تازہ تر ین

عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل پہنچنے کا امکان ! ماہرین نے خبردار کردیا

آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی تیل کی مارکیٹ میں ہلچل مچا دی ہے جس سے قیمتوں میں اضافہ اور فیول کی قلت کے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔ عالمی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تیل کی قیمتیں غیر معمولی طور پر 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔

آبنائے ہرمز کی بندش کے  سبب عالمی تیل کی سپلائی میں تقریباً 11 ملین بیرل کی کمی واقع ہوئی ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے متبادل راستوں کے ذریعے 10.9 ملین بیرل یومیہ فراہم کرنے کی کوشش کی جبکہ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے 2 ملین بیرل یومیہ کے ذخائر جاری کیے۔ دیگر اقدامات کے ذریعے تقریباً 3.7 ملین بیرل یومیہ کا فرق پورا کیا گیا ہے۔

بلوم برگ کے مطابق امریکی حکومتی اہلکار اور عالمی مالیاتی تجزیہ کار اب اس امکان پر غور کر رہے ہیں کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں جو عالمی معیشت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین نے 1970 کی دہائی کے تیل بحران کی مثال دیتے ہوئے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز کی بندش ایک بڑے عالمی بحران کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔

کئی ماہرین  کا کہنا ہے کہ ایشیا میں فیول کی قلت واضح ہو رہی ہے جس کے اثرات مغربی ممالک تک پھیلنے کا خدشہ ہے۔ یورپ کو آئندہ ہفتوں میں ڈیزل کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہےجبکہ پاکستان میں عوام کو ہدایت دی گئی ہے کہ کرکٹ میچ گھر بیٹھ کر دیکھیں تاکہ ایندھن کی بچت کی جا سکے۔

 دوسری جانب ٹوٹل انرجیز کے چیف ایگزیکٹو پاتریک پویان نے کہا ہے کہ اگر یہ بحران تین یا چار ماہ سے زیادہ جاری رہا تو عالمی معیشت پر شدید اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ اس سے تقریباً 20 فیصد عالمی خام تیل اور ایل این جی کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔

اس وقت عالمی تیل کی قیمتیں تقریباً 112 ڈالر فی بیرل ہیں جو جنگ کے آغاز سے 55فی صد زیادہ ہے تاہم یہ 2008 کے ریکارڈ 147.50 ڈالر فی بیرل سے کم ہیں۔ یورپی قدرتی گیس کی قیمتیں 70 فیصد تک بڑھ گئی ہیں اور ایشیا میں طلب تقریباً 2 ملین بیرل خاص طور پر پیٹرو کیمیکل سیکٹر میں یومیہ کم ہوئی ہے جبکہ پٹرول، ڈیزل اور جیٹ فیول کی قلت بھی  بڑھتی جا رہی ہے۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain