پاکستانی قوم اپنا مقام پہچانے

پی جے میر
میں سیاست پر بات تو کروں گا لیکن پھر کبھی کیونکہ ہماری سیاست اس قدر خراب ہو چکی ہے کہ ہماری سماجی اور گھریلو زندگیاں تلخ ہو کر رہ گئی ہیں کہ نہ سیاستدان اس پر توجہ دیتا ہے اور نہ ہمارے آج کے گھر والے۔ مجھے نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اسلام آباد میں جو عثمان مرزا جیسے کیڑے ہم نے اپنے معاشرے میں پیدا کر دیئے ہیں (تفصیلات سے قارئین آگاہ ہیں) یہی وجہ ہے کہ آج ہم معاشرے کی بربادی کا تماشا بچشم خود دیکھ رہے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے معاشرے کو بچائیں، آج میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ بچپن میں جب میں سڑک پر چلتا تھا تو ہر آنے جانے والا آپ کو السلام علیکم کہا کرتا تھا اور اس میں نہ کوئی امیر اور نہ ہی کسی غریب میں فرق و امتیاز پایا جاتا تھا۔ جس گھر میں آپ رہتے تھے تو پندرہ گھر آپ کے دائیں اور 15 ہی بائیں ہوتے تھے جن میں ہم سب کو جانتے تھے اور جیسے آج کی دنیا ہے اس وقت نہ تو کسی گارڈ کی ضرورت محسوس ہوتی تھی اور نہ ہی کسی بندوق بردار کی۔ شام کو ہماری مائیں بہنیں‘بیٹیاں، بہو بیٹیاں گھروں سے نکلتی تھیں لیکن بغیر کسی خوف اور ڈر کے، لیکن میں کہتا ہوں کہ آج یہ تبدیلی کیوں آ گئی۔ آپ کی بڑی بڑی سوسائٹیز جن میں ڈی ایچ ایز، بحریہ ہو گئے اس طرح کی دیگر نامور ہاؤسنگ کالونیاں بن گئیں لیکن بدقسمتی سے یہاں کے مکینوں میں سے کوئی بھی اپنے اردگرد رہائش پذیر لوگوں کو نہیں جانتا۔
اب اس کی وجہ کیا ہے۔ جس کی میں نشاندہی کر سکتا ہوں کہ ہماری اس گھریلو اور خانگی بدحالی کی قصور وار ہماری سابق حکومتیں رہی ہیں۔ قارئین! آپ پوچھیں گے کیوں؟ تو میرا جواب یہ ہو گا کہ آپ نے ایک چھوٹا سا گھر بازار میں کوئی خالی گھر کوئی چھوٹی سی کوٹھی میں سکول کھول دیئے جس کا مطلب ماسوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ ایک تو آپ کے بچوں کی پرورش اس ماحول میں ہو گی تو آپ کی سوشل باؤنڈنگز ایک دوسرے کے ساتھ ہو ہی نہیں سکتیں جبکہ پرانے زمانے میں جب بچے پڑھتے تھے تو اس وقت ہماری سوسائٹیز کا بھی ایک سے دوسرے فرد کے ساتھ ایک رشتہ بن جاتا تھا۔ آپ 1960ء کے بعد دیکھ لیں کہ ہمارے کسی ایک عام بچے کی پرورش کیسے ہوئی۔ اس زمانے میں سکولوں کے پاس کھیل کے میدان ہوتے تھے اور باہر کی ضروریات کے لئے پلیٹ فارم ہوتے تھے لیکن آج وہی بچہ اور بچی ایک موبائل اور کمپیوٹر کا شکار ہو چکا ہے، آپ کسی کے گھر چلے جاتے ہیں آپ کا بچہ اپنے موبائل سے کھیل رہا ہے اسی طرح آپ کے میزبان کے بچے بھی اسی تفریح سے لطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں بلکہ طرفہ تماشا یہ ہے کہ آپ خود بھی کسی کے مہمان بنتے ہی سب سے پہلا سوال ہی یہ کرتے ہیں کہ کیا آپ کے ہاں وائی فائی موجود ہے دوسرا سوال عموماً یہ ہوتا ہے کہ کیا آپ کے پاس میرا مطلوبہ چارجر ہے؟ بلکہ حالت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ گاڑی میں چار افراد بیٹھے ہوں تو وہ بھی اپنے اپنے فون سیٹ پر بیزی ہوتے ہیں بلکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ڈرائیور حضرات بھی اسی خوفناک بیماری کا شکار ہونے لگے ہیں۔ میں ان سطور میں ایک معاشرتی برائی کی نشاندہی کر رہا ہوں لیکن پھر افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ان سب برائیوں اور خرابیوں کے ذمہ دار آج کے والدین ہیں ایک گاڑی آپ دیکھتے ہیں۔ سن روف کے باہر بچہ نکلا ہوا ہوتا ہے۔ بریک لگتے ہیں تو بچہ اچانک باہر گر جاتا ہے۔ ہم نے یہ حالت خود اپنے ہاتھوں اپنی نئی نسل کی کر رکھی ہے۔ علاوہ ازیں آپ کا ڈرائیور آپ کے بچے کو ساتھ بٹھا کرجس طریقے سے ہر قانون شکنی کرتا ہے ٹریفک لاز کی پرواہ کئے بغیر سگنل کو تارعنکبوت کی طرح توڑ کر نکل جاتا ہے۔ لہٰذا آپ خود ہی بتائیں کہ وہ ڈرائیور آپ کے بچے کو چُھپ چُھپا کر ڈرائیونگ بھی سکھا دیتا ہے بلکہ سڑک پر عملاً گاڑی کا سٹیئرنگ بھی اس کے ہاتھوں میں تھما دیتا ہے حالانکہ وہ بچہ نہ تو اپنی عمر کے لحاظ سے ڈرائیونگ کے لائق ہوتا ہے اور نہ اس کے پاس حکومت کا جاری کردہ لائسنس ہوتا ہے۔ یہ تو ایک امیر کا حال ہے اور اگر آپ نچلی سطح پر دیکھیں تو آپ کو دس بارہ سال کا چھوٹا بچہ بھی موٹر سائیکل چلاتے نظر آ جائے گا۔ اس میں کئی اور بھی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ ہماری مائیں بہنیں نہ صرف اپنی عزت کے ڈر سے نہ باہرآتی ہیں اور نہ آئیں گی جب تک کہ ہم اپنے معاشرے میں اپنی قوانین کو انتہائی سختی سے لاگو نہیں کریں گے۔ معذرت کے ساتھ کیا ہم وہی نہیں ہیں جو لاہور ایئر پورٹ، لاری اڈوں اور ریلوے اسٹیشنز پر بھیڑ بکریوں کی طرح آمدورفت رکھتے ہیں اور انارکلی، اچھرہ، لکشمی چوک یا پنڈی کے راجہ بازارمیں جس طریقے سے چلتے ہیں اور خواتین کو دھکے مار کر آگے جانے کی کوشش کرتے ہیں اور کیا ہم وہی نہیں کہ یہاں سے دبئی جائیں اور وہاں سے لندن اتریں توسیدھے تیر کی طرح سیدھے ہو کر قطار میں لگ جاتے ہیں اور ایئرپورٹ سے نکلتے وقت بھی اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم نے اپنے مقدس ناموں تک کا بیڑا غرق کر دیا ہے کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ ہم نے دختر پیغمبرؐ جن کا نام نامی اسم گرامی حضرت بی بی سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا ہے ان کے نام پر بچیوں کے نام رکھ کر سیدھا نہیں بلکہ فاطی کہہ کر یا فاتو کہہ کر گویا بگاڑ نہیں دیا۔ حضرت عائشہ کا نام آج عاشی کر دیا گیا ہے کیا ہم اس قدر ماڈرن بلکہ میں تو کہوں گا کہ جاہل ہو گئے ہیں۔ لہٰذاہمیں چاہیے کہ ہم اپنے معاشرتی مقام کو پہچانیں اور اسے بہتر بنانے کی ضرورت پرتوجہ دیں۔
(کالم نگار معروف اینکر اور ممتازسیاسی تجزیہ نگار ہیں)
٭……٭……٭

