پاکستان اور افغانستان کے درمیان افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے معاہدے میں توسیع

پاکستان اور افغانستان کے درمیان افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے معاہدے میں توسیع کردی۔

اسلام آباد میں تقریب کے دوران وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے تجارت رزاق داؤد نے کہا کہ پاکستان کو تجارت ٹرانزٹ اورٹرانس شپمنٹ کا مرکز بنانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ پر 8 واں اجلاس ہورہا ہے جس میں ٹرانزٹ ٹریڈ سے متعلق معاملات حل کرلیے جائیں گے، جنوری کے اختتام تک ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ مکمل کرلیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ابھی صرف دوطرفہ پاک افغان تجارت پر بات ہورہی ہے، تین روزہ مذاکرات میں بھارتی اشیاء کی ترسیل پرغور نہیں کیا جائے گا۔

افغان وزیرتجارت کا کہناہےکہ افغانستان پاکستان کو وسط ایشیائی ریاستوں تک رسائی دینا چاہتا ہے۔

علی ظفر ہتک عزت کیس‘ عدالت نے اداکارہ عفت عمر کو دوبارہ طلب کرلیا

لاہور (ویب ڈیسک ) عدالت نے عدالت نے گلوکار علی ظفر کے ہتک عزت کے دعوے پر گزشتہ سماعت کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

لاہور کی سیشن کورٹ نے گلوکار و اداکار علی ظفر کے ہتک عزت کے دعوے پر جاری کردہ تحریری حکم نامے میں گلوکارہ میشا شفیع کی گواہ اداکارہ عفت عمر کو دوبارہ طلب کیا ہے۔ایڈیشنل سیشن جج امتیاز احمد نے تحریری فیصلہ جاری کیا، عدالت نے شہادت مکمل کرنے کے لئے اداکارہ عفت عمر کو طلب کیا۔عدالت گلوکارہ میشا شفیع کے چھ گواہوں کے بیانات قلمبند کرچکی ہے۔خیال رہے کہ گلوکار و اداکار علی ظفر نے میشا شفیع پر ہتک عزت کا دعوی دائر کررکھا ہے۔

اداکار فرحان علی آغا نے بھی پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرلی

پاکستان کے معروف اداکار فرحان علی آغا نے پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) میں شمولیت اختیار کرلی۔

کراچی میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اداکار فرحان علی آغا نے پی ٹی آئی میں شمولیت کا اعلان کیا۔

فرحان علی آغا نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں فردوس شمیم نقوی، خرم شیر زمان، ڈاکٹر عمران علی شاہ کا شکریہ ادا کیا کہ ان کی وجہ سے پارٹی میں شامل ہونے کا موقع ملا۔

انہوں نے کہا کہ میں باقاعدہ اعلان کرتا ہوں کہ ‘وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں، آج (28 دسمبر کو) میں پاکستان تحریک انصاف کا حصہ بن گیا ہوں اور انشااللہ آخر تک ہر محاذ میں ایک دوسرے کے ساتھ ہوں گے’۔

فرحان علی آغا کا کہنا تھا کہ ہمارا ملک پاکستان مشکل اور ترقی پسند حالات سے گزر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ میرا ملک، آپ سب کا ملک ہے، یہیں پر پیدا ہوئے شہرت، نام اور عزت سب یہیں سے ملی ہے۔

اداکار نے کہا کہ میں یہ سوچ کر پی ٹی آئی کا حصہ بننے کی بہت سخت ضرورت ہے کہ سچے اور ایماندار لوگ سامنے آئیں تاکہ وزیراعظم عمران خان کا وژن اور قائداعظم محمد علی جناح کا خواب پورا ہو، ایک ایسا ملک جہاں عام لوگوں کو انصاف ملے۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ میرے والد مسلح افواج میں خدمات سرانجام دے چکے ہیں اور میں بچپن سے وطن کی محبت اور قربانیوں کے قصے، کہانیاں سنتے آیا ہوں۔

فرحان علی آغا نے کہا کہ میں وزیراعظم عمران خان کی باتیں سنتا ہوں اور اکثر انہیں یہ کہتے سنا ہے کہ کس طرح لوگوں نے مختلف طریقوں سے پاکستان کو نقصان پہنچایا ہے تو یہی وہ وقت ہے کہ اچھے لوگ، جن کے دلوں میں جذبہ ہے، پاکستان سے محبت ہے، ایماندار ہیں تو سامنے آئیں اور اپنا حق ادا کریں۔

