امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران سے افزودہ یورینیم نکالنے کرنے کے لیے ایک ممکنہ فوجی آپشن پر غور کر رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق یہ مشن نہایت پیچیدہ اور خطرناک ہو سکتا ہے اور اس سلسلے میں امریکی فوج کو کئی دن تک ایران میں موجود رہنا پڑ سکتا ہے۔
اخبار میں کہا گیاہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے قریبی مشیروں کو ہدایت دی ہے کہ ایران پر دباؤ بڑھایا جائے تاکہ وہ مذاکرات کے دوران یورینیم امریکا کے حوالے کرنے پر آمادہ ہو۔ امریکی حکام کے مطابق اگر ایران تعاون نہیں کرتا تو طاقت کے استعمال کا امکان بھی زیر غور ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا ماضی میں بھی ایسے حساس مشنز انجام دے چکا ہے جن میں 1994 میں قزاقستان اور 1998 میں جارجیا سے یورینیم منتقل کرنے کے آپریشنز شامل ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس طرح کا کوئی آپریشن کیا گیا تو اس کے خطے کی سکیورٹی اور عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے واضح کیا ہے کہ پینٹاگون صدر کو مختلف آپشنز فراہم کرتا ہے لیکن مختلف آپشنز کی موجودگی کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی حتمی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ اس معاملے پر پینٹاگون اور سینٹرل کمانڈ کے ترجمانوں نے فی الحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔






































