قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے اسمارٹ فونز پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کرنے کی تجویز کی منظوری دے دی ہے، یہ ایک ایسا اقدام ہے جس سے صارفین کو ریلیف مل سکتا ہے اور پاکستان میں موبائل ڈیوائسز کی قیمتوں میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔
یہ فیصلہ سابق وزیر خزانہ سید نوید قمر کی صدارت میں ہونے والے کمیٹی کے اجلاس کے دوران کیا گیا، جہاں قانون سازوں نے درآمد شدہ اور مقامی طور پر اسمبل کیے گئے موبائل فونز پر ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کا جائزہ لیا۔
کمیٹی نے ٹیکسوں کے موجودہ ڈھانچے کے تفصیلی جائزے کے بعد ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کرنے کی سفارش کی۔
بریفنگ کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے حکام نے قانون سازوں کو مطلع کیا کہ موبائل فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی فی الحال صرف مہنگے اسمارٹ فونز پر لاگو ہوتی ہے۔
ایف بی آر کے چیئرمین نے بتایا کہ ڈیوٹی کا بوجھ بنیادی طور پر کم قیمت والے فونز کے بجائے ہائی اینڈ (مہنگی) ڈیوائسز پر پڑتا ہے۔
کمیٹی کے ارکان نے فنانس بل 27-2026 میں ٹیکس ریلیف سے متعلق پچھلی یقین دہانیوں پر عمل درآمد کرنے میں حکومت کی ناکامی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
قانون سازوں کا کہنا تھا کہ ایف بی آر نے اس سے قبل دونوں پارلیمانی کمیٹیوں کو یقین دہانی کرائی تھی کہ بجٹ میں موبائل فون ٹیکسوں کا جائزہ لے کر انہیں کم کیا جائے گا، لیکن وعدہ کردہ ریلیف فراہم نہیں کیا گیا۔
کمیٹی کے رکن علی قاسم گیلانی نے کہا کہ وہ گزشتہ چھ ماہ سے موبائل فون ٹیکس کا معاملہ اٹھا رہے ہیں اور انہوں نے ایف بی آر کے سامنے بارہا اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
