محمود الرشید کووزیر بلدیات پنجاب کا قلمدان سونپ دیا گیا

پنجاب وزیر ہاؤسنگ محمود الرشید کو بلدیات اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ کی وزارت بھی دے دی گئی۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے پرنسپل سیکریٹری طاہر خورشید نے بلدیات کی وزارت محمود الرشید کو دینے سے متعلق نوٹیفیکیشن جاری کر دیا۔

اس سے قبل بلديات کا قلمدان سینیئر صوبائی وزیر عليم خان کے پاس تھا۔

عبدالعلیم خان اس وقت صوبے کے سینیئر وزیر اور صوبائی وزیر خوراک ہیں۔ علیم خان کے استعفے کے بعد بلديات کو وزيراعلیٰ پنجاب ديکھ رہے تھے۔

وزیراعظم عمران خان کاسا کانفرنس میں شرکت کیلئے ازبکستان پہنچ گئے

اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان 2 روزہ دورے پر ازبکستان پہنچ گئے ، عمران خان ازبک صدر کے ہمراہ کاسا کانفرنس کا افتتاح کریں گے ۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان 2روزہ سرکاری دورے پر ازبکستان پہنچ گئے ، حکومتی وزرا، کاروباری افراد پر مشتمل اعلیٰ سطح وفد بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کاسا کانفرنس میں شرکت کریں گے، جہاں عمران خان اور ازبک صدر کاسا کانفرنس کا مشترکہ افتتاح کریں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی افغان صدراشرف غنی سے ازبکستان میں ملاقات کاامکان ہے ، دونوں رہنماؤں کی ازبکستان میں کاساکانفرنس کی سائیڈلائن پرملاقات ہوسکتی ہے۔

دورے کے دوران وزیراعظم ازبکستان کے صدر اور کاروباری شخصیات سے ملاقات کریں گے ، دونوں رہنماؤں میں باہمی دلچسپی،علاقائی ،بین الاقوامی امورپر بات چیت ہو گی۔

دورہ ازبکستان علاقائی ودو طرفہ تجارت، سیکیورٹی ضمن میں اہمیت کاحامل ہے ، عمران خان کے دورے کے دوران مشترکہ مفادات کے امور میں اہم معاہدے،مفاہمتی یاداشتوں سمیت تجارت ،معاشی تعاون پر مبنی معاہدے اور مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط ہوں گے۔

وزیراعظم عمران خان پاک ازبک تجارتی فارم سے بھی خطاب کریں گے ، فارم میں دونوں ممالک کی معروف کاروباری اور سرمایہ کار شخصیات شریک ہوں گی۔

دونوں ممالک کے درمیان جوائنٹ بزنس کونسل کا افتتاحی سیشن بھی ہوگا اور وزیراعظم عالمی کانفرنس سینٹرل اینڈ ساؤتھ ایشیاعلاقائی روابط سے بھی خطاب کرینگے ، جس میں ویژن سینٹرل ایشیاپالیسی2021پربھی روشنی ڈالیں گے۔

بلوچستان کے علاقے پسنی میں دہشت گردوں کا سیکیورٹی فورسز پر حملہ 2 جوان شہید

بلوچستان کے ساحلی شہر پسنی کے خدا بخش بازار میں دہشت گردوں کے حملے میں پاک فوج کے ایک افسر، اور سپاہی شہید ہوگئے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ سے جاری بیان کے مطابق دہشت گردوں نے امپرووائزڈ ایکسپلوزیو ڈیوائس (آئی ای ڈی) سے سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا۔

بیان کے مطابق حملے کے نتیجے میں کیپٹن عفان مسعود اور سپاہی بابر زمان نے جامِ شہادت نوش کیا جبکہ دہشت گردوں کو پکڑنے کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ دشمن ایجنسیوں کی حمایت سے دہشت گردوں کی اس طرح کی بزدلانہ کارروائیاں بلوچستان میں سخت محنت سے حاصل کیے گئے امن اور خوشحالی کو سبوتاژ نہیں کرسکتیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ سیکیورٹی فورسز ہر طرح سے اس قسم کے گھناؤنے افعال کو بے اثر کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

گزشتہ ماہ کے اواخر میں بلوچستان کے ضلع سبی میں دہشت گردوں نے فرنٹیئر کور (ایف سی) کے دستے پر حملہ کردیا تھا جس کے نتیجے میں 5 اہلکار شہید ہوئے تھے۔

سبی کے علاقے سنگن میں دہشت گردوں نے ایف سی کی پیٹرولنگ پارٹی کو نشانہ بنایا تھا جس کے بعد فائرنگ کے تبادلے میں ایف سی کے جوان شہید ہوئے۔

قبل ازیں کوئٹہ میں دہشت گردوں نے دیسی ساختہ بم حملے میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے 4 جوانوں کو شہید کردیا تھا۔