طالبان کی حکومت کیسی ہوگی؟

سید سجاد حسین بخاری
امریکہ کے افغانستان سے انخلاء کے ساتھ ہی اس خطے میں ہل چل مچ گئی ہے۔ افغانستان میں طالبان مخالف طبقہ شدید کرب میں مبتلا ہونا شروع ہوگیا ہے۔ مقامی سرداروں نے طالبان کو صلح اور خوش آمدید کے پیغام بھیجنا شروع کردیئے ہیں۔ افغان فوج کے پاس اگرچہ ماضی کے مقابلے میں بہترین تربیت اور جدید امریکی اسلحہ بھی موجود ہے مگر اس کے باوجود بھی افغان فوج ہمت نہیں باندھ رہی جن500 امریکی فوجیوں نے کابل میں رہنا ہے وہ نہ کابل میں بسنے والے لوگوں کی حفاظت کرسکتے ہیں اور نہ افغان فوج کا ساتھ دے سکتے ہیں۔ وہ صرف امریکی سفارتخانے کی حفاظت پر مامور ہونگے اور ان کا پڑاؤ امریکی سفارتخانے میں ہوگا۔ کابل میں موجود امریکی سفارتخانے کو جنگی حالات کو پیش نظر رکھ کر بنایا گیا ہے۔ اس میں زمین دوز جدید ترین حفاظتی اور ایمرجنسی نظام نصب ہے۔ سی آئی اے، پینٹاگون اور وائٹ ہاؤس کا کابل میں امریکی سفارتخانے کا براہ راست تعلق ہے، صرف ایک بٹن دبانے کی ضرورت ہے۔ اسی سفارتخانے میں امریکہ کا جدید ترین ہمہ قسم اسلحہ بھی موجود ہے۔ اس عمارت میں جدید ترین آسائشات سفارتی عملے کیلئے موجود ہیں۔ اس سفارت خانے میں بڑے بڑے کھیلوں کے میدان اور ہیلی پیڈ موجود ہیں۔المختصر کابل میں صرف امریکی سفارتخانہ محفوظ ہے باقی سب کہانیاں ہیں۔
آخری خبریں آنے تک طالبان نے افغانستان کے 85 فیصد حصے پر قبضہ کر لیا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ طالبان تو امریکی افواج کی موجودگی میں ملک کے 80فیصد حصے پر قابض تھے۔ میری نظر میں طالبان نے ہر صورت بڑھنا ہے اور کابل پر قبضہ کرنا ہے۔ کیونکہ افغانستان میں فتح کی علامت صرف کابل ہے۔ لہٰذا جب تک طالبان کابل کو فتح نہیں کریں گے انہیں حکمران تصور نہیں کیا جائے گا۔ امریکی اب بھی طالبان کو کہہ رہے ہیں کہ آپ کابل کی بجائے کسی دوسرے شہر کو دارالخلافہ بنالیں مگر طالبان نے صاف انکار کردیا ہے۔ تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ طالبان اپنی مکمل تیاری کے ساتھ پورے ملک میں فتوحات حاصل کر رہے ہیں اور امریکہ کی طرف سے دی گئی انخلاء کی 31اگست کی تاریخ تک طالبان کابل شہر پر دستک دیں گے اور یہ بھی ممکن ہے کہ انہیں ابتدا میں فتح حاصل نہ ہو مگر طالبان کابل کو چھوڑیں گے نہیں ہاں البتہ کچھ ماہ لگ سکتے ہیں۔ ایک بات طے ہے کہ افغانستان میں طالبان کی دوسری مرتبہ حکومت بننے جا رہی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا طالبان اب بھی پہلے جیسی حکومت بنائیں گے یا اس مرتبہ پہلے سے مختلف ہو گی؟ ہمارے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی تو فرما رہے ہیں کہ طالبان نے ماضی سے بہت کچھ سیکھا ہے اب وہ ایک نئے طریقے سے حکومت کرینگے۔ انہوں نے دنیا میں اپنی حکومت کو تسلیم بھی کرانا ہے۔ لہٰذا وہ ماضی کو نہیں دہرائیں گے۔ یہ وزیر خارجہ کی خام خیالی ہے۔