Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • لاہور میں پاکستان کا پہلا عالمی معیار کا ہارٹ ٹرانسپلانٹ سینٹر قائم
    • آئی ایم ایف کی نئی شرط، پاکستان میں بجلی کے نرخ مزید بڑھانے کا مطالبہ
    • 23 سال بعد پاکستان میں پھر سجے گا ساؤتھ ایشین گیمز کا میلہ!
    • فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے اہم ملاقات
    • عراق نے ایران اور سعودی عرب کو مشترکہ سکیورٹی کونسل کی پیشکش کردی
    • پاکستان کے 12 تاریخی مقامات یونیسکو کی عالمی ورثے کی فہرست میں شامل
    • پاکستان کی سفارتی جیت، اے سی سی الیکشن میں تینوں نشستوں پر کامیابی
    • نیوزی لینڈ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا بل پیش کرنے کا اعلان
    • 21 سابق کرکٹ کپتانوں کا شہباز شریف کو خط عمران خان کے علاج کی اپیل
    • سماعت سے محروم ثنا بہادر نے آسٹریلیا میں پاکستان کا نام روشن کردیا
    • سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ متوقع، 5 لاکھ روپے فی تولہ تک پہنچنے کا امکان
    • گلگت تا تاوبٹ شاہراہ منصوبہ، خطے کی ترقی کے نئے دور کا آغاز
    • ایرانی ہیکرز کا برطانوی پاور پلانٹ پر سائبر وار، 4 دن تک پلانٹ بند رہا
    • دنیا بھر میں بھارتی جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف شکنجہ سخت
    • مچل اسٹارک نے بنگلا دیش کے بیٹنگ آرڈر کی کمر توڑ دی، آسٹریلیا فاتح
    • آصف زرداری کے ایوانِ صدر چھوڑنے کی تیاریاں؟ حامد میر کا اہم دعویٰ
    • ایران وینزویلا نہیں دشمن سمجھ لے،ایرانی صدر
    • عمران خان سابق وزیر اعظم ہیں، حکومت کو پسند ہو یا نہ ہو: شرمیلا فاروقی
    • دوسرے شہروں سے آنے والوں نے لاہور کا کلچر تباہ کیا: عثمان پیرزادہ
    • پنجاب حکومت کی درخواست منظور، راولپنڈی میں فوج 6 ماہ تعینات رہے گی
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    جسٹس مندوخیل: کیا آرمی افسر کو سزائے موت دینے کا اختیار ہے؟

    By Khabrain Newsجنوری 10, 2025
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں کے کیس کی سماعت کے دوران جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ کیا اس آرمی افسر کو اتنا تجربہ اور عبور ہوتا ہے کہ سزائے موت تک سنا دی جاتی ہے۔

    جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیے۔

    سات رکنی آئینی بینچ میں جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل ہیں۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ملٹری کورٹس میں ٹرائل کے طریقہ کار پر مطمئن کریں۔

    جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ جو آفیسر ٹرائل چلاتا ہے کورٹ میں وہ خود فیصلہ نہیں سناتا، ٹرائل چلانے والا افسر دوسرے بڑے افسر کو کیس بھیجتا ہے وہ فیصلہ سناتا ہے، جس آفیسر نے ٹرائل سنا ہی نہیں وہ کیسے فیصلہ دیتا ہوگا۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ مجھے 34 سال اس شعبے میں ہوگئے مگر پھر بھی خود کو مکمل نہیں سمجھتا، کیا اس آرمی افسر کو اتنا تجربہ اور عبور ہوتا ہے کہ سزائے موت تک سنا دی جاتی ہے۔

    وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ملٹری ٹرائل کے طریقہ کار کو دلائل کے دوسرے حصے میں مکمل بیان کروں گا۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ آرمی ایکٹ کا اطلاق صرف فوج پر ہوتا ہے، فوجی افسران کو بنیادی حقوق اور انصاف ملتے ہیں یا نہیں ہم سب کو مدنظر رکھیں گے۔

    جسٹس مسرت ہلالی نے سوال اٹھایا کہ اس نکتے پر بھی وضاحت کریں کہ فوجی عدالت میں فیصلہ کون لکھتا ہے؟ میری معلومات کے مطابق کیس کوئی اور سنتا ہے اور سزا جزا کا فیصلہ کمانڈنگ افسر کرتا ہے، جس نے مقدمہ سنا ہی نہیں وہ سزا جزا کا فیصلہ کیسے کر سکتا ہے؟

    وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ فیصلہ لکھنے کے لیے جیک برانچ کی معاونت حاصل ہوتی ہے۔

    جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ خواجہ صاحب آپ نے کوئی مثال دی تھی کہ امریکا میں بھی فوجی ٹرائل ہوئے، اگر کسی اور ملک میں ایسا ٹرائل ہوتا ہے تو جج کون ہوتا ہے؟