دہشت گردوں نے مارگیٹ مائنز کی سیکیورٹی میں مامور فرنٹیئر کور کے جوانوں کو مارگیٹ روڈ کوئٹہ میں دیسی ساختہ بم استعمال کرتے ہوئے نشانہ بنایا۔

اس سے قبل جون میں ہی بلوچستان کے ضلع خاران میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن (آئی بی او) کے دوران ایف سی کا ایک فوجی شہید ہوگیا تھا۔

اسی طرح یکم جون کو بلوچستان میں ہوئے 2 حملوں کے نتیجے میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے 4 اہلکار شہید اور 8 زخمی ہوگئے تھے۔

تاجک وزیر دفاع کی ملاقات, پاکستان تاجکستان سے برادرانہ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے : آرمی چیف

آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے تاجکستان کے وزیر دفاع نے ملاقات کی اور  افغانستان بالخصوص تاجک افغان سرحد کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

انٹرسروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی، مجموعی علاقائی صورتحال سمیت پاک تاجک دفاعی اشتراک بڑھانےکے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاک تاجک تعلقات مشترکہ مذہب اور ثقافت پر مبنی ہیں، پاکستان تاجکستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔

آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے علاقائی روابط کی جانب تاجکستان کی کوششوں کو سراہا۔

اس موقع پر تاجک وزیر دفاع نے بھی علاقائی امن واستحکام بالخصوص افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق تاجک وزیردفاع نے پاکستان سے بہتر تعلقات کے لیےکام جاری رکھنےکاعزم کیا۔

افغانستان کے مسئلے پر پاکستان خصوصی کانفرنس کی میزبانی کرے گا: فواد چوہدری

وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ افغانستان کے استحکام اور سلامتی کے مسئلے پر  پاکستان جلد ایک خصوصی کانفرنس کی میزبانی کرے گا۔

وفاقی وزیر نے ٹوئٹر  پر  پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے استحکام اور سلامتی کے لیے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں، وزیراعظم عمران خان نے اب سے کچھ دیر  پہلے افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی سے فون پر گفتگو کی۔

فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ مذکورہ کانفرنس کی تفصیلات جلد سامنے لائی جائیں گی۔

فواد چوہدری کے مطابق مجوزہ کانفرنس میں حامد کرزئی سمیت اہم ترین افغان قیادت کو شمولیت کی دعوت دی گئی ہے، امید ہے کہ اس اہم پیشرفت کے نتیجے میں افغانستان کے مسائل کے حل کی نئی امید جاگے گی۔

ذرائع کے مطابق سابق صدر حامد کرزئی، صلاح الدین ربانی، افغان صدرکے نمائندہ خصوصی عمر داؤد زئی اور سابق وزیر خزانہ عمر زاخیل وال کو اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے جن میں سے عمر زاخیل وال اور عمر داؤد زئی نے اجلاس میں شرکت کی تصدیق کر دی ہے  تاہم اجلاس کی تاریخوں کا ابھی تعین نہیں کیا جاسکا ہے۔

خیال رہے وزیراعظم عمران خان آج ازبکستان میں جنوب اور  وسط ایشیائی ملکوں کی کانفرنس میں شرکت کے لیے دو روزہ دورے پر تاشقند پہنچیں گے، کانفرنس میں افغان صدر اشرف غنی بھی شرکت کریں گے۔

طالبان نے باب دوستی پر جھنڈا لہرا دیا، پاکستان امن کانفرنس بلالی

چمن سے متصل افغانستان کی تمام سرحدی چوکیوں پر طالبان نے قبضہ کر لیا ،پاک افغان بارڈر پر یقینی صورتحال ۔
آمدورفت بندہونے سے تجارت بھی معطل،چمن قندھارشاہراہ پرطالبان کا کنٹرول،فوج واپس بلانا بڑی غلطی: جارج بش
عمران خان اورحامدکرزئی میں ٹیلی فونک رابطہ،افغان قیادت کو کانفرنس میںشرکت کی دعوت ، پاکستان نے چمنسے متصل با ب دوستی پر سکیورٹی بڑھادیا۔

چمن: طالبان نے پاکستان اور افغانستان کے مابین مرکزی گزرگاہ کاکنٹرول حاصل کرلیا۔

ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ پاکستانی سرحد سے متصل افغان ضلع اسپن بولدک پر قبضے کے لیے حملہ کیا گیا، پاکستان اور افغانستان کے مابین مرکزی گزرگاہ کاکنٹرول حاصل کرلیا ہے۔

ترجمان طالبان کا کہنا ہےکہ طالبان نے 20 سال بعد افغانستان کی جانب سے باب دوستی کاکنٹرول دوبارہ حاصل کرلیا ہے، باب دوستی پر طالبان نے افغانستان کا قومی پرچم اتار دیا اور طالبان امارت اسلامی کا سفید پرچم لہرادیا گیا ہے۔

