کراچی(این این آئی)بحرالکاہل کے استوائی حصے میں بننے والا ال نینو تیزی سے طاقتور ہورہا ہے اور عالمی موسمیاتی ادارے کے مطابق اس کے فروری 2027 تک برقرار رہنے کا امکان تقریباً 100 فیصد ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ طاقتور ال نینو کے
اثرات عالمی سطح پر موسم، زراعت، پانی، صحت، توانائی اور غذائی تحفظ کو متاثر کرسکتے ہیں، جبکہ پاکستان جیسے موسمیاتی خطرات سے دوچار ملک کیلئے اس صورتحال میں بروقت تیاری انتہائی اہم قرار دی جارہی ہے۔ماہرین کے مطابق موجودہ ال نینو 2026 کے اختتام تک مزید شدت اختیار کرسکتا ہے اور اس کے موسمی اثرات 2027 میں بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔ پاکستان پہلے ہی شدید گرمی، پانی کی قلت، بے ترتیب مون سون، شہری سیلاب، خشک سالی اور غذائی عدم تحفظ جیسے مسائل کا سامنا کررہا ہے، اس لیے ال نینو کی شدت میں اضافہ ان خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی کیفیت ہے جس کے دوران بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی حصوں میں سمندر کا پانی معمول سے زیادہ گرم ہوجاتا ہے۔ سمندر کی اس غیر معمولی گرمی کے باعث فضائی دباؤ اور ہواؤں کے نظام میں تبدیلی آتی ہے، جس کے اثرات بحرالکاہل سے ہزاروں کلومیٹر دور علاقوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ ال نینو اور لا نینا موسمیاتی نظام ”ال نینو جنوبی دو لینی” کے دو مخالف مراحل ہیں۔عالمی موسمیاتی ادارے کے مطابق موجودہ صورتحال میں بحرالکاہل کی سطح اور گہرائی میں غیر معمولی گرمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ جولائی اور اگست کے دوران بعض مقامات پر سطح آب کے نیچے پانی کا درجہ حرارت معمول سے 8 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ریکارڈ ہوا، جبکہ وسطی استوائی بحرالکاہل میں سمندر کی سطح کا درجہ حرارت معمول سے تقریباً ڈیڑھ سے 2.6 ڈگری سینٹی گریڈ تک زیادہ رہا۔ماہرین نے کہا کہ عالمی حدت اور ال نینو الگ الگ عوامل ہیں۔ ال نینو قدرتی موسمیاتی عمل ہے، جبکہ عالمی حدت بڑی حد تک انسانی سرگرمیوں سے خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسوں کے باعث پیدا ہورہی ہے۔ تاہم پہلے سے گرم ہوتی ہوئی دنیا میں ال نینو کے نتیجے میں پیدا ہونے والی شدید گرمی، خشک سالی یا بارشوں کے اثرات زیادہ نقصان دہ ہوسکتے ہیں۔پاکستان میں ال نینو کے اثرات ہر سال ایک جیسے نہیں ہوتے اور ان کا انحصار مون سون، بحرہند کے درجہ حرارت، مغربی ہواؤں اور دیگر فضائی عوامل پر بھی ہوتا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق ملک کو شدید گرمی، پانی کی قلت، خشک سالی، زرعی پیداوار میں کمی اور بعض علاقوں میں شدید بارشوں کے ممکنہ خطرات کیلئے تیار رہنا ہوگا۔سندھ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے گرم علاقوں میں گرمی کی شدت میں اضافہ انسانی صحت کیلئے خطرناک ہوسکتا ہے۔ کراچی جیسے ساحلی علاقوں میں بلند درجہ حرارت کے ساتھ زیادہ نمی گرمی کی شدت کو مزید بڑھا سکتی ہے۔ ہیٹ اسٹروک اور پانی کی کمی کا خطرہ بالخصوص بزرگوں، بچوں، بیمار افراد اور کھلے آسمان تلے کام کرنے والے مزدوروں کیلئے بڑھ سکتا ہے۔