امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی خصوصی تفتیش کے دوران ریکارڈ کی گئی آڈیو ریکارڈنگز جلد منظرِ عام پر آ سکتی ہیں، تاہم اس کا انحصار عدالتی فیصلے پر ہوگا۔ اگر عدالت ان ریکارڈنگز کی اشاعت روکنے کا حکم جاری نہ کرے تو انہیں عوام کے لیے جاری کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ آڈیوز خصوصی مشیر کی جانب سے کی گئی تحقیقات کا حصہ ہیں، جبکہ بائیڈن کی قانونی ٹیم نے ان کی اشاعت پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے رازداری اور قانونی تقاضوں کا حوالہ دیا ہے۔ دوسری جانب اس معاملے نے امریکی سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے اور عدالتی فیصلے کا بے چینی سے انتظار کیا جا رہا ہے۔