ترجمان طالبان نے اپیل کی کہ شہری اور تاجر آج باب دوستی کی جانب نہ آئیں ۔

دوسری جانب افغان محکمہ ٹرانسپورٹ نے تصدیق کی ہےکہ افغانستان میں چمن قندھار شاہراہ پر طالبان نے کنٹرول کرلیا جس کے باعث آمدورفت معطل ہے۔

پاکستان کا بابِ دوستی بھی بند

علاوہ ازیں لیویز حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے بھی باب دوستی ہر قسم کی آمدورفت کے لیے بند ہے جس کے باعث تجارت بھی معطل ہے، باب دوستی پر اضافی سکیورٹی تعینات کرکے پاک افغان بارڈر پر ہائی الرٹ کردیا گیا ہے، باب دوستی گیٹ سے آمدورفت اور تجارت بحالی کیلئے طالبان کی مقامی قیادت سے رابطے میں ہیں۔

لیویز حکام کےمطابق چمن سے متصل افغانستان کی تمام سرحدی چوکیوں پر طالبان کا قبضہ ہے اور پاک افغان بارڈر پر غیریقینی صورتحال ہے۔

فورسز نے طالبان کا حملہ پسپا کردیا: افغان وزارت داخلہ

ادھر افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نے خبر ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہےکہ طالبان نے اسپن بولدک کےسرحدی علاقےکی جانب کچھ پیش قدمی کی تھی جہاں افغان سکیورٹی فورسزنے طالبان کا حملہ پسپا کردیا۔

واضح رہےکہ گزشتہ روز امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری بیان میں بتایاگیا ہے کہ 12 جولائی 2021 تک 984 سی سیوینٹین طیاروں کے ذریعے سامان افغانستان سے نکالا جاچکا ہے، امریکا اب تک 7 تنصیبات افغان وزارت دفاع کے حوالے کر چکا ہے۔

رنگ روڈ کیس:سابق کمشنر اور لینڈ ایکوزیشن آفیسر راولپنڈی گرفتار

راولپنڈی کے رنگ روڈ کیس میں اينٹی کرپشن نے سابق کمشنر راولپنڈی کيپٹن ريٹائرڈ محمد محمود اور لینڈ ایکوزیشن آفیسر راولپنڈی کو گرفتارکرليا۔

ڈی جی اينٹی کرپشن پنجاب گوہر نفيس نے نيوز کانفرنس میں بتايا کہ رنگ روڈ میں بیورو کریسی اور پراپرٹی مافیا کا گٹھ جوڑ سامنے آیا ہے۔ سارے معاملے میں ہاوسنگ سوسائٹیز نے فائدہ اٹھایا۔ کسی سیاسی شخصیت کی براہ راست سرمايہ کاری سامنے نہيں آئی ہے۔ کمشنر راول پنڈی نے اختیارات سے تجاوز کیا۔ رنگ روڈ کیس میں آف شور انویسٹمنٹ سامنے آئی ہے۔

ابتدائی تحقيقاتی رپورٹ میں کابینہ کے کسی رکن کے ملوث ہونے کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ رنگ روڈ منصوبے سے متعلق ہاؤسنگ سوسائیٹیز کی تحقیقات نیب کرے گا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ رنگ روڈ میں کیس میں زلفی بخاری اور غلام سرور خان کے ملوث ہونے کا الزام تھا۔ الزامات کے بعد زلفی بخاری نے معاون خصوصی کےعہدے سے استعفیٰ ديا تھا۔

رنگ روڈ منصوبے کی تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ الائنمنٹ تبدیل کرنے کی منظوری صوبائی ڈویلپمنٹ بورڈ سے نہیں لی گئی تھی۔ رنگ روڈ کیس میں الائنمنٹ تبدیل کرنا اور غیر قانونی ایوارڈ ہونا ثابت ہوا ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں ڈپٹی پراجیکٹ، پراجیکٹ ڈائریکٹر اور دیگر متعلقہ افراد کیخلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ مرتب کرنے کیلئے ‏6 رکنی جے آئی ٹی نے تحقیقات میں 21 ہزار صفحات کی جانچ پڑتال کی۔ اسی رپورٹ میں ‏پراجیکٹ ڈائریکٹر کا وزیراعلیٰ پنجاب سے ہدایات لینے کا دعویٰ بھی غلط ثابت ہوا ہے۔

