امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی جانے والی اس سخت وارننگ اور ڈیڈ لائن کی مستند ترین تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔ بین الاقوامی اور عرب ذرائع ابلاغ (بشمول سی این این، سی بی ایس نیوز، اور العربیہ) کے مطابق، یہ بیانات حالیہ چند دنوں کے دوران جاری کشیدہ صورتحال کے تناظر میں سامنے آئے ہیں:
حالیہ ترین پیش رفت کے مطابق، جب صدر ٹرمپ سے صحافیوں نے سوال کیا کہ وہ ایران کو امن معاہدے پر راضی ہونے کے لیے کتنا وقت دیں گے، تو انہوں نے واضح طور پر “دو یا تین دن” کا ذکر کیا۔
-
حملہ مؤخر کرنے کی وجہ: صدر ٹرمپ نے پیر کے روز اپنے ایک سوشل میڈیا بیان (Truth Social) میں انکشاف کیا کہ منگل کے روز ایران پر ایک بڑا طے شدہ فوجی حملہ ہونا تھا، لیکن انہوں نے اسے فی الحال مؤخر (Hold off) کر دیا ہے۔
-
عرب رہنماؤں کی درخواست: ٹرمپ کے مطابق سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات (UAE) کے رہنماؤں نے ان سے درخواست کی تھی کہ حملے کو روکا جائے کیونکہ ایک امن معاہدہ طے پانے کے سنجیدہ امکانات موجود ہیں اور مذاکرات آگے بڑھ رہے ہیں۔
-
ہائی الرٹ کی ہدایت: اس کے ساتھ ہی ٹرمپ نے امریکی فوج کو الرٹ رہنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو کسی بھی لمحے ایران پر بڑے پیمانے پر فل سکیل حملہ ,کیا جا سکتا ہے۔
اس سے قبل، اپریل کے آخر میں بھی صدر ٹرمپ نے “فاکس نیوز” کو انٹرویو دیتے ہوئے ایران کے حوالے سے تین دن کا وقت دیا تھا۔ انہوں نے انتہائی سخت الفاظ میں وارننگ دی تھی کہ:
“ایران کے پاس اپنے تیل کے بنیادی ڈھانچے (Oil Infrastructure) کے دھماکوں سے دوچار ہونے سے قبل صرف تقریباً 3 دن باقی رہ گئے ہیں۔”






































