Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • ایران کے گرلز اسکول پر مہلک حملہ جان بوجھ کر نہیں کیا گیا: ٹرمپ
    • جنگ بندی کے بعد سے 1,005 فلسطینی شہید ہوئے: غزہ وزارت صحت
    • امریکا نے ایران میں نظام بدل دیا، ٹرمپ
    • بھارتی طیاروں کیلئے پاکستانی فضائی حدود کی بندش میں 24 جولائی تک توسیع
    • 2.7 ارب ڈالر کی ڈیل، معروف پیزا چین 68 سال بعدفروخت
    • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے متعلق اچھی خبر آئے گی: وزیرپیٹرولیم
    • تحریک انصاف حکومت سے مذاکرات پر تیار ہوگئی
    • بلوچستان بجٹ 2026-27: تعلیم، صحت اور امن وامان ترجیح
    • رشمیکا مندانا نے اپنی خوبصورتی کا راز بتادیا
    • ہر کوکا کولا آپ کی زندگی کے 12 منٹ کم کر سکتی ہے
    • میں نے ایک ماہ قبل سگریٹ نوشی چھوڑ دی تھی،” اطالوی وزیراعظم
    • اپنی ہر جھری پر فخر ہے، ہر ایک میری زندگی کی کہانی سناتی ہے۔” — کیٹ ونسلیٹ
    • آسٹریلیا نے پہلے ٹی 20 میچ میں بنگلہ دیش کو شکست دے دی
    • پنجاب میں ریسٹورنٹس پر کارڈ اور ڈیجیٹل ادائیگیوں پر ٹیکس بڑھانے کی تجویز
    • ٹرمپ محفوظ، وائٹ ہاؤس پر ڈرون اور اسنائپر حملے کی سازش ناکام، 5 منصوبہ ساز گرفتار
    • سعودی عرب میں پاکستانی لائسنس قبول کیے جانے کا امکان
    • کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟
    • امریکا ایران معاہدہ ، روسی حکومت اور میڈیا نے پاکستان کو عالمی امن کا ضامن قرار دے دیا
    • کینسر کے علاج میں مصنوعی ذہانت امید کی نئی کرن
    • سونے کی قیمت میں کمی ، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    سول ملٹری تعلقات؟