طالبان اقتدار میں آنے سے قبل ایران کے ساتھ مل کر ایک معاہدہ کر رہے ہیں کہ افغانستان میں اسلامی نظام حکومت وہ لائیں گے اور پھر جس مکتبہ فکر سے طالبان کا تعلق ہے وہ ہمارے گلی محلوں میں موجود ہیں ان کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ے کہ طالبان کی حکومت کس طرح کی ہوگی؟ ہم کون ہوتے ہیں کسی دوسرے کے مکتب میں رخنا ڈالنے والے؟ کیا ہم نے کبھی ایران کی حکومت پر کسی قسم کا تبصرہ کیا ہے؟ کہ وہ اپنے مکتبہ فکر کے مطابق کیوں چل رہی ہے؟ یاد رکھیئے نظریے کا جبر ہوتا ہے اور ہر نظریے کا ایک ہی اصول ہوتا ہے کہ اُسے تسلیم کیا جائے تو محب وطن اور نظریے سے بغاوت کا انجام تو پھر تختہ دار ہوتا ہے۔ افغانستان کی اکثریت جس مکتبہ فکر سے تعلق رکھتی ہے ان کا حق ہے کہ وہ اسی کے مطابق اپنی حکومت کی ترجیحات طے کریں۔ جہاں تک بین الاقوامی برادری کا تعلق ہے تو اس بابت صرف چھوٹی سی گزارش ہے کہ ہر ملک کے اپنے مفادات ہوتے ہیں اور وہ انہی کے تحت وہ سب کچھ کرتے ہیں۔ اس وقت تین بڑے کھلاڑی اس خطے میں موجود ہیں۔ چین، روس اور امریکہ تینوں کی خواہش ہے کہ افغانستان میں بے شک طالبان کی حکومت بن جائے مگر ہمیں طالبان زیادہ اہمیت دیں مثلاً امریکہ چین کو آگے بڑھنے سے روکنے کیلئے افغانستان میں اپنی موجودگی ضروری سمجھتا ہے اور اس کیلئے طالبان کو چار سے پانچ ارب ڈالر کی سالانہ امداد بھی دے سکتا ہے۔اسی طرح چین کی خواہش ہے کہ افغانستان میں انہیں تعمیروترقی کے تمام ٹھیکے مل جائیں بے شک وہ قرضوں کے ذریعے افغانستان میں تمام ترقیاتی کام کریں گے۔ روس بھی چین کے ساتھ ہے۔ وہ آزاد ریاستوں میں طالبان کی مداخلت کو روکے گا۔ بھارت کی بات کہیں نہیں بن رہی ہے۔ ترکی کو طالبان سعودی عرب کی وجہ سے اچھا نہیں سمجھتے۔ ایران سے بہتر تعلقات طالبان بنا رہے ہیں کیونکہ دونوں مذہبی طبقہ ہیں اور وہ ایک دوسرے کی ضرورت ہیں۔
اب پاکستان کی بات ہو جائے تو حکومت سے گزارش ہے کہ وہ 90 کی دہائی کو نہ دہرائے جس کا خمیازہ پاکستان کو 70ہزار جانوں کی صورت میں نذرانہ دینا پڑا اور ڈیڑھ سو ارب ڈالر کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا۔ پاکستان طالبان حکومت کے بارے میں اپنے ماضی کو نہ دہرائے ورنہ انجام دو نہیں تین گنا بُرا ہوگا۔
افغانستان کے بارے میں چند ایک سوالات میڈیا بحث میں ابھر رہے ہیں ان کا جواب فوری طور پر تو نہیں ملے گا مگر گزرتے ہوئے وقت کے ساتھ ساتھ سب عیاں ہو جائے گا۔ مثلاً افغان صدر اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کی حکومت کیسے قائم رہے گی؟، ان کا اپنا مستقبل کیا ہوگا؟، آخر امریکہ اس قدر جلد افغانستان چھوڑنے پر کیوں مجبور ہوا؟، کیا افغان فورسز طالبان کا مقابلہ کرسکیں گے؟، کیا کابل میں موجود چند سو امریکی فوجی افغان فورسز کے ساتھ مل کر طالبان کے خلاف لڑیں گے؟ کیا اسلامی ممالک طالبان کی حکومت کو تسلیم کرینگے؟ آخر میں ایک اور خدشہ بھی بیان کردوں کہ امریکہ اپنے انخلاء کے بعد پوری کوشش کرے گا کہ چین کو کسی نہ کسی شکل میں افغانستان میں پھنسایا جائے مگر یہ سب کچھ قبل از وقت ہے۔
(کالم نگارقومی امورپرلکھتے ہیں)
٭……٭……٭