—فائل فوٹو: فیس بک
—فائل فوٹو: فیس بک

انہوں نے کہا کہ میں اکثر سماجی اور قومی فورمز کا حصہ بنتا ہوں تو میں نے سوچا کہ پی ٹی آئی میں آکر سیاست میں آکر پاکستان کے لیے کردار ادا کرسکتا ہوں۔

اداکار کا مزید کہنا تھا کہ اس سفر میں شروع سے عمران خان کو فالو کرتا آیا ہوں، وقت کے ساتھ مجھے ان کے وژن کا اندازہ ہوا اور نظر آیا کہ پاکستان کا مستقبل پی ٹی آئی کے ساتھ ہے۔

فرحان علی آغا نے کہا کہ سیاست میں نیا قدم ہے لیکن پاکستان اور پاکستان کے لوگوں سے محبت بہت پرانی ہے۔

اداکار فرحان علی آغا نے 1990 کی دہائی میں ڈراما انڈسٹری میں اپنے کیریئر کا آغاز کیا تھا، انہوں نے کئی مشہور پاکستانی ڈراموں صدقے تمہارے، دیمک، یقین کا سفر، میرے قاتل میرے دلدار اور دیگر ڈراموں میں اداکاری کی۔

انہوں نے پاکستانی فلموں ‘مالک’، ‘پرواز ہے جنوں’ اور ‘جوانی پھر نہیں آنی’ میں بھی اداکاری کی تھی۔

علاوہ ازیں فرحان علی آغا نے 2016 میں کمانڈر سیف گارڈ کی اینیمیٹڈ سیریز میں ڈرٹو کی آواز کی وائس اوور بھی کی تھی۔

خیال رہے کہ رواں برس نومبر میں فلم ساز، اداکار و پروڈیوسر شمعون عباسی نے پاکستانی سینما، فلم و ٹی وی انڈسٹری کو بچانے اور سہارا دینے کے لیے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی تھی۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 4 روپے تک اضافے کا امکان

عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں پاکستان میں  پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 4 روپے تک اضافے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق ورکنگ شروع کر دی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اوگرا حکومت کو 2 تجاویز بجھوائے گی جس میں عالمی مارکیٹ کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سفارش  کی جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اوگرا کی جانب سے پیٹرول 3 اور ڈیزل  ساڑھے 4 روپے مہنگا کرنے کی تجویز پر غور کیا جارہا ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پیٹرولیم لیوی کی شرح کم کر کے قیمتیں برقرار رکھنے کی تجویز بھی دی جائے گی۔

اوگرا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق سمری 30 دسمبر کو بجھوائے گا۔پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق یکم جنوری 2021 سے ہوگا۔

کرسٹیانو رونالڈو نے پلیئر آف دی سنچری کا ایوارڈ جیت لیا

دبئی (ویب ڈیسک ) دنیائے فٹ بال کے نامور کھلاڑی کرسٹیانو رونالڈو نے پلیئر آف دی سنچری کا ایوارڈ جیت لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق گلوب سوکر ایوارڈز کی تقریب میں کرسٹیانو رونالڈو نے لیونل میسی، محمد صلاح اور رونالڈینیو کو پیچھے چھوڑتے ہوئے یہ اعزاز اپنے نام کیا۔

پولینڈ سے تعلق رکھنے والے بائرن میونخ کے سٹرائیکر رابرٹ لیوانڈوسکی پلیئرآف دی ائیر قرار پائے جبکہ رونالڈو کے سابقہ کلب ریال میڈرڈ کو صدی کا بہترین کلب ہونے کا اعزاز دیا گیا۔

اس موقع پر رونالڈو کا کہنا تھا کہ گلوب سوکر پلیئر آف دی سنچری منتخب ہونے پر فخر ہے، طویل عرصے ٹاپ پر ر ہنا آسان نہیں ہوتا، یہ کامیابی ٹیم، کوچ اور کلب کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں تھی۔

مذہبی طبقہ ساتھ کھڑا نہ ہوتا تو فوج دہشتگردی کو شکست نہیں دے سکتی تھی، فضل الرحمٰن

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ اگر ہم، یہ کارکنان، جمعیت علمائے اسلام اور مذہبی طبقے کے غریب لوگ ملک کے ساتھ کھڑے نہ ہوتے تو فوج دہشت گردی کو شکست نہیں دے سکتی تھی۔

