کراچی (این این آئی) میر رضا کیس کی تحقیقات کیلئے قائم جوڈیشل کمیشن کی کارروائی کے دوران میڈیکل بورڈ کی تشکیل اور قبر کشائی سے ایک رات قبل اس میں تبدیلی، حیدر آباد کے ماہرین کی شمولیت، پولیس تفتیش کے طریقہ کار، کاروباری معاملات اور میر رضا کی گمشدگی سے متعلق اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ کمیشن نے ڈی جی ہیلتھ سروسز پرویز احمد شیخ، کاروباری ساتھی احمد حسن شیخ، بزنس سپروائزر کاظم اور عمیر خان سمیت مختلف گواہوں کے بیانات قلمبند کیے۔ میر رضا کے اہل خانہ کی جانب سے ڈی آئی جی عامر فاروقی اور ایڈیشنل آئی جی سے متعلق سوالات جمع کرانے کا معاملہ بھی مؤخر کر دیا گیا۔ اہل خانہ کے وکیل جبران ناصر ایڈووکیٹ نے کمیشن سے استدعا کی کہ ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو کا بیان ریکارڈ ہونے تک سوالات جمع کرانے کیلئے مہلت دی جائے۔ جبران ناصر نے مؤقف اختیار کیا کہ ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو انتہائی اہم گواہ ہیں، ان کا بیان سامنے آنے کے بعد ہی ڈی آئی جی عامر فاروقی اور ایڈیشنل آئی جی سے متعلق سوالات مرتب کیے جائیں گے۔ کمیشن نے کارروائی جاری رکھتے ہوئے دیگر گواہوں کے بیانات قلمبند کیے۔کمیشن نے ڈی جی ہیلتھ سروسز پرویز احمد شیخ کو روسٹرم پر طلب کرکے قبر کشائی کیلئے تشکیل دیئے گئے میڈیکل بورڈ اور اس میں تبدیلی سے متعلق تفصیلی پوچھ گچھ کی۔ پرویز احمد شیخ نے بتایا کہ وہ 1993ء میں کمیشن پاس کرنے کے بعد سے محکمہ صحت میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور گزشتہ دو ماہ سے ڈی جی ہیلتھ کا اضافی چارج ان کے پاس ہے، جبکہ ان کا اصل عہدہ ڈپٹی ڈی جی ایڈمن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قبر کشائی کیلئے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا اختیار سیکرٹری صحت کے پاس ہے، تاہم سیکرٹری صحت نے ڈی جی ہیلتھ کو بھی یہ اختیار دیا تھا۔ اس پر کمیشن نے سوال کیا کہ جب قانون کے تحت پولیس سرجن کو میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا اختیار حاصل ہے تو سیکرٹری صحت کس قانون کے تحت ڈی جی ہیلتھ کو یہ اختیار دے سکتے ہیں۔ پرویز احمد شیخ نے بتایا کہ 30 مارچ کو سیکرٹری صحت نے اسپیشل میڈیکل بورڈ بنانے کا اختیار ڈی جی ہیلتھ کو دیا تھا، تاہم انہیں بعد میں قانون کی اس صورتحال کا علم ہوا۔ قبر کشائی سے ایک رات قبل میڈیکل بورڈ تبدیل کیے جانے سے متعلق سوال پر ڈی جی ہیلتھ نے بتایا کہ ان کی اسپیشل سیکرٹری صحت شہریار میمن سے بات ہوئی تھی اور انہیں بتایا گیا کہ سیکرٹری صحت طاہر حسین سانگی نے کہا ہے کہ ڈی جی ہیلتھ کے پاس بورڈ تشکیل دینے کا اختیار ہے۔ کمیشن نے استفسار کیا کہ عدالت نے کب میڈیکل بورڈ تبدیل کرنے کا حکم دیا تھا، جس پر پرویز احمد شیخ نے کہا کہ عدالت نے بورڈ تبدیل کرنے کا نہیں بلکہ میڈیکل بورڈ بنانے کا حکم دیا تھا۔ جبران ناصر نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس سرجن کے بورڈ کو ختم کرکے دوسرا بورڈ تشکیل دینے کی بات آفس آرڈر میں بھی موجود ہے۔ کمیشن نے میڈیکل بورڈ میں حیدرآباد کے ماہرین کو شامل کیے جانے سے متعلق بھی ڈی جی ہیلتھ سے سوالات کیے۔ پرویز احمد شیخ نے بتایا کہ میڈیکل بورڈ کے ارکان کے نام سیکرٹری صحت نے دیے تھے اور انہیں بتایا گیا تھا کہ شفافیت برقرار رکھنے کیلئے حیدر آباد کے ماہرین کو بورڈ میں شامل کیا گیا ہے۔ کمیشن نے سوال کیا کہ کراچی میں قبر کشائی کیلئے حیدرآباد کے ماہرین کو کیوں شامل کیا گیا؟ ڈی جی ہیلتھ نے جواب دیا کہ یہ شفافیت کیلئے کیا گیا تھا۔ کمیشن نے سوال اٹھایا کہ قانون کی خلاف ورزی کرکے شفافیت کی بات کی جا رہی ہے اور بورڈ میں ماہرین کو شامل کرنے کی بنیاد کیا تھی۔ پرویز احمد شیخ نے بتایا کہ پولیس سرجن کے تشکیل دیئے گئے بورڈ میں شامل ماہرین جونیئر تھے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جب معاملہ میڈیا میں اجاگر ہوا تو سیکرٹری صحت نے پولیس سرجن کو اپنی مرضی کے مزید ار کان شامل کرنے کی اجازت دینے کا کہا۔ کمیشن نے استفسار کیا کہ جب تمام کام سیکرٹری صحت کررہے تھے تو ڈی جی ہیلتھ کیا کر رہے تھے اور کیا انہوں نے کسی سے اس معاملے پر پوچھنے کی زحمت کی؟ کمیشن نے سندھ حکومت کو معاملہ نوٹ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ یہاں فون پر تمام ہدایات جاری کی جارہی ہیں۔ پرویز احمد شیخ نے بتایا کہ ان کے کیریئر میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی میڈیکل بورڈ کو تبدیل کیا گیا۔ ڈی جی ہیلتھ سروسز پرویز احمد شیخ نے کمیشن کو بتایا کہ پولیس نے میڈیکل بورڈ سے متعلق معاملے میں آج تک ان کا بیان ریکارڈ نہیں کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ کراچی سے حیدر آباد جا رہے تھے کہ اسپیشل سیکریٹری صحت نے فون کرکے میڈیکل بورڈ بنانے کی ہدایت کی۔ اس وقت انہیں پولیس سرجن کے تشکیل دیئے گئے بورڈ کا علم نہیں تھا، دفتر پہنچنے کے بعد پولیس سرجن کے بورڈ کے بارے میں معلوم ہوا۔پرویز احمد شیخ کے مطابق انہیں اسپیشل سیکرٹری صحت کی جانب سے فون آیا کہ پولیس سرجن نے غلط بورڈ تشکیل دیا ہے اور دوسرا بورڈ بنانے کی ہدایت کی گئی۔ کمیشن کے سوال پر انہوں نے کہا کہ سیکرٹری صحت کے علاوہ کسی اور نے ان پر دباؤ نہیں ڈالا۔انہوں نے بتایا کہ سیکرٹری صحت سے براہ راست کوئی بات نہیں ہوئی، تمام ہدایات اسپیشل سیکرٹری صحت سے ملیں، تاہم بعد میں پولیس سرجن کو مزید ارکان شامل کرنے کی اجازت دینے کے معاملے پر سیکرٹری صحت سے ایک مرتبہ بات ہوئی۔ کمیشن نے میر رضا کے کاروباری معاملات اور سرمایہ کاری سے متعلق احمد حسن شیخ کو روسٹرم پر طلب کرکے سوالات کیے۔ احمد حسن شیخ نے بتایا کہ 29 جون 2026ء کو عثمان بوزئی کے ریفرنس سے میر رضا اور احمد سے پہلی مرتبہ ملاقات ہوئی، عثمان بوزئی ان کا بچپن کا دوست ہے۔ ان کے مطابق عثمان بوزئی نے بتایا تھا کہ میر رضا اور احمد کو کاروبار میں توسیع کیلئے 30 لاکھ روپے کی ضرورت ہے۔ 2 جولائی کو دوبارہ ملاقات ہوئی، جس میں سرمایہ کاری کے معاہدے اور سکیورٹی کیلئے چیکس دینے پر بات ہوئی۔ احمد حسن نے بتایا کہ 4 اور 5 جولائی کو بینک کے ذریعے رقم میر رضا کے اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی جبکہ میر رضا کے اکاؤنٹ کے دو چیکس 10،10 لاکھ روپے کے دیئے گئے۔ بزنس اکاؤنٹ کے دو 5،5 لاکھ روپے کے چیکس بھی دیے جانے تھے، تاہم چیک بک نہ ہونے کے باعث وہ چیکس نہیں دیئے جاسکے۔انہوں نے بتایا کہ میر رضا اور احمد دونوں باقاعدہ کاروباری افراد تھے جبکہ عثمان بوزئی نے دونوں کی جانب سے سرمایہ کاری کے معاملے پر ان سے بات کی تھی۔احمد حسن کے مطابق پولیس نے 3 اگست کو ان کا بیان ریکارڈ کیا اور ان سے معاہدے اور سرمایہ کاری سے متعلق سوالات کیے گئے۔ کمیشن نے میر رضا کے کاروبار کے سپروائزر کاظم سے بھی مختلف سوالات کیے۔ کاظم نے بتایا کہ وہ 2021ء سے میر رضا کے کاروبار سے وابستہ ہیں اور انتظامی سمیت دیگر امور دیکھتے ہیں، تاہم انہیں فروخت کے معاملات کا علم نہیں۔ کاظم نے بتایا کہ کاروبار میں کچھ کمی ضرور آئی تھی، تاہم میر رضا کا ملازمین کے ساتھ رویہ انتہائی دوستانہ تھا اور انہوں نے انہیں معمول سے ہٹ کر کبھی پریشان نہیں دیکھا۔ ان کے مطابق کبھی احمد اور کبھی میر رضا انہیں تنخواہ دیتے تھے۔ پولیس نے 3 اگست کو ان کا بیان ریکارڈ کیا اور کاروبار سے متعلق سوالات کیے۔کمیشن کے استفسار پر کاظم نے کہا کہ انہوں نے پولیس کو ایسا کوئی بیان نہیں دیا کہ میر رضا سرمایہ کاری یا قرض کے باعث بہت پریشان تھے۔کاظم نے بتایا کہ کاروبار کی ایک برانچ سے پستول غائب ہونے کا علم گارڈ کے چیک کرنے کے بعد ہوا، جس پر انہوں نے احمد کو فون کرکے سی سی ٹی وی چیک کرنے کا کہا۔انہوں نے بتایا کہ پولیس نے 17 اگست کو ان کا موبائل فون تحویل میں لیا، تاہم اس موقع پر کوئی کاغذی کارروائی نہیں کی گئی اور نہ ہی فون سیل کیا گیا۔ صرف پاس ورڈ لکھوا کر فون رکھ لیا گیا، بعدازاں موبائل فون واپس کردیا گیا۔کاظم کے مطابق میر رضا کی گمشدگی کے دوران احمد نے مارکیٹنگ کمپنی کو ادائیگی کیلئے میر رضا کا نمبر تبدیل کرکے احمد کا نمبر دینے کا کہا تھا۔کاروباری سپروائزر کاظم کے بیان کے دوران پولیس تفتیش کے طریقہ کار سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے۔ جبران ناصر نے کمیشن کو بتایا کہ ارتضیٰ نامی ایک نجی شخص کیس کی تحقیقات میں پولیس کے ساتھ کام کررہا ہے۔ جبران ناصر کی اجازت سے گواہ سے پوچھا گیا کہ کیا ان کا موبائل فون ارتضیٰ نے تحویل میں لیا تھا، جس پر کاظم نے تصدیق کی کہ یہی وہ شخص تھا جس نے ان سے موبائل فون لیا تھا۔جبران ناصر نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی معلومات کے مطابق ارتضیٰ ایک نجی شخص ہے جو ایس ایچ او فیروز آباد کے ساتھ ہوتا ہے۔ کاظم نے مزید بتایا کہ بزنس منیجر شیری کا موبائل فون بھی ارتضیٰ نے لیا تھا۔ جبران ناصر نے کمیشن سے ارتضیٰ کی بعض تصاویر ریکارڈ کا حصہ بنانے کی اجازت بھی طلب کی۔کمیشن نے میر رضا کے کاروباری ساتھی عمیر خان سے بھی کاروباری معاملات اور میر رضا کی گمشدگی کے حوالے سے پوچھ گچھ کی۔عمیر خان نے بتایا کہ کاروبار میں توسیع کے حوالے سے ان سے بات ہوئی تھی جبکہ کیٹرنگ کے کاروبار سے متعلق بھی انہیں بتایا گیا تھا۔ میر رضا کی گمشدگی کے بعد عبداللہ نے انہیں اس حوالے سے اطلاع دی تھی۔