سابق صدر مملکت ممنون حسین انتقال کرگئے

سابق صدر مملکت ممنون حسین  انتقال کرگئے۔

سابق صدر کے بیٹے ارسلان ممنون نے ان کے انتقال کی تصدیق کی اور بتایا کہ ممنون حسین دو ہفتوں سے نجی اسپتال میں زیر علاج تھے۔

ان کا کہنا تھاکہ والد کینسر کے عارضے میں مبتلا تھے اور آج کراچی میں خالق حقیقی سے جاملے۔

ممنون حسین 2013 سے 2018 تک پاکستان کے صدر رہے اور ان کا شمار مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنماؤں میں ہوتا تھا۔

ممنون حسین مُلک کے 12 ویں صدر رہے اور اس کے علاوہ وہ گورنر سندھ بھی رہے تھے۔

وزیرخارجہ کی چینی ہم منصب سے ملاقات، داسو واقعے پر اظہار تعزیت

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے چین کے وزیر خارجہ اور اسٹیٹ کونسلر وانگ یی سے ملاقات کی اور داسو واقعے میں چینی انجینئروں کے جانی نقصان پر اظہار افسوس کیا۔

ترجمان دفترخارجہ کی جانب سےجاری بیان میں کہا گیا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دوشنبے میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کے موقع پر چین کے اسٹیٹ کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ یی سے ملاقات کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ملاقات میں پاکستان اور چین کے دوطرفہ تعلقات، سی پیک، باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے چینی وزیر خارجہ سے کوہستان کے علاقے داسو میں ڈیم منصوبے کے قریب پیش آنے والے بس حادثے اور چین کے شہریوں کے جانی نقصان پر اظہار تعزیت کیا۔