رپورٹ کے متن کے مطابق ہاؤسنگ سوسائیٹیز کو فائدہ پہنچانے کیلئے 5 نئے انٹر چینجز تجویز کئے گئے۔ ‏رنگ روڈ منصوبے میں وزیراعظم کی ہدایات کی خلاف ورزی کی گئی۔ ‏منصوبے کی لاگت میں پی سی ون میں تبدیل کرنے سے 10 ارب روپے اضافہ ہوا۔ 51.7 کلو میٹر کا منصوبہ 6 ارب 24 کروڑ روپے میں مکمل ہونا تھا۔ منصوبہ بڑھ کر 66.3 کلو میٹر اور لاگت 16 ارب 30 کروڑ روپے ہوگئی۔ زمین کی خریداری میں حکومت کو 2 ارب 10 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔

آ بادی اور ماحول کا عفریت

میاں انوارالحق رامے
دنیا میں ابادی میں اضافہ جیو میٹریکل کے حساب سے ہوتا ہے دو سے چار اور چار سے سولہ‘سالانہ کل آبادی میں اضافے کے حوالے سے انڈیا اور چین کے بعد پاکستان دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے۔پاکستان میں سالانہ پانچ ملین لوگوں کا اضافہ ہوتا ہے ہمیں اس بات کا بھی شعوری طورپر ادراک ہونا چاہیے کہ پاکستان آبادی کے حوالے سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک بن چکا ہے۔جبکہ 1947 میں موجودہ پاکستان دنیا میں کل آبادی کے اعتبار سے 14 نمبرپر تھاپاکستان کے حکمرانوں کو 1960 کی دہائی میں آبادی کی بڑھوتری کے حوالے سے احساس ہو گیا تھا اور بڑے زور و شور سے اس کے لئے ایک مستعد شعبہ بھی قائم کردیا گیا تھا۔بعد ازاں ناگزیر مذہبی اور سماجی وجوہات کی بنا پر اس شعبے کی بندش عمل میں لائی گئی۔
ابتدا میں پاکستان کے علمائے کرام اور سماجی رہنماں نے اس کی شدید مخالفت کی تھی. خاندانی منصوبہ بندی کے عمل کو بے راہ روی اور جنسی جرائم میں اضافہ کا سبب قرار دیا گیا تھا۔80 کی دہائی میں روسی فوجوں کے افغانستان میں قبضے کی وجہ سے پاکستان میں اسلام اور جہاد کا جذبہ شدید تر تھا۔ خاندانی منصوبہ بندی کو فرمان رسولؐ اور اسلام کے خلاف اغیار کی سازش قرار دیا جاتا تھا۔عوام الناس کے اندر قسم قسم کے وہم اور بدگمانیاں موجود تھیں۔ خاندانی منصوبہ بندی کے خلاف ایک باقاعدہ مہم چلائی گئی۔خاندانی منصوبہ بندی پر عمل نہ کرنے کا خمیازہ ہم ج بھگت رہے ہیں۔ اس کے مقابلے میں بنگلہ دیش کی مثال ہمارے سامنے ہے۔بنگلہ دیش کی علیحدگی کے وقت موجودہ پاکستان کی بادی سے پچاس لاکھ آبادی زیادہ تھی۔
مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان ایک پیرٹی parity برابری کی بنیاد پر قومی اسمبلی نشستوں کی تقسیم کی گئی تھی۔مشرقی پاکستان کے لوگوں کا (بنگلہ دیش) خیال تھا کہ انہیں آبادی کی بنیاد پر قومی اسمبلی کی نشستیں دی جائیں. بنگلہ دیش کے قیام کے بعد اہل بنگلہ دیش نے اپنے ہاں آبادی کو کنٹرول کرنے کیلئے سخت اقدامات پر عمل کیا۔جس کے مثبت نتائج مرتب ہوئے۔
آج بنگلہ دیش کی آبادی صرف سترہ کروڑ ہے ہمارے ہاں یہ تصور عام تھا کہ چونکہ بنگلہ دیش کے لوگ مچھلی زیادہ کھاتے ہیں اس لئے ان کے ہاں بچوں کی پیدائش زیادہ ہوتی ہے۔چین کی آبادی کم کرنے کی درخشاں مثال ہمارے سامنے ہے۔ابتدا میں جب چینی قوم کو اہل مغرب نے آبادی کم کرنے کی تجویز دی تھی تو اہل چین نے بھی اس کوسازش قرار دیا تھا. بعد ازاں بیدار مغز قیادت کی وجہ سے چین نے آبادی کو کنٹرول کر کے دنیا کو حیرت زدہ کر دیا تھا۔دنیا کی سب سے سخت پالیسی کا اعلان کیا جس کے تحت ایک جوڑا صرف ایک بچہ‘ اگر کوئی جوڑا اس کی خلاف ورزی کرتا تو اسے سزا کا مستحق قرار دیا جاتا تھا۔چین نے آبادی کنٹرول کرنے کا یہ عمل 1979 سے شروع کیا تھا اور 2016 میں اس میں نرمی کا اعلان کردیا ہے اب ایک جوڑا دو بچے پیدا کر سکتا ہے اگر چین آبادی کو کنٹرول نہ کرتا تو آج چین کی کل آبادی دو ارب کے قریب ہوتی۔اگر ہم بھارت کے حالات کا جائزہ لیں تو ہمیں اندازہ ہو گا کہ سالانہ اس کی بے ہنگم آبادی میں ایک کروڑ ستر لاکھ کا اضافہ ہو رہا ہے اس لیئے محسوس ہو رہا ہے اگلے پانچ سال کے اندر اندر بھارت زیادہ آبادی والے ملک ہونے کا چین سے ٹائٹل چھیننے میں کامیاب ہو جائے گا۔ پانی ہوا اور دیگر ماحولیاتی دشواریوں کے بادل بھی بھارت اور پاکستان پر منڈلا رہے ہیں۔
پاکستان میں سالانہ آبادی میں اضافہ 2.4 فیصد کے حساب سے ہو رہا ہے۔ہمارے ہاں حکومت بھی خاموش ہے اور عوام میں بھی اس حوالے سے کوئی تشویش نئی محسوس نہیں کی جا رہی۔ آبادی میں اضافہ کی وجہ سے اور دیگر حفظان صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی کی بنا پر ہمارے ہاں ایک تیسرے بدترین موسم کا آ غاز ہو چکا ہے۔اس نا ہنجار بد بخت موسم کا نام سموگ ہے یہ وہ زہریلی وبا ہے جو اکتوبر کے آخری عشرے میں خوفناک بادلوں کی صورت میں نمودار ہوتی ہے۔جب تک بارش نہ ہویہ قیامت خیز دھند / سمو گ آسمان کی بلندیوں پر رقص کرتی رہتی ہے۔ المختصر ہمیں آبادی کے بڑھتے ہوئے بے ہنگم اضافے کو روکنا ہوگا ورنہ ہم ترقیئ معکوس کی طرف چل پڑیں گے۔
(کالم نگارمعروف سابق پارلیمنٹیرین اورپاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما ہیں)
٭……٭……٭

