھیلتا ہے۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ اگر ا?پ کسی بھی شخص سے پانچ یا چھ فٹ دور ہوں تو آپ کو یہ وائرس نہیں ہوگا۔ جس طرح سے یہ پھیل رہا ہے ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے میل جول کو ختم کردیں۔ میں آپ کو ایک اور مثال دے کر سمجھتا ہوں کہ کسی بھی جگہ ایک ہزار سے زائد آبادی ہے اور وہاں 100 افراد میں وائرس ہے تو چاہیے کہ وہ سو افراد اپنے گھروں میں ہی ا?ئسولیٹ ہوجائیں تاکہ باقی 900 لوگوں تک وہ وائرس نہ پھیل سکے۔ کراچی سمیت حیدرا?باد میں 100 سے زائد کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں ان میں سے 42 کیس باہر سے منتقل ہوئے ہیں جبکہ 60 کیسز لوکل ٹرانسمیشن کے ہیں اور یہی 60 افراد اگر پہلے دن سے ہی اپنے سماجی روابط نہ رکھتے تو وائرس پھیلتا ہی نہیں۔

وزیر ا عظم سے ملا قا ت ،کو ئی بھی خطر ہ پر عز م قو م کو شکست نہیں دے سکتا :آر می چیف

راولپنڈی(این این آئی) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ کوئی بھی خطرہ ایک ذمہ دار اور پرعزم قوم کو شکست نہیں دے سکتا اور یہ چین نے کرکے دکھایا ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک فوج کو سول انتظامیہ کی امدادتیز کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں، یہ احکامات وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے بعد جاری کیے گئے ہیں۔آرمی چیف نے کہا کہ ہم کرونا وائرس سے قوم کی حفاظت کے عمل کو مقدس فریضہ کے طور پر انجام دیں گے، پاک فوج قومی کوشش کا حصہ ہوتے ہوئے اس ذمہ داری کو ادا کرے گی، کوئی بھی خطرہ ایک ذمہ دار اور پرعزم قوم کو شکست نہیں دے سکتا جیسا کہ چین نے کر دکھایا ہے، انفرادی نظم و ضبط اور باہمی تعاون تمام اداروں کی کوششوں کو یکجا کرے گا اس میں ہی قومی کامیابی ہو گی۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ہر انفرادی حفاظتی قدم اہمیت کا حامل ہے، انفرادی طور پر کرونا وائرس سے اپنا بچاﺅ کرنا درحقیقت اجتماعی حفاظت کی بنیاد ہے، پہلے انفرادی طور پر ایک ذمہ دار شہری بننا ہے تا کہ اجتماعی سطح پر حکومتی اور اداروں کی کوششیں کامیاب ہو سکیں، ہر پاکستانی کا فرض ہے کہ حکومت اور محکمہ صحت کی کرونا وائرس کے حوالے سے ہدایات پر عمل کرے، ایسا کرنے سے ہی قومی کوشش کامیاب ہو گی۔ آرمی چیف نے کہا ہر پاکستانی کا فرض ہے کہ حکومت اور محکمہ صحت کی کرونا وائرس کے حوالے سے ہدایات پر عمل کرے،ایسا کرنے سے ہی قومی کوشش کامیاب ہو گی،کوئی بھی خطرہ ایک زمہ دار اور پرعزم قوم کو شکست نہیں دے سکتا جیسا کہ چین نے کر دکھایا ہے۔ انہوں نے کہا پاک فوج قومی کوشش کا حصہ ہوتے ہوے اس زمہ داری کو ادا کرے گی،ہم کروناوائرس سے قوم کی حفاظت کے عمل کو مقدس فریضہ کے طور پر انجام دین گے،انفرادی نظم و ضبط اور باہمی تعاون تمام اداروں کی کوششوں کو یکجا کرے گا۔ اس میں ہی قومی کامیابی ہو گی۔

کر ونا کی ا دویا ت کی تیا ری میں ا ہم پیشر فت،قلمی ڈھا نچہ بن گیا،مر کب کا چو ہو ں پر تجر بہ کا میا ب

