Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • سوات زلزلے سے لرز اٹھا، شدت 4.2 ریکارڈ
    • امریکی اجازت کے بعد عراقی ایئرلائنز ایرانی زائرین کو نجف پہنچا سکیں گی
    • ملائیشیا کے سابق وزیراعظم مہاتیر محمد 101 سال کی عمر میں اسپتال داخل
    • کیلیفورنیا میں عیدالفطر، عیدالاضحیٰ کو سرکاری چھٹی کا درجہ دے دیا گیا
    • این سی سی آئی اے نے محمد رضوان کو 2 اکتوبر کو طلب کرلیا
    • لاہور میں 10 روزہ بسنت میلہ، 29 جنوری سے 7 فروری تک جاری رہے گا
    • تین روزہ وقفے کے بعد سونا پھر مہنگا، فی تولہ قیمت میں 4,300 روپے اضافہ
    • ایشین گیمز : پاکستان اسکواش ٹیم کی سیمی فائنل راؤنڈ میں رسائی
    • چوری ڈکیٹی کی متعدد وارداتوں میں شہری نقدی زیورات قیمتی اشیاء سے محروم
    • محکمہ اوقاف پنجاب میں اختیارات کے استعمال پر سنگین سوالات اٹھنے لگے
    • پی ٹی آئی لانگ مارچ پنجاب پولیس کے ہزاروں اہلکاروں کو اسلام آباد بلوا کر بھوکا پیاسا چھوڑ دیا گیا
    • ڈاکٹر محمد عباس یو ایچ ایس لاہور کے کنٹرولر امتحانات تعینات
    • EPA کا انسداد سموگ سے متعلق سال25-26ء کا تقابلی ڈیٹا جاری
    • اے این ایف’ مختلف شہروں میں منشیات فروشوں کیخلاف کریک ڈائون
    • مسلسل غیر حاضری اور غفلت پر میڈیکل سپرنٹنڈنٹ پروفیسر فریاد حسین نے سخت انتظامی
    • قطر نے پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا آن ارائیول کی سہولت معطل کردی
    • ریلوے حکام نے گریڈ 19کے 2افسران کی تعیناتیاں کر دیں
    • زیادتی کیس میں گرفتار ملزم کی درخواست ضمانت منظور
    • محترمہ رئیسہ عادل پرنسپل انفارمیشن آفیسر کا اے پی این ایس ہاؤس کا دورہ
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    اجتماعی دانش بروئے کارلائیں

    By Daily Khabrainستمبر 19, 2021
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    وزیر احمد جوگیزئی
    حال ہی میں جناب وزیر اعظم عمران خان نے سی این این کو ایک انٹر ویو دیا۔اس انٹر ویو پر تبصروں اور تجزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔بڑی تعداد میں اہل دانش اور تجربہ کا ر لوگوں کے قلم سے بہت سی تحریریں اس حوالے سے آئی ہوں گی۔مجھے ذاتی طور پر وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے اس انٹر ویو میں کی جانے والی بیشتر باتوں سے کوئی اختلاف نہیں ہے، بلکہ کچھ باتوں کی تو میں تعریف بھی کروں گا کچھ باتیں جو انہوں نے اس انٹر ویو میں کہیں وہ کہنی چاہیے تھیں بلکہ کہنی ضروری بھی تھیں۔لیکن ایک بات جو وزیر اعظم نے کی اس سے میں شدید اختلاف کروں گا اور یہ بات تھی کہ حقانی نیٹ ورک ایک پشتون قبیلہ ہے۔ایک نا قابل فہم بیان ہے بلکہ کہا جاسکتا ہے ایک افسردہ کر دینے والا بیان ہے، جو کہ کسی صورت بھی وزیر اعظم پاکستان کی زبان سے ایک ہائی پروفائل بین الا اقوامی انٹر ویو میں نہیں آنا چاہیے تھا۔یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ حقانی کوئی پشتون قبیلہ نہیں ہے۔اس کی مثال اس طرح دی جاسکتی ہے کہ جتنے ایچسن کالج لاہور سے فارغ التحصیل طلبا کو جتنا قبیلہ تصور کیا جاسکتا ہے حقانی بھی بس اتنا ہی قبیلہ ہیں۔
    حقانی نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے درحقیقت مدرسہ حقانیہ کے فارغ الّتحصیل طلبا ہیں جن کو حقانی کے نام سے پکارا جاتا ہے۔یہ وہ مدرسہ تھا جو مولانا عبد الحق صاحب مرحوم کے نام سے منسوب ہے۔حقانیوں کے بارے میں یہ بات وزیر اعظم صاحب کے منہ سے سن کر مجھے یہ احسا س ہو ا کہ وزیر اعظم کو اپنے ہی ملک کی معلومات پوری طرح نہیں رکھتے ہیں۔بہر حال میں اس کے علاوہ ایک اور موضوع پر بھی بات کرنا چاہوں گا اور وہ ہے،انگریزی زبان کے استعمال کے خلاف وزیر اعظم کے بیانات۔
    معلوم نہیں کہ وزیر اعظم کسی بھی موضوع پر بیان دینے سے قبل کچھ سوچتے ہیں یا پھر ایسے ہی بیان داغ دیتے ہیں۔بظاہر محسوس ایسا ہو تا ہے کہ وزیر اعظم صرف اور صرف سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے اردو زبان بولنے پر زور دیتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اردو ہماری قومی زبان ہے اور اس کی ترقی کے لیے تمام ممکنہ کوشش کرنی چاہیے لیکن یہ امر بھی مسلمہ حقیقت ہے کہ انگریزی اس وقت تسلیم شدہ رائج الوقت بین الا اقوامی زبان ہے،جس کا سیکھنا اور سمجھنا ہمارے لیے اور ہماری نئی نسلوں کے لیے دور حاضر میں ترقی کرنے کے لیے نہایت ہی ضروری ہے۔انگریزی زبان ایک ایسی زبان ہے جو گزشتہ تین صدیوں سے اس خطے میں رائج ہے اور تمام حکومتی نظام اسی زبان میں چلتا ہے اور اگر دیکھا جائے تو یہ کوئی انہونی بات بھی نہیں ہے،بھارت میں ایک طویل عرصے تک فارسی لشکری زبان رہی جس پر کسی کو اعتراض نہ ہوا۔اور اب چونکہ ایک زبان آج کے دور میں رائج ہے اور عوام اسے پڑھنا چاہتے ہیں اور اپنے بچوں کو بھی پڑھانا چاہتے ہیں بلکہ یہ زبان اپنے بچوں کو پڑھانے کے لیے ہر قسم کی قربانی بھی دینے کو تیار ہیں،اس وقت ہمارے ملک میں نجی شعبے میں جتنے بھی تعلیمی ادارے چل رہے ہیں۔چاہے وہ سکول ہوں،کالج ہوں یا پھر یو نیورسٹیاں سب میں تعلیم کا ذریعہ انگریزی زبان ہی ہے۔اس بات سے ہمیں یہ معلوم ہو تا ہے کہ ہماری قوم کو انگریزی زبان سے چڑ نہیں ہے بلکہ عوام اسے ترقی اور ٹیکنالوجی کی زبان سمجھتے ہیں۔اور کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے،یہ زبان جدید تعلیم کا لازمی حصہ بن چکی ہے،میں یہاں پر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ اور سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے ایک طے شدہ چیز کو دوبارہ سے چھیڑنا کسی صورت بھی دانش مندی نہیں ہے۔