لاہور، ملتان ( کورٹ رپورٹر، خبر نگار) پنجاب میں نئے صوبوں کے قیام اور وزیر اعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ کی جانب سے قرارداوں کو غیر مئوثر کہنے پر سیاسی شخصیات، قانون دانوں کی طرف سے شدید ردعمل کا سلسلہ جاری ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن پنجاب اسمبلی سید عامر علی شاہ نے رانا ثناء اللہ کے صوبوں کے قیام سے متعلق بیان پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ آنے والے دنوں میں پنجاب اسمبلی کا سیشن شروع ہونے جا رہا ہے، اس حوالے سے نئی قرارداد آئینی و قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اور قانون کے مطابق ایوان میں لائی جانی چاہیے۔سید عامر علی شاہ نے واضح کیا کہ صوبوں کے قیام کے حوالے سے ان کی رائے کو ان کی ذاتی رائے سمجھا جائے، تاہم وہ اصولی طور پر سمجھتے ہیں کہ ملک میں نئے صوبے بننے چاہئیں اور یہ عمل آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مکمل کیا جانا چاہیے۔انہوں نے جنوبی پنجاب صوبے کے مطالبے پر دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی پنجاب کا صوبہ یہاں کے عوام کا حق ہے، یہ حق 1954 سے موجود ہے اور ہم اپنے اس حق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ جنوبی پنجاب کے عوام کو ان کا جائز، آئینی اور قانونی حق ملنا چاہیے اور ہم یہ حق قانونی و آئینی طریقے سے لے کر رہیں گے۔پیپلز پارٹی کے رکن پنجاب اسمبلی نے کہا کہ نئے صوبوں کا معاملہ سیاسی نعروں سے آگے بڑھ کر آئینی اور قانونی طریقہ کار کے مطابق حل ہونا چاہیے تاکہ عوام کی دیرینہ محرومیوں کا ازالہ کیا جا سکے اور انتظامی بنیادوں پر بہتر طرز حکمرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی رکن حسن اقبال نے رانا ثنا اللہ کے صوبوں کے قیام سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ رانا ثنا اللہ خود کو قانون دان کہتے ہیں، انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اسمبلی میں جمع کرائی گئی قرارداد محض کسی بیان سے ختم نہیں ہو جاتی۔ قرارداد ایک باقاعدہ پارلیمانی عمل کا حصہ ہوتی ہے اور اسے ختم کرنے کے لیے بھی آئینی و قانونی طریقہ کار اختیار کرنا پڑتا ہے۔حسن اقبال کا کہنا تھا کہ صوبوں کے قیام کے معاملے پر پی ٹی آئی کا موقف واضح ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں ہمارا کوئی حتمی موقف اس وقت تک سامنے نہیں آئے گا جب تک ہمارے قائد عمران خان سے ملاقات نہیں کرائی جاتی ۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی پالیسی اور اہم سیاسی فیصلوں کے حوالے سے عمران خان ہی ہماری رہنمائی کریں گے، اس لیے ان سے ملاقات کے بغیر کسی بھی معاملے پر حتمی رائے دینا مناسب نہیں ہوگا۔پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے سینئر نائب صدر رانا فاروق سعید نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نئے صوبوں پر اس طرح بیان تبدیل کرتے ہیں جیسے گرگٹ رنگ بدلتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مشیر موصوف سے پوچھا جائے اگر جنوبی پنجاب اور صوبہ بہاولپور پر پنجاب اسمبلی کی قرار دادیں پرانی اور غیر موثر ہو گئی ہیں تو انکا مقبوضہ کشمیر بارے اقوام متحدہ کی قرار داد پر کیا نکتہ نظر ہے۔رانا فاروق سعید نے کہا کہ قرار داد کوئی انڈہ یا ڈبل روٹی نہیں جو میعاد ایکسپائر ہونے پر ناقابل استعمال ہو جاتے ہیں۔