واشنگٹن(نیٹ نیوز)محققین نے سارس- کوو 2- کے مرکزی پروٹینس کا ایکسرے کرسٹلوگرافی سٹرکچر تیار کرلیا ہے جو وائرس کی دوا کےلئے سب سے بہترین اہداف میں ایک ہے ، یہ نئی تحقیق سائنس جرنل میں جمعہ کو شائع ہوئی۔یہ تحقیق سارس-کوو2-کی وجہ سے ہونے والی وبائی بیماری کرونا وائرس کے ردعمل میں کی جانے والی کوششوں کا حصہ ہے۔اس مطالعے سے حاصل ہونیوالی معلومات سے کرونا وائرس کیخلاف بہتر انابائٹرز کا ڈیزائن بنانے میں مدد ملے گی۔جو عالمی وبائی مرض سے نمٹنے کےلئے علاج معالجے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ایچ آئی وی جیسے وائرسوں کو روکنے کےلئے موثر ادویات وائرس کی نشوونما کےلئے ضروری پروٹین بنانے والے انزائم کے مرکزی پروٹینس کو روکتی ہے۔جرمنی میں لیوک یونیورسٹی کے محقق لنلن ژانگ کی سربراہی میں ہونے والی اس تحقیق میں رپورٹ ہوا کہ سارس- کوو2- کے مرکزی پروٹینس کا قلمی ڈھانچہ 1.75 اینجسٹروم ریزولوشن پر ہے۔مرکزی پروٹینس کی ساخت کے مطالعہ کی بنیاد پر محققین نے موجودہ کرونا وائرس کیخلاف انابائٹرز کو بہتر بناتے ہوئے ایک مرکب 13 بی تیار کیا ہے جو سارس- کوو2-کے مرکزی پروٹینس کا ایک طاقتور بلاکر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 13 بی میں ایسی خصوصیات ہیں جو موجودہ انابائٹرز کو بہتر بناتی ہیں اور بلڈ پلازما کی نصف عمر بڑھ جاتی ہے۔انہوں نے پروٹینس کے ساتھ جڑے 13 بی کے ہائی ریزولیشن ڈھانچے کی بھی اطلاع دی۔محققین نے چوہوں پر ایک انابائٹرز مرکب کا تجربہ بھی کیا جس سے معلوم ہوا کہ نظام تنفس اچھی طرح چل رہا ہے اور چوہوں نے کوئی منفی ردعمل نہیں دکھایا۔تحقیق کے مطابق ان نتائج سے پتا چلتا ہے کہ پھیپھڑوں تک مرکب کے براہ راست اثرات ممکن ہو سکتے ہیں اوروبائی کرونا وائرس سے نمٹنے کےلئے ادویات کی تیاری کےلئے ایک بہتر ڈھانچہ مل سکتا ہے۔

پنجا ب،خیبر پختونخو ا جز وی لا ک ڈا ﺅ ن ،سند ھ کا آج سے مکمل لا ک ڈاﺅ ن کا فیصلہ :ذرا ئع

لاہور‘ کراچی‘ پشاور‘ کوئٹہ‘ اسلام آباد‘ مظفرآباد‘ سکھر (نمائندگان خبریں) سندھ کے بعد پنجاب حکومت نے بھی صوبہ بھر میں کورونا وائرس کے خلاف اقدامات کو موثر بنانے کیلئے صوبے بھر میں دو روز کے لئے جزوی لاک ڈاﺅن کا فیصلہ کرلیا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اگلے دو روز کیلئے لوگوں کو گھروں میں رہنے کی اپیل کردی، انہوں نے کہا کہ آج رات 9بجے سے منگل کی صبح9 بجے تک شاپنگ مال اور سیاحتی مقامات بند رہیں گے، جبکہ میڈیکل اسٹورز اور کریانہ اسٹور کھلے رہیں گے۔یہ اعلان وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے انسدادکورونا اقدامات کیلئے کابینہ کی خصوصی کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا کو ویڈیو لنک بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ  مارکیٹیں، پارکس اور عوامی اجتماعات کے مقامات آج رات 9 بجے سے منگل کی صبح 9 بجے تک بند رکھے جائیں گے۔ جبکہ دودھ، دہی کی دکانیں، مٹن، چکن شاپس، پٹرول پمپس، فارمیسی، بیکریز، فروٹ اور سبزی منڈیاں اور شاپس کھلی رہیں گی۔ہوٹلز اور ریسٹورنٹس سے ٹیک اوے سروس جاری رہے گی۔تمام محکموں کو ہدایات جاری کی جا رہی ہیں کسی کو ناجائز تنگ یا پریشان نہ کیا جائے۔عثمان بزدار نے کہا کہ لاک ڈا¶ن نہیں، سماجی فاصلے پیدا کرنے کا اہتمام کر رہے ہیں۔وزیراعلیٰ نے عوام سے اپیل کی کہ ویک اینڈ گزارنے کیلئے گھروں میں رہا جائے، بلاضرورت باہر نہ نکلیں۔انہوں نے کہا کہ سماجی فاصلوں کیلئے سٹینڈرڈ ایس او پیز بنائے جا رہے ہیں۔رہائش گاہ پر قرنطینہ کیلئے وفاقی حکومت کی مشاورت سے ایس او پیز طے کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی ادارے بند کرنے پر پارکس، تفریحی مقامات اور مارکیٹوں وغیرہ میں رش بڑھنے سے فیصلہ کرنا پڑا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پنجاب بھر میں ٹرانسپورٹ بند نہیں کی جائے گی، تاہم عوام غیر ضروری طور پر سفر سے گریز کریں۔