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ پوری دنیا میں کورٹ مارشل میں آفیسر ہی بیٹھتے ہیں۔ وکیل خواجہ حارث نے جواب دیا کہ کورٹ مارشل میں بیٹھنے والے افسران کو ٹرائل کا تجربہ حاصل ہوتا ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ جج صاحبہ پوچھ رہی ہیں کیا ان افسران کی قانونی قابلیت بھی ہوتی ہے؟

    جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس میں کہا کہ اگر اجازت ہو تو میں خود سوال پوچھ لوں؟ ایک آرمی چیف کے طیارے کو ایئرپورٹ کی لائٹس بجھا کر کہا گیا ملک چھوڑ دو، اس واقعے میں تمام مسافروں کو خطرے میں ڈالا گیا۔

    خواجہ حارث نے کہا کہ جو بندہ جہاز میں موجود نہیں تھا وہ ہائی جیک کیسے کر سکتا تھا؟

    جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ اس جہاز میں تھوڑا سا ایندھن باقی تھا پھر بھی رسک پر ڈالا گیا۔ خواجہ حارث نے دلائل میں کہا کہ میں یہاں سیاسی بات نہیں کروں گا مگر بعد میں سپریم کورٹ نے جائزہ لیا تھا، سپریم کورٹ نے تسلیم کیا تھا جہاز میں کافی ایندھن باقی تھا۔

    جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ اس ایک واقعے کے باعث ملک میں مارشل لا لگ گیا لیکن مارشل لا کے بعد بھی وہ ٹرائل فوجی عدالت میں نہیں چلا۔

    وکیل خواجہ حارث نے بتایا کہ ہائی جیکنگ آرمی ایکٹ میں درج جرم نہیں، اسی لیے وہ ٹرائل فوجی عدالت میں نہیں چل سکتا تھا۔

    جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ چلیں اس نکتے پر فرق واضح ہو گیا آگے چلیں۔ جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ ٹھہریں ایک سوال اور اس میں بنتا ہے، اگر ہائی جیک جنگی یا فوجی طیارے کو کیا جائے پھر ٹرائل کہاں چلے گا؟

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے کہا کہ نو مئی واقعات میں کل ملزمان پانچ ہزار کے قریب تھے، جن 105 ملزمان کو فوجی عدالتوں میں لے کر جایا گیا ان کی جائے وقوعہ پر موجودگی کے ٹھوس شواہد ہیں۔

    وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ آرمی ایکٹ صرف ان افراد پر لاگو ہوتا ہے جو آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہوں، ہر دہشتگرد پر بھی آرمی ایکٹ کا اطلاق نہیں ہوتا۔

    جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ کیا فوجی عدالتوں نے ٹرائل انہی ایف آئی آرز کی روشنی میں کیا جو تھانوں میں درج ہوئی تھیں؟ تعزیرات پاکستان اور اے ٹی اے کے تحت درج مقدمات پر کارروائی فوجی عدالت کیسے کر سکتی؟ جو تین ایف آئی آرز کی کاپی ہمیں دی گئی ہے ان میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی دفعات نہیں ہیں۔

    وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ تفتیش کے بعد مزید دفعات شامل کی جا سکتی ہیں۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ مزید دفعات شامل کرنے کا الگ سے طریقہ کار موجود ہے، کیا پولیس تفتیش پر ہی انحصار کیا گیا تھا؟ خواجہ حارث نے بتایا کہ جب ملزم فوجی تحویل میں جائے تو وہاں تفتیش کا اپنا نظام ہے۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کو صرف تین مقدمات پیش کیے ہیں، مجموعی طور پر 9 مئی کے 35 ایف آئی آرز اور 5 ہزار ملزمان ہیں۔ فوجی عدالتوں میں صرف ان 105 افراد کا ٹرائل ہو جن کی موجودگی ثابت تھی۔

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے ملٹری کورٹس کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی۔

    Khabrain News

      Keep Reading

      لاہور میں پاکستان کا پہلا عالمی معیار کا ہارٹ ٹرانسپلانٹ سینٹر قائم

      آئی ایم ایف کی نئی شرط، پاکستان میں بجلی کے نرخ مزید بڑھانے کا مطالبہ

      فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے اہم ملاقات

      تازہ ترین

      بانی پی ٹی آئی کو آج ہی ہسپتال منتقل کیا جائے، سپریم کورٹ

      بن گویر کا غزہ میں ہر رات ’30 یا 40‘ افراد کو قتل کرنے کا مطالبہ

      ہاکی ورلڈ کپ 2026: نیدرلینڈز، بیلجیم اور پاکستان نے اپنے اپنے قومی اسکواڈز کا اعلان کر دیا

      جماعتِ اسلامی کے امیر العظیم انتقال کر گئے

      عمران خان سے مذاکرات جاری، نبیل گبول کا بڑا دعویٰ

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.