ٹانک میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپنے کام سے کام رکھنا اور دوسرے کے کام میں مداخلت نہ کرنے سے ملک چلے گا ورنہ پھر سمجھوتے کی سیاست ہوگی، آپ زور آور ہیں، میں آپ کو برداشت کروں گا آپ مجھے کریں گے، ایک دوسرے سے گزارا کریں گے۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زورآور آدمی غریب کی زمین پر حل چلائے تو بچارا وہ اسے کچھ نہیں کہہ سکتا، قوم کو کمزور کرکے یہ کہنا ملک میں امن ہے اور نظام ٹھیک چل رہا ہے کہ شاید ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کی بات ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم سنجیدہ ہے، ہم کسی کے دشمن نہیں ہیں لیکن ملک کسی کی ملکیت نہیں ہے یہ ہم سب کا ہے، بس فرق اتنا ہے دنیا میں جہاں آمر ہوگا اس کو زمین سے دلچسپی ہوگی جبکہ جہاں جمہوریت ہوگی اس کو عوام سے دلچسپی ہوگی۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہا آمرانہ قوت علاقے پر قبضے اور اختیارات کو اپنے ہاتھ میں لینے کا سوچتا ہے جبکہ جمہوری ماحول میں لوگوں کی فلاح و بہبود مقصود ہوتی ہے، عوام خوش ہے تو پھر سیاست، پارلیمنٹ اور ملک کا نظام بھی ٹھیک چل رہا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک کا نظام جام ہوچکا ہے، اس وقت ملک کی سالانہ مجموعی ترقی کا تخمینہ صفر سے نیچے چلا گیا ہے اور شاید آئندہ سال، دو سال اسی پوزیشن میں رہے گا جبکہ اسٹیٹ بینک کہتا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں اس سطح پر معیشت نہیں گری ہے۔

سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ اب جب حکومت ناجائز اور نااہل بھی ہو تو پھر اس حکومت کو رہنے کا حق حاصل نہیں بلکہ صرف حکومت کو نہیں بلکہ جو قوت بھی ایسی حکومت کو سہارا دے گی وہ بھی مجرم ہوگی، اصل میں بڑا مجرم بھی وہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان مقدس اور اول ملک ہے، میں، آپ، سیاستدان، جرنیل، بیوروکریٹس، تاجر بعد میں ہیں، ملک ہوگا تو یہ سب چیزیں ہوں گی۔

اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ تعریفیں کی جاتی ہیں جو بری بھی نہیں ہیں کہ ’فوج نے قربانیاں دی ہیں، جوانوں نے ملک کے لیے جانیں شہید کی ہیں، اللہ قبول فرمائے (لیکن) آپ نے تو پیٹی اسی لیے باندھی ہیں، آپ نے رینک اسی لیے لگائے ہیں اور تنخواہ بھی اسی چیز کی لیتے ہیں‘۔

تاہم انہوں نے کہا کہ ہم جو رضاکار لوگ ہیں انہوں نے کتنے علما، کارکنوں کی شہادتیں دی ہیں جو اس ملک کے لیے ہیں کہ ہم آئین، قانون اور ملک کے ساتھ کھڑے ہوگئے۔

مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ خاکم بدھن، چھوٹا آدمی ہوں لیکن یہ بات کرنے کی جرات کررہا ہوں کہ اگر ہم، یہ کارکنان، جمعیت علمائے اسلام اور مذہبی طبقے کے غریب لوگ ملک کے ساتھ کھڑے نہ ہوتے تو فوج دہشت گردی کو شکست نہیں دے سکتی تھی۔

سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ 1973 کا آئین کہتا ہے کہ اسلام پاکستان کا مملکتی مذہب ہے، پاکستان کا نظام قرآن و سنت کے تابع ہوگا، حاکمیت اللہ تعالیٰ کی ہوگی اور عوام اپنے نمائندوں کی وساطت سے اللہ کی نیابت کا فرض ادا کریں گے لیکن آج تک ایک قانون سازی قرآن و سنت کے مطابق نہیں ہوئی۔

بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب آئین واضح ہے تو پھر جب رکاوٹیں ہیں تو ہمیں اسے سمجھنا چاہیے، پھر سیاسی قوت بڑھانی چاہیے اسے آگے لے جانا چاہیے لیکن آئین و قانون سے تصادم نہیں کرنا بلکہ میرے ملک کا نظام جتنا مجھے حق دیتا ہے اسے استعمال کرنا ہے۔