دنیا بھر کو متاثر کرنے والا کورونا وائرس اب پاکستان میں بھی کافی تیزی سے پھیل رہا ہے اور یہاں اس سے متاثرہ افراد کی تعداد 600سے تجاوز کر گئی ہے۔ملک میںبروز ہفتہ تصدیق ہونے والے کیسز میں صوبہ سندھ سے 105، پنجاب سے 41، بلوچستان سے 12، خیبرپختونخوا سے 4 جبکہ گلگت بلستان سے 9 نئے کیسز شامل ہیں۔اس طرح اگر ملک بھر میں متاثرین کی تعداد پر نظر ڈالیں تو اب تک یہ 666 ہوگئی ہے، جس میں سندھ کے 357، پنجاب کے 137، بلوچستان کے 104، خیبرپختونخوا کے 27، اسلام آباد کے 10، گلگت بلتستان میں 30 اور ایک آزاد کشمیر کا ایک کیس شامل ہے۔صوبہ سندھ جو اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہے وہاں ہفتہ کے روز مزید 15 نئے کیسز سامنے آئے۔اس حوالے سے محکمہ صحت سندھ کی ترجمان میران یوسف نے بتایا کہ صوبے میں مزید 15 کیسز سامنے آئے۔بعد ازاں محکمہ صحت سندھ کی ترجمان نے صوبے میں مزید نئے 90 کیسز کی تصدیق کی جس کے بعد یہاں تعداد 357 تک جاپہنچی ہے۔ صوبہ سندھ جو اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہے وہاں ہفتہ کے روز مزید 15نئے کیسز سامنے آئے اس حوالے سے محکمہ صحت سندھ کی ترجمان میران یوسف نے بتایا کہ صوبے میں مزید 15کیسز سامنے آئے۔ کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے حکومتِ بلوچستان کا بڑا اقدام سامنے آیا ہے، شہریوں سے تین روز تک گھروں میں رہنے کی اپیل کردی۔وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ آپ کا گھروں میں رہنا آپ اور ہم سب کے لیے ضروری ہے۔ سیالکوٹ میں گورنمنٹ علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال میں کرونا وائرس کا نیا مریض داخل کر لیا گیا ہے جس کا خون ٹیسٹ کیلئے اسلام آباد روانہ کر دیا گیا۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی جانب سے گزشتہ روز کراچی کے شہریوں سے 3 روزہ رضاکارانہ تنہائی اختیار کرنے کی اپیل کی تھی جس کے تحت شہر قائد میں سڑکوں پر عوامی آمد ورفت انتہائی کم ہے،سرکاری اداروں کے بعد نجی اداروں کے دفاتر بھی بند ہوگئے ہیں، سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر رہی۔ پی آئی اے غیر ملکی آپریشن 22 سے28 مارچ تک بند کرنے کے احکامات جاری کر دئیے گئے ۔ترجمان عبداللہ خان کے مطابق پی آئی کی تمام بین القوامی پروازیں ایک ہفتے کے لئے بند کی گئی ہیں ۔تمام بین الاقوامی پروازیں وفاقی حکومت کے احکامات پر بند کی گئی ہیں ۔پی آئی اے کا مقامی آپریشن جاری رہے گا ۔ کراچی میں 14 جبکہ سکھر کے قرنطینہ میں 15 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے، جس کے بعد سندھ بھر میں کرونا کے مریضوں کی تعداد 267 ہوگئی ہے۔تفصیلات کے مطابق تفتان سے سکھر آئے 15 زائرین میں کرونا کی تصدیق ہوگئی ، جس کے بعد سندھ میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 267 ہوگئی ہے۔ تفتان میں موجود زائرین میں سے مزید 15 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد وائرس میں مبتلا زائرین کی تعداد 166 ہوگئی اور کراچی میں مجموعی طور پر 101کیسز ہیں۔ ترجمان سندھ حکومت کے مطابق تفتان میں موجود زائرین میں سے مزید 15 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد وائرس میں مبتلا زائرین کی تعداد 166 ہوگئی اور کراچی میں مجموعی طور پر 101کیسز ہیں سندھ بھر میں کرونا وائرس کے مجموعی کیسز کی تعداد 267 ہوگئی ہے جن میں سے تین مریض صحت یاب ہوئے جب کہ 264 کا علاج جاری ہے۔ بلوچستان میں کرونا وائرس کے مزید 11 کیسز کی تصدیق کے بعد صوبے بھر میں متاثرہ افراد کی تعداد 92 ہوگئی۔ جس کے بعد محکمہ داخلہ نے صوبے میں تمام مارکیٹس، ریستوران اور شاپنگ مالز تین ہفتوں کیلئے بند کردیئے۔ ریسٹورینٹس سے کھانا لے جانے اور گھر پہنچانے کی اجازت ہوگی۔حکم نامے کے مطابق شہروں میں چلنے والے بسیں اوربلوچستان سے چلنے والی بین الصوبائی ٹرانسپورٹ بھی تین ہفتوں کیلئے بند رہیں گی۔لاہور (خصوصی ر پورٹر)شہر میں کورونا وائرس کے حملے جاری ہیں،شہر میں کورونا وائرس کے تصدیق شدہ مریضوں کے تعداد 15 ہے جبکہ صوبہ بھر میں 96 افراد کورونا وائرس کی زد میں ہے،بیرون ملک سے لوٹنے والے 42 ہزار شہریوں کی سکریننگ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ چین سے نکلنے والے مہلک کورونا وائرس سے186 ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے, دنیا بھر میں کل کیسز276665 جن میں 11419 افراد کی اموات ہوچکی ہے،91954 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں، کورونا وائرس سے سب سے زیادہ ہلاکتیں اٹلی میں ہوئیں،صوبائی دارالحکومت میں کورونا وائرس کے مشتبہ افراد کے ٹیسٹوں کیلئے مزید کٹس منگوائی جارہی ہیں۔اس وقت شہر میں کورونا وائرس کے تصدیق شدہ مریضوں کے تعداد 15 ہے جبکہ صوبہ بھر میں 96 افراد کورونا وائرس کی زد میں ہے،میو ہسپتال میں اس وقت 16 مشتبہ مریض زیر علاج ہیں جبکہ دس مریضوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو چکی، 13 کے نمونے ٹیسٹ کے لئے بھجوا دئے گئے ہیں۔سنگین صورت حال کے پیش نظر حکومت نے بیرون ملک سے لوٹنے والے 42 ہزار شہریوں کی سکریننگ کا فیصلہ کیا،ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو مسافروں کے از سر نو طبی معائنے کا ٹاسک سونپا گیا۔ کورونا وائرس کا خطرہ، پنجاب حکومت نے گزشتہ روز سے دو روز کیلئے تمام شاپنگ مالز بند کرنے کا فیصلہ کرلیا۔چین سے شروع ہونے والا وائرس دنیا کے 175 ممالک میں پھیل چکا ہے جس سے دنیا بھر میں ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے، اب تک یہ وائرس 8969 افراد کی زندگیاں نگل چکا ہے، جبکہ ایک لاکھ98 ہزار ابھی بھی زندگی و موت کی کشمکش میں ہیں، اس خطرناک وائرس نے اب پاکستان میں بھی پنجے گاڑ لیے ہیں۔

واشنگٹن ،روم،بیجنگ،پیرس ،میونخ،تہران (نیٹ نیوز)کورونا دنیا کے 185 ممالک میں پھیل گیا، دنیا بھر میں ہلاکتوں کی تعداد 11 ہزار 402 ہوگئی، جبکہ 2 لاکھ 76 ہزار 104 افراد متاثر ہیں۔کورونا کی وبا اٹلی پر آفت بن کر ٹوٹ پڑی، ہلاکتوں کی تعداد 4 ہزار 32 ہوگئی جبکہ 47 ہزار 21 افراد متاثر ہیں۔ چین میں کرونا سے 3 ہزار 255 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔امریکا میں کرونا سے ہلاکتوں کی تعداد 264 ہوگئی۔ نیویارک، الی نوائے، فلوریڈا اور کیلی فورنیا میں مزید پابندیاں لگا دی گئیں۔ ٹیکسوں کی ادائیگی بھی تین ماہ کے لیے موخر کر دی گئی۔ امریکا میکسیکو سرحد غیر ضروری سفر کے لیے بند جبکہ امریکی فوج میں بھرتی کے مراکز بھی بند کر دیئے گئے۔برطانیہ میں کرونا سے مرنے والوں کی تعداد 177 ہوگئی۔ برطانیہ بھر میں آج سے لاک ڈان، کیفے، ریستوران، ہیلتھ کلب، تفریح کے مراکز بند رہیں گے۔ برطانوی وزیراعظم کے مطابق کرونا کی وجہ سے سینما اور سپورٹس سینٹر بھی بند رہیں گے۔ شہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن نے کورونا سے لڑنے والے ہیلتھ ورکرز سے ملاقات کی۔جرمنی کی سب سے بڑی ریاست بواریا نے بھی لاک ڈان کا اعلان کر دیا گیا۔ کرونا نے سپین میں ایک ہزار ترانوے، جرمنی میں 67، ایران میں 1433، فرانس میں 450 کی جان لے لی۔ تیونس کے صدر نے ملک بھر میں شہریوں کو 24 گھنٹے قرنطینہ میں رہنے کی ہدایت کر دی۔ اردن نے کرونا پھیلا کے خدشے کے پیش نظر ملک میں کرفیو لگانے کا اعلان کر دیا۔فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں حکام نے کورونا کے بڑھتے خطرے کے پیش نظر پیشگی حفاظتی اقدامات کرتے ہوئے 14 قرنطینہ سینٹر قائم کردیئے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق شہریوں کی سکریننگ کا سلسلہ جاری ہے اور تمام ضروری طبی آلات اور ضروری سامان فراہم کردیئے گئے ۔ امریکہ کی تین ریاستوں میں کورونا وائرس کے باعث غیر ضروری کاروبار غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا گیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکہ کی ریاستوں فلوریڈا، نیو یارک اور الی نوائے میں شہریوں کو گھروں میں رہنے کا حکم دے دیا گیا جبکہ تینوں ریاستوں میں غیر ضروری کاروبار بھی غیر معینہ مدت کے لیے بند کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے۔نائب امریکی صدر مائیک پنس کے ایک ماتحت کا کورونا ٹیسٹ پازیٹو آگیا۔کرونا وائرس سے بچاو¿ کیلئے امریکہ کی ریاست نیویارک اور الینوائے نے بھی مکمل لاک ڈاو¿ن کردیاہے اور شہریوں کو گھروں سے نہ نکلنے کی ہدایت کی ہے، کیلی فورنیا سمیت امریکہ کےی تین ریاستیں اب لاک ڈاو¿ن میں ہیں، غیر ملکی خبررساں ادار کے مطابق کرونا وائرس کے باعث امریکہ کی تین ریاستوں میں لگ بھگ سات کروڑ شہری گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں، آسٹریلیا میں غیر ملکی سیاحوں کا داخلہ بند کر دیا گیا ہے، تاکہ کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔ فلائٹس منسوخ ہونے کی وجہ سے بین الاقوامی سیاحوں کو سخت پریشانی کا سامنا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق آسٹریلیا ایک قلعے کی صورت اختیار کر رہا ہے اور اب غیر ملکیوں کو آسٹریلیا میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس سے پہلے چین، ایران، جنوبی کوریا اور اٹلی سے آنے والے مسافروں کا داخلہ بند کیا گیا تھا۔کرونا وائرس کا پھیلا روکنے کے لیے اردن کی حکومت نے ملک بھر میں کرفیو لگا دیا ہے۔ فیصلے پر عمل درآمد کے لیے دارالحکومت عمان سمیت ملک کے مختلف شہروں میں ہفتے کو سائرن بجائے گئے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اردن حکام کا کہنا تھا کہ کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ایک سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ اردن کے وزیر انصاف بسام طالحونی نے مقامی ٹی وی کو بتایا کہ کرفیو کے دوران باہر نکلنے والا سزا کا مستحق ہو گا۔کرفیو کے نفاذ سے اردن کی لگ بھگ ایک کروڑ آبادی کو گھروں میں رہنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ فیصلے پر عمل درآمد کے لیے اردن کے مختلف شہروں اور اہم شاہراہوں پر ہزاروں فوجی تعینات کیے گئے ہیں۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ کے نائب صدر مائیک پینس کے دفتر کے عملے میں شامل ایک عہدیدار کے کرونا وائرس کا شکار ہونے کی تصدیق کی گئی ہے، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے مہلک وبا کورونا وائرس سے بچنے کے لئے عوام کو مشورہ دیتے ہوئے کہاکہ وہ حد درجہ احتیاطی اقدامات کریں۔ انھوں نے اتوار 22 مارچ کو صبح 7 بجے سے رات 9 بجے تک جنتا کرفیو کا اعلان کیا اور کہاکہ اِس روز ملک بھر کے عوام اپنے گھروں سے باہر نکل کر صرف 5 منٹ کے لئے ان افراد کے ساتھ اظہار یگانگت کریں جو کورونا وائرس سے متاثر ہیں اور کورونا وائرس سے متاثرین کی خدمت کے لئے دن رات کام کررہے ہیں۔ بھارت کی مرکزی حکومت نے ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی اجازت دی ہے۔بھارتی صدر رام ناتھ کووند کو، کویڈ-19 کا ٹیسٹ کروایاگیا ہے کیوں کہ بی جے پی رکن پارلیمنٹ دشینت سنگھ نے صدر کی جانب سے اہتمام کردہ ناشتے میں ان سے ملاقات کی تھی۔ اس رکن پارلیمنٹ نیکورونا وائرس سے متاثرہ گلوکارہ کنیکا کپور کے پروگرام میں شرکت کی تھی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق صدر کی جانب سے اہتمام کردہ ناشتے میں 96 ارکان پارلیمنٹ نے شرکت کی تھی۔ کئی اراکین پارلیمان نے خود کو آئیسولیٹ کر لیا ہے۔برکینیا فاسو کے وزیر کان کنی و معدنیات عمرا اڈانی کا بھی کرونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آ گیا جس کے بعد ملک میں متاثرہ وزرا کی تعداد 4 ہو گئی ہے۔ جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وفد کی قیادت کرتے ہوئے کینیڈا کے دورہ کرنے کے بعد اڈانی کا ٹیسٹ مثبت آیا،مزید کہا گیا ہے کہ وفد میں ایوان صدر سے بھی ایک نمائندہ شامل تھا۔بیان میں کہا گیا کہ اب تک وہ مستحکم حالت میں گھر پر قرنطینہ میں ہیں۔چین نے نوول کرونا وائرس کو شکست دیدی،تیسرے روز بھی ملک میں مقامی سطح پر کرونا وائرس کا کوئی مریض سامنے نہیں آیا۔ہفتہ کو چین کے محکمہ صحت نے کہاہے کہ چینی مین لینڈ پر مسلسل تیسرے روز جمعہ کو مقامی سطح پر نوول کرونا وائرس کا کوئی مریض سامنے نہیں آیا۔قومی صحت کمیشن نے بتایا کہ چینی مین لینڈ پر جمعہ کو نوول کرونا وائرس کے 41 نئے مصدقہ مریض سامنے آئے ہیں، یہ سب مریض درآمدی ہیں۔کمیشن نے کہا کہ ان میں سے 14 مریض بیجنگ، 9 شنگھائی، 7 صوبہ گوانگ ڈونگ اور 4 صوبہ فوجیان میں ہیں۔ صوبہ ژی جیانگ، شان ڈونگ اور شانشی میں 2،2 جبکہ سی چھوان میں ایک مریض کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ جمعہ کے آخر تک 269 درآمدی مریض سامنے آچکے ہیں۔جمعہ کے ہی روز7 افراد ہلاک ہوگئے، یہ تمام ہلاکتیں صوبہ ہوبے میں ہوئی ہیں، اس کے علاوہ نئے 36 مشتبہ مریضوں کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے عوامی مقامات بند کرنے کا حکم دے دیا۔ ساتھ ہی لوگوں سے گھروں میں رہنے کی درخواست بھی کی گئی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق برطانیہ میں تمام کلب، بار، ریستوران، سینما اور جم بند رہیں گے۔ حکومت کی جانب سے اس دوران کام نہ کرنے والے ملازمین کو 80 فیصد تنخواہ بھی دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔کورونا وائرس نے یورپ کو بھیانک صورتِ حال سے دو چار کر دیا، اٹلی میں کورونا وائرس ایک ہی روز میں مزید 627 زندگیاں لے گیا، جس کے بعد اٹلی میں وائرس سے اموات کی تعداد 4 ہزار 32 ہو گئی۔