کشمیر کے انتخابات کامنظرنامہ

خضر کلاسرا
کشمیر الیکشن جوکہ 25جولائی کو ہونے جارہاہے، انتخابی مہم زور پر ہے۔ الیکشن مہم میں ایک طرف جہاں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور نوازلیگی لیڈر مریم نواز شریف عوامی جلسوں میں ایک دوسرے پر گرج برس رہے ہیں۔طنز اور طعنوں کے نشتر چلارہے ہیں۔وہاں پر تحریک انصاف کو بھی کشمیر پالیسی سمیت دیگر ایشوز پر آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں لیکن اس صورتحال میں جب کشمیر الیکشن اب چنددنوں کے فاصلے پر ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کے وزیر بھی کشمیر الیکشن میں جیت کے حصول کیلئے میدان میں ہیں اور ان دونوں پارٹیوں کا کٹھا چٹھا عوام کو بتانے کے لئے متحرک ہیں۔کشمیر کے انتخابی جلسوں میں بلاول اورمریم کے ایک دوسرے پر ذاتی حملوں کو پاکستان پیپلزپارٹی اور نوازلیگ کی دوسرے درجہ کی لیڈرشپ یہ جواز پیش کرکے ٹھندا کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ الیکشن میں ایسا ہوتاہے۔ مطلب یہ نوراکشتی ہے۔ الیکشن ہوگئے تو پھر بہن بھائی ہونگے۔ ادھر مریم نوازشریف کشمیر میں الیکشن مہم کیلئے ہونے والے عوامی جلسوں میں کوئی ایسا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے رہی ہیں جس میں تحریک انصاف پر دھاندلی کرنے کی منصوبہ بندی کے الزامات نہ لگارہی ہوں۔ اب تو عوامی جلسوں میں تواتر کے ساتھ اس با ت کا الزام لگارہی ہیں کہ وزیرپیسے بانٹتے پکڑے گئے ہیں۔وغیرہ وغیرہ۔
ادھر بلاول بھٹو نے تو کشمیر الیکشن میں وزیراعظم عمران خان کشمیر کے ایشوپر عوامی جلسوں میں لتاڑا ہے سو لتاڑا ہے لیکن پاکستان پیپلزپارٹی کے لیڈر مطلب بلاول کے بابا سئیں آصف علی زردار ی نے تو دوجملوں میں بات ہی ختم کردی ہے، اس بار بھی کشمیر الیکشن میں وہی ہوگا جوکہ ہوتا آیا ہے مطلب جیسے پیپلزپارٹی نے وفاق میں حکومت میں ہوتے ہوئے کشمیر کے عوام کا مینڈیٹ لیا تھا، اسی طرح پھر نوازلیگ نے وفاق میں اقتدار میں ہوتے ہوئے جیسے کشمیر کا الیکشن جیت لیاتھا۔ یعنی کہ تحریک انصاف کی حکومت وفاق میں ہے تو وہی الیکشن میں سکندر ٹھہرے گی،تاریخ بھی گواہ ہے کہ ایسا ہی ہوتاچلا آیاہے، اور زرداری وہی کہا ہے جوکہ اقتدار میں دیکھا تھا یا پھر یوں سمجھ لیں کہ جو کیا تھا۔زرداری کے کشمیر میں الیکشن پر تبصرہ پر یقین یوں بھی کیاجاسکتاہے کہ زرداری صاحب نے اپنے بیٹے بلاول بھٹو زرداری کو کشمیر الیکشن کی مہم میں سے نکال کر امریکہ روانہ کردیاہے۔ادھر وزیر داخلہ شیخ رشید سے کشمیر الیکشن کی ہارجیت کے بارے میں سوال ہوا تو انہوں نے ایک کی بجائے تین بار کہا کہ وہ ہاریں گے، وہ ہاریں گے، وہ ہاریں گے اور ساتھ یہ بھی کہاکہ ریجن کی صورتحال بھی یہی تقاضاکرتی ہے کہ تحریک انصاف جیتے اور وزیراعظم عمران خان کی پارٹی کشمیر میں حکومت بنائے۔