انہوں نے بتایا کہ کمیشن بننے کے بعد احمد سے رابطے کے بجائے انہوں نے خود ریٹرن فائل کرنے کیلئے احمد سے رابطہ کیا تھا۔ ان کے مطابق پولیس نے غالباً 22 اگست کو ان کا بیان ریکارڈ کیا۔ جبران ناصر کے سوال پر عمیر خان نے کہا کہ انہیں کبھی ایسا محسوس نہیں ہوا کہ میر رضا فنانس کے دوسرے شراکت داروں سے کچھ چھپا رہے ہیں، جب بھی ملاقات ہوئی دونوں شراکت داروں سے ایک ساتھ ہوئی۔ عمیر خان نے کمیشن کو بتایا کہ میر رضا لڑائی جھگڑے یا بداخلاقی والے فرد نہیں تھے۔میر رضا کے اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر نے کمیشن کو بتایا کہ اہل خانہ کی ہفتے کے روز احمد حسن شیخ سے تقریباً ڈھائی گھنٹے ملاقات ہوئی۔ ان کے مطابق اہلخانہ نے احمد حسن شیخ سے متعدد سوالات کیے تاہم ان کی جانب سے کوئی بات نہیں بتائی گئی اور سوالات پر لاعلمی کا اظہار کیا گیا۔ میر رضا کی والدہ نے بھی کمیشن کو بتایا کہ احمد حسن نے ان کے سوالات پر لاعلمی کا اظہار کیا۔اس موقع پر کمیشن نے ریمارکس دیئے کہ بہت سے لوگ باتیں کرتے ہیں لیکن موقع دیے جانے پر کچھ نہیں کہتے۔ کمیشن نے یہ بھی کہا کہ صرف کمیشن کو متنازع بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، جس کے بعد کارروائی میں کچھ دیر کیلئے وقفہ کردیا گیا۔
بریکنگ نیوز
- چوریاں ڈاکے تھم نہ سکے شہری نقدی زیورات اور دیگر قیمتی اشیاء سے محروم
- لاہور ہائیکورٹ ‘پی ٹی آئی رہنما میاں حماد اظہر سے فیملی اور وکلاء ملاقات کیلئے دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ
- لاہور ہائیکورٹ’ پراپرٹی ٹربیونل سے متعلق درخواست غیرضروری قرار دیتے مسترد
- لاہور چیمبر انتخابات کا پولنگ وینیو تبدیل کرنیکی درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری
- مانگا منڈی پولیس کی بروقت کارروائی، بچے سے بدفعلی کی کوشش کرنیوالا استاد گرفتار
- لاہور میں رواں سال موٹرسائیکل چوری کی وارداتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ
- پنجاب کے مختلف اضلاع میں سکولوں سے باہر بچوں کی شرح میں مزید اضافہ
- 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب بھر میں 1388 ٹریفک حادثات 794 افراد شدید زخمی
- ایمبا پے کا نائیکی سے 20 سالہ تعلق ختم آن برانڈ سے نیا معاہدہ
- فیصل آباد، مبینہ غیر قانونی پٹرول فروشوں نے 2بھائیوں کو آگ لگا دی
- ایم ایل ومنصوبے کیلئے 10 سال انتظار کے بعد متبادل فنانسنگ کی تلاش
- پی سی بی محمدرضوان کی میڈیا ٹاک کرنے کی اجازت مسترد
- پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے پہلے دن کاروبار حصص میں تیزی
- سونا 2700 روپے تولہ سستا ہو گیا
- نواب ٹائون’ باپ بیٹے کے اغوا کیس میں مرکزی ملزم گرفتار
- ٹیکسٹائل کا قومی برآمدات میں حصہ تقریباً 60 فیصد ہوگیا
- جماعت اسلامی کا احتجاج پرامن اور مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا، جاوید قصوری
- امریکی پابندیوں، مہنگائی اور تباہ حال معیشت نے ایران کے بیماروں کو بے بس کر دیا
- شمالیشام میں فوجی مرکز پر دھناککے 4 افرادزخمی
- سرگودھا،تیز دھار آلہ سے مسلح بیوی نے شوہر کو قتل اور تین بیٹیوں کے گلے کاٹ کر انہیں شدید زخمی کر دیا
