واشنگٹن، تہران ( نیوز ایجنسیاں) مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کے لئے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کوئی نہیں جانتا کہ ایران کو کون چلا رہا ہے؟، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران سے معاہدے کیلئے تیار ہیں، لیکن ایران کو جوہری پروگرام پر لچک دکھانا ہوگی اور اپنی جوہری افزودگی کی صلاحیت کم کرنا ہوگی۔ادھر ایرانی خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز کے سینئر کمانڈر نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر ایرانی مسلح افواج کے کنٹرول میں ہے۔اس کے علاوہ ایران نے کہا ہے کہ امریکی حملوں کے نتیجے میں ملک بھر میں 111 پیٹروکیمیکل اور فارماسیوٹیکل تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے جبکہ ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران کیخلاف جنگ کے دوران کم از کم 81امریکی فوجی طیاروں کو نقصان پہنچا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کے لئے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کوئی نہیں جانتا کہ ایران کو کون چلا رہا ہے؟،آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل جنگ سے پہلے کی سطح کے برابر ہے،گزشتہ چند روز میں لاکھوں بیرل تیل آبنائے ہرمز سے گزر چکا ہے۔ میری لینڈ روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جنگ کو اب آٹھ ماہ ہو چکے ہیں، ایران کے رہنما مارے جا چکے ہیں ، ان کے لیڈروں کا دوسرا گروپ بھی جا چکا، میرے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کوئی نہیں جانتا کہ آخر ملک کو کون چلا رہا ہے؟۔دریں اثناء امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران سے معاہدے کیلئے تیار ہیں، لیکن ایران کو جوہری پروگرام پر لچک دکھانا ہوگی اور اپنی جوہری افزودگی کی صلاحیت کم کرنا ہوگی۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک عالمی خبررساںادارے کو انٹرویو میں کہا کہ جنگ کے خاتمے کیلئے ایران کو اپنی جوہری افزودگی کی صلاحیت کم کرنا ہوگی۔یہ واضح نہیں کہ ایران فیصلے کس طرح کرتا ہے۔جے ڈی وینس نے کہا کہ محض مستقبل میں جوہری سرگرمیوں میں کمی کی یقین دہانی کافی نہیں ہوگی، اگرایران جوہری ہتھیار نہیں چاہتا تو پھر 60 فیصد افزودہ ایندھن کی ضرورت کیوں ہے؟انہوں نے کہا کہ اگر ایران یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا توانتہائی افزودہ ایندھن تیار نہ کرے۔ادھر ایرانی خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز کے سینئر کمانڈر نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر ایرانی مسلح افواج کے کنٹرول میں ہے۔بریگیڈیئر جنرل شمخال جعفری نے ایرانی سرکاری ٹیلی وژن سے گفتگو میں کہا ایران نے دشمن کو اپنے بحری جہاز اور بحری ساز و سامان ایرانی سرحدوں سے بہت دور تعینات کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ایرانی افواج نے مخالف فریق کا کچھ ساز و سامان مال غنیمت کے طور پر حاصل کیا ہے، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے ڈپٹی سپیکر علی نیک زاد نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کھلی رہے گی یا بند، اس کا فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کھوکھلی سوشل میڈیا پوسٹس نہیں کریں گی۔دریں اثناء ایران نے کہا ہے کہ امریکی حملوں کے نتیجے میں ملک بھر میں 111 پیٹروکیمیکل اور فارماسیوٹیکل تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے، جس سے صنعتی سپلائی چینز اور کیمیائی ہتھیاروں کے خلاف بین الاقوامی معاہدے پر عمل درآمد بھی متاثر ہوا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کے نمائندے ہادی فرج وند نے تنظیم برائے ممانعتِ کیمیائی ہتھیار (او پی سی ڈبلیو) سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی کیمیائی صنعتوں کے خلاف امریکی فوجی کارروائی نے سپلائی چینز کو متاثر کیا ہے اور کیمیکل ویپنز کنونشن پر عمل درآمد میں رکاوٹیں پیدا کی ہیں ۔ہادی فرج وند کا کہنا تھا کہ امریکی حملوں سے متاثر ہونے والی تنصیبات میں پیٹروکیمیکل اور دوا ساز صنعتوں کے مراکز شامل ہیں۔ادھر کانگریشنل ریسرج سروس کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں کم از کم 81امریکی فوجی طیاروں کو نقصان پہنچا ۔رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ نقصان MQ-9 ریپر ڈرونز کو ہوا،۔ کم از کم 45 ڈرونز ایران کے خلاف کارروائیوں میں ضائع ہوئے۔
ٹرمپ