میڈیارپورٹس کے مطابق اٹلی میں 5 ہزار 986 نئے کیسز سامنے آنے کے بعد کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 47 ہزار سے اوپر چلی گئی۔اسپین میں مزید 262 افراد کی ہلاکت کے بعد کورونا وائرس سے ہلاکتیں 1 ہزار 93 ہوگئیں۔فرانس میں مزید 78 افراد اس وائرس سے ہلاک ہو گئے جس کے بعد کل ہلاکتوں کی تعداد 450 ہو گئی، فرانس میں لاک ڈاون کے دوران ملازمین کو تنخواہیں دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔برطانیہ میں کورونا سے مزید 33 افراد ہلاک ہو گئے جس کے بعد مجموعی ہلاکتیں 177 ہو گئیں، جبکہ 4 ہزار کے قریب افراد اس وائرس سے متاثر ہیں۔برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن نے برطانیہ میں عوامی مقامات بند کرنے کا حکم دے دیا اور شہریوں سے گھروں میں رہنے کی اپیل کی ۔جرمنی میں کورونا وائرس سے 24 ہلاکتوں کے بعد کل ہلاکتوں کی تعداد 68 ہو گئی، 4ہزار 528 نئے کیسز بھی رپورٹ ہوئے ۔کورونا وائرس سے نیدر لینڈز میں 30، جرمنی میں 24، بلجیم میں 16، سوئٹزر لینڈ میں 13 اور سوئیڈن میں مزید 5 افراد ہلاک ہو گئے۔امریکا میں کورونا وائر س سے مزید 57 افراد ہلاک ہونے کے بعد کل اموات 264 ہو گئیں، جبکہ یہاں ایک ہی روز میں ساڑھے 5 ہزار سے زائد کورونا کے نئے مریض سامنے آ گئے۔امریکا میں کورونا کے مجموعی کیسز 19 ہزار سے بڑھ گئے جس کے بعد اس وائرس سے دنیا کے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملکوں میں امریکا چھٹے نمبر پر آ گیا۔متحدہ عرب امارات میں کورونا سے 2 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 140 ہو گئی۔عرب امارات نے غیر ملکیوں کے داخلے پر بھی پابندی لگا دی ہے، سیاحوں اور ملک سے باہر اماراتی شہریوں پر پہلے ہی پابندی عائد ہے۔سعودی عرب میں کورونا وائرس کے مزید 70 کیسز سامنے آگئے، جس کے بعد اس وائرس سے متاثرہ مریضوں کی مجموعی تعداد 344 ہو گئی۔مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی دونوں مقدس مساجد کے بیرونی صحنوں میں داخلہ اور نماز کی ادائیگی روک دی گئی ہے، یہ اقدام کورونا وائرس سے بچاو کی احتیاطی تدابیر کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔ بھارتی حکومت کی جانب سے آج 22 مارچ کو جنتا کرفیو کے اعلان کے بعد ملک بھر میں ریل، میٹرو اور بسوں کی سروس بند کردی گئی ہے جبکہ دہلی کے وزیراعلی اروند کیجروال نے دارالحکومت میں لاک ڈاون کا عندیہ دیا ہے۔ بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق جیسے ہی 22 مارچ کو جنتا کرفیو کے نفاذ کا وقت قریب آرہا ہے مسافروں کو پابندیوں سے قبل اپنی متعلقہ منزل تک پہنچنے میں دشواریوں کا سامنا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ممبئی میں حکام کی جانب سے عوامی اجتماع پر پابندی کے بعد دوسرے شہروں سے روزگار کے لیے آئے ہوئے افراد ریل گاڑی میں خطرناک طریقے سے سوار ہیں۔

موبائل فون کو کورونا وائرس سے کس طرح محفوظ رکھا جائے؟