اپنی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ’ہم نے اپنا حق استعمال کرتے ہوئے طاقت ور قوتوں کو کہنا ہے کہ آئین سے تجاوز تم کر رہے ہوں، قانون کو پامال آپ کر رہے ہوں ہم نہیں کر رہے، آئین اور قانون ہمارے سر کا تاج ہے، آپ نے تو اسے اپنے پاؤں کے نیچے روندھا ہے، آئین و قانون کو میں نے حاکم اور تم نے گھر کی لونڈی سمجھا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ سودا نہیں چلے گا، صحیح راستے پر آؤ، میں نے پارلیمنٹ میں جو حلف اٹھایا ہے تم اس کے پابند رہو، فوج نے بھی تو سیاست میں حصہ نہ لینے کا حلف اٹھایا ہے، جب نئی بھرتیاں ہوتی ہیں تو باقاعدہ حلف اٹھاتے ہیں کہ ہم نے سیاست میں کوئی حصہ نہیں لینا لیکن آج سیاست پوری ان کے کنٹرول میں ہو‘، اس سے نظام میں توازن بگڑ جاتا ہے۔

سربراہ جے یو آئی (ف) کا کہنا تھا کہ اس صورتحال میں ہمیں اصولی سیاست کرنی ہے، پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر ہیں اور اس کی قیادت جے یو آئی کر رہی ہے، پورے ملک کی سیاست نے اگر آپ پر اعتماد کیا ہے تو ہم نے بھی پوری قوم کےاعتماد پر پورا اترنا ہوگا۔

دوران خطاب مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ نواز شریف نے 2 خط لکھے ہیں ایک اپنے بھائی کے نام جبکہ دوسرا براہ راست میرے نام لکھا ہے جو برطانیہ سے آیا ہے اور اس میں کہا ہے کہ جب فضل الرحمٰن کہہ رہا تھا کہ ہمیں اسمبلیوں میں نہیں جانا چاہیے اور حلف نہیں اٹھانا چاہیے تو ان کی یہ رائے صحیح تھی اور اب ہمیں ان کا ساتھ دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ یہ وہ مرحلہ تھا، جب تمام جماعتوں نے کہا کہ ہمیں اسمبلیوں میں جانا چاہیے تو ہم بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ رہے لیکن اس تعویل کے ساتھ کہ پھر ہم اکثریت کا دعویٰ کرلیں۔

مولانا کا کہنا تھا کہ جب ہم اکثریت کا دعویٰ کرلیں اور یہ کہیں کہ حکومت ہم بنائیں گے تو یہ ایک جواز پیدا کرسکتا ہے کہ ہم اسمبلی میں جاکر حلف اٹھائیں اور دھاندلی کی قوت کو شکست دے دیں،جس کے بعد اس پر اتفاق ہوا اور وزیراعظم، صدر، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا الیکشن لڑا گیا لیکن کامیاب نہیں ہوئے۔

بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ہم دباؤ قبول نہیں کرتے بلکہ دباؤ ڈالتے ہیں، کہتے ہیں فضل الرحمٰن کو احتساب دینا ہوگا لیکن میں نے کہا کہ ابھی تو تم میرے احتساب کے شکنجے میں ہو‘۔

سربراہ جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ ’عمران خان کہتا ہے کہ فضل الرحمٰن کو سرنڈر ہونا پڑے گا تو میں کہتا ہوں کہ سرنڈر جنرل نیازی ہوا کرتا ہے فضل الرحمٰن نہیں، سرنڈر والے (آپ) کے اپنے قبیلے کے لوگ ہیں‘۔

فخر زمان کو پاک بحریہ میں لیفٹیننٹ کا اعزازی رینک تفویض

پاکستان کرکٹ ٹیم کے بلے باز فخر زمان کو پاک بحریہ میں لیفٹیننٹ کا اعزازی رینک تفویض کیا گیا ہے۔

ترجمان پاک بحریہ کے مطابق چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل محمد امجد خان نیازی نے نیول ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں میں فخر زمان کو لیفٹیننٹ کا اعزازی رینک تفویض کیا۔

پاک بحریہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ فخر زمان کو یہ اعزازی رینک کرکٹ کے میدان میں شاندار کارکردگی اور پاک بحریہ سے ان کی وابستگی کی بنا پر دیا گیا۔

ترجمان پاک بحریہ نے بتایا کہ فخر زمان نے 2007 میں بطور سیلر پاک بحریہ کی آپریشن برانچ میں شمولیت اختیار کی، اپنے کیریئر کے دوران فخر زمان نے کرکٹ کے میدان میں پاک بحریہ کے لیے متعدد اعزازات حاصل کیے۔

2012 میں آسٹریلیا میں منعقدہ انٹرنیشنل ڈیفنس کرکٹ چیلنج کپ میں فخر زمان نے پاک بحریہ کی نمائندگی کرتے ہوئے ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز اپنے نام کیا۔