    By Daily Khabrainاکتوبر 15, 2021
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    سید سجاد حسین بخاری
    گزشتہ چند دنوں میں پاک فوج اور وزیراعظم کے درمیان ایک خلیج پیدا کرنے کی کوشش کی گئی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پوری دنیا میں جگ ہنسائی ہوئی پاکستانی میڈیا اور دانشور گزشتہ ساڑھے تین سالوں سے فوج اور حکومت ایک صفحے پر ہیں کے گیت گارہے تھے اور اپوزیشن عمران خان کو سلیکٹڈ کا طعنہ دے رہی تھی پھر یکایک ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کو متنازعہ کس نے اور کیوں بنایا؟ جبکہ تعیناتی سے قبل پاک فوج کے سربراہ اور وزیراعظم کے درمیان فوج میں کی جانے والی تعیناتیوں پر مکمل ہم آہنگی کے بعد آئی ایس پی آر نے تمام ناموں کا اعلان کیا جسے پورے ملک میں سراہاگیا۔ تعیناتیوں کے اعلان کے بعد دودن میں سوشل میڈیا پر ایک مہم کے ذریعے ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کے خط کے تاخیری اجرا پر مختلف باتیں ہونے لگیں اور پھر میڈیا پر ایک یلغار دیکھنے کو ملی جس سے دنیابھر میں یہ تاثر دیاگیا کہ فوج اور عمران خان میں دوریاں پیداہوگئی ہیں۔ عقل کے اندھوں کو شاید یہ احساس نہیں ہے کہ فوج ہی واحد ادارہ ہے جو ملکی بقا اور سالمیت کی ضمانت ہے۔ مجھے یہ کہنے میں رتی برابر بھی پرواہ نہیں کہ اس وقت ہماری فوج پر جتنا بین الاقوامی پریشر ہے پہلے کبھی نہیں تھا اور گزشتہ دہائی میں دہشتگردی میں جتنے جانوں کے نذرانے پاک فوج نے دیئے ہیں اس کی مثال دنیابھر کی فوج میں نہیں ملتی اور آج بھی پاکستان فوج واحد ادارہ ہے جس کی وجہ سے پاکستان متحد ہے اور آئی ایس آئی وہ ادارہ ہے جس کی وجہ سے ہمارانیوکلیئر پروگرام اور سرحدیں محفوظ ہیں۔ پاکستان کی آئی ایس آئی کو دنیا تسلیم کرتی ہے اور نامساعد حالات اور وسائل کی کمی کے باوجود اس وقت سی آئی اے‘ را‘کے جی بی‘ موساد اور ایم آئی سِکس تک کی ایجنسیاں کانپتی ہیں۔ ہم نے اسی کے سربراہ کی تعیناتی کو مسئلہ بنادیا کیوں؟
    موجودہ حکومت شاید بھول چکی ہے کہ پاک فوج نے جتنی ان کی مدد کی ہے تاریخ میں آج تک کسی سیاسی جماعت کی نہیں کی گئی۔ پوری قوم کو یاد ہے معیشت اور تعلقات کی بحالی کا معاملہ آیا تو آرمی کے سربراہ کو مشرق وسطیٰ اور مڈل ایسٹ کے ملکوں کے دورے کرنے پڑے جس سے موجودہ حکومت کو3ارب ڈالر اور تیل ادھار پر ملنا شروع ہوا۔ ملکی تاجر ٹیکس نیٹ ورک میں نہیں آرہے تھے تو براہ راست آرمی چیف نے تاجروں کے نمائندوں سے مذاکرات کئے اور انہیں سمجھایا کہ آپ ٹیکس نیٹ میں آئیں تاکہ ملکی معیشت بہتر ہو۔ میں نام نہیں لیتا مگر متعدد اداروں کی حالت ٹھیک کرنے کیلئے پاک فوج سے مدد مانگی گئی اور پھر اپوزیشن نے پہلی مرتبہ فوج کے افسران کے نام لے کر انہیں کوسا۔ حتیٰ کہ اسلام آبادہائی کورٹ میں مسلم لیگ ن نے سابق سربراہ آئی ایس آئی کے نام کے ساتھ درخواست دے دی۔ نیب میں گرفتاریوں کو اپوزیشن نے فوج کا نام لیا یعنی حکومت کی کارکردگی پر فوج کو رگڑا ملا۔ اس حد تک جانے کے باوجود ایک تعیناتی پر حکومتی نابالغوں اور عقل کے اندھوں نے تنازع کھڑا کردیا نہ سوچا نہ سمجھا نہ دیکھا نہ بھالا جو منہ میں آیا کہتے گئے کہ وزیراعظم کا اختیار ہے فوج کو سول حکومت کے ماتحت ہونا چاہئے۔