ایک نان ایشو کو ایشو بنانے والی بات ہے جو کی کسی صورت میں مثبت سوچ نہیں ہے۔ہم بات کررہے تھے وزیر اعظم کے انٹر ویو کی،وزیر اعظم صاحب اس ملک کے چیف ایگزیکٹو ہیں او ر ملک کے حوالے سے فیصلے کرنا ان کا حق ہے،لیکن وہ ایک جمہوری ملک کے وزیر اعظم ہیں کوئی مطلق العنان حکمران نہیں ہیں،یہ الگ بات ہے کہ کبھی کبھی محسوس ہو تا ہے کہ وہ مطلق النان حکمران بننے کی خواہش ضرور رکھتے ہیں۔
    بہر حال جمہوری نظام میں تمام سیاسی رہنماؤں اور ہر قسم کی سوچ رکھنے والی شخصیات سے اہم قومی امور پر بات چیت اور ان سے مشورہ لینا نہایت ہی ضروری ہو تا ہے۔بلکہ ہر صورت میں لینا چاہیے چاہے وہ افغانستان کا مسئلہ ہو یا پھر امریکہ کے ساتھ تعلقات کا،ہندوستان کی جا رحیت کا مسئلہ ہو یا پھر کشمیر اور فلسطینی مسلمانوں کے حقوق کا تمام معاملات اگر اجتماعی دانش سے فیصلے کیے جائیں تو میرا یقین ہے کہ یہ ملک بہتر انداز میں آگے بڑھ سکے گا۔لیکن کیا جائے ہمارے موجودہ وزیر اعظم تو اپوزیشن کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہی پسند نہیں کرتے ان سے بات کرنا بھی ان کو گوار نہیں ہو تا،قومی مشاورت تو بہت دور کی بات ہے۔اگر ہمارے اکابرین کے درمیان ایسے ہی تناؤ اور فاصلے رہے تو ہماری پوری قومی سوچ یا ہمارا قومی وژن بالکل دب کر رہ جائے گا۔ہمیں ان حالات میں قومی مشاورت کی اشد ضرورت ہے۔
    تمام اپوزیشن جماعتیں چاہے وہ پارلیمان کے اندر ہیں یا پھر پارلیمان کے باہر ہیں ان کو بلایا جائے اور آزادانہ بحث کرنے دی جائے دو سے تین روز تک تمام قومی امور پر سیر حاصل بحث کرکے قومی پالیسی تیار کی جائے تاکہ دنیا کے سامنے پاکستانی قوم کی ایک مشترکہ رائے سامنے رکھی جائے اور اسی صورت میں پاکستان کی رائے میں وزن بھی پیدا ہو گا اور دنیا ہماری بات سنے گی۔میرے لیے یہ بات بھی بہت عجیب ہے کہ ہم اس وقت امریکہ کو حکومتی سطح پر دھتکارنے میں لگے ہوئے ہیں،امریکہ اس دنیا کا ایک بہت بڑا ملک ہے کوئی چھوٹا ملک نہیں ہے اور کسی صورت میں کمزور ملک نہیں ہے۔ہمیں ماضی میں کی گئی اپنی غلطیوں سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔امریکہ ماضی میں مشکل حالات میں پاکستان کی مدد کرتا رہا ہے،لہذا ہمیں بھی امریکہ کے ساتھ لو ہیٹ (love hate) کے اس تعلق کو برقرار رکھتے ہوئے روابط بحال رکھنے چاہئیں۔ٹیلی فون کال کے حوالے سے جو باتیں کی جا رہی ہیں وہ نامناسب ہیں جو کہ نہیں ہونی چاہیے۔پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات تو ہر شعبے میں ہیں اور اگر ان روابط کو درست انداز میں استعمال کیا جائے تو پاکستان کو بہت فائدہ ہو سکتا ہے،اور یہ اس وقت ہمارے دفتر خارجہ اور سفارت کاروں کا امتحان ہے کہ نا مساعد حالات میں بھی ملک کے لیے بہتری کی راہیں تلاش کی جا ئیں۔
    (کالم نگار سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی ہیں)
    ٭……٭……٭

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟

      فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب

      عہدہ ختم تو اہمیت ختم

      تازہ ترین

      سوات زلزلے سے لرز اٹھا، شدت 4.2 ریکارڈ

      امریکی اجازت کے بعد عراقی ایئرلائنز ایرانی زائرین کو نجف پہنچا سکیں گی

      ملائیشیا کے سابق وزیراعظم مہاتیر محمد 101 سال کی عمر میں اسپتال داخل

      کیلیفورنیا میں عیدالفطر، عیدالاضحیٰ کو سرکاری چھٹی کا درجہ دے دیا گیا

      لاہور میں 10 روزہ بسنت میلہ، 29 جنوری سے 7 فروری تک جاری رہے گا

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.