Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • ڈپٹی کمشنر سارہ حیات نے رورل ہیلتھ سنٹر دلہہ کا دورہ
    • سابق وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز سے راجہ سرفراز اصغر کی ملاقات
    • نتھیاگلی ، تجاوزات کیخلاف آپریشن ،متعدد غیر قانونی کیبن اور تعمیرات مسمار
    • پاکستان ریلوے کے پاس 439 انجن میں سے 269 فعال ‘ 172غیر فعال ریلوے ورکشاپ میں پزروں کی تیاری شروع
    • ایران سے زمینی راستے کے ذریعے عراق جانیوالے پاکستانی متوجہ ہوں
    • اٹک: شادی تقریب میں ڈانس پر دولہے اور3رقاصائوں سمیت35افراد پولیس کی حراست میں۔
    • اٹک پولیس کی کارروائیاں، 2 مجرمان اشتہاری گرفتار،تفتیش جاری
    • تھانہ پنڈیگھیب پولیس کا شادی تقریب میں فحش ڈانس پر چھاپہ
    • اوپن یونیورسٹی میں عالمی یومِ ذہنی صحت کے حوالے سے آگاہی سیمینار
    • سی پی او کی زیر صدارت ٹریفک حادثات پر قابو پانے کیلئے کوآرڈینشن میٹنگ
    • تھانہ گوجرخان میں مستقل ایس ایچ او کی تعیناتی تاخیر کا شکار
    • 2 منشیات سپلائرز کو گرفتار،5 کلو گرام چرس برآمد، مقدمات درج
    • گنجمنڈی پولیس کی کارروائی ،آتش بازی کا سامان فروخت کرنے والے 2 افراد گرفتار
    • سب انسپکٹر سجاد سلیم دوسری مرتبہ تھانہ رنگو تعینات
    • صوبہ بھر میں گندم کی کاشت فروغ کیلئے خصوصی مہم کا آغاز :عاشق حسین
    • کروڑ پاکستانی ذہنی امراض’ 1.29 کروڑ ہیپاٹائٹس کا شکار
    • اسلام آباد:صدر اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری محمد زکریا ضیا سے صدر آل پاکستان جمعیت القریش خورشید احمد قریشی’جنرل سیکرٹری سردار ظہیر احمد’ چیئرمین عبداللہ قریشی و دیگر ملاقات کر رہے ہیں’ اس موقع پر سیکرٹری جنرل یو بی جی ظفر بختاوری بھی موجود ہیں۔
    • اسلام آباد’ جدید سلاٹر ہائوس کا قیام معیاری گوشت کی فراہمی کیلئے ضروری
    • مری میں غیر قانونی ہاسنگ سوسائٹیز اور تعمیرات کے خلاف کریک ڈائون
    • چیئرمینCDA کا اسلام آباد کے مختلف مراکز میں ترقیاتی کاموں کا جائزہ
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    گلگت بلتستان کے عام انتخابات

    By Khabrain Newsجون 6, 2026
    Share Facebook Twitter Email WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    الیکشن کمیشن آف گلگت بلتستان کی ہدایات کے مطابق تمام امیدواروں کے لیے آج رات 12 بجے انتخابی مہم کا وقت ختم ہو جائے گا جس کے بعد 7 جون کو خطے کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے پولنگ ہو گی۔

    الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کی حتمی ووٹر فہرستوں کے مطابق خطے کے 10 اضلاع میں مجموعی ووٹرز کی تعداد 9 لاکھ 63 ہزار 34 ہے جن میں 5 لاکھ 6 ہزار 97 مرد اور 4 لاکھ 56 ہزار 937 خواتین ووٹرز شامل ہیں، ان ووٹرز کے لیے مجموعی طور پر 24 انتخابی حلقے قائم کیے گئے ہیں۔

    گلگت بلتستان اسمبلی کل 33 نشستوں پر مشتمل ہے جن میں 24 براہ راست منتخب ارکان کے علاوہ 6 نشستیں خواتین اور تین نشستیں ٹیکنوکریٹس کے لیے مختص ہیں۔

    گلگت، دیامر اور سکردو یہ تینوں اضلاع سیاسی طور پر انتہائی اہم ہیں اور ان میں سے ہر ایک ضلع میں سب سے زیادہ یعنی 4، 4 انتخابی حلقے ہیں۔

    غذر اور گانچھے اضلاع میں 3، 3 انتخابی حلقے قائم کیے گئے ہیں، نگر اور استور اضلاع کے حصے میں 2، 2 انتخابی حلقے آئے ہیں۔

    ہنزہ، شگر اور کھرمنگ چھوٹے اضلاع ہیں اور ان میں سے ہر ایک ضلع میں 1، 1 انتخابی حلقہ موجود ہے۔

    گلگت اسمبلی کی 24 جنرل نشستوں پر اس مرتبہ کل 396 امیدوار آمنے سامنے ہیں جن میں 266 آزاد امیدوار بھی شامل ہیں جو سیاسی جماعتوں کے لیے اپ سیٹ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

    پاکستان تحریک انصاف کو اس مرتبہ گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں متعدد قانونی اور انتظامی محاذوں پر سخت ترین مشکلات کا سامنا ہے، پی ٹی آئی کے امیدوار گلگت بلستان میں اب کسی واحد جماعتی نشان کے بغیر آزاد حیثیت میں میدان میں ہیں۔

    سکردو پہنچنے پر پارٹی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے مقامی انتظامیہ پر امتیازی سلوک کا الزام عائد کیا جبکہ سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے دعویٰ کیا کہ انہیں مبینہ طور پر حراست میں لیا گیا تاکہ ان کی سکردو کی فلائٹ مس ہو جائے۔

    گلگت بلتستان کو اس وقت سب سے بڑا چیلنج موسمیاتی تبدیلی کا درپیش ہے لیکن کسی بھی سیاسی جماعت نے اس اہم ایشو کو اپنے منشور کا حصہ نہیں بنایا۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس بار خطے میں جارحانہ انتخابی مہم چلائی ہے، انہوں نے سکردو، شگر، چلاس، غذر اور گلگت میں بڑے عوامی اجتماعات سے خطاب کیا، بلاول بھٹو نے وفاقی وزارتِ امورِ کشمیر کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

    دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور ان کی جماعت کے دیگر مرکزی رہنما بھی گلگت بلتستان میں اپنی جڑیں مضبوط کرنے اور وفاق میں حکومت ہونے کا فائدہ اٹھانے کے لیے انتخابی مہم میں سرگرم ہیں۔

    گلگت بلتستان میں ہونے والے یہ انتخابات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب آزاد جموں و کشمیر میں بھی سیاسی درجہ حرارت غیر معمولی طور پر بلند ہے، ایک طرف وہاں بھی عام انتخابات کے حوالے سے سیاسی صف بندیاں تیز ہو رہی ہیں تو دوسری طرف عوامی حقوق کی تحریک ایک مرتبہ پھر زور پکڑ چکی ہے۔

    جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اس خطے میں حالیہ تین برسوں میں بڑے احتجاجی مارچ کیے ہیں جن میں ان کے مطالبات میں آٹے کی سبسڈی، بجلی کے بلوں میں کمی اور خطے کے آئینی حقوق کی فراہمی شامل رہے ہیں، اب عوامی ایکشن کمیٹی نے 9 جون کو ایک بہت بڑے احتجاجی مارچ کی تیاری کر رکھی ہے۔

    خیال رہے کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سیاسی طور پر ایک دوسرے سے بالکل الگ انداز میں کام کرتے ہیں، اب یہاں جو سیاسی تحرک نظر آتا ہے وہ یہاں کے مقامی سیاسی رہنماؤں کے پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے لیڈرز سے تعلق کی بنیاد پر ہے کیونکہ مقامی رہنما اسلام آباد کی پارٹیوں کے یہاں موجود آؤٹ لیٹس کے ساتھ وابستہ ہیں۔

    گلگت بلتستان پاکستان کا ایک ایسا خطہ ہے جو آئینی اعتبار سے ایک منفرد، حساس اور پیچیدہ حیثیت رکھتا ہے، یہ خطہ پاکستان کا باقاعدہ صوبہ نہیں ہے، آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 1 میں پاکستان کی جو جغرافیائی تعریف کی گئی ہے اس میں پاکستان کے زیرانتظام کشمیر اور گلگت بلتستان کا واضح الفاظ میں ذکر نہیں جبکہ آئین کے آرٹیکل 257 کے تحت یہ (انڈیا اور پاکستان کے درمیان) متنازع ریاست جموں کشمیر کا حصہ ہے جس کے مستقبل کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔

    یہ خطہ نومبر 1947ء میں ڈوگرہ راج کے خلاف کامیاب بغاوت کے بعد 16 روز کے لیے ایک آزاد اور خودمختار ریاست بھی رہا تھا، گلگت بلتستان کا انتظامی کنٹرول باضابطہ طور پر 28 اپریل 1949ء کو طے پانے والے معاہدہ کراچی کے تحت پاکستان کے سپرد کیا گیا تھا۔

    اس معاہدے پر پاکستان کے نمائندوں اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی سیاسی جماعت مسلم کانفرنس کی حکومت نے دستخط کیے تھے جس نے اس انتظامی ڈھانچے کو قانونی بنیاد فراہم کی جو آج تک کسی نہ کسی شکل میں قائم ہے۔

    اس وقت گلگت بلتستان میں انتخابی مہم میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سب سے نمایاں حریف کے طور پر آمنے سامنے ہیں، مسلم لیگ (ن) کی جیت کے امکانات روشن ہیں تاہم پیپلز پارٹی کی جاندار مہم اور پی ٹی آئی کا ہمدردی کا بیانیہ اس روایتی رجحان کے آڑے آ سکتا ہے۔

    Khabrain News

      Keep Reading

      ہاکی کھلاڑیوں کو یومیہ 110ڈالر دیے جا رہے ہیں: صدر پی ایچ ایف

      کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟

      فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب

      تازہ ترین

      سعودیہ جانیوالے مسافروں کیلئے لازمی ویکسی نیشن کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع

      پانی ہماری ریڈلائن، روکنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور ہوگی: وزیراعظم شہباز شریف

      سعودی عرب پر حملہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، فضل الرحمان

      باجوڑ میں موبائل سروس و انٹرنیٹ بند شہریوں کو مشکلات کا سامنا

      گورنر راج اور ایمرجنسی مسئلے کا حل نہیں حکومت کا چراغ بجھنے والا ہے:حافظ نعیم

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.