واشنگٹن (فضل خالق سے )امریکی ریاست میری لینڈ سے تعلق رکھنے والی معروف پاکستانی نژاد کاروباری شخصیت میاں عرفان یعقوب پاکستان
امریکن بزنس کمیونٹی کو ایک دوسرے کے قریب لانے، نئی نسل کو جدید کاروباری اور تکنیکی مواقع سے جوڑنے اور پاکستانی کاروباری شخصیات کو عالمی منڈیوں میں زیادہ مثر شناخت دلانے کے لیے اپنی سرگرمیوں کا دائرہ مسلسل وسیع کر رہے ہیں۔ امریکا میں پاکستانی نژاد کاروباری برادری مختلف شعبوں میں نمایاں مقام رکھتی ہے، تاہم میاں عرفان یعقوب کا مقف ہے کہ انفرادی کامیابیوں کو ایک وسیع اور منظم اجتماعی قوت میں تبدیل کرنے کے لیے باہمی رابطوں، جدید ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری، کاروباری شراکت داری اور نئی نسل کی پیشہ ورانہ رہنمائی کو ترجیح دینا ضروری ہے۔ اسی مقصد کے تحت وہ ان دنوں امریکا کی مختلف ریاستوں کے دورے کر رہے ہیں، جہاں پاکستانی نژاد کاروباری شخصیات، سرمایہ کاروں، پیشہ ور ماہرین اور کمیونٹی رہنماں سے ملاقاتوں کے ذریعے ایسے روابط استوار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو مستقبل میں پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور تکنیکی تعاون کے نئے امکانات پیدا کر سکیں۔ میاں عرفان یعقوب کی سرگرمیوں کا ایک اہم پہلو پاکستانی امریکن کاروباری برادری کو محض مقامی سطح تک محدود رکھنے کے بجائے اسے عالمی کاروباری منظرنامے سے منسلک کرنا ہے۔ ان کے نزدیک بدلتی ہوئی عالمی معیشت میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، جدید کاروباری نظام، ای کامرس، عالمی رسدی زنجیروں اور اختراعی سرمایہ کاری کے شعبوں میں پاکستانی نژاد کاروباری افراد کے لیے وسیع مواقع موجود ہیں۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق میاں عرفان یعقوب نے وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کے ساتھ ہونے والی ایک خصوصی ملاقات میں بھی شرکت کی، جس میں پاکستانی امریکن کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات، جن میں ڈاکٹر ساجد تارڑ اور دیگر رہنما شامل تھے، موجود تھے۔ ملاقات کے دوران پاکستانی نژاد امریکیوں کی کاروباری کامیابیوں، پاکستان میں سرمایہ کاری کے امکانات اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی روابط کو مزید مثر بنانے سے متعلق امور زیرِ بحث آئے۔ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستانی امریکن کاروباری برادری کو منظم اور متحرک کرنے کے حوالے سے میاں عرفان یعقوب کی کوششوں کو سراہا اور انہیں پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔ اس ملاقات کو پاکستانی نژاد امریکی کاروباری شخصیات اور پاکستان کے درمیان براہِ راست روابط کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ میاں عرفان یعقوب کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی محض ترسیلاتِ زر کا ذریعہ نہیں بلکہ پاکستان کے لیے علم، ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری، کاروباری تجربے اور عالمی منڈیوں تک رسائی کا ایک غیر معمولی اثاثہ ہیں۔ اگر امریکا سمیت دنیا بھر میں کامیاب پاکستانی کاروباری شخصیات اور پیشہ ور ماہرین کو ایک مربوط حکمتِ عملی کے تحت پاکستان سے جوڑا جائے تو اس سے برآمدات، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ ان کی توجہ بالخصوص اس امر پر مرکوز ہے کہ پاکستانی امریکن کاروباری برادری کے اندر ایک ایسا مضبوط رابطہ قائم ہو جس کے ذریعے تجربہ کار کاروباری افراد نئی نسل کی رہنمائی کر سکیں، نئے کاروباری منصوبوں کو سرمایہ کاروں تک رسائی ملے اور پاکستان میں تیار ہونے والی مصنوعات اور خدمات کو امریکی اور دیگر عالمی منڈیوں تک پہنچانے کے لیے مؤثر تجارتی راستے پیدا کیے جا سکیں۔