شیخ رشید کی پیشنگوئی بھی آصف علی زردادری کے کشمیر الیکشن پر داغے گئے بیان کے تناظر میں دیکھا جائے تو درست نظرآتی ہے۔ دونوں کشمیر کے الیکشن میں وفاق کے اثر سے بھی واقف ہیں لیکن اب سوال یہ پیداہے کہ کشمیرسمیت ہمارے ملک میں اس بات کا رواج کیوں پڑچکاہے کہ الیکشن کی آمد کے ساتھ ہی حکمران جماعت صاف شفاف الیکشن کا نعرہ لے کرآجاتی ہیں جبکہ اپوزیشن دھاندلی کے الزامات کی پٹاری لے کر میدان میں اتر پڑتی ہے۔دونوں اطراف سے اس ایشو پر اتنا واویلا ہوتاہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی ہے،پھر یوں ہوتاہے کہ جو الیکشن ہارتاہے وہ دھاندلی کا الزامات لگاتاہے اور جو جیتاہے وہ اس کے مخالف بیانیہ لے کر اپنی کہانی اگلے پانچ سال تک سناتا رہتاہے؟
تحریک انصاف لاکھ کوشش کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ الیکشن صاف شفاف کرائے اپوزیشن جماعتوں بالخصوص نواز لیگی قیادت اورپیپلزپارٹی الیکشن کو شفاف نہیں مانے گی، وجہ جہاں شکت ہو، وہاں دھاندلی کا نعرہ لے کر چل پڑو اور یہی کچھ تحریک انصاف کے کیمپ سے بھی ہوتاہے۔ یہ چل سو چل ہے۔تحریک انصاف بھی وہی دھرارہی ہے جوکہ پیپلزپارٹی اور نواز لیگ وفاق میں حکمران جماعت کی حیثیت میں کیاکرتی تھیں،مطلب عوام کی رائے کسی طرف بھی ہو لیکن الیکشن میں جیت ان کی ہوگی جوکہ مرکز کے اقتدارمیں ہونگے؟ یہاں یہ بات بھی غور طلب ہے کہ کیا کشمیری الیکشن کے دن واقعی اتنے معصوم ہوتے ہیں کہ ان کا ووٹ چرالیا جاتاہے اور وفاق میں موجودہ حکمران جماعت الیکشن جیت کر حکومت بنالیتی ہے، یا پھر معذرت کے ساتھ کشمیر میں ایسے نقالی لیڈروں اور ورکروں کی بڑی کھیپ تیار ہوچکی ہے جوکہ الیکشن میں ذاتی مفاد کی خاطر لوگوں کے ووٹ کو دائیں سے بائیں کروانے میں کمال مہارت رکھتے ہیں اور چونچ گیلی ہوتے ہی متحرک ہوجاتے ہیں، اور پھر گلے میں مفلرڈال کر تحریک انصاف کو پیارے ہوجاتے ہیں۔یاپھر ”زرداری سب پہ بھاری“ کے نعروں سے قیامت برپا کردیتے ہیں۔
ادھر نوازشریف کا اقتدار ہوتو اس پر قربان ہوجاتے ہیں۔ یہ تحقیق طلب سوال ہے۔اور اس پر ریسرچ کی ضرورت ہے۔ آصف علی زرداری کے صحافی کے سوال پر دوجملوں کی کہانی تو سمجھ آتی ہے کہ کون کشمیر الیکشن میں جیتے گا لیکن موصوف نے یہ نہیں بتایا کہ وفاق کی حکمران جماعت ہونے کے ناطے پیپلزپارٹی یا مسلم لیگ نواز یا پھر اب تحریک انصاف کشمیر کے الیکشن کس سیلبس کے تحت جیت لیتی ہیں؟شاید اس لیے انہوں نے اس راز سے پردہ نہیں اٹھایا اور ہار مان لی کہ کل کو اقتدار ملا تو انہوں نے بھی اسی وفاق کے سلیبس کا سہارا لینا ہے جوکہ چلا آرہاہے۔ یوں عوام کو آگاہ کرکے اپنے اور ہم خیال جماعتوں کے اقتدار کے ایجنڈے کو خراب نہیں کرنا چاہتے ہیں۔
(کالم نگاراسلام آباد کے صحافی اورتجزیہ کار ہیں)
٭……٭……٭

