لاہور(حسنین اخلاق) اافغان صدر نے عسکریت پسندی سے حکومتی امور کی جانب جاتے ہوئے افغان طالبان کے لئے داعش کومغرب سے بڑا خطرہ قرار دیدیا۔داعش خراسان ،طالبان سے ناراض اراکین کو بھرتی کرنے میں کامیاب رہا ہے جو طالبان کو بہت اعتدال پسند سمجھتے ہیں۔طالبان اب کچھ معتدل اصلاحات نافذ کر رہے ہیں،اس بات کا بہت زیادہ امکان ہے کہ کالعدم اسلامک سٹیٹ فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گی۔افغانستان کی معزول امریکی حمایت یافتہ حکومت سیکڑوں ارب ڈالر اور سیکیورٹی مدد کے باوجودنہ تو طالبان کو شکست دے سکی اور نہ ہی آئی ایس-خراسان کو۔ اب طالبان کوان کا سامنا بہت کم بیرونی امداد اور غیر ملکی افواج کی طرف سے جدید ترین انٹیلی جنس اور نگرانی کے ساتھ کرنا ہے ،ڈریگن فلائی سیکیورٹی انٹیلی جنس کا اعتراف۔ تفصیلات کے مطابق اسلامک اسٹیٹ-خراسان، جسے آئی ایس آئی ایس -کے جیسے نام سے بھی جانا جاتا ہے نے حالیہ ہفتوں میں خونریز حملوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ مغربی ماہرین کے مطابق آئی ایس-خراسان یااسلامک اسٹیٹ گروپ اس وقت نمایاں ہوا جب اس نے 2014 میں شام میں خلافت کا اعلان کیا۔ ایک فرانسیسی تھنک ٹینک فاو¿نڈیشن فار سٹریٹیجک ریسرچ نے اس میںسابقہ جہادی تنظیموں، بشمول ایغور ، ازبک، اور طالبان سے منحرف ہونے والے گروہ کو شامل کیا ہے۔
Trending
- کراچی کے قریب کھلے سمندر حادثہ، 2 جہاز ٹکرا گئے
- حمل کی مسلسل نگرانی کرنے والا الٹراساؤنڈ پیچ متعارف، جسے پہنا بھی جاسکتا ہے
- گوشت کھانے والوں اور لمبی عمر کے درمیان تعلق پر نئی تحقیق، ماہرین بھی حیران
- علی خامنہ ای کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ، برطانوی اخبار کا دعویٰ
- وفاقی حکومت آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرنے کےلیے تیار، اہم خدوخال سامنے آگئے
- بھارت کے 15 سالہ کرکٹر ویبھوو سوریا ونشی نے کرس گیل کا ریکارڈ توڑ دیا
- کیا پاکستان کو ٹھیک کیا جاسکتا ہے؟
- پٹرول کی قیمتوں میں 20 روپے فی لٹر سے زائد کمی کا امکان
