اسلام آباد (عادل عباسی)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے فوڈ سیکیورٹی کے اجلاس میں پاکستان میں لائیو اسٹاک کی ویکسین اور ادویات بغیر لائسنس تیار اور فروخت کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل لائیو اسٹاک خیبر پختونخوا نےاعتراف کیا کہ متعلقہ ویکسین کی تیاری گزشتہ چھ سال سے جاری ہے، تاہم تاحال لائسنس حاصل نہیں کیا گیا۔اجلاس کے دوران ڈائریکٹر جنرل لائیو اسٹاک خیبر پختونخوا نے کمیٹی کو بتایا کہ متعلقہ ادویات اور ویکسین کی تیاری جاری ہے، جبکہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان سے لائسنس موجود نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لائسنس کے حصول کا عمل جاری ہے۔کمیٹی ارکان نے بغیر لائسنس ادویات اور ویکسین کی تیاری اور فروخت پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ سینیٹر ایمل ولی خان نے سوال اٹھایا کہ اگر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کا لائسنس موجود نہیں تو ادویات کی تیاری اور فروخت کیسے جاری رہ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بغیر لائسنس ادویات فروخت کرنا جرم ہے اور یہ معاملہ صرف خیبر پختونخوا تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک میں ایسا ہونے کا خدشہ ہے۔سینیٹر ایمل ولی خان نے مزید سوال کیا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے لائسنس کے بغیر ادویات کیسے بنائی جا سکتی ہیں، جبکہ متعلقہ حکام اس عمل کو روکنے کے بجائے لائسنس کے پراسیس میں ہونے کی بات کر رہے ہیں۔کمیٹی کے چیئرمین نے بھی حکام کے مقف پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پراسیس میں تو پاکستان میں پتا نہیں کیا کیا چل رہا ہے۔چیئرمین کمیٹی نے ڈائریکٹر جنرل لائیو اسٹاک سے براہ راست استفسار کیا کہ کیا لائسنس کے بغیر ویکسین تیار کی جا رہی ہے یا نہیں؟ جس پر ڈائریکٹر جنرل لائیو اسٹاک نے جواب دیا، جی سر، بن رہی ہے، چھ سال سے۔اجلاس میں ہونے والے اس انکشاف کے بعد لائیو اسٹاک ویکسین کی تیاری، معیار، نگرانی اور قانونی حیثیت سے متعلق متعدد سوالات اٹھ گئے ہیں۔ کمیٹی نے معاملے پر مزید وضاحت اور متعلقہ اداروں سے جواب طلب کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
