لاہور (جنرل رپورٹر)پنجاب کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں آگ اور دھوئیں کے واقعات تسلسل سے سامنے آنے لگے، جس نے مریضوں، خصوصاً انتہائی نگہداشت اور بچوں کے وارڈز کی فائر سیفٹی پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔ پرانی بجلی تاریں ، بے ہنگم تاریں اور ناقص حکمت عملی آگ لگنے کی اصل وجہ۔ تفصیلات کے مطابق لاہور جنرل ہسپتال کے گائنی وارڈ کے بعد چلڈرن ہسپتال کے ڈاکٹرز ہاسٹل میں بھی آگ لگنے کا واقعہ پیش آگیا۔ چلڈرن ہسپتال کے بوائز ہاسٹل کے پانچویں فلور کے کمرہ نمبر511 میں آگ پرانے نان انورٹر ایئرکنڈیشنر سے پیدا ہونے والی چنگاری کے باعث لگی اور پردوں تک پھیل گئی۔ ہاسٹل عملے نے تقریباً 3 سے 5 منٹ میں آگ پر قابو پالیا، تاہم عمارت میں شدید دھواں پھیل گیا۔ خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ تحقیقی طور پر زیادہ تشویشناک امر یہ ہے کہ چلڈرن ہسپتال میں رواں ماہ یہ دوسرا فائر سے متعلق واقعہ ہے۔ اس سے قبل17ستمبر کو ایمرجنسی لفٹ میں آگ لگنے کے بعد دھواں پھیل گیا تھا۔اس سے پہلے یکم ستمبر کو لاہور جنرل ہسپتال کے گائنی وارڈ میں بھی آگ، دھوئیں کا واقعہ پیش آیا تھا۔ ہسپتال انتظامیہ نے اسے اوورہیٹ ہونے والے پنکھے سے جوڑا، جبکہ بعض رپورٹس میں برقی وائرنگ کو ممکنہ وجہ قرار دیا گیا۔
