Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • الیکشن کمیشن ،پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تاریخ بدلنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
    • بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعلی سندھ کے ہمراہ یونیورسٹی آف لاڑکانو کا افتتاح کر دیا
    • ڈبلن سے اٹلی جانے والے مسافر طیارے کو بم سے اڑانے کی دھمکی،فرانس کی جانب موڑدیا گیا
    • امریکی فوجی اڈے پر تربیتی واقعے کے دوران امریکی اہلکار ہلاک
    • آئی جی پنجاب عبدالکریم پولیس ایگزیکٹو بورڈکے اجلاس کی صدارت کے دوران پولیسنگ اور انتظامی امور میں بہتری کیلئے افسران کو ضروری ہدایات دے رہے ہیں۔
    • آئی جی پنجاب کی زیرصدارت پولیس ایگزیکٹوبورڈ کا اجلاس
    • اسلام آباد : طالبات کالج میں تقریب کے سلسلے میں سٹال سجا رہی ہیں
    • لاہور: بچے ریڑھی والے سے شکرقندی خرید رہے ہیں۔
    • اینٹی نارکوٹکس فورس کی کارروائیاں’ 152کلومنشیات برآمد’ 6ملزمان گرفتار
    • باغبانپورہ پولیس کی کارروائیاں’ 10کلومنشیات برآمد’4ملزم گرفتار
    • پولیس نے موٹر سائیکلیں’ گھریلو سامان چوری کرنیوالا ملزم دھر لیا
    • محکمہ ہیلتھ کا بیڑہ غرق لاہور سے نشتر دوائیاں بھجوانے کیلئے پٹرول کے پیسے ختم
    • ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی کی ماسکو میں روسی صدر سے ملاقات
    • سینئر سول ججوں کی ایڈیشنل سیشن جج کے عہدوں پر ترقی کا فیصلہ
    • پنجاب بھر میں 1370 ٹریفک حادثات’ 688افراد شدید زخمی
    • بلاول کے گھر بھی پانی ٹینکر سے آتا’ 18 سال سے کیا کررہے؟: حافظ نعیم
    • زون ٹو میں پارکنگ سائیٹ کی تصویری جھلکیاں جبکہ دوسری جانب کاشف جلیل اور سجاد باکھری کی فائل فوٹو ۔
    • لاہور ہائیکورٹ’ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2026 ‘غیرقانونی قرار
    • مہمند ‘ پولیو ٹیم کی ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر فائرنگ،اہلکار محفوظ رہے
    • مال روڈ پینوراما شاپنگ مال کی پارکنگ سائیٹ اے ڈی سی انفورسمنٹ کے کارخاص رانا نعمان کو ٹھیکے پر دینے کا انکشاف
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    سپریم کورٹ: نیب سے 23 سال کے ہائی پروفائل کرپشن کیسز کا ریکارڈ طلب

    By Khabrain Newsاکتوبر 11, 2022
    Share Facebook Twitter Email WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    اسلام آباد: (ویب ڈیسک) نیب قانون میں ترامیم کے خلاف مقدمے میں سپریم کورٹ نے 23 سال کے ہائی پروفائل کرپشن کیسز کا ریکارڈ طلب کر لیا۔
    نیب قانون میں حالیہ ترامیم کے خلاف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی درخواست پر سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں ‏جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ پر مشتمل 3 رکنی بنچ نے سماعت کی۔
    دوران سماعت پی ٹی آئی وکیل وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں تبدیلی سے بے نامی دار کی تعریف انتہائی مشکل بنا دی گئی ہے۔ اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کس آئینی شق کو بنیاد بنا کر نیب قانون کو کالعدم قرار دیں۔ وکیل نے استدعا کی کہ معاملہ اہم سیاسی رہنماؤں کے کرپشن میں ملوث ہونے کا ہے جہاں عوامی پیسے کا تعلق ہو، وہ معاملہ بنیادی حقوق کے زمرے میں آتا ہے جعلی بینک اکاؤنٹس کیسز میں بھی بے نامی کا معاملہ تھا، معاشی پالیساں ایسی ہونی چاہییں کہ بنیادی حقوق متاثر نہ ہوں۔
    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ معاشی پالیسیوں کو دیکھنا سپریم کورٹ کا کام نہیں ہے۔ اگر کسی سے کوئی جرم سرزد ہوا ہے تو قانون میں مکمل شفاف ٹرائل کا طریقہ کار موجود ہے۔
    چیف جسٹس نے کہا کہ معیشت پالیسی کا معاملہ ہوتا ہے جس میں عدالت مداخلت نہیں کر سکتی۔ عوام کے اثاثوں کی حفاظت ریاست کی ذمے داری ہے۔ بے تحاشا قرض لینے کی وجہ سے ملک بری طرح متاثر ہوا ہے۔ قرضوں کا غلط استعمال ہونے سے ملک کا یہ حال ہوا۔ زیادہ تر غیر ضروری اخراجات ایلیٹ کلاس کی عیاشی پر ہوئے۔ ملک میں 70 سے 80 فیصد لوگ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ عدالت حکومت کو قرض لینے سے نہیں روک سکتی۔ معیشت کے حوالے سے فیصلے کرنا ماہرین ہی کا کام ہے۔

    وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ میں معاشی پالیسی کے الفاظ واپس لیتا ہوں۔
    دوران سماعت چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے ہیں کہ پاکستان میں جائیداد اور دولت بنانے پر کوئی کنٹرول نہیں، نہ ہی احتساب ہے۔
    نیب قوانین میں ترامیم سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 1996ء میں ایک کیس میں زندہ درخت کی مثال دی۔ زندہ درخت گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ بڑھے گا۔ قانون نہیں ہوگا تو مافیاز ہوں گے ۔ پاکستان میں بہت سے مافیاز ہیں۔ میں کسی مافیا کا نام نہیں لوں گا ، لیکن مافیاز کی وجہ سے بد امنی اور انتشار پیدا ہوتا ہے۔
    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہمارے نظام میں مناسب ریگولیٹر موجود نہیں۔دنیا میں جائیداد اور دولت پر ٹیکس لیا جاتا ہے، ہمارے ہاں 2001ء میں ویلتھ ٹیکس کو ختم کردیا گیا۔ ملک میں جائیداد بنانے پر کوئی کنٹرول نہیں، نہ احتساب ہے ۔ یہ سب نکات ہیں جو سیاسی نوعیت کے ہیں ،جو پارلیمان نے طے کرنے ہیں۔
    چیف جسٹس نے کہا کہ احتساب تندرست معاشرے اور تندرست ریاست کے لیے اہم ہے۔ کرپشن دنیا میں ہر جگہ موجود ہے۔ کچھ نقائص بھی موجود ہیں۔ نقص یہ بھی ہے کہ کچھ سرکاری ملازمین جیلیں کاٹ کر بری ہو چکے ہیں۔ کچھ کاروباری شخصیات بھی نیب سے مایوس ہوئیں، نیب ترامیم میں کچھ چیزیں بھی ہیں جن سے فائدہ ہوا۔ کچھ ایسی ترامیم بھی ہیں جو سنگین نوعیت کی ہیں۔ ہم نے توازن قائم کرنا ہے۔ نیب قانون میں حالیہ تبدیلی کے سبب ملزمان کو فائدہ بھی پہنچا۔ پلی بارگین اور 500 ملین روپے کی حد مقرر کرنے سے ملزمان کو فائدہ ہوا۔
    چیف جسٹس نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ معیشت پالیسی کا معاملہ ہوتا ہے جس میں عدالت مداخلت نہیں کر سکتی۔ عوام کے اثاثوں کی حفاظت ریاست کی ذمے داری ہے۔ بے تحاشا قرض لینے کی وجہ سے ملک بری طرح متاثر ہوا ہے۔ قرضوں کا غلط استعمال ہونے سے ملک کا یہ حال ہوا۔
    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ زیادہ تر غیر ضروری اخراجات ایلیٹ کلاس کی عیاشی پر ہوئے۔ ملک میں 70 سے 80 فیصد لوگ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ عدالت حکومت کو قرض لینے سے نہیں روک سکتی۔ معیشت کے حوالے سے فیصلے کرنا ماہرین ہی کا کام ہے۔
    جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ ہمیں پہلے یہ بتائیں کہ نیب ترامیم کے ذریعے کس بنیادی حق کی خلاف ورزی ہوئی ہے؟۔ فرض کریں پارلیمنٹ نے ایک حد مقرر کردی اتنی کرپشن ہوگی تو نیب دیکھے گا۔ سوال یہ ہے عام شہری کے حقوق کیسے متاثر ہوئے ہیں؟۔ پی ٹی آئی کے وکیل نے جواب دیا کہ نیب قانون سے زیر التوا مقدمات والوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔
    جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا کوئی ایسی عدالتی نظیر موجود ہے جہاں شہری کی درخواست پر عدالت نے سابقہ قانون کو بحال کیا ہو؟۔ شہری کی درخواست پر عدالت پارلیمنٹ کا بنایا ہوا قانون کیسے کالعدم قرار دے سکتی ہے؟۔ وکیل نے جواب دیا کہ پبلک منی کے معاملے پر عدالت قانون سازی کالعدم قرار دے سکتی ہے۔عوام کا پیسہ کرپشن کی نذر ہونا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
    بعد ازاں عدالت نے ریکارڈ طلب کیا کہ اب تک کتنے ایسے کرپشن کے کیسز ہیں، جن میں سپریم کورٹ تک سزائیں برقرار رکھی گئیں؟ اب تک نیب قانون کے تحت کتنے ریفرنسز مکمل ہوئے؟،نیب قانون میں تبدیلی کے بعد کتنی تحقیقات مکمل ہوئیں؟۔عدالت نے نیب سے 1999ء سے لے کر جون 2022ء تک تمام ہائی پروفائل کیسز کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کردی۔

    Khabrain News

      Keep Reading

      پیپلز پارٹی کی اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات کمیٹی میں شرکت کی دعوت

      سنگاپور کے وزیر خارجہ کی فیلڈ مارشل سے ملاقات، علاقائی و عالمی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال

      خیبرپختونخوا؛ پشاور سمیت دیگر علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے

      تازہ ترین

      سعودیہ جانیوالے مسافروں کیلئے لازمی ویکسی نیشن کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع

      پانی ہماری ریڈلائن، روکنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور ہوگی: وزیراعظم شہباز شریف

      سعودی عرب پر حملہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، فضل الرحمان

      باجوڑ میں موبائل سروس و انٹرنیٹ بند شہریوں کو مشکلات کا سامنا

      گورنر راج اور ایمرجنسی مسئلے کا حل نہیں حکومت کا چراغ بجھنے والا ہے:حافظ نعیم

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.