دادو کی ماڈل کرمنل ٹرائل کورٹ نے اُمِ رباب چانڈیو کے دادا، والد اور چچا کا تہرے قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے تمام ملزمان کو بری کر دیا جس پر مدعیہ نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
دادو میں 17 جنوری 2018 کو پیش آنے والے اس ہائی پروفائل تہرے قتل کیس میں اُمِ رباب چانڈیو کے دادا کرم اللہ چانڈیو، والد مختیار چانڈیو اور چچا قابل چانڈیو کو قتل کیا گیا تھا۔ عدالت نے طویل سماعتوں کے بعد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے تمام نامزد ملزمان کو بری کر دیا ہے ۔
کیس میں دو ارکان سندھ اسمبلی سمیت مجموعی طور پر 8 ملزمان نامزد تھے جن میں سے چار جیل میں قید جبکہ چار ضمانت پر ہیں ۔ مقدمے کی سماعت کے دوران گواہوں کے بیانات اور وکلاء کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے گزشتہ روز فیصلہ محفوظ کیا تھا جسے آج سنا دیا گیا۔ اس کیس کی مجموعی طور پر تقریباً 450 سماعتیں ہوئیں۔
فیصلے کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔ سیشن جج کے احکامات پر ضلع بھر میں دفعہ 144 نافذ کی گئی جبکہ پولیس کی بھاری نفری عدالت اور اطراف میں تعینات رہی۔ غیر متعلقہ افراد اور میڈیا کے داخلے پر بھی پابندی عائد رہی۔
یاد رہے کہ اُمِ رباب چانڈیو اس وقت شہ سرخیوں کی زینت بنیں جب وہ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج نہ ہونے پر ننگے پاؤں دادو کی مقامی عدالت آٗئیں جس پر اس وقت کے چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے کیس کو تین ماہ میں مکمل کرنے کا حکم دیا تھا۔
عدالتی فیصلے کے بعد اُمِ رباب چانڈیو نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں انصاف نہیں ملا اور وہ اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گی۔ ان کے وکیل کا بھی کہنا تھا کہ کیس میں شواہد موجود تھے اس لیے دادو کی عدالت کت فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔





