قبل ازیں خیبر پختونخوا کے ضلع اپر کوہستان میں داسو ہائیڈرو پاور پلانٹ کے قریب ’حملے‘ میں 9 انجینئرز، دو فرنٹیئر کور (ایف سی) اہلکاروں سمیت کم از کم 12 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور چین ‘آئرن برادرز’ ہیں، ‘سدا بہار اسٹرٹیجک کوآپریٹو شراکت داری’ کے عظیم بندھن میں جڑے ہوئے ہیں اور ملاقات میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے مفادات کے معاملات پر ایک دوسرے کی حمایت کی۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اعلیٰ سطح کے رابطے اور ملاقاتیں دونوں ممالک کی ‘فولادی دوستی’ کا طرہ امتیاز ہے، کورونا وبا کے دوران بھی دونوں ممالک کے قریبی رابطے، دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر ہم آہنگی برقرار رہی۔

انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان کے تعلقات خطے اور دنیا میں امن، استحکام اور خوش حالی کی بنیاد ہیں، پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) دونوں ممالک کے لیے تبدیلی کا مظہر منصوبہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کورونا وبا کی مشکلات کے باوجود سی پیک کے منصوبے مستحکم رفتار سے آگے بڑھ رہے ہیں۔

دفترخارجہ کے مطابق وزیر خارجہ اور چینی ہم منصب نے افغانستان میں تازہ ترین صورت حال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

افغانستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغان تنازع کا سیاسی حل ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغان تنازع کا مذاکرات کے ذریعے سیاسی تصفیے کے لیے پاکستان کی کوششوں سے آگاہ کیا اور کہا کہ اجتماعیت کے حامل، وسیع البنیاد اور جامع سیاسی تصفیے کے لیے تمام افغان فریقین مل کر کام کریں۔

کورونا ویکسین کی اضافی خوراکیں غریب ملکوں میں تقسیم کی جائیں، عالمی ادارہ صحت

گزشتہ روز عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے دنیا کے امیر ممالک سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے عوام کےلیے ضرورت سے زیادہ کورونا ویکسین محفوظ کرنے کے بجائے یہ اضافی خوراکیں غریب ملکوں میں تقسیم کردیں کہ جہاں اس ویکسین کی زیادہ ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ دنیا کے بیشتر امیر ممالک اپنی ضرورت سے زیادہ کورونا ویکسین کی ایڈوانس بکنگ کروا چکے ہیں جبکہ بعض ممالک میں ویکسی نیشن مکمل ہوجانے کے بعد بھی ’’بوسٹر شاٹس‘‘ کے نام پر کورونا ویکسین کی اضافی خوراکیں لگائی جارہی ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گبرئیسس نے کورونا ویکسین کی فراہمی میں اس بین الاقوامی فرق کو لالچ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

کورونا ویکسین کے حوالے سے عالمی ’’ون کیمپین‘‘ کے قائم مقام سربراہ ٹام ہارٹ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غریب ممالک میں صرف ایک فیصد افراد ہی کو اب تک کورونا ویکسین کی پہلی خوراک لگ سکی ہے۔

ٹیڈروس نے کورونا ویکسی نیشن سے متعلق امیر ممالک کے فیصلوں پر نظرِ ثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترجیحی بنیادوں پر ان لوگوں کو یہ ویکسین لگنی چاہیے جنہیں ایک خوراک بھی نہیں لگی ہے۔

عالمی ادارہ صحت میں شعبہ ہنگامی حالات کے سربراہ ڈاکٹر مائیکل ریان نے خبردار کیا ہے کہ امیر ممالک کا یہ طرزِ عمل غم و غصے اور شرمندگی کا باعث ہوگا۔

دوسری جانب عالمی ادارہ صحت کی چیف سائنٹسٹ ڈاکٹر سومیا سوامی ناتھن کا کہنا ہے کہ اس بات کی کوئی سائنسی شہادت نہیں کہ ’’بوسٹر شاٹس‘‘ سے کووِڈ 19 کے خلاف تحفظ میں اضافہ ہوگا۔

یہ امر باعثِ تشویش ہے کہ غریب ممالک کےلیے کورونا ویکسین فراہمی کے عالمی منصوبے ’’کوویکس‘‘ کےلیے دنیا کے دو بڑے ویکسین ساز اداروں یعنی فائزر اور موڈرنا نے بہت معمولی تعداد میں خوراکیں فراہم کی ہیں۔