گرمی کی شدت میں اضافے سے بجلی کی طلب بھی بڑھ سکتی ہے، جبکہ پانی کی قلت کی صورت میں شہری آبادی، زراعت اور صنعت کو اضافی مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ خشک سالی سے بلوچستان، تھرپارکر اور دیگر خشک و بارانی علاقوں میں انسانوں اور مویشیوں کیلئے پانی اور خوراک کے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔زراعت کے شعبے میں گندم، چاول، کپاس، گنا، مکئی، پھل اور سبزیوں کی پیداوار شدید گرمی اور پانی کی کمی سے متاثر ہوسکتی ہے۔ فصلوں کو نقصان پہنچنے کی صورت میں نہ صرف دیہی آمدنی متاثر ہوگی بلکہ خوراک کی قیمتوں میں اضافے کا دباؤ بھی بڑھ سکتا ہے۔ماہرین نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ کم مجموعی بارش کے باوجود مختصر دورانیے میں شدید بارش کا امکان ختم نہیں ہوجاتا۔ شدید بارش شہری سیلاب، پہاڑی ریلوں اور نکاسی آب کے مسائل پیدا کرسکتی ہے۔ کراچی جیسے شہروں میں پانی کی قلت کے ساتھ اچانک شدید بارش شہری انتظامیہ کیلئے دوہرا چیلنج بن سکتی ہے۔موسمیاتی تبدیلی اور ال نینو کے ممکنہ اثرات صحت کے شعبے پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔ شدید گرمی سے ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی اور دیگر بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جبکہ شدید بارش اور سیلاب کی صورت میں آلودہ پانی سے پھیلنے والی بیماریوں، ڈینگی اور ملیریا کے خدشات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ماہرین کے مطابق ال نینو کے معاشی اثرات بھی طویل ہوسکتے ہیں۔ 2023 میں سائنسی جریدے ”سائنس” میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق 1982ـ83 کے ال نینو سے عالمی معیشت کو طویل مدت میں تقریباً 4.1 ٹریلین ڈالر جبکہ 1997ـ98 کے طاقتور ال نینو سے تقریباً 5.7 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوا۔ ماہرین کے مطابق متاثرہ ممالک کی معاشی ترقی پر اس کے اثرات کئی برس تک برقرار رہ سکتے ہیں۔ماہرین نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ پیشگی موسمی انتباہات کو بنیاد بنا کر ہنگامی منصوبہ بندی کی جائے۔ محکمہ موسمیات، قدرتی آفات سے نمٹنے کے اداروں، صوبائی حکومتوں، زرعی و صحت کے محکموں اور شہری انتظامیہ کے درمیان مربوط حکمت عملی تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔شدید گرمی سے نمٹنے کیلئے گرمی کی لہروں کے ہنگامی منصوبے، اسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک کی تیاری، خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں پانی اور خوراک کی نگرانی، کسانوں کو موسمی صورتحال کے مطابق فصلوں اور آبپاشی سے متعلق رہنمائی، پانی کے ذخائر اور شہری نکاسی آب کے نظام کی نگرانی اور بجلی کی بڑھتی طلب سے نمٹنے کے انتظامات بروقت مکمل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ماہرین کے مطابق 2022 کے تباہ کن سیلاب کو براہ راست ال نینو کا نتیجہ قرار دینا درست نہیں، کیونکہ اس وقت لا نینا کی کیفیت موجود تھی۔ پاکستان میں سیلاب اور خشک سالی کے خطرات پر مون سون، عالمی حدت، بحرہند کی کیفیت، گلیشیئرز، مقامی جغرافیہ اور شہری و زرعی منصوبہ بندی سمیت متعدد عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔ماہرین نے کہا کہ ال نینو کو روکا نہیں جاسکتا، تاہم پیشگی منصوبہ بندی اور بروقت اقدامات کے ذریعے اس کے ممکنہ نقصانات میں نمایاں کمی لائی جاسکتی ہے۔ پاکستان کیلئے موجودہ موسمیاتی پیش گوئی ایک اہم انتباہ ہے اور متعلقہ اداروں کو موسمی خطرات سے نمٹنے کیلئے حادثے کے بعد اقدامات کے بجائے پیشگی تیاری پر توجہ دینا ہوگی۔
ایل نینو