دیکھے ہیں پردہ ہائے نام بہت

ڈاکٹرعبدالقادر مشتاق
ایک دور تھا جب لائلپور پر مزدوروں اور کسانوں کی حکمرانی ہوتی تھی مزدور یونین کے ذریعے مزدوروں کے مفادات کا تحفظ کیا جاتا تھا جب تک یونینز مضبوط رہیں اس وقت تک مزدوروں اورکسانوں کے حقوق کا تحفظ مضبوط ہاتھوں میں رہا لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا ویسے ہی مزدور یونینز کمزور ہوتی گیئں اور صنعتکار کی حکمرانی جڑ پکڑتی گئی صنعتکاروں اور تاجروں نے جہاں مزدور کا استحصال شروع کیا وہیں عوام کو ایڑھیاں رگڑنے پر مجبور کر دیا۔دوسری طرف دیکھا جائے تو اسی طرح کے حالات کا کسانوں کو بھی سامنا کرنا پڑا۔مالک ِ زمین نے مزارع کا استحصال شروع کیا اور اس کی آواز کو دبانے کے لئے نرم دمِ گفتگو اور گرم دمِ جستجو کو اپنا شیوا بنائے رکھا۔ اس طرح پاکستان میں صنعتکار اور زمیندار کی حکمرانی کا تسلط قائم ہو گیا اور یہی لوگ ہر دور میں حکومتِ وقت کا حصہ بھی رہے جس کی وجہ سے پاکستان میں نہ تو ایگریکلچرل ریفارمز آئیں اور نہ ہی لیبر ریفارمز کی شکل میں مزدوروں اور کسانوں کی قسمت بدلنے کا عہد کیا گیا ایوب خان اورذولفقار علی بھٹو کے دور میں اگرچہ زرعی ریفارمز اور لیبر پالیسی کا متعارف کروایا جانا احسن اقدام تھا لیکن اس کے کوئی خاطر خواہ نتائج سامنے نہ آسکے۔بڑے بڑے زمینداروں نے صنعتکاروں کے ساتھ رشتے داری کرنے کو ترجیح دی اپنے بیٹے اور بیٹیوں کے رشتے آپس میں کرکے اس اتحاد کو مزید مضبوط کیا جب انہوں نے غور کیا کہ پاکستان میں کون سے ایسے ادارے ہیں جن کے ذریعے وہ اپنے اقتدا ر کو مزید مضبوط کر سکتے ہیں تو انہوں نے اسی رشتے داری کا جال پھیلاتے ہوئے وہ بیوروکریسی،عدلیہ اور افواجِ پاکستا ن کو بھی اپنے اثر میں لانے میں کامیاب ہو گئے اس طرح ایک اتحاد دیکھنے کو ملا جس میں صنعتکار،زمیندار،بیوروکریسی،عدلیہ اور افواجِ پاکستان شامل ہو گئے۔قائدِ اعظم محمد علی جناح اور لیاقت علی خان کی وفات کے بعد پاکستان پر ان لوگوں کی حکمرانی کا دور شروع ہوا او ر وہ کسی نہ کسی شکل میں آج تک چلا آ رہا ہے اس میں کبھی تو بیوروکریسی نے ملک غلام محمد کی شکل میں،افواجِ پاکستان میں ایوب خان کی شکل میں اور زمینداروں نے بھٹو کی شکل میں،صنعتکاروں نے نواز شریف کی شکل میں اور عدلیہ نے کبھی جسٹس منیر کی شکل میں تو کبھی افتخار محمد چوھدری کی شکل میں پاکستان پرحکمرانی کو قائم و دائم رکھا۔اب اس اتحاد کو جس نے بھی توڑنے کی کوشش کی یا اس کے خلاف آواز بلند کرنے کی ہمت کی تو وہ یا تو ملک دشمن ٹھہرا یا پھر کافرِ اعظم۔اس اتحاد کو مزید مضبوط کرنے میں دائیں بازو کے لوگوں نے بھی اپنا حصہ ڈالنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی وہ ایسا کیوں نہ کرتے کیونکہ زیادہ تر دینی مدرسے سرکاری زمینوں پر آباد کئے جا چکے ہیں اور جو بھی حکومتِ وقت کے خلاف آواز بلند کرتا ہے اس مدرسے کے خلاف آپریشن شروع کر دیا جاتا ہے اس طرح سرکاری زمینوں کو قانونی شکل دینے کے لئے حکومتِ وقت کی مدد درکار ہوتی اور اس مدد کے بدلے میں مذہبی طبقہ حکومت کی جڑوں کو مضبوط کرنے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔
دوسری طرف دیکھا جائے تو ان مدارس کو چلانے کے لئے روپے پیسے کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور یہ روپے پیسے صدقات یا عطیات کی شکل میں وصول ہوتے ہیں اب یہ صدقات یا عطیات ملنے کا سب سے بڑا ذریعہ زمیندار اور صنعتکار ہوتے ہیں جن کی وجہ سے مدرسے میں زیرِ تعلیم طلبہ و طالبات کو نہ صرف اچھا کھانے کو ملتا ہے بلکہ رہنے کے لیے بھی شاندار عمارت کا بند وبست ہوتا ہے۔اگر زمیندار اور صنعتکار ان مدرسوں کے عطیات اور صدقات بند کر دیں تو مدرسوں کو چلانا ممکن ہی نہیں بلکہ نا ممکن بھی ہے۔ لائلپور کی زمین بھی اس اتحاد سے اپنے آپ کو محفوظ نہ رکھ سکی جب تک لیبر یونینز کادور دورہ رہا اس وقت تک مذہبی انتہا پسندی کا وجود ممکن نہ رہا لیکن جونہی صنعتکار کی معیشت مضبوط ہوئی تو مذہبی انتہا پسندی نے بھی جڑیں پکڑنا شروع کر دیں لیکن اس کو قابو میں رکھنے کے لئے صنعتکار نے صدقات اور عطیات کا سہارا لیا جو صنعتکار جس مسلک سے تعلق رکھتا تھا اس نے اسی مسلک کے مدرسوں اور اداروں کو فروغ دینے کے لئے صدقات اور عطیات کا منہ کھولا۔اس سے ان کو دو فوائد حاصل ہوئے۔اول،مذہبی فرقے کی امداد صنعتکار کے شاملِ حال رہی۔دوم، صدقات اور عطیات دے کروہ اپنا نام نیک اور شرفاء لوگوں میں شامل کروانے میں کامیاب ہو گئے۔لائلپور کی سرزمین پر بھی تمام مذہبی مسالک نہ صرف اپنے بڑے بڑے مدرسے قائم کر چکے ہیں بلکہ ان مدرسوں کے نام پر بڑے بڑے صنعتکاروں سے صدقات اور عطیات بھی وصول کرتے ہیں۔یہ ادارے نہ صرف اسلامی تعلیمات سے طلبا وطالبات کوروشناس کرواتے ہیں بلکہ اپنی تقاریر کے ذریعے بھی اسلام کی تعلیمات کا پر چار کرتے ہیں۔
ان تمام حالات کا اگر بغور مشاہدہ کیا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ لائلپور میں صنعتکار اور مذہبی مسالک کا آپس میں گہرا تعلق استوار ہو چکا ہے جس سے منہ موڑنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے اور یہاں تک کہ شہر میں امن و امان قائم رکھنے کے لئے بھی صنعتکاروں کی مدد درکار ہوتی ہے تا کہ کہیں بھی مذہبی تفر قہ بندی سر نہ اٹھا سکے اور اگر کہیں خدشہ بھی پیدا ہو تو امن و امان کو بحال کرنے میں ہمیشہ صنعتکاروں کا ہی کلیدی کردار رہا جنہوں نے مسالک کو لڑائی جھگڑے میں پڑنے کی بجائے صلح اور امن کی طرف ہاتھ بڑھانے کو ترجیح دی۔ یہ وہ مثبت پہلو ہے جس کی وجہ سے لائلپور کی سرزمین تفر قہ بندی کے شر سے محفوظ ہے اگر چہ لوگوں کے اندر مسالک کی جڑیں بڑی گہری ہیں لیکن وہ صرف عبادات کی حد تک۔ چاہے ربیع الاول کا مہینہ ہو یا محرم کا ان مہینوں کے شروع ہونے سے پہلے ہی تمام مکتبہء فکر کے علماء کرام کو ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے انتظامات کا جائزہ لیتی ہے اور ا س میں بین المذاہب کونسل کا کردار بڑا مثالی رہتا ہے ان تمام باتوں سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ صنعتکار،علماء کرام اور بیوروکریسی ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں تا کہ شہر میں امن کی فضا کو برقرار رکھا جا سکے۔
(کالم نگار جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے
شعبہ ہسٹری کے سابق چیئرمین ہیں)
٭٭٭