سرِدست پچھلے چند ہفتوں سے کوویکس پروگرام تعطل کا شکار ہے کیونکہ کورونا ویکسین بنانے والے بڑے عالمی اداروں نے اس سال کے اختتام تک کورونا ویکسین کی مزید خوراکیں فراہم کرنے سے معذرت کرلی ہے۔

اس تعطل کی وجہ سے کم از کم 60 ترقی پذیر ممالک میں بھی کورونا ویکسی نیشن رک چکی ہے۔

ڈاکٹر ٹیڈروس کا کہنا ہے کہ 10 ہفتوں تک کورونا وائرس سے اموات کم ہونے کے بعد اس شرح میں ایک بار پھر اضافہ ہورہا ہے جبکہ اس ضمن میں ڈیلٹا ویریئنٹ بھی جلتی پر تیل کا کام کررہا ہے۔

کورونا کے بڑھتےکیسز کے پیش نظر آزادکشمیر میں 10 روز کیلیے سیاحت پر پابندی عائد

کورونا کے بڑھتےکیسز کے پیش نظر حکومت آزادکشمیر نے 10 روز کے لیے سیاحت پر پابندی عائد کردی۔

آزادکشمیر حکومت کی جانب سے سیاحت پر پابندی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق آزادکشمیر میں کورونا کیسز میں اضافےکے پیش نظر 19 سے 29 جولائی تک سیاحت پرپابندی ہوگی۔

پابندی کے باعث سیاحتی مقامات بند رہیں گے اور  جملہ سیاحتی سرگرمیاں بھی 10 روز کے لیے معطل رہیں گی۔

ملک میں قدرتی گیس کی پیداوار 10 فیصد کم ہو گئی

ملک میں قدرتی گیس کی پیداوار 10 فیصد کم ہو گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اوگرا کی مالی سال 2019-20 کی اسٹیٹ آف ریگولیٹڈ پٹرولیم انڈسٹری رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ایک سال کے دوران ایل این جی کی طلب میں 40 فیصد کمی ہو گئی ہے۔

اوگرا رپورٹ کے مطابق قدرتی گیس کی پیداوار 2379 سے کم ہو کر 2138 ایم ایم سی ایف ڈی ہو گئی ، گیس کی یومیہ طلب 3714 میگاواٹ رہی ، گیس کی قلت کو ایل این جی کی درآمد سے پورا کیا گیا۔

اس کے علاوہ کورونا کی وجہ سے آئل سیکٹر کو بھی مسائل کا سامنا رہا ، پٹرولیم مصنوعات کی درآمد میں 26.42 فیصد کمی ہوئی اور آئل ریفائنریز کی پیداوار میں 20.43 فیصد کمی ہوئی۔as

کورونا: سندھ حکومت کا اسکولز، ہوٹلز اور تفریحی مقامات بند کرنے کا فیصلہ

حکومت سندھ نے کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث ایک بار پھر  اسکولز، پارکس اور ہوٹل بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت صوبائی کووڈ ٹاسک فورس کا  اجلاس ہوا جس میں کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز  کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

حکام محکمہ صحت کی جانب سے اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ روز 16262 ٹیسٹ کیے گئے جس میں 1201 کیسز سامنے آئے، اس وقت 837 مریض اسپتالوں میں ہیں جس میں سے زیادہ تر مریض سرکاری اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

سیکرٹری صحت کی جانب سے اجلاس کو بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ صوبے میں نئے کیسز کی شرح 7.4 فیصد ہو گئی ہے، 5 فیصد سے کووڈ کیسز بڑھے تو یہ خطرناک صورتحال ہے۔

سیکرٹری صحت کاظم جتوئی نے اجلاس کو بتایا کہ کل 13 جولائی کو کراچی میں نئے کیسز کی شرح 17.11 فیصد تھی، ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق کراچی شرقی میں کیسز کی شرح21 فیصد، کراچی جنوبی میں 15 فیصد، کراچی وسطی میں 12 فیصد اور کورنگی میں 8 فیصد کیسز ہیں۔

اجلاس میں صوبے میں کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز  پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور وبا کی روک تھام کے لیے نئی پابندیاں لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔

ٹاسک فورس کے اجلاس میں انڈور ڈائننگ کو کل رات سے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور ساتھ ہی سندھ بھر کے اسکولوں میں پہلی سے آٹھویں جماعت تک کلاسز کو جمعہ سے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ نویں دسویں جماعت اور اس سے اوپر کی کلاسز  میں بھی صرف امتحانات کی اجازت ہو گی۔

سندھ کووڈ ٹاسک فورس کے اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ تفریحی مقامات اور جم بھی بند کر دیئے جائیں گے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی میں بڑھتے ہوئے کورونا کیسز کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کروانے کی ہدایت کی۔

بجلی کی طلب میں اضافے سے پاور سیکٹر زیادہ چیلنجنگ بن گیا ہے، حماد اظہر

وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے کہا کہ بجلی کی طلب میں اضافے سے پاور سیکٹر زیادہ چیلنجنگ بن گیا ہے، حماد اظہر

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے جرمن سفیر سے ملاقات کی جس میں توانائی کے شعبے سے متعلق امور پر بات چیت ہوئی اور حماد اظہر نے جرمنی کے تعاون سے چلنے والے توانائی منصوبوں سے سفیر کو آگاہ بھی کیا۔

حماد اظہر نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل سے نئی متبادل توانائی پالیسی کی منظوری اہم سنگ میل ہے، نئی پالیسی کے تحت 2025 تک 20 فیصد بجلی سستے متبادل ذرائع سے پیدا ہوگی اور 2030 تک متبادل ذرائع سے بجلی کی پیداوار 30 فیصد ہو جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ صنعتی شعبے میں بجلی کی طلب میں 15 فیصد اور مجموعی طور پر 20 اضافہ ہوا ہے، حکومت بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے شعبے میں بہتری کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔

اس ملاقات میں جرمن سفیر نے توانائی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

داسو ہائیڈرو پاور پلانٹ کے قریب ’حملے‘ میں 9 چینی انجینئرز سمیت 12 افراد ہلاک

خیبر پختونخوا کے ضلع اپر کوہستان میں داسو ہائیڈرو پاور پلانٹ کے قریب ’حملے‘ میں 9 انجینئرز، دو فرنٹیئر کور (ایف یس) اہلکاروں سمیت کم از کم 12 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

عہدیداروں کی ابتدائی اطلاعات متضاد نظر آئیں تاہم وزیر اعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے اسے ایک ‘بزدلانہ حملہ’ قرار دیا اور کہا کہ اس سے ’پاکستان اور اس کے ہمسایہ ممالک کے درمیان خصوصی اقدامات سے توجہ نہیں ہٹ سکتی‘۔

بابر اعوان نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیر داخلہ شیخ رشید احمد سے ملک کی سلامتی کی صورتحال پر بریفنگ دینے اور ایوان کو اس واقعے سے متعلق اعتماد میں لینے کا کہیں گے۔

کئی گھنٹوں بعد دفتر خارجہ نے حملے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بس ‘تکنیکی خرابیوں‘ کے باعث کھائی میں گر گئی، جس کے نتیجے میں گیس کا اخراج ہوا جس سے دھماکا ہوا‘۔

دفتر خارجہ نے بھی ہلاکتوں کی تعداد 12 بتائی جن میں 9 چینی شہری شامل ہیں، اس سے قبل 10 ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات کامران بنگش نے میڈیا کو بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ’اعلی سطح کے وفد اپر کوہستان روانہ ہو چکا ہے، زمینی حقائق سے عوام اور میڈیا کو آگاہ کریں گے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میڈیا سے درخواست ہے کہ قیاس آرائیوں سے گریز کریں، چینی اہلکاروں کی سیکیورٹی پر مامور بڑی تعداد میں عملہ موجود تھا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’شدید زخمیوں کو آرمی ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا جارہا ہے جبکہ ریسکیو 1122 کے ایمبولینسز اور اہلکار بڑی تعداد میں موقع پر پہنچ چکے ہیں اور ریسکیو سروسز فراہم کر رہے ہیں‘۔

بیجنگ کا پاکستان سے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ

ادھر چین نے پاکستان سے واقعے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔

اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ ملک میں ’چینی شہریوں، تنظیموں اور منصوبوں کی حفاظت‘ کے لیے ’مجرمان کو‘ سخت سے سخت سزا دیں۔

ایک بیان میں پاکستان میں قائم چینی سفارت خانے نے ’واقعے کی شدید مذمت‘ کرتے ہوئے متاثرین اور زخمیوں سے اظہار تعزیت کی اور کہا کہ ’اس معاملے سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے ساتھ اپنی پوری کوشش کریں گے‘۔

کہا گیا کہ پاکستانی حکام ’واقعے کی وجوہات کے بارے میں تحقیقات کر رہے ہیں‘۔

متضاد اطلاعات

واقعے کے فوراً بعد اپر کوہستان کے ڈپٹی کمشنر عارف خان یوسفزئی نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا تھا کہ یہ واقعہ صبح ساڑھے 7 بجے کے قریب اس وقت پیش آیا جب ایک بس برسین کیمپ سے 30 ورکرز کو لے کر پلانٹ کے مقام پر جارہی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ جب یہ واقعہ پیش آیا اس وقت غیر ملکی انجینئرز، فرنٹیئر کور کے اہلکاروں سمیت مقامی مزدور بس میں سوار تھے۔

