تازہ تر ین

امریکا سے دوستی چاہتا ہوں لیکن غلامی نہیں : عمران خان

لاہور: (ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئر مین عمران خان نے کہا ہے کہ اینٹی امریکن نہیں ہوں، میں امریکا سے دوستی چاہتا ہوں لیکن غلامی نہیں چاہتا۔
لاہور کے نیشنل ہاکی سٹیڈیم میں تحریک انصاف کے حقیقی آزادی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا ہے کہ اللہ صرف تیرے سے مدد مانگتے ہیں، جشن آزادی تقریب میں ماؤں، بہنوں کو خوش آمدید کہتا ہوں، جہاں ایسے باشعور نوجوان ہو وہ ملک خوش قسمت ہوتے ہیں، آج میں نے حقیقی آزادی کا راستہ بتانا ہے، حقیقی آزادی کوحاصل کرنے کے لیے کیا قدم اٹھانے ہیں آج راستہ بتاؤں گا، چارقسم کی غلامی انسان کرتا ہے، قائداعظمؒ نے ہمیں ایک غلامی سے آزادی دلوائی۔
انہوں نے کہا کہ قائداعظم نے 75 سال پہلے کہا ہم انگریزکی غلامی سے نکل کر ہندوؤں کی غلامی میں نہیں جانا چاہتے، قائداعظم نے کہا ہم ایک آزاد ملک بننا چاہتے ہیں، جب پاکستان بن رہا تھا تو ایک نعرہ تھا پاکستان کا مطلب کیا اور تیرا میرا رشتہ کیا، ضمیر کا سودا کرنے والے راہِ حق سے ہٹ کر جھوٹے خدا کے سامنے جھکتے ہیں، خوف کا بت انسان کو غلام بنادیتا ہے، غلام قوم کبھی بھی اوپرنہیں جاسکتی۔
پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ پاکستان جب بنا تو لاکھوں لوگوں نے قربانیاں دیں، لاکھوں قربانیوں کے بعد ہمارا ملک آزاد ہوا تھا، غلامی انسان کے اندر احساس کمتری ڈال دیتی ہے، لاہور جمخانہ، پنجاب کلب کے لوگ انگریزوں کی طرح رہتے تھے، احساس کمتری ایسی تھی پاکستانی انگریز بننا چاہتے تھے، جب بیرون ملک کرکٹ کھیلنے گیا تو سینئرز کہتے تھے انگریزسے جیتنے کا سوچنا بھی مشکل ہے۔ احساس کمتری کی وجہ سے میچ ہار جاتے تھے، جب ہم ذہنی طور پر آزاد ہوئے تو میچ جیتنا شروع ہوگئے، قائداعظم نے ہمیں غلامی سے آزاد کر دیا، چودہ اگست کا جشن یہاں منائیں گے۔
عمران خان نے کہا کہ اسلام تلوار سے نہیں پھیلا، اسلام تلوار سے نہیں پھیلا، پہلے ذہنوں کے اندر انقلاب آیا تھا، ہم نے اپنے نبیﷺ کی سیرت پرچلتے ہوئے نوجوانوں کو پہلے ذہنی طور پر آزاد کرنا ہے، پاکستانیوں آج کل آپ پر خوف طاری کیا جارہا ہے، خوف کی غلامی سب سے خوفناک غلامی ہے، مسلمانوں کی تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ کربلا میں ہوا، کوفہ کے لوگوں کو پتا تھا حضرت امام حسینؑ راہ حق پرہیں، کوفہ کے لوگوں نے یزید کے خوف کی وجہ سے حضرت امام حسینؑ کی مدد نہیں کی بعد میں پچھتائے، تیسرا خوف یہ ہے نوکری یا کاروبار نہ ختم ہو جائے، ان تین خوف کی وجہ سے انسان راہ حق پر چلنے سے ڈرتا ہے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ مخالفین 26 سال سے میری ہر قسم کی کردار کشی کر رہے ہیں، اللہ کی شان دیکھو آپ کی تعداد میری حوصلہ افزائی کر رہی ہے، عزت اور ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے، زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے، جو موت سے ڈرتا ہو وہ زندگی میں کبھی بڑا کام نہیں کرسکتا، مدینہ کی ریاست میں ہمارے نبیﷺ نے انسانوں میں موت کا خوف ختم کردیا تھا۔
پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ ہم دنیا کے سب سے عظیم لیڈر کی امت ہیں، ہم دنیا کے سامنے ہاتھ پھیلا کر کیوں پھرتے ہیں، اللہ نے پاکستان کو ہر نعمت سے نوازا ہے، غلام قوم کی پرواز کبھی اونچی نہیں جاسکتی، ہم نے اپنے بچوں کواپنے نبیﷺ کی سیرت پڑھانی ہے، جب وزیراعظم تھا تو میں نے رحمت اللعامین اتھارٹی بنائی تھی، پیارےنبی کی سیرت کو پڑھنے سے ہمیں دین اسلام بارے پتا چلے گا۔ میں اینٹی امریکن نہیں ہوں، امریکا میں سب سے طاقتور پاکستانی کمیونٹی ہے، ہماری سب سے زیادہ ایکسپورٹ امریکا سے ہے، امریکا سے دوستی چاہتا ہوں لیکن غلامی نہیں۔
اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں کسی ملک کے خلاف نہیں ہوں، امریکا، یورپ کی نفسیات کو جانتا ہوں، اگر ان کے پاؤں میں گریں گے تو وہ ہمیں استعمال کریں گے، اگر ہم ان کی چمچہ گیری کریں گے تو وہ ہماری عزت نہیں کریں گے، اگر ہم اپنے ملک کے مفاد کے لیے کھڑے ہوں گے تو ان کو اچھا نہیں لگے گا لیکن آپ کی عزت کریں گے، 26سال پہلے بھی میری یہی پالیسی تھی، 26سال پارٹی کا آغاز کیا تو میرا نصب العین یہی تھا میں خود کبھی کسی کے سامنے جھکا نہ اپنی قوم کو کسی کے سامنے جھکنے دوں گا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ اللہ نے مجھے سب سے زیادہ شہرت دی تھی، مجھے کیا ضرورت تھی سیاست میں ان گندے لوگوں کے ساتھ 26 سال ماتھا لگایا، میں نے اپنے ملک میں انگریز کی غلامی کی وجہ سے احساس کمتری دیکھی، کوئی انگریزآتا تھا تو یہ ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوجاتے تھے، اللہ سے وعدہ کیا تھا اگر مجھے موقع ملا تو کبھی قوم کو کسی کے آگے جھکنے نہیں دوں گا۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ یہ سیاستدان ہمیں شرمندہ کراتے تھے، وزیردفاع خواجہ آصف کہتا ہے، امریکا نے ہمیں وینٹی لیٹر پر رکھا ہوا ہے، خواجہ آصف سے پوچھتا ہوں ملک کو وینٹی لیٹرپرڈالا کس نے؟ 30 سال سے دو خاندان حکمرانی کرتے رہے اور قوم کو مقروض کر دیا، پہلے قوم کو مقروض کیا اور اب کہتے ہیں امریکا کی غلامی نہ کی تو مرجائیں گے، ملک کا کرائم منسٹر کہتا ہے، امریکا کے بغیرجی نہیں سکتے تو ہرے پاسپورٹ کی کیا عزت ہوگی، وزیراعظم بھکاریوں کی طرح پھرتا ہے، کرکٹر تھا جب بیرون ملک جاتے تھے تو ہمیں بے عزت ہونا پڑتا تھا، ان حکمرانوں کی جائیدادیں بیرون ملک ہے، نوازشریف جب اوباما سے ملاقات کر رہا تھا تو کانپیں ٹانگ رہی تھیں، نوازشریف اتنا گھبرایا ہوا تھا اسے اوباما کو تھینک یو بھی پڑھ کرکہنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا سے دوستی کر رہا تھا لیکن غلامی کے لیے تیار نہیں تھا، ڈونلڈ ٹرمپ سے میرے تعلقات اچھے تھے، ٹرمپ نے مجھے سب سے زیادہ پروٹوکول دیا تھا، امریکا نے پرویز مشرف کو جنگ میں شرکت کے لیے دھمکی دی تھی، بدقسمتی سے مشرف نے اس وقت گھٹنے ٹیک دیئے، جنگ میں شرکت پر پاکستانی قوم نے بھاری قیمت ادا کی، امریکا کی جنگ میں شرکت کر کے ہمارے فوجی، شہریوں نے قربانیاں دیں۔
پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ پاکستان کا دہشت گرد الطاف حسین 30 سال سے برطانیہ میں بیٹھا ہوا ہے، کیا برطانیہ ہمیں الطاف حسین پر ڈرون حملے کی اجازت دے گا؟ ہم امریکا کے اتحادی تھے اور امریکا نے 400 ڈرون حملے کیے، جب ڈرون حملے ہوتے تھے تو ہمارے حکمران چوہے بیٹھے ہوئے تھے جو احتجاج نہیں کرتے تھے، نوازشریف، زرداری کے اربوں ڈالر بیرون ملک پڑے تھے، نوازشریف،زرداری پیسے کی پوجا کرتے ہیں، انہوں نے ملک میں ظلم ہونے دیا، اینٹی امریکن نہیں ہوں لیکن قوم کے مفادات پرکسی قسم کا کمپرومائزکرنے کوتیارنہیں، پاکستان میں ہمارے سفیرسے ڈونلڈ لو نے ملاقات کی، ڈونلڈ لونے پاکستانی سفیرسے کہا عمران خان کو ہٹانا ہو گا ورنہ نتائج بھگتنا ہوں گے، ڈونلڈ لونے کہا تمہارا وزیراعظم روس چلا گیا، مجھے پتا چلا تومیں نے کہا یہ کون ہوتے ہیں مجھے کہنے والے کیا میں غلام ہوں؟
اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ آزادی کی جشن کی رات ہے تھکنا نہیں، روس سے 40 فیصد کم قیمت پر پاکستانیوں کو سستا تیل ملنا تھا، صدرپیوٹن سستا تیل دینے کے لیے تیارتھے، امریکا اتنا ناراض ہوا کہا کہ عمران کوہٹادو، میں پاکستانیوں کے فائدے کے لیے روس گیا تھا، بھارت امریکا کا اسٹرٹیجک پارٹنرہے، بھارتی وزیرخارجہ نے امریکا سے کہا ہمارے لوگوں کوسستے تیل کی ضرورت ہے، تم کون ہوتے ہو، امپورٹڈ حکومت میں اتنی جرات نہیں تھی۔ واضح کردوں قوم کو کبھی غلامی نہیں کرنے دونگا، ہم سب مل کر اپنے قرضے اتاریں گے، آزادی آسانی سے نہیں ملتی قربانیاں دینا پڑتی ہیں، امپورٹڈ حکومت کو فارغ کرنے تک حقیقی آزادی کی جدوجہد جاری رہے گی، جب تک الیکشن کا اعلان نہیں ہوتا ہم سب ملکرجدوجہد جاری رکھیں گے، ہمارے حکمران امریکا کے پیروں میں لیٹے ہوئے ہیں، قانون کی حکمرانی کے بغیر لوگ آزاد نہیں ہوسکتے، دیہاتوں کے لوگ تھانے، کچہری کی سیاست میں پھنسا ہوا ہے، طاقتور چوری کرتا ہے اسے ہمارا انصاف کا نظام نہیں پکڑسکتا، ہمارے نبی نے مدینہ کی ریاست میں انصاف دے کرلوگوں کوآزاد کیا تھا، جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک اس حکومت کو گھر نہیں بھیجتے اور الیکشن نہیں ہوتے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ کمزوروں کوانصاف دلوانا ہو گا، 25 مئی کو ہمارے پُر امن احتجاج پر بدترین شیلنگ کی گئی، تحریک انصاف حکومت میں دو دفعہ، فضل الرحمان، ایک دفعہ کانپیں ٹانگنے والی دھرنے دیئے، ہم نے کسی پر تشدد نہیں کیا تھا، پہلے حکومت گرائی پھر پرامن احتجاج پرتشدد کیا گیا، شہبازگل کو اٹھالیا اوراس پر بھی تشدد کیا گیا، شہباز گل کو انصاف کا موقع ملنا چاہیے، شہباز گل کے ڈرائیور کی دس ماہ کی بچی کو بھی اٹھالیا گیا، یہ اس لیے آپ لوگوں کو ویڈیو دکھا رہا ہوں یہ خوف طاری کیا جا رہا ہے، جوبھی یہ سارے سازشی کررہے ہیں کان کھول کر سن لو! تم اب اس قوم کونہیں روک سکتے۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain