اسلام آباد (نئیر وحید راوت سے) ذمہ دار ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ نادرا آرڈیننس 2000 کے سیکشن 7 میں کی گئی ترمیم جس کے تحت نادرا کو ڈیٹا فراہم نہ کرنا بےقاعدگی تصور کرتے ہوئے اداروں کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی پر ابھی تک مکمل طور پر عملدرآمد نا ہونے پر نادرا نے تمام متعلقہ اداروں کو ریمائنڈر نوٹس دینے کا فیصلہ کیا ہے ذرائع کے مطابق اسمارٹ کارڈ کو اب تک بینک، ٹیکس کلیکشن، پراپرٹی رجسٹریشن اتھارٹی، ایمیگریشن ڈیپارٹمنٹ، اسلحہ اور ڈرائیونگ لائسنس جاری کرنے والی اتھارٹیز سمیت دیگرمتعلقہ محمکموں سے منسلک نہیں کیا گیانادراکے ایک ذرائع نے بتایا ہے کہ ماضی میں کئی بار وزارت داخلہ کو خط لکھا تاکہ اتھارٹی کو ایس این آئی سی نظام ذریعے دیگر اداروں سے منسلک ہونے کی اجازت دی جائے لیکن کبھی وزارت تذبذب کا شکار رہی تو کبھی متعلقہ محکموں نے نادراکو ڈیٹا فراہم کرنے کی حامی نہیں بھری۔ایس این آئی سی کا تعارف اکتوبر 2012 میں کروایا گیا تھا کہ لیکن پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کا ماننا ہے کہ سابقہ حکومت ایس این آئی سی نظام کو مکمل فعال اور مو¿ثر بنانے کے حوالے سےتذبذب کا شکار تھی کیونکہ یہ اشرفیہ کی بد عنوانیوں کو بے نقاب کر سکتا ہے، جس میں سیاستدان، اعلیٰ عہدوں پر فائز بیوروکریٹس شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق اسمارٹ کارڈ کے زریعے بینک لین دین، ٹیکس چوری، اور جائیداد کی خریدو فروخت جیسے معاملات کا سراغ لگایا جاسکتا ہےایس این آئی سی کے حقیقی تصور کے مطابق اس میں سیکیورٹی کے35 فیچرز ہیں اور اسے قومی اور بین الاقوامی سطح پر اے ٹی ایم کارڈ کے طور پر اور بین الاقوامی ائیرپورٹ پر سیکنڈری شناختی کارڈ اور انشورنس کارڈ کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔تاہم پاکستان میں اب تک یہ ایک عام شناختی کارڈ کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ اسمارٹ کارڈ ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی میں بہتری کرتے ہوئے جعل سازی کو روکنا ہے اس کے ذریعے جعل ساز نہ صرف آئی ڈی کے دونوں اطراف کا ڈیٹا پرنٹ کر نے میں ناکام رہیں گے بلکہ چپ کے ذریعے اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے گاکہ کارڈ کے دونوں اطراف معلومات یکساں ہوں۔ چپ کے لیے ٹیکنیکل اقدامات کیے جائیں گے جسے تبدیل کرنا انتہائی مشکل ہوگااور یہ باآسانی سراغ لگانے کے قابل بھی ہوگا۔ حکومت کی جانب سے نادرا کے نیشنل آئیڈینٹیٹی سسٹم ( این آئی سی) کے ذریعے چلنے والا آلہ ہوسکتا ہے ایس این آئی سی حکومت کو پلیٹ فارم فراہم کرسکتا ہے کہ حادثاتی لائف انشورنس، صحت انشورنس، ایمرجنسی انشورنس، ریلیف، گھریلو ترسیلات، پینش کی ترسیل اور مستقبل میں ای ووٹنگ کے ذریعے ملک کو ایک فلاحی ریاست کی جانب لے کر جاسکے۔
نادرا کو ڈیٹا فراہم نہ کرنیوالے ادا روں کیخلاف کارروائی کا فیصلہ۔ رپورٹ: نیئر وحید

