عالمی ادارہ موسمیات (ڈبلیو ایم او) نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی مظہر ایل نینو دسمبر 2026 میں متوقع عروج سے پہلے مزید شدت اختیار کرسکتا ہے اور یہ کم از کم 1950 کے بعد کے طاقتور ترین واقعات میں سے ایک بن سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں دنیا کے بیشتر حصوں میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے اور بارشوں کے نظام میں تبدیلی کا امکان ہے۔
عالمی ادارہ موسمیات کے مطابق وسطی اور مشرقی استوائی بحرالکاہل میں سمندر کی سطح کا درجہ حرارت اکتوبر سے دسمبر 2026 کے دوران ریکارڈ سطح تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ ادارے کی سیکریٹری جنرل سیلیسٹے ساؤلو کا کہنا ہے کہ ایل نینو مضبوط ہو رہا ہے اور اس کے فروری 2027 تک برقرار رہنے کا امکان تقریباً 100 فیصد ہے۔ ماہرین کے مطابق ایل نینو دنیا بھر میں ہواؤں، فضائی دباؤ اور بارشوں کے نظام کو متاثر کرتا ہے۔ اس کے باعث بعض علاقوں میں شدید گرمی اور خشک سالی جبکہ دیگر علاقوں میں معمول سے زیادہ بارشوں اور سیلاب کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
پیش گوئی کے مطابق برصغیر سمیت بعض علاقوں میں معمول سے کم بارشیں ہونے کا امکان ہے، جبکہ افریقہ کے بعض حصوں، وسطی ایشیا اور شمالی جزیرہ نما عرب میں زیادہ بارشوں کے امکانات ظاہر کیے گئے ہیں۔ تاہم یہ موسمیاتی رجحانات کی پیش گوئیاں ہیں، کسی مخصوص مقام کے موسم کی حتمی پیش گوئی نہیں۔
ایل نینو ایک قدرتی موسمیاتی مظہر ہے جو وسطی اور مشرقی استوائی بحرالکاہل کے پانیوں کے غیر معمولی طور پر گرم ہونے سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ عموماً ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عالمی درجہ حرارت اور بارشوں کے معمولات پر اثر انداز ہوتا ہے۔
دسمبر میں عروج سے پہلے ایل نینو مزید شدت اختیار کرے گا: اقوام متحدہ کا انتباہ