بعد ازاں دفتر خارجہ نے بیان میں کہا کہ مکینیکل خرابی کے بعد بس ایک کھائی میں گر گئی جس کے نتیجے میں گیس کا اخراج ہوا جس سے دھماکا ہوا۔

بیان میں کہا گیا کہ ’پاکستان اور چین قریبی دوست ہیں، پاکستان چینی شہریوں، منصوبوں اور اداروں کی حفاظت کو بہت اہمیت دیتا ہے‘۔

خیبر پختونخوا کے ضلع اپر کوہستان میں داسو ہائیڈرو پاور پلانٹ کے قریب ’حملے‘ میں 9 انجینئرز، دو فرنٹیئر کور (ایف یس) اہلکاروں سمیت کم از کم 12 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

عہدیداروں کی ابتدائی اطلاعات متضاد نظر آئیں تاہم وزیر اعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے اسے ایک ‘بزدلانہ حملہ’ قرار دیا اور کہا کہ اس سے ’پاکستان اور اس کے ہمسایہ ممالک کے درمیان خصوصی اقدامات سے توجہ نہیں ہٹ سکتی‘۔

بابر اعوان نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیر داخلہ شیخ رشید احمد سے ملک کی سلامتی کی صورتحال پر بریفنگ دینے اور ایوان کو اس واقعے سے متعلق اعتماد میں لینے کا کہیں گے۔

کئی گھنٹوں بعد دفتر خارجہ نے حملے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بس ‘تکنیکی خرابیوں‘ کے باعث کھائی میں گر گئی، جس کے نتیجے میں گیس کا اخراج ہوا جس سے دھماکا ہوا‘۔

دفتر خارجہ نے بھی ہلاکتوں کی تعداد 12 بتائی جن میں 9 چینی شہری شامل ہیں، اس سے قبل 10 ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات کامران بنگش نے میڈیا کو بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ’اعلی سطح کے وفد اپر کوہستان روانہ ہو چکا ہے، زمینی حقائق سے عوام اور میڈیا کو آگاہ کریں گے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میڈیا سے درخواست ہے کہ قیاس آرائیوں سے گریز کریں، چینی اہلکاروں کی سیکیورٹی پر مامور بڑی تعداد میں عملہ موجود تھا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’شدید زخمیوں کو آرمی ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا جارہا ہے جبکہ ریسکیو 1122 کے ایمبولینسز اور اہلکار بڑی تعداد میں موقع پر پہنچ چکے ہیں اور ریسکیو سروسز فراہم کر رہے ہیں‘۔

بیجنگ کا پاکستان سے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ

ادھر چین نے پاکستان سے واقعے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔

اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ ملک میں ’چینی شہریوں، تنظیموں اور منصوبوں کی حفاظت‘ کے لیے ’مجرمان کو‘ سخت سے سخت سزا دیں۔

ایک بیان میں پاکستان میں قائم چینی سفارت خانے نے ’واقعے کی شدید مذمت‘ کرتے ہوئے متاثرین اور زخمیوں سے اظہار تعزیت کی اور کہا کہ ’اس معاملے سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے ساتھ اپنی پوری کوشش کریں گے‘۔

کہا گیا کہ پاکستانی حکام ’واقعے کی وجوہات کے بارے میں تحقیقات کر رہے ہیں‘۔

متضاد اطلاعات

واقعے کے فوراً بعد اپر کوہستان کے ڈپٹی کمشنر عارف خان یوسفزئی نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا تھا کہ یہ واقعہ صبح ساڑھے 7 بجے کے قریب اس وقت پیش آیا جب ایک بس برسین کیمپ سے 30 ورکرز کو لے کر پلانٹ کے مقام پر جارہی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ جب یہ واقعہ پیش آیا اس وقت غیر ملکی انجینئرز، فرنٹیئر کور کے اہلکاروں سمیت مقامی مزدور بس میں سوار تھے۔

بعد ازاں دفتر خارجہ نے بیان میں کہا کہ مکینیکل خرابی کے بعد بس ایک کھائی میں گر گئی جس کے نتیجے میں گیس کا اخراج ہوا جس سے دھماکا ہوا۔

بیان میں کہا گیا کہ ’پاکستان اور چین قریبی دوست ہیں، پاکستان چینی شہریوں، منصوبوں اور اداروں کی حفاظت کو بہت اہمیت دیتا ہے‘۔