سوئٹزرلینڈ (بورگن اسٹاک) میں جاری اہم مذاکرات کے بعد امریکہ اور ایران نے 60 دن کے اندر حتمی امن معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک تاریخی روڈ میپ پر اتفاق کر لیا ہے۔ اس پیشرفت کی تصدیق ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ممالک پاکستان اور قطر نے اپنے ایک مشترکہ اعلامیے میں کی ہے۔
📌 60 روزہ روڈ میپ کے اہم ترین نکات
امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے اس عبوری معاہدے (MoU) کے تحت اگلے 60 دنوں میں درج ذیل اہم اہداف حاصل کیے جائیں گے:
جنگ کا مستقل خاتمہ: دونوں ممالک تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں فوری اور مستقل طور پر بند کرنے اور ایک دوسرے کے خلاف طاقت کا استعمال نہ کرنے کے پابند ہوں گے۔
آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کا کھولا جانا: ایران عالمی تجارتی بحری جہازوں اور تیل کی سپلائی بحال کرنے کے لیے آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولے گا۔ محفوظ نیویگیشن کے لیے دونوں ممالک کے درمیان ایک مخصوص "کمیونیکیشن لائن” قائم کی جائے گی تاکہ کوئی غلط فہمی نہ ہو۔
لبنان میں جنگ بندی کا سیل: خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے امریکہ اور ایران لبنان کے محاذ پر فوجی آپریشنز روکنے کے لیے ایک مشترکہ "ڈی کانفلکشن سیل” (De-confliction Cell) قائم کریں گے۔ امریکی وفد کی قیادت کرنے والے نائب صدر جے ڈی وینس کے مطابق لبنان میں جنگ بندی ان کی اولین ترجیح ہے۔
پابندیوں میں نرمی اور اثاثوں کی بحالی: معاہدے کے تحت ایران کو تیل اور پیٹرو کیمیکل مصنوعات برآمد کرنے کی اجازت (Waivers) مل گئی ہے، اور بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کا ایک حصہ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
ایران کا جوہری پروگرام: حتمی معاہدے کے حصے کے طور پر ایران اپنے جوہری پروگرام پر مخصوص حدود نافذ کرنے کی یقین دہانی کرائے گا۔