رانا فاروق سعید نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی واحد جماعت ہے جس کا نئے صوبوں پر واضح موقف ہے اور اب چیئرمین بلاول بھٹو نے بھی واضح کر دیا ہے کہ پیپلز پارٹی پارلیمنٹ میں اس پر بحث کرنے کو تیار ہے،ہم بزنس مینوں کو نئے صوبوں پر بات کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔سینئر قانون دانوں برہان معظم ملک ‘ اشتیاق اے خان نے ”خبریں” سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نئے صوبے وقت کی ضرورت ہیں۔ رانا ثنااللہ کا بیان حقائق کے منافی ہے ، اسمبلی سے پاس ہونے والی ہر قرارداد کی اہمیت موجود رہتی ہے ، راناثنااللہ کا بیان قانون ساز اسمبلی کی توہین کے مترادف ہے ،قانون دان میاں داد نے کہا کہ نئے صوبے بنانے کا اگر فیصلہ ہوچکا ہے تو رانا ثنااللہ کا بیان کوئی معنی نہیں رکھتا ، ن لیگ ابھی نئے صوبوں پر فیصلہ ہی نہیں کر پارہی۔ سینئر قانون دان احسن بھون نے کہا کہ آئین پاکستان میں درج مجوزہ قوانین کے تحت نئے صوبے ضرور بنائیں اور تمام سٹیک ہولڈرز کو بھی اعتماد میں لیں ۔ سینئر وکیل ارشد کنڈی نے کہا کہ رانا ثنااللہ کا بیان پنجاب اسمبلی کی توہین ، صوبے قانون کے مطابق انتظامی بنیادوں پر ضرور بنائیں لیکن یہاں قانون کی پاسداری اور بالادستی ختم ہوتی جارہی ہے۔سابق صوبائی وزیر رانا اعجاز احمد نون نے ” خبریں” سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ملک بھرمیں نئے صوبے یاانتظامی یونٹ بننے سے محروم علاقے اورطبقوں کامستقبل روشن ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان مسلم لیگ ن جنوبی پنجاب کو اول ترجیح دیتی ہے اورپاکستان مسلم لیگ ن نے صوبہ بہاولپور اورصوبہ ملتان کیلئے پنجاب اسمبلی سے قرارداد منظور کرائی ہوئی ہے ،جواس بات کاثبوت ہے کہ مسلم لیگ ن کی قیادت صوبے بنانے کے حق میں ہے۔ سابق صوبائی وزیر نے مزیدکہاکہ قومیت اورلسانیت کی بنیاد پر نئے یونٹ نہ بنائے جائیں بلکہ انتظامی بنیادوں پر نئے یونٹ بنائے جائیں۔ انہوں نے کہاکہ پورے پاکستان میں جنوبی پنجاب سب سے پہلے صوبہ بنایاجائے کیونکہ یہ خطہ برصغیر کا قدیم ترین خطہ ہے ۔ملتان کی تاریخ 5ہزار سال قبل پرمشتمل ہے ۔اس میں تہذیب وثقافت مذہب کے قدیم آثار موجود ہیں لہٰذا سب سے پہلے جنوبی پنجاب صوبہ بنایاجائے اور ملتان اس کا صدرمقام ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت ملک بھرمیں نئے صوبوں کاایشو بڑی تیزی سے ابھررہاہے ،لہٰذا تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر متفقہ رائے سے نئے صوبے بنانے چاہئیں۔ نئے صوبوں کے بننے سے پاکستان کی قسمت بدل جائے گی۔ سابق مشیر وزیر اعلیٰ پنجاب جاوید انصاری کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے جنوبی پنجاب صوبہ بنایا جائے، جس صوبے کی اسمبلی قرارداد منظور کرتی ہے وہاں بھی صوبہ بننا چاہئے۔ پی ٹی آئی کے ممبر صوبائی اسمبلی ندیم قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف نے اپنے دور میں نہ صرف جنوبی پنجاب صوبے کی قرارداد منظور کرائی بلکہ ملتان میں صوبائی سیکرٹریٹ قائم کرنے کے ساتھ جنوبی پنجاب کیلئے الگ بجٹ بھی مختص کرایا تھا مگر مسلم لیگ (ن) نے جنوبی پنجاب دشمنی میں سب کچھ ختم کردیا۔ سابق صوبائی وزیر جیل خانہ جات چودھری عبدالوحید ارائیںنے نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ چاروں صوبوں میں زیادہ سے زیادہ انتظامی یونٹس یا صوبے بنائے جائیں۔ اس سے کم ترقی یافتہ صوبوں میں ترقی کی راہیں ہموار ہوں گی۔ نئے صوبے بننے چاہئیں لیکن اس کی ابتداء جنوبی پنجاب سے ہونی چاہئے۔ سربراہ گیلانی خاندان مخدوم غلام یزدانی گیلانی نے نئے صوبوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نئے صوبے یا انتظامی یونٹس وقت کی ضرورت ہیں۔ یہ ضرور بننے چاہئیں کیونکہ ان کے بننے سے غیر ترقی یافتہ علاقوں اور محروم طبقوں کو ضروریات کی بنیادی سہولتیں میسر ہوجائیں گی لہٰذا تمام سیاسی جماعتیں ملکر نئے صوبے بنائیں۔ سب سے پہلے ملتان کو صوبہ بناؤ،تحریک کے چیئرمین اورسابق چیف کوارڈینیٹر لیبر ڈیپارٹمنٹ پنجاب محمد حامد خان نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے،سب سے پہلے ملتان کو صوبہ بنایا جائے،ملتان جنوبی پنجاب کا مرکز ہے،ملتان کو صوبہ بنا کر ملتان کو ہی صوبائی دارالخلافہ بنایا جائے،کیونکہ جنوبی پنجاب کے تمام اضلاع کے لوگوں کو ملتان میں اپنے مسائل کے حل کے لیے آنے کے لیے آسانی ہوگی،اور ملتان صدیوں پرانا تاریخی شہر ہے،اور ملتان کو صوبہ بنانے کی تحریک طویل عرصے سے جاری ہے اور ملتان سمیت جنوبی پنجاب کے عوام صوبہ ملتان کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں،اس لیے سب سے پہلے ملتان کو صوبہ بنایا جائے،محمد حامد خان نے کہا کہ وزیر دفاع خواجہ آصف،اور وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال بھی نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کر چکے ہیں،وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کی یہ بات درست ہے کہ لاہور میں بیٹھ کر رحیم یار خان اور اٹک تک کنٹرول نہیں کیا جا سکتا اس لیے پنجاب کی تقسیم،سندھ کی تقسیم،خیبر پختون خواہ کی تقسیم،اور بلوچستان کی تقسیم ضروری ہے،ہر ڈویڑن وائز انتظامی یونٹس بنا دیے جائیں جس سے عوام کے مسائل حل ہوں گے،اور لوگوں کو ریلیف ملے گا،محمد حامد خان نے کہا کہ ریاست اور ریاستی ادارے بھی نئے صوبوں کا قیام چاہتے ہیں اس لیے کسی کو بھی نئے صوبوں کے قیام میں رکاوٹ نہیں پیدا کرنی چاہیے،اگر آصف علی زرداری نے کراچی اور حیدراباد صوبوں کے قیام میں رکاوٹ ڈالی تو نہ صرف پیپلز پارٹی کی سیاست ختم ہو جائے گی بلکہ زرداری کی صدارت بھی جاتی رہے گی،اور سید رضا گیلانی سے چیئرمین سینٹ کی سیٹ بھی جاتی رہے گی اس لیے جو بھی صوبوں کے قیام میں رکاوٹ ڈالے گا اس کی سیاست کا خاتمہ ہوگا۔
سیاسی شخصیات
بریکنگ نیوز
- جنگِ ستمبر کا 9واں روز: پاک فوج نے بھارت کو 3 محاذوں پر شکست دی
- پاکستانی و مصری وزرائے خارجہ کا دوطرفہ تعلقات و علاقائی صورتِحال پر تبادلہ خیال
- ملک کا مستقبل چند بزنس مین طے نہیں کرسکتے: بلاول بھٹو
- عاصم افتخار پاکستان کے نئے سیکرٹری خارجہ مقرر
- نیتن یاہو مزید 1 منٹ بھی اسرائیلی وزیراعظم رہنے کے اہل نہیں، اپوزیشن رہنمائوں کا مستعفی ہونیکا مطالبہ
- پاکستان کی تیزی سے بڑھتی آبادیوسائل پر دبا ئوبڑھا رہی ہے: احسن اقبال
- موجودہ تناظر میں نئے صوبوں کا قیام آئینی تقاضا ہے : بیرسٹر سیف
- ایم کیو ایم نے نیا ڈرامہ شروع کر رکھا، سندھو دیش اسوقت موضوع ہی نہیں: سعید غنی
- کے پی پولیس کو پنجاب پولیس نہیں بننے دیں گے:سہیل آفریدی
- دہلی کے سابق چیف سیکرٹری راکیش مہتا نے مبینہ طور پر خودکشی کرلی
- بنگلادیش کو دنیا کی سب سے بڑی خسرہ وبا کا سامناایک ہزار بچےجاں بحق
- رانا ثنا کے بیان کی کوئی حیثیت نہیں نئے صوبے ضرور بننے چاہیے
- عمران خان کی طرح تین قیدیوں کیلئے طبی سہولیات آئینی عدالت میں اپیل سماعت کیلئے مقرر
- ملک میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ، پیازکی قیمت 300 روپے کلو تک پہنچ گئی
- 27 ستمبر کا احتجاج اٹل’فیصلے پر نظر ثانی نہیں کر سکتے: بیرسٹر گوہر
- تیسرا ٹیسٹ: پاکستان 133 رنز پرڈھیر’انگلینڈ 4وکٹ پر 156رنز
- حکومت تیسری مرتبہ ایل این جی کارگوخریدنے میں ناکام
- وفاقی دارالحکومت میں شیشہ کیفے چلانے پر تاحکم ثانی پابندی عائد
- پی ٹی آئی 27 ستمبر احتجاج کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ نے لارجر بنچ تشکیل دیدیا
- ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کا اپنے دفتر میں کھلی کچہری کا انعقاد
