ایران کی تہران، واشنگٹن( نیوز ایجنسیاں) ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے امریکا کو 7شرائط پیش
کردیں جبکہ عالمی جوہری معاہدے سے علیحدہ ہونے کی دھمکی دینے کے علاوہ امریکی صدر ٹرمپ کو چیلنج دیا ہے کہ آبنائے ہرمز کنٹرول کرنا چاہتے ہیں تو 100کلومیٹر اندر آ کر دکھائیں۔ ادھر ایران کے قشم جزیرے کے قریب کمرشل جہاز پر حملہ میں ایک شخص جاں بحق ،3افراد زخمی ہوگئے جبکہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ جنگ نہیں چاہتے لیکن پابندیوں یا فوجی دبائو کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالیں گے ۔ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکا کو سات شرائط پیش کردیں، ساتھ ہی واضح کیا ہے کہ سلطنت عمان کے ساتھ پیر کو طے پانیوالے معاہدے کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کھولی نہیں جائے گی۔روسی میڈیا کے مطابق ایران نے ثالثوں کے ذریعے امریکا کو سات شرائط پیش کی ہیں تاہم ان شرائط کی تفصیل ظاہر نہیں کی گئی۔روسی میڈیا کے مطابق اتنا کہا گیا ہے کہ ایران نے امریکا پر واضح کیا ہے کہ شرائط پوری نہ ہوئیں تو آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی۔ایران کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ تہران پیر کو مسقط میں اجلاس کی میزبانی کرے گا جس میں عراق اور خلیجی ممالک کے مندوبین بھی شرکت کریں گے۔ان ممالک کو دعوت دینے کا مقصد انہیں نئے رستہ کی تفصیل اور ٹرانزٹ کے انتظامات سے آگاہی دینا بتایا گیا ہے۔ایران اور عمان کے درمیان طے معاہدے کے تحت خلیج فارس میں داخلہ رستہ مکمل طور پر ایرانی پانیوں سے گزرے گا اور خلیج فارس سے خارجی رستہ جزوی طور پر ایرانی پانیوں سے گزرے گا۔یہ ٹرانزٹ ایرانی پروٹوکول کے تحت ہوگا، جنوبی رستہ جسے کھولنے پر امریکا اصرار کر رہا ہے وہ بند کردیا جائے گا۔دریں اثناء اقوامِ متحدہ کے ایٹمی انرجی کمیشن کے بورڈ آف گورنرز کی جانب سے ایران کو عدم تعاون پر سلامتی کونسل میں بھیجنے کی قرارداد منظور کیے جانے کے بعد تہران اور مغربی ممالک کے درمیان سفارتی اور ایٹمی کشیدگی انتہائی تشویشناک حد تک بڑھ گئی ۔پچیس سال میں پہلی بار پاس ہونے والی اس قرارداد کے جواب میں ایرانی پارلیمنٹ کی صدارتی کمیٹی کے ترجمان عباس گودرزی نے کہا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلا کے معاہدے یعنی این پی ٹی سے الگ ہونا اور ملک کے ایٹمی نظریے پر نظرِ ثانی کرنا ممکنہ آپشنز ہیں۔ایرانی نیوز ایجنسی فارس کے مطابق عباس گودرزی نے مزید کہا کہ این پی ٹی کو چھوڑنے اور ایٹمی پالیسی بدلنے سے امریکا اور اس کے حواریوں کو ان کی صحیح جگہ دکھائی جا سکتی ہے۔ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن محمدرضا محسنی ثانی نے بھی واضح کیا کہ تہران اب این پی ٹی کو اپنے لیے پابندی نہیں سمجھتا، چاہے وہ اس میں رہے یا اس سے نکل جائے۔تاہم ایرانی دفترِ خارجہ کی جانب سے این پی ٹی سے باقاعدہ الگ ہونے کا کوئی رسمی اعلان واشنگٹن یا ماسکو کو نہیں بھیجا گیا ہے۔دوسری طرف ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ عالمی ایٹمی ایجنسی کے سیاسی اقدامات ممالک کو این پی ٹی سے نکلنے پر مجبور کریں گے۔ادھر ایران کے قشم جزیرے کے قریب ایک ایرانی کمرشل جہاز کو حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ایرانی حکام کے مطابق کمرشل جہاز پر حملے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ 3 افراد زخمی ہوگئے۔دوسری جانب برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ایجنسی کا کہنا ہے کہ اتوار کی صبح آبنائے ہرمز میں ایک بحری جہاز پر میزائل حملہ ہوا ہے۔فوری طور پر عملے اور جہاز کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہو سکا۔ قبل ازیں ازیں امریکا نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار بحری جہازوں کو مخصوص اوقات میں سفر کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ان کے لیے فضائی دفاع کے اوقات محدود کر دئیے ہیں۔برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق فیصلہ رات کے اوقات میں ایران کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے بعد کیا گیا ہے۔قبل ازیںایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے نائب سیاسی افسر علی محمدی نے آبنائے ہرمز میں امریکی بحری موجودگی سے متعلق کہا ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ واقعی اس اہم آبی گزرگاہ کو کنٹرول کرنے کی بات کرتے ہیں تو وہ اپنے کسی بحری جہاز کو 100 کلومیٹر کے اندر لا کر دکھائیں۔ ا یرانی میڈیا کے مطابق مشہد میں حکومتی حامیوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے علی محمدی نے کہا کہ امریکی اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر ان کے جنگی جہاز ایرانی حدود کے قریب آئے تو انھیں ایرانی فورسز کے ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انھوں نے دعوی کیا کہ حالیہ دنوں میں بھی اس کی ایک مثال سامنے آ چکی ہے، تاہم انھوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت خلیج فارس، بحیرہ عمان اور آبنائے ہرمز میں کوئی امریکی فوجی موجود نہیں اور نہ ہی ان علاقوں میں امریکی عسکری سازوسامان تعینات ہے۔ انھوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکی جہاز ممنوعہ حدود کے قریب آئے تو انھیں اس کے نتائج کا بخوبی اندازہ ہے۔پاسداران انقلاب کے عہدیدار نے مزید دعوی کیا کہ کویت اور بحرین سے روانہ ہونے والے تمام بحری جہاز پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کی نگرانی میں ہیں۔ ان کے بقول اگر کسی جہاز کی جانب سے ضوابط کی خلاف ورزی کی گئی تو اس کے خلاف مقررہ قواعد کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔دوسری جانب امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کے دوران گزشتہ 60 روز میں 100 تجارتی بحری جہازوں کا راستہ روکا یا انہیں واپس بھیجا گیا ہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایکس پر پیغام میں کہا کہ کسی بھی جہاز کو امریکی اجازت کے بغیر ناکہ بندی سے گزرنے نہیں دیا گیا۔امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد ایران کی بندرگاہوں سے تجارتی آمدورفت روک کر تہران کی آمدنی کو محدود کرنا ہے۔دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال آبنائے ہرمز میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا رہی ہے۔ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی کے نئے فریم ورک پر حتمی معاہدے کے لیے اہم اجلاس آج ( پیر )کو عمان میں منعقد ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس اجلاس میں عرب ممالک کے وزرائے خارجہ بھی شریک ہوں گے۔نئی دہلی میں برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر بھارتی ٹی وی چینل انڈیا ٹوڈے کو دئیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہاکہ ایران اور عمان پہلے ہی آبنائے ہرمز کے حوالے سے مخصوص فریم ورک پر اتفاق کرچکے ہیں۔ پیر کو عمان میں وزرائے خارجہ اجلاس میں عرب ممالک کو بھی اس معاملے پر اعتماد میں لیا جائے گا، جس کے بعد بین الاقوامی میری ٹائم ایجنسی کو بھی اس پیش رفت سے آگاہ کیا جائے گا۔ صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا کہ امریکا حملے بند کردے تو اس سمندری راستے پر بین الاقوامی قوانین کے تحت آزادانہ نقل و حرکت بحال ہوسکتی ہے۔خطے کی صورتِ حال پر گفتگو کرتے ہوئے ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کو پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، روس اور چین سمیت اپنے کسی بھی پڑوسی ملک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے بلکہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر اعتراض ہے جنہیں ایران پر حملوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔انہوں نے خطے کے ممالک پر زور دیا کہ وہ غیر ملکی طاقتوں کو خطے میں تفریق پیدا کرنے کا موقع دینے کے بجائے قیامِ امن اور سلامتی کے لیے آپس میں تعاون کی فضا پیدا کریں۔عالمی معیشت پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ برکس اور نیو ڈیولپمنٹ بینک آزادانہ تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دے کر امریکی تسلط اور پابندیوں کا مثر مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اس سے رکن ممالک کی امریکی معیشت اور ڈالر پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی اور ایک آزاد کثیر القطبی (ملٹی پولر) نظام تشکیل پائے گا۔مسعود پزشکیان نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تہران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا۔ انہوں نے کہا کہ ایران جوہری عدم پھیلا کے معاہدے (این پی ٹی )پر عمل پیرا ہے اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ایرانی صدر نے ایرانی اعلی قیادت سمیت سائنس دانوں اور سویلین انفراسٹرکچر پر ہونے والے حملوں کی بھی سخت مذمت کی اور خوراک، ادویات اور تجارت پر عائد پابندیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، تاہم پابندیوں یا فوجی دبا کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا۔
سات شرائط