    وزیراعظم سمری منگوائیں تین یا پانچ نام ہونے چاہئیں پھر وزیراعظم ان میں سے ایک نام کا انتخاب کریں گے۔ اس عمل سے جمہوریت مضبوط اور پروان چڑھے گی۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ سب کچھ ایک سوچی سمجھی سازش کے ذریعے کیاگیا ہے اور اس میں چند خوشامد پرست وزیرشامل ہیں جنہوں نے بظاہر وزیراعظم کے سامنے اپنے نمبر بنانے کی کوشش کی مگر وہ یہ بھول گئے کہ یہ خوشامد انہیں کتنی مہنگی پڑسکتی ہے۔ وزیراعظم کی بابت ایک کالم نگار صحیح کہتے ہیں کہ وہ کانوں کے کچے ہیں کس کے کہنے پر انہوں نے سیرتؐ کی محفل میں خالد بن ولید کی معطلی کی بات کردی اور ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کو متنازعہ کیا؟۔یاد رکھیں پاک آرمی واحد ادارہ ہے جس کی پشت پر ہمیشہ قوم کھڑی ہوتی ہے اور قوم حکومت کے بجائے فوج کے ساتھ ہے اور رہے گی۔ کمال یہ ہے کہ 14اکتوبر کو مولانا فضل الرحمن نے بھی فوج کے حق میں بیان دیا حالانکہ گزشتہ سال انہوں نے نام لیکر فوج پر الزام لگائے تھے مگر ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی پر فوج کے ساتھ ہیں کہ اسے متنازعہ نہ بنایا جائے۔ جس اپوزیشن نے ہمیشہ فوج پر عمران خان کی سرپرستی کا الزام لگایا آج وہی اپوزیشن بھی فوج میں تعیناتیوں پر فوج کے ساتھ کھڑی ہوگئی ہے مگر حکومتی وزیروں اور مشیروں کی عقل گھاس چرنے گئی ہوئی ہے۔ کاش کہ حکومتی اہلکاروں کو اس خطے کی صورتحال کا اندازہ ہوتا کہ افغانستان کی وجہ سے پورے جنوبی ایشیاء میں کتنی صورتحال سنجیدہ اور حساس نوعیت کی ہو چکی ہے اور پاکستان کے مسائل میں کس قدر اضافہ ہو چکا ہے۔ امریکہ اس وقت زخمی شیر کی طرح بپھر چکا ہے کیونکہ اسے کہیں بھی منجی ڈالنے کی جگہ نہیں دی جارہی ہے۔ آزاد ریاستوں میں وہ کچھ امید لگا رہا تھا تو روس نے 13اکتوبر کو واضح اعلان کیا ہے کہ کوئی بھی آزاد ریاست امریکہ کو اڈے نہیں دے گی۔ خطے میں نیا اتحاد بن رہا ہے۔ تہران اور ماسکو میں افغانستان کی بابت کانفرنس ہو رہی ہے۔
    ایرانی فوج کے سربراہ نے پاکستان کا دو روزہ دورہ کیا ہے۔ بھارت بے بس اور ہارے ہوئے جواری کی طرح راستہ ڈھونڈ رہا ہے اور پاکستان کی صورتحال اس خطے میں نہ ہی اور نہ شی کی ہے کیونکہ پاکستان نہ امریکہ کو گڈ بائی کہہ سکتا ہے اور نہ ہی نئے بلاک میں شامل ہوتا ہے۔ ہم لوگ دو کشتیوں کے سوار ہیں جس کے انجام سب کو پتہ ہے۔ اتنی بڑی پریشانی کے عالم میں ایک ملتانی رکن اسمبلی نے ایک ٹی وی پروگرام میں فرمایا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی صرف وزیراعظم کا حق ہے۔ یہ کوئی بات ہے کہ بندہ یہ سوچے کہ میں کس ادارے کے خلاف بات کر رہا ہوں جس نے مجھے نااہلیت سے بچایا تھا اور انہیں خطے کی موجودہ صورتحال کا احساس نہیں ہے کہ پاک فوج کس قدر چومکھی جنگ لڑ رہی ہے۔ ہمارے وزیروں اور مشیروں نے اس ایسی توپ کا کام کیا ہے جو چلانے والے پر بیک فائر کرتی ہے۔ کاش کہ انہیں چار لفظ آتے ہوں جس سے یہ معاملے کی حسایت کو سمجھ سکیں۔
    (کالم نگارقومی امورپرلکھتے ہیں)
    ٭……٭……٭

    Daily Khabrain

    Keep Reading

    کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟

    فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب

    عہدہ ختم تو اہمیت ختم

    تازہ ترین

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے متعلق اچھی خبر آئے گی: وزیرپیٹرولیم

    تحریک انصاف حکومت سے مذاکرات پر تیار ہوگئی

    بلوچستان بجٹ 2026-27: تعلیم، صحت اور امن وامان ترجیح

    سونے کی قیمت میں کمی ، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟

    16 سے 18 سال کے نوجوانوں کے لیے جووینائل ڈرائیونگ پرمٹ متعارف، رواں ہفتے سے اجرا شروع

    Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    • کالم
    • صحت
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • بزنس
    • شوبز
    • کھیل
    • انٹر نیشنل
    • پاکستان
    © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.