کراچی(ویب ڈیسک)کورونا وائرس کے پھیلاو کا ذمہ دار موبائل فون بھی ہوسکتا ہے جس کے لیے موبائل فون کو اس مہلک وائرس سے محفوظ رکھنے کیلیے چند احتیاطیی تدابیر کو اختیار کرنا بے حد ضروری ہے۔دنیا بھر میں 3 لاکھ کے لگ بھگ افراد کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے اور 10 ہزار سے زائد ہلاکتوں کی وجہ بننے والا کورونا وائرس، موبائل فون کے ذریعے بآسانی انسانی جلد تک پہنچ سکتا ہے اور کان ، ناک یا منہ کے ذریعے جسم میں داخل ہوسکتا ہے۔جراثیم کش وائپس سے موبائل فون کی صفائی۔موبائل فون کو کورونا وائرس سے محفوظ رکھنے کے لیے چند احتیاطی تدابیر اختیار کرلی جائیں تو اس وائرس سے بچا سکتا ہے۔ موبائل فون کو صاف کرنے کے لیے ہمیشہ جراثیم کش وائپس استعمال کیے جائیں جو مارکیٹ میں بآسانی اور ارزاں قیمت پر دستیاب ہیں۔نرم اور مائیکرو فائبر کپڑے سے صفائی کریںمعروف موبائل کمپنی بھی اپنے صارفین کو موبائل کی صفائی کیلیے نرم اور مائیکرو فائبر سے تیار کپڑے کا ٹکڑا استعمال کرنے کی تجویز کرتی ہے۔ لینن کا کپڑا کبھی استعمال نہ کریں
موبائل سینی ٹائزر کا استعمال۔موبائل کمپنیوں کا کہنا ہے کہ موبائل اسکرین اور باڈی کی صفائی کے لیے سینی ٹائزر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے اور کئی موبائل سینی ٹائزرز مارکیٹ میں دستیاب ہیں جب کہ حالیہ وبا کے بعد سینی ٹائزر کے ساتھ کٹ بھی دستیاب ہے جس میں صفائی کیلیے خصوصی کپڑا بھی موجود ہے۔ٹشو پیپرز سے بار بار صاف کریں۔ہر بار موبائل فون استعمال کرنے کے بعد ٹشو پیپر سے فون کو اچھی طرح صاف کرلیا جائے اور ٹشو کو پھینک دیا جائے۔ اس کے علاوہ موبائل فون کو مشتبہ مریضوں کے حوالے نہ کیا جائے۔ کورونا وائرس مختلف دھاتوں کی سطح پر مختلف اوقات تک زندہ رہ سکتا ہے اور اگر موبائل فون پر کورونا وائرس ہوا تو ہاتھ لگانے سے وہ انسانی جلد پر آسکتا ہے یا کال سننے کے دوران کان، ناک یا منہ کے ذریعے جسم میں داخل ہوکر تباہی مچا سکتا ہے۔

ویت نامی نوجوان نے جسم پر منگیتر کا ٹیٹو بنوالیا

لاہور(ویب ڈیسک)ویت نام میں 22 سالہ نوجوان نے 24 گھنٹے تک سوئی سے اپنا جسم گدوایا اور منگیتر کا رنگین ٹیٹو بنوایا۔
مرد حضرات اپنی منگیتر سے اظہارِ محبت کے لیے تحفے اور پھولوں کے ڈھیر لگا دیتے ہیں تاہم ویت نام کے ایک نوجوان نے اپنی منگیتر کی تصویر کمر پر گدوائی ہے جس پر اسے 24 گھنٹے تک سوئی کی تکلیف سہنا پڑی۔22 سالہ ٹرونگ وین لیم نے اپنی منگیتر کا رنگین ٹیٹو بنوایا جس کی تکمیل میں تین مراحل کے دوران 24 گھنٹے لگے۔ پہلا مرحلہ گزشتہ برس نومبر میں مکمل ہوا جس میں 8 گھنٹے لگے تھے اس کے بعد مزید دو مراحل میں اس تصویر کو مکمل کیا گیا جس میں بالترتیب 9 اور 6 گھنٹے صرف ہوئے جس کے بعد اس کی 20 سالہ گرل فرینڈ و منگیتر لونگ کا تران کا ٹیٹو مکمل ہوگیا جو ہوبہو اس کی تصویر جیسا ہے۔اپنے مستقبل کے جیون ساتھی کی پیٹھ پر اپنی تصویر دیکھ کر پہلے تو لونگ کا تران حیران ہوئی اور اس کے بعد خوشی کا اظہار کیا۔ اس سے قبل نوجوان اپنے سینے پر گرل فرینڈ کا کا نام اور تاریخِ پیدائش کا ٹیٹو بنواچکا ہے۔ اس کے علاوہ وہ اپنے اور اپنی محبوبہ کے نام والے دو تاج نما ٹیٹو بھی کلائیوں پر بنواچکا ہے۔کمر پر ٹیٹو بنوانے کی تصاویر سوشل میڈیا پر مقبول تو ہوئیں لیکن لوگوں نے اس پر منفی رائے کا بھی اظہار کیا اور اکثر لوگوں نے یہ کہا کہ جب اس نوجوان کی اپنی منگیتر سے علیحدگی ہوگی تب اسے اپنی جذباتی غلطی کا احساس ہوگا تاہم ٹرونگ کو کسی کی کوئی پروا نہیں اور وہ اپنے عمل پر خوش ہے۔ٹرونگ نے بتایا کہ سب سے بڑھ کر یہ کہ میں اپنی منگیتر سے بہت پیار کرتا ہوں اور اس کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتا ہوں، ہرایک کو اپنے جذبات کے اظہار کا حق ہے اور اگر اس عمل میں دوسروں کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی تب تک اس کا اظہار ہوتے رہنے چاہیے۔