لاہور (خبر نگار) بسنت کی گونج ابھی دور، مگر والڈ سٹی لاہور میں تیاریوں کا آغاز، مخصوص تاریخی عمارتوں اور
گھروں کی چھتوں کو بسنت تقریبات کے لیے استعمال کرنے کی منصوبہ بندی، سیفٹی پلان پر کام شروع ہونے کا انکشاف بسنت کی واپسی سے قبل ہی اندرون لاہور میں انتظامی سرگرمیاں شروع ہوگئیں۔ ذرائع کے مطابق والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی (WCLA) نے بسنت کے دوران چھتوں پر تقریبات اور پتنگ بازی کے ممکنہ انتظامات کے لیے ابتدائی سیفٹی پلان پر کام شروع کر دیا ہے، جبکہ مخصوص چھتوں پر فنکشنز کے انعقاد کے لیے این او سی جاری کیے جانے اور منظور شدہ گھروں کی نشاندہی کے لیے ان کے باہر خصوصی اسٹیکرز لگانے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اندرون شہر ہر چھت کو بسنت کے لیے کھولنے کے بجائے مخصوص عمارتوں اور چھتوں کو حفاظتی جانچ کے بعد اجازت دینے کا طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔ جن گھروں یا عمارتوں کی چھتوں کو اجازت ملے گی، ان کی واضح نشاندہی کی جائے گی تاکہ انتظامیہ، پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کو فوری طور پر معلوم ہوسکے کہ کون سی چھت منظور شدہ ہے اور کون سی نہیں۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ صدیوں پرانی اور تاریخی عمارتوں کی چھتیں ہزاروں افراد کا بوجھ برداشت کرنے کے قابل بھی ہیں یا نہیں؟ اندرون لاہور کی عمارتیں محض عام رہائشی مکانات نہیں بلکہ تاریخی ورثے کا حصہ ہیں۔ WCLA خود والڈ سٹی کے تاریخی ورثے، عمارتوں کے تحفظ، کنزرویشن اور بلڈنگ کنٹرول سے متعلق ذمہ داریاں انجام دیتی ہے۔ اتھارٹی کے موجودہ ڈھانچے میں Conservation & Planning اور Land Record & Building Control کے شعبے بھی موجود ہیں۔ ذرائع کے مطابق بسنت کے دوران چھتوں پر لوگوں کی گنجائش، چھت کی موجودہ حالت، حفاظتی ریلنگ، داخلی و خارجی راستوں، ہنگامی انخلائ، آگ بجھانے کے انتظامات، بجلی کی تاروں سے فاصلے اور چھت پر موجود غیر محفوظ تعمیرات سمیت مختلف پہلوئوں کو سیفٹی پلان میں شامل کیا جا رہا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر منظور شدہ چھت کی Structural Safety Assessment بھی ہوگی؟ اگر کسی تاریخی عمارت کی چھت پر گنجائش سے کہیں زیادہ افراد جمع ہوگئے اور خدانخواستہ چھت کا کوئی حصہ بیٹھ گیا تو ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟ کیا NOC جاری کرنے سے پہلے کسی ماہر سول/ اسٹرکچرل انجینئر سے عمارت کی بوجھ برداشت کرنے کی صلاحیت کا سرٹیفکیٹ لیا جائے گا؟ کیا ہر چھت کے لیے زیادہ سے زیادہ افراد کی تعداد مقرر ہوگی؟ اور کیا NOC پر اس گنجائش کو واضح طور پر درج کیا جائے گا؟ تحقیقاتی ذرائع کے مطابق منظور شدہ چھتوں کے باہر اسٹیکر لگانے کی تجویز کا مقصد بھی یہی بتایا جا رہا ہے کہ غیر منظور شدہ گھروں کی چھتوں پر ہونے والی سرگرمیوں کو فوری طور پر شناخت کیا جاسکے۔ تاہم اسٹیکر لگانا کافی ہوگا یا باقاعدہ فزیکل چیکنگ اور موقع پر نفری بھی تعینات کی جائے گی، یہ سوال بدستور اہم ہے۔ دوسری طرف بسنت کے دوران چھتوں کی نگرانی پہلے ہی ایک بڑا چیلنج رہی ہے۔ دستیاب رپورٹس میں 2026ء کے بسنت انتظامات کے دوران ڈرونز، سیف سٹی کیمروں اور مختلف حفاظتی زونز کے ذریعے نگرانی کے منصوبوں کا ذکر سامنے آیا ہے۔ اندرون شہر کے تنگ راستے انتظامیہ کے لیے ایک اور بڑا امتحان ہوں گے۔ ہزاروں افراد اگر بیک وقت گھروں کی چھتوں پر پہنچے تو ایمرجنسی کی صورت میں ایمبولینس، ریسکیو اور فائر بریگیڈ کس راستے سے پہنچیں گے؟ اگر کسی عمارت میں آگ لگ جائے یا چھت پر بھگدڑ مچ جائے تو ہنگامی انخلا کا راستہ کہاں ہوگا؟ کیا ہر منظور شدہ چھت کا ایمرجنسی انخلاء کا پلان بھی تیار کیا جائے گا؟ والڈ سٹی کی جانب سے تاریخی عمارتوں کے تحفظ پر مسلسل زور دیا جاتا رہا ہے اور اتھارٹی کی ویب سائٹ کے مطابق اس کے مختلف منصوبوں میں عمارتوں کی ساختی بحالی اور کنزرویشن کا کام بھی کیا جاتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بسنت کی رونق کے لیے تاریخی ورثے کو محفوظ رکھتے ہوئے سیفٹی کا معیار کس حد تک یقینی بنایا جاتا ہے، یا پھر چند گھنٹوں کی تفریح کے لیے صدیوں پرانی عمارتوں کو ہزاروں افراد کے بوجھ کے حوالے کردیا جائے گا۔
