لاہور(خبر نگار) محکمہ اوقاف پنجاب کی زرعی و کمرشل پراپرٹی سے سالانہ اربوں روپے کی آمدن کے باوجود قومی خزانے کو کروڑوں روپے کے انکم ٹیکس سے محروم رکھنے کا سنگین معاملہ سامنے آگیا، ذرائع کا دعوی ہے کہ لاہور، ملتان، پاکپتن، سرگودھا، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان سمیت نو سے دس زونز میں زرعی رقبوں کی نیلامی اور کمرشل پراپرٹی سے حاصل ہونے والی آمدن پر واجب الادا انکم ٹیکس کی رقم مبینہ طور پر ایف بی آر میں جمع کرانے کے بجائے خردبرد کی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق مبینہ بے ضابطگیوں کا محور متعلقہ سرکل رینٹ کلرک اور سرکل منیجر بتائے جاتے ہیں، جہاں ٹیکس کٹوتی، ریکارڈ اور جمع شدہ رقم کے معاملات میں مبینہ ملی بھگت سے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ ایف بی آر ماضی میں متعدد مرتبہ محکمہ اوقاف کے اکانٹس منجمد کرکے واجب الادا انکم ٹیکس کی ریکوری کر چکا ہے، جس کے باوجود مبینہ طور پر یہ سلسلہ مکمل طور پر ختم نہ ہوسکا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق دور میں بہاولپور زون میں کروڑوں روپے کے انکم ٹیکس کی مبینہ خردبرد سامنے آنے پر متعلقہ انتظامیہ کے خلاف معطلی اور ملازمت سے برطرفی سمیت سخت محکمانہ کارروائیاں بھی کی گئیں، مگر سوال یہ ہے کہ ماضی کے ان واقعات کے باوجود دیگر زونز میں ٹیکس نظام کی مثر نگرانی کیوں نہ کی جا سکی؟ محکمہ اوقاف کی قیمتی زرعی و کمرشل جائیداد سے حاصل ہونے والی آمدن کے ٹیکس ریکارڈ، ایف بی آر میں جمع شدہ رقوم، بینک اسٹیٹمنٹس، نیلامی ریکارڈ اور متعلقہ سرکلز کی ماہانہ رپورٹس کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے تو مبینہ بے ضابطگیوں کا حجم سامنے آنے کا امکان ہے۔ قومی خزانے کے ٹیکس پر ہاتھ صاف کرنے کی مبینہ واردات نے محکمہ اوقاف کے مالیاتی نظام، داخلی نگرانی اور افسران کی جوابدہی پر بھی سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں
