لاہور(سپورٹس ڈیسک)ویمنز ایشیا کپ کا فائنل جیتنے کے بعد بھارتی ویمنز ٹیم نے چیئرمین ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی)محسن نقوی سے ٹرافی لینے
سے انکار کرکے ایک بار پھر کرکٹ کو سیاست کی نذر کر دیا۔دبئی میں ویمنز ٹی ٹوئنٹی ایشیا کپ فائنل کے انعامات دینے کی تقریب ہوئی جس میں اے سی سی کے صدر محسن نقوی سٹیج پر موجود تھے۔ تاہم بھارتی ٹیم ڈریسنگ روم کے باہر دائرہ بناکر موجود رہی اور گراؤنڈ میں نہیں آئی جس کے باعث بھارتی ٹیم کے بغیر ہی تقریب مکمل ہوئی اور بھارتی ویمنز ٹیم نے ٹرافی وصول نہیں کی جس پر ٹرافی اے سی سی نے رکھ لی۔اے سی سی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ اگر فاتح ٹیم نے ٹرافی وصول کرنی ہے تو محسن نقوی سے ہی وصول کرے گی۔دوسری جانب سری لنکا ویمن ٹیم کی کپتان چماری اتاپتو نے چیئرمین اے سی سی محسن نقوی سے رنرز اپ انعام وصول کرلیا۔ذرائع اے سی سی کا کہنا ہے کہ ٹرافی دینے کا پروٹوکول مکمل طور پر طے تھا، ٹرافی فاتح بھارتی ٹیم کو دینے کے لیے دستیاب تھی، بھارتی ٹیم نے ٹرافی وصول نہ کرنے کا فیصلہ خود کیا، صرف وصولی کا انتظار ہے۔بھارتی ٹیم کے اس طرز عمل کے بعد محسن نقوی نے اپنے پرانے اصولی موقف کے تحت ٹرافی اپنے پاس رکھ لی۔ذرائع کے مطابق محسن نقوی اپنے موقف سے پہلے بھی ایک انچ پیچھے نہیں ہٹے تھے اور آج بھی اپنے اسی موقف پر قائم ہیں، جس کے تحت کرکٹ کے معاملات کو سیاسی تنازعات سے الگ رکھتے ہوئے کھیل اور اس کی روایات کو مقدم رکھا جانا چاہیے۔کرکٹ کے حلقوں میں بھارتی ٹیم کے اس رویے کو سپورٹس مین سپرٹ کے حوالے سے بھی تنقید کا سامنا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی ویمنز ٹیم کا یہ طرز عمل ایک سال کے دوران دوسری مرتبہ سامنے آیا ہے، جب کسی بڑے کرکٹ ایونٹ میں فاتح بھارتی ٹیم نے ٹرافی دینے والے ایشین کرکٹ کونسل کے چیئرمین سے ٹرافی وصول کرنے سے گریز کیا۔ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ سال کی بھارتی ٹیم کی ٹرافی بھی اب تک دستیاب ہے اور صرف اس کی وصولی کا انتظار ہے۔اے سی سی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی ٹیم کے اس فیصلے کے باوجود ایشین کرکٹ کونسل کے مقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور کرکٹ کو کھیل ہی کے طور پر آگے بڑھانے کی پالیسی برقرار ہے۔ویمنز ایشیا کپ کے فائنل میں بھارتی ٹیم کی کامیابی کے بعد ٹرافی کی تقریب کو اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت حاصل ہوگئی کہ ایک بار پھر کرکٹ کے میدان میں کھیل سے ہٹ کر سیاسی اختلافات کے اثرات نمایاں نظر آئے۔
محسن نقوی