ترجمان پاک بحریہ کا کہنا ہے کہ فخر زمان کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کی جانب سے سندِ تحسین سے بھی نوازا جا چکا ہے، فخر زمان بین الاقوامی کرکٹ میں بھی اب تک متعدد ریکارڈز بنا چکے ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امیر البحر نے فخر زمان اور ان کے اہل خانہ کو مبارکباد دی۔

نیول چیف کا کہنا تھا کہ پاک بحریہ ملک میں مختلف کھیلوں کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کر رہی ہے اور آئندہ بھی کھلاڑیوں کی معاونت کرتی رہے گی۔

تقریب میں عسکری و سول حکام اور پی سی بی کے عہدیداران کے علاوہ سابق کرکٹرز اور فخر زمان کے اہل خانہ نے بھی شرکت کی۔

اپوزیشن جماعتوں میں دوریاں، جے یو آئی وفد بلاول کے عشائیہ میں شریک نہ ہوا

اسلام آباد(ویب ڈیسک)سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کی برسی کی مناسبت سے سندھ کے ضلع لاڑکانہ میں ہونے والے جلسے سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے درمیان اختلافات کی وجوہات سامنے آگئی ہیں۔رپورٹ کے مطابق جے یو آئی ف نے پیپلز پارٹی پر من پسند افراد کی سندھ حکومت میں تعیناتی کیلئے دباوَ ڈالا۔ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان کی لاڑکانہ جلسے میں عدم شرکت کی وجہ سندھ میں اپنی مرضی کے افسران کی تعیناتی نہ ہونا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے بھائی چھوٹے بھائی ضیا الرحمان کی کراچی ضلع وسطی میں بطور ڈسٹرکٹ کمشنر تعیناتی بھی فرمائش پر ہوئی تھی۔ذرائع کے مطابق چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے جے یو آئی ف کی جانب سے سندھ میں تبادلوں اور تقرریوں کیلئے دباوَ پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ جے یو آئی ف نے سندھ میں بے نظیر بھٹو کے مزار پر دھرنے کی بھی دھمکی دی ہے۔ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو نے قریبی دوستوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھٹو کے مزار پر دھرنے کی دھمکی تو جمہوریت کے بدترین مخالفین نے بھی نہیں دی۔ذرائع کے مطابق جے یو آئی ف سندھ کے رہنما راشد سومرو نے مولانا فضل الرحمان کی ہدایت مقامی قیادت تک پہنچائی ہے۔دوسری جانب جے یو آئی ف نے پیپلزپارٹی کے ساتھ اختلافات کی تردید کی ہے۔ امیر جے یو آئی لاڑکانہ علامہ ناصر سومرو کا کہنا ہے کہ جمعیت علما اسلام نے کسی افسر کی تقرری کی سفارش نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ چند روز قبل جے یو آئی ف اور ڈپٹی کمشنر لاڑکانہ کے درمیان تنازع پیدا ہوا تھا۔ ڈی سی لاڑکانہ نے جے یو آئی ف کے پینافلیکسز اور پرچم شہر بھر سے اتروا دیے تھے۔ ڈی سی کی معذرت کے بعد جے یو آئی ف نے معاملے کو ختم کردیا۔

سعودی عرب: برطانیہ کے ساتھ سفری پابندیوں میں مزید ایک ہفتے کی توسیع

سعودی عرب نے برطانیہ کے ساتھ سفری پابندیوں میں مزید ایک ہفتے کی توسیع کردی۔

عرب میڈیا کے مطابق برطانیہ سے زمینی، فضائی اور بری رابطے مزیدایک ہفتہ معطل رہیں گے۔

عرب میڈیا کا بتانا ہےکہ پابندیوں میں توسیع نئی قسم کے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر لگائی گئی ہے البتہ سعودی عرب سے غیرملکیوں کو جانے کی اجازت ہوگی۔

بھارتی کسانوں کا مودی حکومت کیخلاف احتجاج جاری، شدید نعرے بازی

بھارت میں کالے قوانین کے خلاف کسانوں کا احتجاج جاری ہے، مظاہرین نے نریندر مودی کیخلاف شدید نعرے بازی کی اور مودی کے پروگرام ‘ من کی بات’ کے دوران تھالیاں بجائیں۔

بھارتی ریاست ہریانہ کے شہر روہتک میں کسانوں کے حق میں ریلی نکالی گئی، شرکا نے بینرز اور پلے کارڈز کے ساتھ خالی پلیٹیں اٹھا رکھی تھیں جنہیں بجا کر وہ متنازعہ زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ کسان رہنماوں نے تھالی بجانے کی اپیل کی تھی۔ مودی ماہانہ پروگرام  من کی بات   میں اِدھر اُدھر کی ہانکتے رہے۔