تازہ تر ین

امریکا کی جنگی جارحیت کا منہ تور جواب دیا جائے گا: عباس عراقی

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقی کی جانب سے امریکی دھمکیوں اور جنگی جارحیت کے خلاف دیے گئے بیانات کی مستند اور تازہ ترین تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں (بشمول الجزیرہ، اناطولو ایجنسی اور وال اسٹریٹ جرنل) کے مطابق، عباس عراقی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے “تین دن کی مہلت” اور “بڑے حملے” کی دھمکیوں پر انتہائی سخت اور واضح موقف اختیار کیا ہے۔

وزیرِ خارجہ عباس عراقی نے امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل  میں اپنے ایک خصوصی آرٹیکل میں امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے لکھا:

“گزشتہ سال (جون 2025) ایران نے جس تحمل کا مظاہرہ کیا تھا، اسے کمزوری نہ سمجھا جائے۔ اگر ہم پر دوبارہ حملہ کیا گیا، تو ہماری طاقتور مسلح افواج کے پاس جو کچھ بھی ہے، وہ اس کے ساتھ پوری قوت سے جوابی وار کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گی۔ یہ محض دھمکی نہیں بلکہ حقیقت ہے۔”

عباس عراقی نے پریس کانفرنسز اور حالیہ بیانات میں واضح کیا ہے کہ ایران دباؤ میں آ کر سر تسلیم خم نہیں کرے گا:

  • مذاکرات کا اصول: ان کا کہنا تھا کہ “مذاکرات کا مطلب ہتھیار ڈالنا نہیں ہے۔ بات چیت صرف برابری کی سطح اور باہمی احترام کی بنیاد پر ہی ہو سکتی ہے۔”

  • امریکہ کا تضاد: ایرانی وزیرِ خارجہ نے مئی 2026 میں پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی سے تہران میں ملاقات کے دوران بھی کہا کہ ایک طرف امریکہ مذاکرات کی بات کرتا ہے اور دوسری طرف فوجی حملوں کی دھمکیاں دے رہا ہے، یہ تضاد سفارتی عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

عباس عراقی نے عالمی برادری اور علاقائی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے کوئی جارحیت کی تو:

  • یہ جنگ صرف ایران تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورا مڈل ایسٹ (مشرقِ وسطیٰ) اس کی آگ میں جل اٹھے گا، جس کا اثر دنیا بھر کے عام لوگوں پر پڑے گا۔

  • انہوں نے واضح کیا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا اور امن کے لیے تہران نے حال ہی میں ایک نیا 14 نکاتی امن منصوبہ (14-Point Peace Proposal) بھی پیش کیا ہے، لیکن اگر جنگ مسلط کی گئی تو جواب انتہائی “تکلیف دہ اور پشیمان کن” ہوگا۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain