لاہور(25 اپریل 2026): لاہور کے علاقے اچھرہ میں تین بچوں کے لرزہ خیز قتل کی تفتیش میں ہولناک انکشافات سامنے آئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق لاہور کے علاقے اچھرہ میں تین بچوں کے لرزہ خیز قتل کی تفتیش میں ہولناک انکشافات سامنے آئے ہیں۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق ملزمہ ردا اور اس کے دوست شہریار کے درمیان 746 کالز کا ریکارڈ موصول ہوا ہے۔
تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ سنگدل ماں نے ‘چھپن چھپائی’ کے کھیل کے بہانے بچوں کو باری باری قتل کیا۔ ملزمہ نے پہلے ڈیڑھ سالہ بچی، پھر بیٹے اور آخر میں اپنی بڑی بیٹی کو بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارا۔ قتل کی واردات کے بعد ملزمہ نے سکون سے خون آلود کپڑے بدلے اور گھر کو تالا لگا کر اپنے شوہر کے ساتھ اسپتال چلی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سی سی ڈی کی ٹیم نے ملزمہ کی نشاندہی پر اس کے دوست شہریار کو جھنگ سے حراست میں لے لیا ہے۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزمہ اور شہریار کے درمیان دوستی تھی اور دونوں ایک دوسرے سے شادی کرنا چاہتے تھے۔
کیس کی مزید تفتیش اب سی سی ڈی کے حوالے کر دی گئی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دورانِ تفتیش یہ معلوم کیا جائے گا کہ کیا شہریار بچوں کے قتل کے اس ہولناک منصوبے سے آگاہ تھا یا نہیں۔ انویسٹی گیشن ٹیمیں معاملے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہیں۔
یاد رہے کہ تین بچوں 5 سالہ مومنہ بتول، 4 سالہ مومن رضا اور ڈیڑھ سالہ امہ حبیبہ کی گلا کٹی لاشیں اچھرہ کے ایک گھر سے ملی تھیں، بچوں کو تیزدھار آلے سے قتل کیا گیا ہے۔
بعدازاں تحقیقات میں ہولناک انکشاف سامنے آیا کہ تینوں بچوں کی قاتل سگی ماں نکلی جب کہ ابتدائی تفتیش میں ملزمہ نے اعتراف جرم کر لیا۔




































