لاہور(جنرل رپورٹر) پنجاب میں ایچ آئی وی کے نئے رجسٹریشنز میں تشویشناک اضافہ سامنے آگیا، صرف جنوری سے جولائی 2026 کے دوران 9 ہزار 634 افراد HIV کے طور پر رجسٹرڈ ہوئے، جو 2025 کے پورے سال کے 7 ہزار 920 رجسٹریشنز سے بھی 22 فیصد زیادہ ہیں۔صرف سات ماہ میں گزشتہ پورے سال کا ریکارڈ عبور ہونا صوبے میں ایچ آئی وی کی روک تھام، بروقت تشخیص اور انفیکشن کنٹرول کے نظام پر سنگین سوالات اٹھا رہا ہے۔ محکمہ صحت ذرائع کے مطابق لاہور میں 7,041، فیصل آباد میں 728، قصور میں 393، اوکاڑہ میں 232، ننکانہ صاحب میں 125، گوجرانوالہ میں 117 اور بہاولنگر میں 111 رجسٹریشنز رپورٹ ہوئے۔ اس کے علاوہ لیہ، گجرات، جھنگ، نارووال، پاکپتن، ڈیرہ غازی خان، ملتان، لودھراں، حافظ آباد، خانیوال، بہاولپور، مظفرگڑھ اور چنیوٹ سمیت دیگر اضلاع میں بھی نئے رجسٹریشنز سامنے آئے۔ اعداد و شمار کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ لاہور کے 7,041 رجسٹریشنز صوبائی مجموعے کا تقریبا 73 فیصد بنتے ہیں۔ تاہم ماہرین اور حکام کے لیے یہ سوال بھی اہم ہے کہ لاہور میں زیادہ تعداد حقیقی طور پر زیادہ انفیکشنز کی عکاسی کرتی ہے یا بڑے شہروں میں ٹیسٹنگ، ریفرل اور رجسٹریشن کی سہولیات زیادہ ہونے کے باعث کیسز زیادہ سامنے آ رہے ہیں۔ اس لیے ان اعداد کو براہ راست 9,634 نئے انفیکشنز قرار دینا درست نہیں ہوگا۔تشویشناک صورتحال کے باوجود پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق پروگرام کا بنیادی مقصد نئے ایچ آئی وی انفیکشنز کو روکنا، متاثرہ افراد کو مفت ٹیسٹنگ، علاج اور کونسلنگ فراہم کرنا اور بیماری کے پھیلا کو محدود رکھنا ہے۔ پروگرام کے مطابق اس کا ایک آئی ایس ریئل ٹائم بنیادوں پر مریضوں کی نگرانی کرتا ہے، جبکہ صوبے میں HIV کے لیے مفت تشخیص اور علاج کی سہولیات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔ دوسری جانب غیر محفوظ انجیکشنز اور کمزور انفیکشن کنٹرول بھی پنجاب میں ایچ آئی وی کے حوالے سے ایک اہم تشویش کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ 2026 میں وفاقی سطح کے ایک اجلاس میں غیر محفوظ انجیکشن، انفیکشن پریوینشن اینڈ کنٹرول کی کمزوریوں اور بلڈ سیفٹی کے خلا کو قومی ایچ آئی وی ردعمل کے اہم مسائل قرار دیا گیا، جبکہ پنجاب کے ایچ آئی وی ڈیٹا کو قومی ایم آئی ایس کے ساتھ مربوط کرنے کی ضرورت بھی اجاگر کی گئی۔
