لاہور (جنرل رپورٹر)سرکاری ہسپتالوں میں ڈیتھ آڈٹ کا نظام غیر مثر، قابلِ تدارک اموات کا جائزہ رسمی کارروائی بننے کا خدشہ ، تفصیلات کے
مطابق لاہور سمیت پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں ڈیتھ آڈٹ اور ڈیتھ انیلیسس کا نظام مثر طور پر فعال نہ ہونے کا انکشاف، ہسپتالوں میں ہونے والی اموات سے سیکھنے اور مستقبل میں قابلِ تدارک اموات روکنے کا اہم مقصد متاثر ہونے لگا۔ ذرائع کے مطابق متعدد ہسپتالوں میں ڈیتھ آڈٹ کمیٹیاں موجود ہونے کے باوجود اجلاسوں کے تسلسل، کیسز کے تفصیلی تجزیے اور سفارشات پر عملدرآمد کا مثر نظام نظر نہیں آتا۔ہسپتال میں کسی مریض خصوصا بچے یا نوجوان کی موت واقع ہونے پر صرف موت کو ریکارڈ کا حصہ بنا دینا کافی نہیں، بلکہ یہ جاننا ضروری ہے کہ مریض کس حالت میں ہسپتال پہنچا، تشخیص اور علاج میں کتنا وقت لگا، ضروری ادویات، ٹیسٹ یا پروسیجر بروقت دستیاب تھے یا نہیں اور مریض کی بگڑتی حالت پر بروقت فیصلہ کیا گیا یا نہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسے جائزے سے علاج کے نظام میں موجود خامیوں کی نشاندہی اور مستقبل میں ان کی روک تھام ممکن ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈیتھ آڈٹ کا مقصد کسی ایک ڈاکٹر کو ذمہ دار ٹھہرانا نہیں بلکہ پورے علاج کے عمل کا غیر جانب دارانہ جائزہ ہونا چاہیے۔ کیس ریویو میں متعلقہ پروفیسرز، سینئر ڈاکٹرز، میڈیکل آفیسرز، نرسنگ اسٹاف اور ہسپتال انتظامیہ کو شامل کرکے یہ دیکھا جانا چاہیے کہ مریض کی مانیٹرنگ، ڈاکٹر کو بروقت اطلاع، تشخیص، ٹیسٹ، ادویات اور علاج میں کہیں قابلِ تدارک تاخیر تو نہیں ہوئی۔طبی حلقوں کے مطابق ڈیتھ آڈٹ کو رسمی کارروائی کے بجائے ہسپتال سیفٹی اور لرننگ میکانزم بنایا جائے، ہر اہم موت کی تحریری سفارشات مرتب کرکے ان پر عملدرآمد کی مانیٹرنگ بھی لازم قرار دی جائے۔ بار بار سامنے آنے والی خامیوں پر متعلقہ شعبوں سے جواب طلبی اور اصلاحی اقدامات کیے جائیں تو متعدد قابلِ تدارک اموات کو روکا جا سکتا ہے۔
