تازہ تر ین

مولانا طارق جمیل نے بچے سے ہاتھ کیوں نہیں ملایا اور بچہ کون ہے؟ وضاحت سامنے آگئی

مولانا طارق جمیل کی بچے سے ہاتھ ملانے سے انکار کی ویڈیو سوشل میڈیا میں وائرل ہوئی ہے، جس پر شدید تنقید کی جا رہی ہیں اور اب مولانا طارق جمیل کے بیٹے نے واقعے کی وضاحت کردی ہے اور اپنا مؤقف تفصیل کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔

مولانا طارق جمیل کے بیٹے یوسف جمیل نے انسٹاگرام پر جاری ویڈیو بیان میں کہا کہ مولانا طارق جمیل کی ویڈیو وائرل ہوئی ہے کہ انہوں نے بچے سے مصافحہ نہیں کیا اور اس پر بڑی تنقید ہو رہی ہے، تنقید کرنا ہر انسان کا حق ہے، تنقید کرنی چاہیے اور ہونی بھی چاہیے، جس پر تنقید ہو رہی ہے اس کو سننا بھی چاہیے کہ میرے اوپر کیا تنقید ہورہی ہے جبکہ جس پر آپ تنقید کر رہے ہیں، اس کا نکتہ نظر اورصورت حال کیا ہے، وہ بھی سننا ہمارے لیے ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ مولانا کو بچے سے مصافحہ کرلینا چاہیے تھا کوئی ایسا مسئلہ نہیں تھا لیکن کیوں نہیں کیا، اس میں ایک پوائنٹ سمجھنا بڑا ضروری ہے، مولانا صاحب یا ان جیسی کوئی عوامی شخصیت ہوتی ہے، ان کے مصافحے گننا چاہوں تو یہ کروڑوں میں ہوں گے، دن رات ہر جگہ جہاں مولانا جیسے لوگ تشریف لے جاتے ہیں ان کے ساتھ یہی رویہ ہوتا ہے، ملنے والوں کی ایک بہتات ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی انسان کو کوئی کام تواتر سے کرنا پڑتا ہے تو کبھی نہ کبھی اس میں اکتاہٹ آجاتی ہے، چاہے وہ کتنا ہی بڑا بزرگ یا کتنی بڑی شخصیت ہو انسان ہونے کے ناطے اس کو تھکاوٹ اور اکتاہٹ کا احساس ہو جاتا ہے یہ غیر فطری نہیں ہے۔

 

یوسف جمیل نے کہا کہ مولانا پر تنقید کرنے والے بہن بھائیوں سے گزارش کروں گا کہ ممکن ہو تو آپ مولانا کے ساتھ صبح سے شام تک ایک دن گزاریں تو آپ کو میری بات کا پھر اندازہ ہوگا، ایک انسانی طاقت جو ایک عام انسان ہے ان کا لوگوں سے اتنا زیادہ ملنا اور پھر آج کل صرف ملاقات یا مصافحہ نہیں بلکہ تصویر اور سیلفی لینا اور یہ سب وہ نبھاتے ہیں۔

مولانا طارق جمیل کے لوگوں سے ملنے سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ وہ اس چیز کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں کہ جو لوگ مجھے محبت کرتے ہیں اس کی مجھ سے ناقدری نہ ہو لیکن انسان ہیں، انسان ہر طرح کی صورت حال سے گزرتا ہے۔

ویڈیو کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ رمضان المبارک کا مہینہ اور رات کا وقت تھا اور ہمارے مدرسے کی ویڈیو ہے جہاں ختم قرآن میں مولانا تشریف لائے تھے اور یہ بچہ بھی باہر کا نہیں، عام چلتے پھرتے عوامی جگہوں پر بچے ملتے ہیں تو مولانا ان سے بہت پیار کرتے ہیں لیکن یہ وہ بچے ہیں جو ہمارے پاس رہتے ہیں اور پڑھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مولانا جب تشریف لاتے ہیں بارہا ان کی ملاقات ہوچکی ہے، سارا دن کا روزہ تھا پھر مولانا روزے میں عبادات کا اہتمام کرتے ہیں، سارا دن سوتے نہیں، عبادات کے ساتھ ساتھ روزے میں بھی ایکسرسائز نہیں چھوڑتے، اس کے باوجود رات پوری تراویح ادا کرتے ہیں اور پھر بہت جلد سوجاتے ہیں لیکن اس دن ان کو اپنی روٹین کے خلاف جا کر جاگنا اور بیان کرنا تھا۔

مولانا طارق جمیل کے بیٹے نے کہا کہ اس عمر میں اس طرح دن بھر کی روٹین کے بعد اگر ایک شخص کسی کو تھوڑا نظر انداز کرتا ہے جو کہ نہیں کرنا چاہیے تھا تو ہمیں اس کو گنجائش دینی چاہیے، تنقید ضرور کریں آپ کا حق ہے لیکن جو میں بات کر رہا ہوں اس کو بھی سنیں اور سمجھیں۔

انہوں نے کہا کہ جہاں کسی کے اوپر تنقید کریں تو تھوڑا سا اس کی شخصیت کا خیال رکھیں، اس کی عمر، مرتبے اور اس کی نسبت کا کہ وہ شخصیت کون ہیں، کیا کوئی کاروباری آدمی ہیں، ہمارے لیے تو سب عزت اور مقام رکھتے ہیں لیکن ایک دین دار اور اللہ والے کی شخصیت کی عزت یقیناً زیادہ ہوتی ہے، بس یہی گزارش ہے۔

مولانا طارق جمیل کے بیٹے نے بتایا کہ اس کے باوجود بھی آپ تنقید کرنا چاہیں، ویڈیوز بنانا یا لکھنا چاہیں تو ہم نے یا مولانا نے ہمیشہ تنقید کا خیرمقدم کیا ہے اور کبھی برا نہیں منایا ہے اور اس وقت بھی ایسا ہی کریں گے۔


اہم خبریں





   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain